آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پاک بھارت کر کٹ سیریز،پی سی بی کی قانونی ٹیم کی ذمے داری بڑھ گئی

سہیل عمران

پاکستان اور بھارت کی باہمی سیریز کا معاملہ کھٹائی میں پڑا ہوا ہے۔2012,13میں پاکستان نے بھارت جاکر باہمی سیریز کھیلی۔ مختصر دورانیے کی اس سیریز کے بعد سے اب تک پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیمیں باہمی سیریز کے لئے آمنے سامنے نہیں آئیں۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور ایشین کرکٹ کونسل کے ایونٹس میں ہی دونوں ممالک کے درمیان میچز ہو سکے ہیں۔ اس دوران پاکستان اور بھارت نے باہمی سیریز کھیلنے کے لئے معاہدہ بھی کیا لیکن سیریز کا اس کے باوجود انعقاد نہیں ہو سکا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھارت پر ہمیشہ زور دیا کہ کھیلوں کو سیاست سے دور رکھناچاہئے اور آپس میں مقابلہ کرنا چاہئے لیکن بھارت ٹس سے مس نہ ہوا اور آخر کار تمام طریقہ کار مکمل کرنے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی میں اپنا کیس بھیجنے کا فیصلہ کیا اور موقف اختیار کیا کہ بھارت کے نہ کھیلنے کی وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو ستر ملین ڈالرز کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے، اس کا ازالہ کیا جائے۔ ڈسپیوٹ کمیٹی میں کیس کی تاریخ بھی طے ہو چکی ہے اور یکم اکتوبر سے تین روزہ سماعت کا آغاز ہو گا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس حوالے سے پہلے ہی سخت موقف اختیار کیا ہوا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایف ٹی پی پر مشروط رضا مندی ظاہر کی ہو ئی ہے اور واضح کیا ہوا ہے کہ کمیٹی کا جو بھی فیصلہ آئے گا، قبول کریں گے اور اگر فیصلہ پاکستان کے حق میں آتا ہے تو پھر ایف ٹی پی میں پاکستان اور بھارت کی سیریز شامل کی جا ئیں گی۔ یہ ایک الگ بحث ہے اور اس کے حوالے سے کئی متنازع باتیں بھی سامنے آتی رہی ہیں کہ باہمی سیریز کے لئے باقاعدہ معاہدہ ہوا تھا کہ نہیں یا اس معاہدے کی کوئی قانونی حیثیت ہے کہ نہیں یا پھر باہمی سیریز کھیلنے کے لئے حکومتی اجازت درکار ہو تی ہے، معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں ہو تی۔ ان پہلوئوں پر بہت بحث ہو تی رہی ہے اور اس کا سلسلہ اب تک جاری ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ سیریز کھیلنے سے بھاگ رہا ہے۔ پی سی بی کے چیئرمین نجم سیٹھی اور پی سی بی کی لیگل ٹیم، بھارتی کرکٹ بورڈ پر دبائو ڈالنے میں ضرور کامیاب ہو گئی ہے۔ جوں جوں سماعت کے دن قریب آرہے ہیں، بھارتی بورڈ کے عہدیداروں میں بے چینی بڑھ رہی ہے کیونکہ اب تک بھارت نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ حالات سازگار نہیں ہیں۔ سیاسی صورت حال ایسی ہے کہ پاکستان کے ساتھ کھیلنا ممکن نہیں ہے اور حکومت کی جانب سے اس حوالے سے اجازت درکار ہے لیکن بھارتی کرکٹ بورڈ نے کبھی تحریری طور پر یہ دستاویزات پیش نہیں کیں یا تحریری طور پر کبھی یہ نہیں کہا کہ انہیں پاکستان کے ساتھ کھیلنے کے لئے حکومتی اجازت نہیں ہے۔ اگر بھارتی کرکٹ بورڈ کمیٹی میں اپنی حکومت کے تحریری موقف کے بغیر جاتا ہے تو پاکستان کے لئے یہ کیس بڑا مضبوط ہوگا۔ اسی لئے بھارتی کرکٹ بورڈ کی بے چینی بڑھ رہی ہے کہ وہ اپنی حکومت کا موقف جانے اور اپنی حکومت کی پاکستان کے ساتھ کھیلنے کی پالیسی جانے کیونکہ اب تک بھارتی حکومت کے وزیروں نے میڈیا پر آکر بیان تو دھواں دھار دیئے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ نہیں کھیلنا، لیکن حکومت کی جانب سے کبھی بھی باقاعدہ طور پر وضاحت نہیں کی گئی کہ پاکستان کے ساتھ کھیلنے کی پالیسی کیا ہے۔ اب جبکہ کمیٹی کی سماعت کے لئے بھارت کو حکومتی پالیسی جاننی بہت ضرور ی ہے اس لئے بھارتی کرکٹ بورڈ نے اپنی حکومت کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کہانہیں بتایا جائے کہ پاکستان کے ساتھ کھیلنے کی پالیسی کیا ہے۔ بی سی سی آئی اپنی حکومت کی جانب سے تحریری طور پر موقف جاننا چاہتا ہے تاکہ اسے کمیٹی کے سامنے پیش کیا جا سکے۔ حکومت کی جانب سے اجازت نہ ملنے کی صورت میں بھارت کا کیس مضبوط ہو جائے گا کیونکہ باہمی سیریز کھیلنے کی پہلی شرط یہی ہو تی ہے کہ حکومت کی رضا مندی شامل ہونی چاہئے۔ بھارتی بورڈ پہلے یہی موقف دہراتا رہا ہے کہ اس نے پاکستان کے ساتھ کھیلنے کا کبھی معاہدہ نہیں کیا۔ پی سی بی کا یہ دعوٰی غلط ہے کہ معاہدہ کیا گیا ہے۔ وہ معاہدہ نہیں تھا، صرف ایک رضامندی تھی۔ معاہدے کو رضا مندی قرار دینے والا بورڈ اب ڈسپیوٹ کمیٹی میں کیس جانے کے بعد حکومت کی جانب سے پالیسی جاننے کی کوشش کیوں کر رہا ہے۔ اگر یہ صرف رضا مندی تھی تو پھر اسے فکر کس چیز کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پی سی بی درست سمت کی جانب گامزن ہے اور بھارت بیک فٹ پر چلا گیا ہے۔ یقیناً ڈسپیوٹ میں کیس جانے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو فائدہ ہوا ہے اور اب پاکستان کرکٹ بورڈ کی لیگل ٹیم کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں کہ وہ اپنے کارڈ اچھے انداز میں کھیلیں اور بھارت کو دیوار کے ساتھ لگا کر نہ صرف نقصان کا ازالہ کریں بلکہ بھارت کے ساتھ ایف ٹی پی میں سیریز کی بھی شروعات کریں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں