آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
درآمداد پر ٹیکس: امریکا، یورپ پھر آمنے سامنے

کیا دُنیا میں تجارتی جنگ شروع ہو چُکی ہے؟ اس سوال کا جواب ہر مُلک اپنے لحاظ سے دے گا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ترقّی یافتہ ممالک میں اس وقت سب سے زیادہ بحث تجارتی جنگ کے خدشات ہی پر ہو رہی ہے۔ ان ممالک کے مطابق، اس کا سبب امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ ہیں، جنہوں نے چین، یورپ، آسٹریلیا، کینیڈا اور میکسیکو پر بھاری تجارتی ٹیکس عاید کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی انتظامیہ نے بالخصوص درآمد شُدہ اسٹیل اور المونیم پر ایسے ٹیکسز عاید کیے ہیں، جن سے یہ تمام ممالک بُری طرح متاثر ہوںگے۔ دِل چسپ بات یہ ہے کہ یورپی ممالک، کینیڈا اور آسٹریلیا، امریکا کے قریبی حلیف ہیں، لیکن تجارتی محصولات کی شرح اس قدر زیادہ ہے کہ ان ممالک نے نہ صرف آسمان سَر پہ اُٹھا لیا ہے، بلکہ یہ ڈونلڈ ٹرمپ پر مختلف الزامات بھی لگا رہے ہیں، جن میں سے سب سے سنگین الزام یہ ہے کہ وہ عالمی تجارتی نظام اور عالم گیریت کو تباہ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ یورپی ممالک اور چین اسے امریکا کا ’’پروٹیکشن اِزم‘‘ قرار دے رہے ہیں، جس کا مقصد یہ ہے کہ غیر مُلکی درآمدات پر ٹیکس لگا کر انہیں مہنگا کر دیا جا ئے، تاکہ اپنے مُلک میں تیار ہونے والی مصنوعات کی طلب اور پیداوار میں اضافہ ہو، صنعتوں کو فروغ ملے اور روزگار کے مواقع بڑھیں۔ درآمدات پر ٹیکس سے متاثر ہونے والے ممالک کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس عمل سے تجارت اور دیگر اقتصادی شعبوں میں عالمی تعاون کو نقصان پہنچے گا، بین الاقوامی معیشت پر شدید منفی اثرات مرتّب ہوں گے اور مہنگائی میں اضافہ ہو گا۔ دوسری جانب ان تجارتی محصولات کے جواب میں یورپ اور کینیڈا نے امریکی مصنوعات پر بھی ٹیکس عاید کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نیز، اکثر ممالک کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ ٹرمپ کا مخصوص طریقۂ واردات ہے، جس کے ذریعے وہ ان ممالک کو دبائو میں لا کر اپنی شرائط منوانا چاہتے ہیں۔

یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر ’’ٹریڈ وار‘‘ (تجارتی جنگ) کیا ہوتی ہے؟ جب ممالک ایک دوسرے کو تجارت کے ذریعے نقصان پہنچانے کی خاطر درآمد شُدہ مصنوعات پر ٹیکس، ٹیرف اور کوٹا سسٹم کا اطلاق کرتے ہیں، تو اس کے نتیجے میں ان ممالک کے تعلقات میں تلخی پیدا ہوتی ہے، جسے تجارتی جنگ کہا جاتا ہے۔ عموماً تجارتی جنگ کا سبب یہ ہوتا ہے کہ ممالک دو طرفہ یا کثیر الاطرافی تجارتی معاہدوں میں اپنے مُلک کے مفادات کو مقدّم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ امریکا اور چین ایک دوسرے کے شدید مخالف ہیں اور ان کے درمیان تجارتی جنگ جاری ہے، لیکن آج سے چند برس قبل جب ڈالر کی قدر میں کمی کا اندیشہ ظاہر کیا گیا، تو چین ہی نے امریکی ڈالر کو سہارا دیا، کیوں کہ چین کے اربوں ڈالرز امریکی بینکس میں موجود تھے اور اگر ڈالر کی قدر میں ذرا سی بھی کمی ہوتی، تو اسے کروڑوں ڈالرز کا نقصان برداشت کرنا پڑتا۔ یہ حریف ممالک میں تعاون کی ایک مثال ہے، لیکن اگر یہی چین درآمدی محصولات کی زد میں آجائے، تو بھی اسے کروڑوں ڈالرز کا فائدہ یا نقصان ہو سکتا ہے۔ لہٰذا، کوئی بھی مُلک ان محصولات کو بہ آسانی ہضم کرنے پر آمادہ نہ ہو گا۔ اسی طرح تجارتی پابندیاں بھی، جن کے نتیجے میں لین دین کا عمل متاثر ہوتا ہے، ٹریڈ وار ہی کی ایک شکل ہیں۔ مثلاً ایران پر عاید اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے اس کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا، تو اس نے جوہری معاہدہ کر کے ریلیف حاصل کیا۔ پھر گزشتہ برس مسلسل ایٹمی تجربات کی وجہ سے شمالی کوریا پر بھی شدید قسم کی اقتصادی پابندیاں عاید کی گئیں، جو اس کی معیشت برداشت نہ کر سکی اور آج وہ امریکا سے مذاکرات پر آمادہ ہے، لیکن جب ہم پلّہ ممالک ایک دوسرے کی مصنوعات پر ٹیکس عاید کریں، تو نتیجتاً ایسی صورتِ حال جنم لیتی ہے، جو آج امریکا، یورپ، کینیڈا، آسٹریلیا اور چین کے درمیان پائی جاتی ہے اور اسے ’’ٹریڈ وار‘‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔

درآمداد پر ٹیکس: امریکا، یورپ پھر آمنے سامنے

یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ آخر یہ تجارتی جنگ شروع کیوں ہوئی؟ یاد رہے کہ ٹرمپ اپنی انتخابی مُہم کے دوران اعلانیہ کہتے رہے کہ امریکا کی معاشی بد حالی کی بڑی وجہ وہ تجارتی عدم توازن ہے، جو امریکا اور اس کے تجارتی شراکت داروں کے درمیان پیدا ہو گیا ہے۔ اس ضمن میں وہ ہمیشہ امریکی خسارے کا ذکر کرتے رہے، جو اسے ان ممالک سے تجارت کی وجہ سے در پیش ہے۔ ٹرمپ نے سب سے زیادہ تنقید چین پر کی کہ وہ امریکا کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور امریکا اور چین کے درمیان تجارت کا حجم 500ارب ڈالرز سے بھی زیادہ ہے۔ انتخابی مُہم کے دوران ٹرمپ نے اپنے ووٹرز سے وعدہ کیا کہ وہ برسرِ اقتدار آتے ہی اس تجارتی عدم توازن کو امریکا کے حق میں کر دیں گے اور پھر انہوں نے یورپ، کینیڈا اور جاپان کو بھی نہیں بخشا کہ جو امریکا کے قریب ترین حلیف ہیں اور جن کی حمایت ہی سے امریکا آج سُپر پاور ہے۔ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ ان ممالک نے امریکا سے صرف تجارت ہی سے نہیں بلکہ تجارتی معاہدوں کے ذریعے بھی بے شمار فواید حاصل کیے اور اپنی معیشت مضبوط اور امریکی معیشت کو کم زور کیا۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ مڈل اور لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے امریکی باشندوں کے احساسات کا ترجمان بن کر اُبھرے ہیں، جو عالمی اقتصادی بُحران کے بعد شدید مشکلات سے دوچار ہوئے۔ خیال رہے کہ سابق امریکی صدر، باراک اوباما کے دوسرے دَور میں مڈل کلاس امریکی باشندوں کے لیے اپنی تن خواہ میں گھر کا بجٹ چلانا بھی مشکل ہو گیا تھا اور مُلک میں روزگار کے مواقع بھی گھٹ گئے تھے۔ اس موقعے پر امریکی اور بیش تر مغربی ماہرین یہ پیش گوئی کر رہے تھے کہ چین بہت جلد امریکا کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا اور سب سے بڑی اقتصادی طاقت بن جائے گا۔ نیز، یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ اب سرمایہ مغرب سے مشرق کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔ تاہم، اس میں کوئی شک نہیں کہ چینی مصنوعات دُنیا بَھر میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں اور وہ اس وقت دُنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے، جب کہ امریکا کا سب سے قریبی حلیف، جاپان تیسری بڑی معیشت ہے۔ یورپ میں جرمنی نے تیزی سے ترقّی کی اور جرمن چانسلر، اینگلا مِرکل کی حکمتِ عملی نے اسے چوتھی پوزیشن پر پہنچا دیا۔ اس موقعے پر امریکا کو احساس ہوا کہ اس کی بالادستی کو خطرات لاحق ہو چُکے ہیں اور اسی پس منظر میں ٹرمپ نے اپنی انتخابی مُہم میں یہ وعدہ کیا کہ وہ امریکا کی عظمتِ رفتہ بحال کریں گے۔

ابتدا میں اکثر ماہرین اور امریکی میڈیا کا خیال تھا کہ ٹرمپ کے یہ تمام دعوے سیاسی بیانات ہی تک محدود رہیں گے اور انہوں نے امریکی عوام کو جھانسا دیا ۔ تب ناقدین کا کہنا تھا کہ اس قسم کے وعدے پورے کرنے کا مطلب مروّجہ عالمی اقتصادی نظام میں ایک بھونچال پیدا کرنا ہے اور چُوں کہ یہ نظام خود امریکا کا تخلیق کردہ ہے، لہٰذا اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے سب سے زیادہ نقصان بھی امریکا ہی کو پہنچے گا۔ یاد رہے کہ موجودہ عالمی اقتصادی نظام کی اساس عالم گیریت ہے، جس کے تحت ممالک ایک دوسرے سے تجارت کر کے فواید حاصل کرتے ہیں۔ اس نظام کا مرکز ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن ہے۔ اسی نظام کی وجہ سے رواں صدی کے اوائل میں دُنیا نے خوش حالی کی ایک ایسی لہر دیکھی، جس کی مثال تاریخ میں مشکل ہی سے ملتی ہے۔ چین کا اُبھرنا، یورپ کا اقتصادی طاقت بننا، اُبھرتی معیشتوں کا سامنے آنا اور ایشین ٹائیگرز کی ترقّی تو اس عالمی اقتصادی تعاون سے جنم لینے والی بہتری کی چند مثالیں ہیں۔ پھر اس نظام کی بہ دولت عوام کا عمومی معیارِ زندگی بھی بلند ہوا اور ترقّی کے نِت نئے مواقع میسّر آئے، لیکن اس کی وجہ سے ایک بڑا نقصان عالمی اقتصادی بُحران کی صورت میں ہوا کہ جب معیشتوں کا ایک دوسرے پر اس قدر انحصار سب کو لے ڈُوبا۔ امریکا میں لے مین برادرز سے شروع ہونے والے معاشی بُحران نے یورپ اور جاپان تک کو ہِلا کر رکھ دیا اور ان کی معیشت پر شدید منفی اثرات مرتّب ہوئے۔ بُحران کے نتیجے میں یورپ کی معیشت منفی اشاریوں میں چلی گئی، جاپان پریشان ہو گیا اور اُبھرتی ہوئی معیشتوں کی ترقّی کی رفتار بھی سُست ہونے لگی۔ تاہم، اس بُحران سے سب سے زیادہ امریکا متاثر ہوا۔ اوباما کے دَور میں روزگار کے مواقع ختم ہونے لگے، مینوفیکچرنگ انڈسٹری کا پہیہ جام ہو گیا اور بڑے بڑے ادارے دیوالیہ ہو گئے۔ ٹرمپ نے اس موقعے سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی انتخابی مُہم میں پریشان حال امریکی عوام کو ہدف بنایا اور پھر انہوں نے معاشی بہتری کے ایجنڈے پر انہیں ووٹ بھی دیے۔ آج امریکی صدر کے شدید ترین ناقد بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ابتدائی 15ماہ میں امریکی معیشت کی ترقّی کی رفتار میں خاصا اضافہ ہوا اور صرف پچھلے ایک ماہ میں گزشتہ 15برسوں سےزیادہ روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔ یعنی ایک مہینے میں 2لاکھ 23ہزار افراد کو روزگار ملا اور اب ایک عام امریکی سُکھ کا سانس لے رہا ہے۔

درآمداد پر ٹیکس: امریکا، یورپ پھر آمنے سامنے
یورپ اور کینیڈا سے ہر سال کثیر تعداد میں اسٹیل امریکا درآمد کیا جاتا ہے

اگر اس پس منظر کو ذہن میں رکھا جائے، تو امریکی انتظامیہ کی دوسرے ممالک پر تجارتی دبائو ڈالنے کی پالیسی کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ یورپی میڈیا نے، جو ٹرمپ کو ناپسند کرتا ہے، امریکی حکومت کی جانب سے درآمد ات پر ٹیکس عاید کرنے کو ’’تجارتی جنگ‘‘ سے منسوب کیا ہے۔ دراصل، امریکا نے تمام درآمد شُدہ اسٹیل پر25فی صد اور درآمد شُدہ المونیم پر10فی صد ٹیکس لگانے کا اعلان کیا ہے، جو اس سارے تجارتی تنازعے کی جَڑ ہے۔ اس وقت چین اور امریکا کے درمیان سالانہ تجارت کا حجم500ارب ڈالرز سے زاید ہے اور اس میں امریکا کو 350ارب ڈالرز سے زاید خسارے کا سامنا ہے۔ اس ضمن میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر مذاکرات جاری ہیں اور جاپان کو بھی اعتماد میں لینے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن یورپ کا معاملہ نسبتاً مختلف ہے، کیوں کہ یورپ نہ صرف امریکا کا تجارتی پارٹنر ہے، بلکہ نیٹو میں اس کا حلیف بھی ہے۔ پھر امریکا کو مغرب کا لیڈر بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ یورپ کی حفاظت کا ضامن بھی ہے اور اس مقصد کے لیے یورپ کو وقتاً فوقتاً فنڈز بھی فراہم کرتا رہتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ ہو یا سرد جنگ، سوویت یونین کا انتشار ہو یا مشرقِ وسطیٰ کے معاملات، امریکا اور یورپ ہمیشہ ہم قدم رہے۔ نیز، امریکا نے یورپی یونین کے قیام اور اسے برقرار رکھنے میں بھی یورپ کی معاونت کی۔ امریکا، یورپ سے سالانہ1.9کھرب ڈالرز کی مصنوعات درآمد اور اسے 1.5کھرب ڈالرز کی مصنوعات برآمد کرتا ہے اور امریکا کی عالمی تجارت میں اس کا تناسب 19فی صد سے زیادہ ہے۔ امریکی اقدام کے ردِ عمل میں یورپ نے جو جوابی ٹیرف عاید کرنے کا اعلان کیا ہے، اس کا حجم 3.3ارب ڈالرز ہو گا۔ یہاں یہ اَمر بھی قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران یورپ، بالخصوص جرمنی اور فرانس نے امریکا سے متعلق جارحانہ پالیسی اپنائی ہے۔ اوباما چُوں کہ دھیمے مزاج کے امریکی صدر تھے، لہٰذا وہ یورپ سے تعلق کو بُردباری سے نبھاتے رہے۔ تاہم، ٹرمپ سیماب صفت امریکی صدر ہیں ۔ ان سے معاملات طے کرنا آسان نہیں اور یورپی رہنمائوں کا اس بات کا اندازہ ہو چُکا ہے۔ مذکورہ امریکی فیصلے پر یورپی یونین کی جانب سے نہایت شدید ردِ عمل سامنے آیا اور اس نے امریکی درآمدات پر ٹیکس عاید کردیے۔یورپی اقتصادی ماہرین نے اسے ’’جیسے کو تیسا‘‘ کی پالیسی قرار دیا ہے ۔ ان کا ماننا ہے کہ یورپ نے امریکا کو منہ توڑ جواب دیا۔ امریکا اور یورپ کے درمیان اس تنازعے کی شدّت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ دِنوں جی سیون ممالک کے اجلاس میں بھی اس کا کوئی حل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی اجلاس کا اعلامیہ جاری کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق، بعض سیاسی معاملات نے بھی امریکا اور یورپ کے تعلقات میں تلخی گھول دی ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران یورپ نے کئی بین الاقوامی معاملات میں امریکا کے برعکس مؤقف اپنایا، جن میں اسرائیلی دارالحکومت کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی اور جوہری معاہدے سے دست برداری کا امریکی اعلان قابلِ ذکر ہیں۔ یورپی ممالک کا ماننا ہے کہ نیوکلیئر ڈِیل قائم رہنی چاہیے، جب کہ امریکا اس سے علیحدگی اختیار کر چُکا ہے۔ اگر دیکھا جائے، تو یہ بڑی عجیب صورتِ حال ہے کہ اسرائیلی ریاست خود برطانیہ اور یورپ کی تخلیق کردہ ہے، بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ ہئیت فرانس کے سائیکس،پائیکوٹ معاہدے ہی کے مرہونِ منّت ہے، جب کہ موجودہ افراتفری کا شاخسانہ بھی یہی ہے۔ پھر ماضی میں خود یورپ ایران کا مخالف رہا ہے اور شام میں اس کے کردار پر مستقلاً تنقید کرتا رہا ہے اور اس نے امریکا کے ساتھ مل کر شام میں میزائل بھی گرائے۔ اس ضمن میں ماہرین کا مؤقف ہے کہ یورپ ایٹمی معاہدے کے بعد ایران سے ہونے والے تجارتی معاہدوں کو خاص اہمیت دیتا ہے، جب کہ امریکا نے ایران سے کسی قسم کے معاہدے نہیں کیے۔ اپنے مفادات کے پیشِ نظر یورپ کی خواہش ہے کہ ٹرمپ نیوکلیئر ڈِیل سے علیحدگی کے فیصلے پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کریں۔ گویا یورپ کو ایران سے کوئی ہم دردی نہیں، بلکہ وہ اپنے مالی مفادات کا تحفّظ چاہتا ہے۔ یورپی یونین بالخصوص جرمنی، رُوس کو بھی اُن اقتصادی پابندیوں سے چُھوٹ دینے کا حامی ہے، جو یوکرین اور کریمیا پر رُوسی قبضے کے بعد اس پر یورپ اور امریکا نے مشترکہ طور عاید کی تھیں۔ یاد رہے کہ رُوس، یورپ کو سب سے زیادہ گیس سپلائی کرتا ہے، جس کی وجہ سے یورپ لچک دِکھانے پر مجبور ہے۔

دوسری جانب یورپ کی ٹریڈ کمشنر، سیسیلیا مامسٹارم کا کہنا ہے کہ گرچہ یورپ کسی تجارتی جنگ میں شامل نہیں، لیکن مشکل صورتِ حال سے ضرور دوچار ہے اور جوابی کارروائی کے علاوہ اپنا مقدّمہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں پیش کرے گا، جہاں اس قسم کے تنازعات کا حل نکالا جاتا ہے۔ ناقدین اس اَمر کی جانب بھی توجّہ دِلاتے ہیں کہ امریکا اس سے قبل بھی دو مرتبہ یورپ کے لیے ٹریڈ ٹیرف مؤخر کرچُکا ہے، لیکن بہر حال اس قسم کے اعلانات تجارتی ماحول میں بے یقینی پیدا کرتے ہیں اور یہ نیک شگون نہیں۔ اقتصادی امور کے ماہرین میں سے اکثر کا خیال ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے ٹیکس عاید کرنے کے اعلانات درحقیقت دبائو بڑھانے کا ایک حَربہ ہیں، جس کے ذریعے وہ اپنے تجارتی پارٹنرز سےایسے تجارتی معاہدے کرنا چاہتا ہے کہ جس سے اُس کا فائدہ ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکا کا تجارتی خسارہ اربوں ڈالرز میں ہے اور اسے کسی بھی صُورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیوں کہ یہ کسی بھی وقت امریکی معیشت کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے،جو عالمی معیشت میں کلیدی کردار کی حامل ہے۔ اس وقت اعلانات کے ساتھ مذاکرات بھی جاری ہیں۔ اندیشے بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں اور حل بھی بتائے جا رہے ہیں۔ تاہم، ایک عام آدمی کی خواہش یہی ہے کہ کوئی تجارتی جنگ ہرگز نہ ہو، کیوں کہ حتمی طور پر اس کا خمیازہ عوام ہی کو بھگتنا پڑے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں