آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اٹلی کا سیاسی بحران، یورپی اتحاد میں ایک اور دراڑ

قوم پرستی کی لہر ایک کے بعد دوسرے یورپی مُلک کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ برطانیہ میں بریگزٹ سے شروع ہونے والی قوم پرستی کی تحریک یونان، اسپین، فرانس اور جرمنی سے ہوتے ہوتے اب اٹلی پہنچ چُکی ہے اور اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 3ماہ قبل اٹلی میں ہونے والے عام انتخابات میں دائیں بازو کی جماعت، فائیو اسٹار موومنٹ سب سے بڑی پارٹی بن کر اُبھری، لیکن کسی بھی پارٹی یا اتحاد کو واضح اکثریت حاصل نہ ہونے کے سبب اب تک مُلک میں نئی حکومت نہیں بن سکی۔ فائیو اسٹار موومنٹ کا منشور یورپی یونین سے اٹلی کی علیحدگی یا اس اتحاد کو زیادہ سے زیادہ کم زور کرنے پر مبنی ہے اور حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت نہ ملنے پر اسے مجبوراً مُلک کی دوسری بڑی جماعت سے اتحاد کرنا پڑا۔ تاہم، اطالوی صدر، سرجیو متیریلا نے اتحاد کے نام زد کردہ وزیرِ خزانہ، کو پائولو سیونا کو کابینہ میں شامل کرنے سے انکار کردیا۔ اُنہوں نے یہ عذر پیش کیا کہ سیونا کے وزیرِ خزانہ بننے سے اٹلی کی یورپی یونین سے علیحدگی یقینی ہو جائے گی۔ بعد ازاں، اطالوی صدر نے کارلو کوٹا ریلی کو حکومت بنانے کی دعوت دی، جو آئی ایم ایف کے ممتاز اقتصادی ماہرین میں شمار ہوتے ہیں۔ انتخابات کے بعد نئی حکومت قائم نہ ہونے کی وجہ سے اٹلی کو ایک سیاسی بُحران کا سامنا ہے اور مُلک میں بے یقینی بڑھتی جا رہی ہے۔ اس صورتِ حال میں اکثر مبصرین کا خیال ہے کہ قبل از وقت انتخابات ہی مُلک کو اس بُحران سے نکال سکتے ہیں، کیوں کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے صدر کے اس اقدام کے خلاف نہ صرف ہڑتال کی اپیل کردی ہے، بلکہ اطالوی صدر کے مواخذے کی اطلاعات بھی عام ہیں۔ ہم یورپ میں قوم پرستی کے بڑھتے اثرات کا پہلے بھی کئی مرتبہ ذکر کر چُکے ہیں۔ تاہم، توجّہ طلب بات یہ ہے کہ قوم پرست جماعتیں انتخابات کے نتیجے میں اُبھر کر سامنے آ رہی ہیں۔ گرچہ انہیں اکثریت کی حمایت حاصل نہیں، لیکن یہ کم از کم ایک بڑے طبقے کی نمایندگی ضرور کرتی ہیں اور ان قوم پرست جماعتوں کی جیت نے یورو زون سمیت دُنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس پر منفی اثرات مرتّب کیے ہیں۔


واضح رہے کہ اٹلی بھی فرانس کی طرح یورپی تہذیب کا مرکز ہے۔ یہ یورپ کی چوتھی بڑی معیشت ہے اور اس کی سرحدیں نصف درجن یورپی ریاستوں سے ملتی ہیں، جن میں ویٹی کن سٹی بھی شامل ہے۔ اٹلی کی آبادی 6کروڑ 10لاکھ ہے اور اس کا شمار ایک عالمی طاقت کے طور پر کیا جاتا ہے۔ اٹلی جی سیون گروپ کا رُکن بھی ہے اور اس کا دارالحکومت، روم ماضی کی اُس عالمی طاقت، سلطنتِ روما کی بنیاد تھا، جس نے رومن تہذیب کی شکل میں دُنیا پر اَن مِٹ نقوش چھوڑے۔ بعد ازاں، روم ہی مغربی تہذیب کا مرکز رہا اور یہاں وجود میں آنے والے قوانین، جمہوری اقدار، عیسائی تشخّص اور لاطینی رسم الخط دُنیا بَھر میں پھیلا۔ نیز، یورپ کی نشاۃِثانیہ کی ابتد بھی یہیں سے ہوئی۔ بایں ہمہ اٹلی دَورِ جدید کے آغاز کے اعتبار سے بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے، جس کا تعلق خلافتِ عثمانیہ کے ابتدائی ایّام سے ہے۔ تُرکوں نے رومی بازنطینی سلطنت کے دِل، قسطنطنیہ کو فتح کر کے استنبول کا نام دیا۔ تب قسطنطنیہ ایک عظیم کثیر الثّقافتی شہر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ 1453ء میں جب سلطان محمد نے اسے فتح کر کے استنبول کا نام دیا، تو پورے یورپ پر سکوتِ غم طاری ہو گیا اور وہ تُرکوں کی اس فتح کوآج تک نہیں بُھولے۔ اس کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ سلطان محمد نے جمعرات کو قسطنطنیہ فتح کیا تھا اور یورپ میں آج بھی جمعرات کو منحوس سمجھا جاتا ہے۔ قسطنطنیہ کے خلافتِ عثمانیہ میں شامل ہونے کے بعد ہزاروں مقامی باشندے وہاں سے بھاگ کر اٹلی سمیت یورپ کے دیگر علاقوں میں پہنچ گئے۔ ان مہاجرین کے پاس رومن تہذیب کا جوہر تھا، جو ارسطو، افلاطون، بطلیموس اور جالینوس کے اصل نسخوں پر مشتمل تھا۔ سو، انہوں نے یورپ کو ’’تاریک دَور‘‘ سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا اور یہاں قدیم یونانی علوم کا احیا ہوا، جن سے یورپ دُور ہو چُکا تھا۔ اسی کے نتیجے میں یورپ میں نشاۃِ ثانیہ کی تحریک کا آغاز ہوا، جس نے یورپ کو پوری دُنیا پر لازوال برتری دِلوائی۔ یعنی اٹلی نے یورپ کی بیداری اور ترقّی میں بنیادی کردار ادا کیا۔

اٹلی کا سیاسی بحران، یورپی اتحاد میں ایک اور دراڑ
متوقّع اطالوی وزیرِ اعظم،کارلو کوٹاریلی

دوسری عالمی جنگ کے بعد1946ء میں اٹلی ایک جمہوریہ کے طور پر سامنے آیا۔ اٹلی میں دو ایوانی مقنّنہ ہے۔ ایوانِ زیریں، چیمبر آف ڈپٹیز، جب کہ ایوانِ بالا، سینیٹ کہلاتا ہے۔ ووٹرز کی مجموعی تعداد 4کروڑ 70لاکھ ہے۔ ایوانِ زیریں 630ارکان پر مشتمل ہے، جن کا براہِ راست انتخابات کے ذریعے چُنائو ہوتا ہے اور پھر منتخب ارکان وزیرِ اعظم کا انتخاب کرتے ہیں۔ گرچہ اٹلی میں صدر کا عُہدہ رسمی ہوتا ہے، لیکن بعض مواقع پر وہ اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کر سکتا ہے، جیسا کہ حال ہی میں موجودہ صدر نے وزیرِ خزانہ کی نام زدگی کو مسترد کرتے ہوئے ایک ٹیکنوکریٹ حکومت بنانے کا فیصلہ کیا، جو نہ صرف نئے انتخابات کروائے گی، بلکہ نئے مالی سال کا بجٹ بھی پیش کرے گی۔ آج اٹلی کو جس سیاسی بُحران کا سامنا ہے، اس کا سبب قوم پرستی کی وہ لہر ہے، جو ایک کے بعد دوسرے یورپی مُلک کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ گرچہ تاحال بڑے یورپی ممالک میں قوم پرست جماعتیں مکمل فتح حاصل کرنے میں کام یاب نہیں ہو سکیں، لیکن انہوں نے یورپی یونین کو شدید چیلنجز سے دو چار ضرور کر دیا ہے اور اس تناظر میں اٹلی کی سیاسی صورتِ حال بھی اہمیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ اٹلی میں رواں برس 4مارچ کو عام انتخابات ہوئے تھے، لیکن 3ماہ گزرنے کے بعد بھی وہاں نئی حکومت نہیں بن سکی۔ ان انتخابات میں ٹرن آئوٹ 72فی صد سے بھی زیادہ رہا اور لوگی ڈی مائیو کی قوم پرست جماعت، فائیو اسٹار موومنٹ نے سب سے زیادہ یعنی133نشستیں حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا، جب کہ ماٹیو سالوینی کے5جماعتی اتحاد، لیگ نے مجموعی طور پر 151نشستیں حاصل کیں۔ بعدازاں، دونوں جماعتوں نے حکومت سازی کے لیے اتحاد کیا، لیکن اس کے باوجود انہیں مطلوبہ اکثریت نہ مل سکی، جس کی وجہ سے مُلک میں سیاسی بُحران پیدا ہو گیا، جس کا حل نئے انتخابات ہیں۔

اٹلی کا سیاسی بحران، یورپی اتحاد میں ایک اور دراڑ
قوم پرست جماعت، فائیو اسٹار موومنٹ کےرہنما،لوگی ڈی مائیو

اٹلی کا سیاسی بُحران یورپی یونین میں رہنے اور اس سے علیحدگی کے خواہش مندوں کے درمیان کشمکش کا نتیجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اطالوی صدر نے نام زد کردہ وزیرِ خزانہ کو مسترد کیا، تو قوم پرست جماعتوں نے جرمنی اور برسلز پر مداخلت کا الزام لگایا، لیکن ناقدین اٹلی کے سیاسی بُحران کی کئی وجوہ بتاتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ صدر کے پارلیمان تحلیل کرنے اور حکومت سازی کی دعوت دینے کے اختیارات بہ ظاہر تو رسمی ہیں، لیکن ان کا بارہا استعمال اٹلی کو سیاسی عدم استحکام سے دوچار کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ خیال رہے کہ اٹلی میں سیاسی بُحران، حکومتوں کا گرنا اور قبل از وقت انتخابات کوئی انوکھی بات نہیں اور دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اب تک وہاں 64حکومتیں بن چُکی ہیں۔ اس وقت اطالوی صدر اور اسٹیبلشمنٹ مخالف جماعتوں کے درمیان پائی جانے والی سرد مہری، اٹلی کی معیشت اور یورپی مارکیٹس کو غیر مستحکم کیے ہوئے ہیں۔ اگر کوٹا ریلی اعتماد کا ووٹ لینے میں کام یاب ہو جاتے ہیں، جس کے امکانات بہت کم ہیں، تو وہ حکومت بنا کر نئے انتخابات کی راہ ہم وار کریں گے۔ وگرنہ حکومت کے نگراں کے طور پر خدمات انجام دیں گے اور بجٹ بھی پیش کریں گے۔ اُن کے مطابق، نئے انتخابات رواں برس کے آخر یا 2019ء کی ابتدا میں ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب یورپی یونین میں شامل بڑے ممالک، فرانس اور جرمنی کی، جو اس 28مُلکی اتحاد کے پُرزور حمایتی ہیں، خواہش ہے کہ اٹلی کا سیاسی بُحران کچھ اس انداز میں حل ہو کہ یورپی یونین کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ تاہم، قوم پرست جماعتیں پُر امید ہیں کہ نئے انتخابات سے وہ مزید مستحکم ہوں گی۔ اطالوی صدر کے نام زد کردہ وزیرِ اعظم ایک تجربہ کار معیشت داں ہیں۔ اگر وہ وزارتِ عظمیٰ کے عُہدے پر فائز ہوتے ہیں، تو انہیں یورپی یونین کی حمایت اور عالمی مالیاتی اداروں کا تعاون بھی حاصل ہو گا، لیکن وہ ایک ایسے وزیرِ اعظم ہوں گے کہ جنہیں اکثریت کا اعتماد حاصل نہ ہو گا اور پھر مُلک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں ان پر ہمہ وقت تنقید کے نشتر برساتی رہیں گی۔ یعنی ان کے لیے بہ طور وزیرِ اعظم خدمات انجام دینا تَنی ہوئی رسی پر چلنے کے مترادف ہوگا۔

اٹلی کا سیاسی بحران، یورپی اتحاد میں ایک اور دراڑ
اطالوی صدر، سرجیو میتریلا

اٹلی کی معیشت عالمی اقتصادی بُحران سے لے کر اب تک مسلسل مشکلات میں گِھری ہوئی ہے۔ یورپ میں یونان کے بعد اس پر سب سے زیادہ قرضوں کا بوجھ ہے۔ ان قرضوں کا حجم 2.3کھرب یورو ہے، جو اس کی جی ڈی پی کا تقریباً 132فی صد ہے اور یہ نہایت ہول ناک اعداد وشمار ہیں۔ گو کہ قوم پرست جماعتوں کے ایجنڈے میں فوری طور پر یورو سے قطع تعلق کرنا شامل نہیں، لیکن انہوں نے اپنے منشور میں یورپی یونین کے اہم معاہدوں کو ہدفِ تنقید ضرور بنایا ہے اور ان پر مذاکرات کی خواہش مند ہیں۔ ان میں Stability and Growth Pactاور Fiscal Compact جیسے اہم مالیاتی معاہدے شامل ہیں، جن کے ذریعے برسلز یونین میں شامل کسی بھی مُلک کو مالیاتی نظم و ضبط کی ہدایات جاری اور اسے اپنا مالیاتی خسارہ 3فی صد کے اندر رکھنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ یورپی یونین کی ترجیحات میں عالم گیریت اور لبرل ازم شامل ہیں، جن کا مقصد معاشی ترقّی کے حصول میں تمام ممالک کی مدد کرنا ہے، لیکن قوم پرست جماعتوں کے منشور میں اُن اربوں ڈالرز کے منصوبوں کی تجاویز شامل ہیں، جو وہ سماجی حالات کی بہتری پر خرچ کرنا چاہتی ہیں۔ ان میں پینشن میں اضافہ اور غریبوں کے معیارِ زندگی بلند کرنے کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ قوم پرست جماعتوں کا منشور جرمن چانسلر، اینگلا مِرکل کے نظریات اور کفایت شعاری کی پالیسی کے بالکل برعکس ہے۔ تاہم، قوم پرست جماعتوں کو اپنے اسی منشور کی بنیاد ہی پر انتخابات میں زیادہ نشستیں ملی تھیں اور نئے انتخابات میں ان کی پوزیشن مزید مستحکم ہو سکتی ہے۔

اٹلی تارکینِ وطن کی آمد سے بھی خاصا متاثر ہوا۔ اس وقت بحرِ روم کے راستے آنے والے کم و بیش 5لاکھ مہاجرین یہاں مقیم ہیں اور عالمی ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق یہ یورپ میں جرمنی کے بعد شامی پناہ گزینوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ یاد رہے کہ جرمن چانسلر، اینگلا مِرکل نے مزاحمت کے باوجود لاکھوں شامی مہاجرین کے لیے جرمنی اور یورپ کے دروازے کھولے، لیکن اس کا خمیازہ انہیں الیکشن میں اکثریت کھونے کی صورت میں بُھگتنا پڑا۔ نتیجتاً انہیں ایک کم زور اتحادی حکومت بنانا پڑی۔ اس عرصے میں اٹلی میں مہاجرین کے خلاف قوم پرستوں کی مُہم بڑی توانا ہوتی چلی گئی اور اس کا نتیجہ مارچ میں ہونے والے الیکشن کے نتائج کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ آج قرضوں اور تارکینِ وطن کی مخالفت کے معاملے پر اٹلی، یورپی یونین کے لیے ایک ٹیسٹ کیس بن چُکا ہے اور بریگزٹ کے بعد یورپی یونین کو برقرار رکھنے کے لیے جرمنی اور فرانس کا کردار خاصی اہمیت اختیار کر گیا ہے، جب کہ دوسری جانب فرانس، اسپین اور اٹلی میں قوم پرست جماعتوں نے اس چیلنج کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ یورپ ان ممالک کی لیڈر شپ کے زیرِ اثر کئی بنیادی فیصلے کر رہا ہے، جو اسے مشکلات سے دو چار کر رہے ہیں۔ ان میں سب سے کٹھن فیصلہ امریکا کی مخالفت نہیں، تو اس کا مقابلہ کرنا ہے۔ خیال رہے کہ امریکی صدر، ٹرمپ امریکا کی برتری منوانے پر تُلے ہوئے ہیں اور اسی لیے یورپی یونین سے کیے گئے تمام معاہدوں سے وقتاً فوقتاً علیحدگی اختیار کرتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر نیٹو کو بھی فضول قرار دے چُکے ہیں اور اس بات پر مُصر رہے کہ یورپی ممالک اپنی سیکوریٹی کے لیے اپنے حصّے کی رقم فراہم کریں، لیکن رُوس کی مخاصمت اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال کی وجہ سے یہ معاملہ ٹل گیا۔ گرچہ ٹرمپ پیرس معاہدے اور ٹرانس پیسیفک ٹریڈ ٹریٹی کو بھی خیر باد کہہ چُکے ہیں، لیکن حال ہی میں ٹرمپ کے ایران کی نیوکلیئر ڈِیل سے علیحدگی کے فیصلے نے یورپی یونین کو شدید مسائل سے دو چار کر دیا ہے۔ امریکا کے برعکس یورپ نے ایران کے ساتھ معاہدے کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، کیوں کہ یہ اس کے تجارتی مفادات کا تقاضا ہے، لیکن دوسری جانب یورپ، شام کی خانہ جنگی ختم کرنے کے لیے بھی اقدامات پر آمادہ نہیں، کیوں کہ وہ اس معاملے میں رُوس سے دشمنی مول نہیں لینا چاہتا اور اسے اپنا معاون قرار دیتا ہے۔ یورپی ممالک مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے کردار پر تنقید تو کرتے ہیں، لیکن خطّے میں اس کے کردار کو محدود کرنے کے لیے کوئی آپشن بھی استعمال نہیں کرنا چاہتے، جب کہ اس معاملے میں ٹرمپ انتظامیہ نے بڑا واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔ اس معاملے میں امریکا عربوں کا حامی اور ایران کا سخت مخالف ہے اور پھر وہ رُوس پر سخت اقتصادی پابندیاں بھی عاید کر رہا ہے۔ نیز، معاہدے سے علیحدگی کے بعد ایران پر بھی سخت پابندیاں عاید کر رہا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے کردار کو گھٹانا چاہتا ہے۔ گو کہ یورپ اور امریکا کے درمیان ٹکرائو تو نہیں، لیکن تنائو کی کیفیت ضرور پائی جاتی ہے اور ایسے میں اگر یورپی یونین کو اٹلی جیسے مضبوط اتحادی کے براہِ راست چیلنج کا سامنا کرنا پڑ جائے، تو اس کی پوزیشن مزید کم زور ہو جاتی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ یورپی رہنما اور میڈیا امریکی لیڈر شپ اور اس کی حکمتِ عملی پر تو ہمہ وقت تنقید میں مصروف رہتے ہیں، لیکن اپنے گریبان میں جھانکنے پر آمادہ نہیں۔ کئی یورپی ممالک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہیں، جو یورپی یونین کی سالمیت کے لیے خطرہ بنتے جارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب ناقدین یہ سوال اُٹھا رہے ہیں کہ نصف صدی تک دُنیا کے لیے اتحاد کا رول ماڈل رہنے والی یورپی یونین کہیں شکست و ریخت کے خطرے سے دو چار نہ ہو جائے؟

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں