آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جمہوری حکومت کا احترام، پاکستان کی خوش حالی و استحکام

پاکستان میں یہ کوئی نئی بحث نہیں کہ حُکم رانی کا اختیار منتخب جمہوری حکومت کے پاس ہونا چاہیے یا اداروں کے پاس اور اس کا سبب یہ ہے کہ یہاں ریاست اور حکومت الگ الگ حیثیت کی حامل ہیں۔ اس تفریق کے حامی عرصۂ دراز سے اس بات پر مُصر ہیں کہ منتخب حکومت سیاسی اور وقتی ہوتی ہے، جب کہ ریاست غیر سیاسی اور مستقل۔ اس سلسلے میں صدرِ مملکت ، چیئرمین سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اسپیکر کی مثال پیش کی جاتی ہے، جو غیر سیاسی تصوّر کیے جاتے ہیں اور ریاست کی علامت کہلاتے ہیں۔ بہ ظاہر تو یہ بات دِل کو بھاتی ہے کہ ایک شہری ریاست کی علامت بننے کی وجہ سے ممکنہ سیاسی تعصّبات سے آزاد ہو جاتا ہے، لیکن اگر اسے وسیع تر گورنینس کے تناظر میں دیکھا جائے، تو یہ انتشار اور افراتفری کو جنم دینے کا باعث بھی بنتی ہے۔ خیال رہے کہ ریاست کے دو اجزا ہوتے ہیں، جغرافیہ اور آبادی۔ ریاست کا نظم، حُکم رانی کے ذریعے قائم کیا جاتا ہے۔ زمانۂ قدیم میں قبائلی نظام رائج تھا۔ پھر بادشاہتیں قائم ہوئیں اور اب جمہوری نظام قائم ہے، جس میں عوام ووٹوں کے ذریعےاپنا حُکم راں چُنتے ہیں۔ درحقیقت، ریاست کی طاقت حکومت ہوتی ہے۔ اگر حکومت کم زور ہو، تو ریاست کم زور ہو جاتی ہے اور اگر حکومت طاقت وَر ہو، تو ریاست بھی مضبوط ہوتی ہے۔ آج سے ایک صدی قبل برطانوی سلطنت اس قدر پھیلی ہوئی تھی کہ اس میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا، لیکن دوسری عالمی جنگ کے بعد جب انگریز سرکار کم زور ہوئی، تو برطانوی سلطنت کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ اسی طرح جب تک سوویت یونین کی حکومت مضبوط تھی، تب تک سوویت ریاست بھی مضبوط تھی اور جب حکومت ضعف کا شکار ہوئی، تو ریاست بھی بکھر گئی۔ پاکستان میں حکومت 1971ء تک خود کو منوانے کی طاقت رکھتی تھی، لیکن جب یہ قوت کم زور ہوئی، تو بنگلا دیش وجود میں آیا۔ گزشتہ ایک سو برس کے دوران ایسی بہت سی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ درحقیقت، جمہوریت میں حکومت ہی ریاست ہوتی ہے، کیوں کہ لوگ اپنی مرضی سے اپنے ووٹ کی طاقت سے اسے قائم کرتے ہیں اور پھر اسے چلانے کے لیے اپنے عزم سے توانائی فراہم کرتے ہیں۔ جمہوری نظام میں سیاسی جماعتیں مقرّرہ مدّت کے لیے اپنا منشور پیش کرتی ہیں۔ پھر عوام اُن کی 5سالہ کارکردگی کو جانچتے ہیں اور بیلٹ باکس کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ایک جمہوری حکومت قائم ہوتی ہے، جو باقی تمام اداروں کو چلاتی ہے۔ خیال رہے کہ کوئی ادارہ چاہے کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو، اس کی اصل طاقت عوام ہوتے ہیں، جو حکومت کے ذریعے اپنے مُلک کا نظم و نسق چلاتے ہیں۔

جمہوریت ہی ریاست کو اصل طاقت فراہم کرتی ہے، جس میں عوام ایک مقرّرہ مدّت کے لیے اپنے منتخب نمایندوں کو حُکم رانی کا اختیار دیتے ہیں اور اگر عوام ان سے مطمئن ہوں، تو اس مدّت میں توسیع بھی ہو سکتی ہے۔ وگرنہ دیگر نمایندوں کو یہ طاقت منتقل ہو جاتی ہے۔ جرمنی میں چانسلر، اینگلا مِرکل گزشتہ 16برس سے حُکم رانی کر رہی ہیں، جب کہ سُپر پاور، امریکا میں کوئی فرد 8برس پر مشتمل دو مدّتوں ہی کے لیے صدر کے عُہدے پر فائز رہ سکتا ہے۔ جمہوریت کی خُوب صُورتی یہ ہے کہ حُکم رانوں کے انتخاب کا حق صرف عوام کے پاس ہوتا ہے اور کوئی ادارہ یا فرد اسے استعمال کرنے کا مجاز نہیں ہوتا۔ اگر ایسا نہ ہو، تو پھر ہر فرد اور ادارہ اپنی طاقت و صوابدید کے مطابق فیصلے کرتا پھرے اور انہیں دُرست ثابت کرنے کے لیے جواز بھی فراہم کرے ۔ نیز، اپنی حدود کی وضاحتیں بھی کرتا پھرے۔ آج پاکستان میں بھی کچھ ایسی ہی صورتِ حال پیدا ہو چُکی ہے۔ عوام ایک مخمصے میں مبتلا ہیں۔ روزانہ ایک نیا نظریہ اور بیانیہ سامنے آ رہا ہے اور ہر سیاسی جماعت، سیاسی رہنما اور دانش وَر یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ صرف وہی ریاست کے مفاد میں کام کر رہا ہے۔ پھر مُلکی اداروں کا طرزِ عمل بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ چاہے اُن کے اقدامات کتنی ہی نیک نیّتی پر مبنی کیوں نہ ہوں، لیکن یہ دعویٰ کیسے کیا جا سکتا ہے کہ ریاست کو مضبوط بنانے کا جو طریقہ انہوں نے اپنا رکھا ہے، پاکستانی عوام بھی اُسے پسند کرتے ہیں۔ برطانیہ میں برسوں سے یورپی یونین سے علیحدگی پر غور کیا جا رہا تھا، لیکن جمہوری حکومتوں نے اس معاملے میں بہ ذاتِ خود فیصلہ کرنے کی بہ جائے عوام کی رائے جاننے کے لیے ریفرنڈم کروایا۔ یاد رہے کہ یورپی یونین کو ریاستوں کے مشترکہ مفاد کے تحت اتحاد کی سب سے بہترین عملی تعبیر تسلیم کیا جاتا ہے۔ ریفرنڈم میں برطانوی عوام نے ’’بریگزٹ‘‘ کے حق میں ووٹ دیا اور برطانوی حکومت علیحدگی کے اس فیصلے پر عمل درآمد کر رہی ہے۔ گرچہ اس وقت برطانیہ میں ایک کم زور حکومت ہے، لیکن ساری سیاسی جماعتیں اور ادارے اس کی پُشت پر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صرف ایک فی صد ووٹ کی برتری سے ہونے والا ’’بریگزٹ‘‘ کا فیصلہ کسی بُحران کا سبب نہیں بن سکا۔ اب جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ یہ فیصلہ صحیح ہے یا غلط؟ اس کا تعیّن تاریخ کرے گی اور اس کے ذمّے دار برطانوی عوام ہوں گے، جو برطانوی ریاست کے اصل مالک ہیں۔

پاکستان میں اس وقت جو سیاسی تقسیم اور افراتفری پائی جاتی ہے، وہ تشویش ناک ضرور ہے، لیکن حتمی فیصلہ عوام ہی نے کرنا ہے۔ ریاست کے نام پر عوام کی منتخب کردہ حکومت کو بے حیثیت ثابت کرنا، کسی بڑے بُحران کو جنم دے سکتا ہے۔ آخر انتخابات کے نتیجے میں کوئی نہ کوئی سیاسی جماعت تو حکومت بنائے گی اور مُلک کا نظم و نسق چلائے گی۔ منتخب نمایندے اسی معاشرے کے افراد ہوں گے اور ان میں سے بیش تر آزمائے ہوئے ہوں گے، لیکن ان کے پاس عوام کی طاقت ہو گی۔ سیاسی جماعتوں اور قومی اداروں کو ان کا اختیارِ حُکم رانی تسلیم کرنے کی روایت قائم کرنی چاہیے اور یہی جمہوریت ہے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا، تو چاہے ہم کتنے ہی دلائل پیش کریں، مُلک کی جڑیں کھوکھلی ہوتی چلی جائیں گی۔ خیال رہے کہ سیاسی مفاہمت اور عوام کی حُکم رانی کو چیلنج کرنا، دو مختلف چیزیں ہیں۔ دُکھ کی بات یہ بھی ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں اور اُن کی قیادت بُحرانوں اور آزمائشوں میں خود کو تعصّبات سے بالاتر نہیں رکھ سکیں اور پھر ذرایع ابلاغ پر مختلف تاویلیں پیش کرتی رہیں۔ 1971ء میں بھی سیاسی جماعتیں اور اُن کے قائدین مفاہمت اور لچک کا مظاہرہ نہ کر سکے ۔ ہر لیڈر اپنی عظمت کے ڈھول پیٹتا رہا۔ نتیجتاً مُلک دو لخت ہو گیا۔ مفاہمت کا مطلب، مفاد پرستی نہیں، بلکہ مُلک و قوم کی بہتری ہے۔ چاہے اس مقصد کے لیے وقتی طور پر پسپائی ہی کیوں نہ اختیار کرنی پڑے۔ اگر غور سے دیکھا جائے، تو وقتاً فوقتاً منتخب حکومتوں کو کم زور کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے دائو پیچ ریاست کے ضعف کا باعث بنے۔ کاش یہ ساری توانائیاں جمہوریت کی مضبوطی کے لیے بروئے کار لائی جاتیں۔ ذرا غور کریں کہ کیا کوئی کم زور حکومت ریاست کو درپیش داخلی و خارجی چیلنجز کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ نہیں ، تو ہمیں جمہوری حکومتوں کو کم زور کرنے کی بہ جائے اُن کے ہاتھ مضبوط کرنا ہوں گے۔

آج کوئی بھی ریاست دُنیا سے کٹ کر نہیں رہ سکتی۔ ہر ریاست کی سرحدیں دوسری ریاستوں سے ملتی ہیں اور بہت سے ممالک تو ایک دریا تک میں حصّے دار ہیں۔ مثلاً دریائے نیل تین افریقی ممالک سے گزر کر مصر کا قومی دریا بنتا ہے۔ اسی طرح اہم ترین آبی شاہ راہیں بھی، جو عالمی تجارت اور دفاعی امور کی بنیاد ہیں، دو یا دو سے زاید ممالک کے درمیان واقع ہیں۔ مثال کے طور پر آبنائے ملاکا کا ایک کنارہ ملائیشیا تو دوسرا انڈونیشیا سے ملتا ہے۔ اسی طرح صحرائے گوبی بھی کئی ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ بایں ہمہ بحیرۂ روم کے کنارے کئی ایشیائی، افریقی اور یورپی ممالک واقع ہیں۔ امورِ خارجہ میں دو عناصر کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ سرحدوں کی حفاظت یا زمینی سالمیت اور اقتصادی مفادات کا فروغ۔ اول الذّکر کا تعلق دفاع سے ہے، تو موخر الذّکر کا معیشت سے۔ اور کسی بھی مُلک کی سلامتی کے لیے یہ دونوں عوامل بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر معیشت کم زور ہو جائے، تو بڑی بڑی سلطنتیں بکھر جاتی ہیں۔ سلطنتِ برطانیہ اور سوویت یونین کی شکست و ریخت اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ اس وقت پاکستان کی خارجہ پالیسی کو آزمائش کا سامنا ہے۔ دفاعی نقطۂ نگاہ سے دہشت گردی اور شدّت پسندی سب سے بڑے چیلنجز ہیں، جو اندرونِ مُلک اور سرحدوں پر بھی خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اگر ہم اپنے ارد گرد کے ممالک پر نظر ڈالیں، تو چین کے علاوہ شاید ہی کسی مُلک سے ہمارے تعلقات اطمینان بخش ہوں۔ اس وقت بھارت، افغانستان، ایران اور بنگلا دیش ہمارے دشمن یا مخالف مُلک ہیں۔ مغربی اور مشرقی دونوں سرحدیں ہی ’’ہاٹ‘‘ ہیں۔ مذکورہ بالا ممالک سے ہمارے تعلقات دن بہ دن پستی کی جانب گام زن ہیں۔ پھر ہم سُپر پاور، امریکا کو بھی اپنا دشمن گردانتے ہیں اور اکثر اس اَمر کا اظہار کرتے ہیں کہ پاکستان کے خلاف ہونے والی زیادہ تر سازشوں میں اس کا کردار ہے۔ ہم رُوس کو اپنا دوست بنانا چاہتے ہیں، لیکن کیا وہ اس شرط پر پورا اُترتا ہے، جو ہم نے امریکا کے سامنے رکھی ہے کہ وہ بھارت کو ہم پر ترجیح نہ دے۔ پھر مئی میں رُوسی شہر، سوچی میں ہونے والی مودی، پیوٹن ملاقات میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ رُوس اور بھارت، افغانستان میں جاری مختلف منصوبوں پر مشترکہ طو ر پر کام کریں گے۔ رُوس، بھارت کو میزائل سے دفاع کا جدید ترین نظام S-400فراہم کر رہا ہے، جس کی راہ میں صرف رُوس پر عاید امریکی اقتصادی پابندیاں حائل ہیں۔ اس موقعے پر ناقدین رُوس کے اُس کردار کا بھی ذکر کرتے ہیں، جو وہ شام کی خانہ جنگی میں ادا کر رہا ہے۔ خیال رہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی میں اب تک کم و بیش 5لاکھ مسلمان ہلاک اور ایک کروڑ سے زاید بے گھر ہو چُکے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ ایران اور عرب دُنیا جنگ کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ نیز، رُوس کو شام پر اسرائیلی حملوں پر بھی کوئی اعتراض نہیں، بلکہ وہ اسے احتیاط سے حملے کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔ ماہرین رُوس کے موجودہ کردار کو اس کی 1970ء اور 1980ء کے عشرے میں افغانستان میں مداخلت سے تشبیہہ دیتے ہیں، البتہ فرق صرف اتنا ہے کہ آج مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال عالمِ اسلام کے لیے سازگار نہیں۔ آج پوری دُنیا میں صرف چین ہی ہمیں اپنا قابلِ اعتماد دوست نظر آتا ہے، لیکن وہ نہ صرف بھارت کا دوست ہے بلکہ امریکا کا تجارتی پارٹنر بھی ہے۔ ہمارے مقابلے میں ان دونوں ممالک سے چین کے کہیں زیادہ اقتصادی مفادات وابستہ ہیں۔ پھر وہ عالمی طاقت بننے کے لیے بھی پَر تول رہا ہے اور اس کے اپنے تقاضے ہیں۔سب سے بڑا تقاضا تو یہی ہے کہ علاقائی و عالمی توازن برقرار رکھا جائے۔ امن و امان چین کی اقتصادی برتری کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ’’ون بیلٹ، ون روڈ‘‘ جیسے منصوبے اسی کے عکّاس ہیں اور شنگھائی فورم بھی اسی مقصد کے لیے قائم کیا گیا ۔

ہمارے امورِ خارجہ کے ماہرین نہ صرف ان تمام معاملات کو سمجھتے ہیں، بلکہ وقتاً فوقتاً ان سے برآمد ہونے والے چیلنجز کا ذکر بھی کرتے رہتے ہیں اور ان سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط و مستحکم جمہوری حکومت کی اشد ضرورت ہے۔ ایک ایسی حکومت کہ جسے مفادِ عامّہ میں فیصلے کرنے کے لیے عوام کا اعتماد اور مینڈیٹ حاصل ہو۔ وہ اندرونِ مُلک مشاورت کے نتیجے میں ایک ایسی خارجہ پالیسی ترتیب دے کہ جس کے ذریعے ہم اقوامِ عالم سے بہتر روابط قائم کر کے اپنے مفادات حاصل کرسکیں۔ اگر اچھے تعلقات قائم نہیں کر سکتے، تو کم از کم ایسے تعلقات استوار کریں کہ جن سے ہماری اقتصادی ترقّی جاری رہ سکے۔ نیز، اگر حکومت کسی مُلک سے دوستی یا معاہدے کرے، تو انہیں شکوک کی بہ جائے احترام کی نظر سے دیکھا جائے۔ ہم ماضی میں اپنی عاقبت نا اندیشی سے مختلف بین الاقوامی معاہدوں کی منسوخی کی صورت کروڑوں ڈالرز کا نقصان برداشت کر چُکے ہیں۔ آخر عوام کے ٹیکسز سے حاصل ہونے والی اس خطیر رقم کا حساب کون دے گا؟ تاہم، اللہ کا لاکھ لاکھ شُکر ہے اب یہ سلسلہ تھم گیا ہے،لیکن اصل امتحان عام انتخابات کے نتیجے میں بننے والی نئی حکومت کا ہو گا۔ کیا اس حکومت کے پاس اس قدر اختیارات ہوں گے کہ وہ بھروسے اور اعتماد کے ساتھ مختلف ممالک سے تعلقات قائم کر سکے یا پھر تقسیمِ اختیارات کے تحت اُسے طاقت کے دوسرے مراکز کی طرف ہی دیکھنا پڑے گا۔ یاد رہے کہ اگر ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کو مضبوط کرنا ہے، تو پہلے اپنے گھر کو دُرست کرنا ہو گا۔ اب ہر کوئی یہی کہہ رہا ہے۔ سو، اس معاملے پر سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ نئی حکومت کو عالمی مالیاتی فورمز میں بھی جانا ہو گا اور علاقائی فورمز میں بھی۔ اس سلسلے میں ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف خاصی اہمیت رکھتی ہیں۔ ان پلیٹ فارمز پر نعرے بازی اور جذباتی تقاریر کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی، بلکہ کارکردگی سے متعلق ٹھوس حقائق پیش کرنا ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں ٹاک شوز میں تو جذباتی نعروں پر خوب واہ واہ ہوتی ہے، لیکن اس وقت بڑی تکلیف ہوتی ہے کہ جب خارجی محاز یا عالمی فورمز پر ہمارے مؤقف کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس ضمن میں کِشن گنگا ڈیم پر ورلڈ بینک کے حالیہ فیصلے کو ایک مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے، جس میں اسلام آباد کی ثالثی کی تجویز کی بہ جائے دہلی کی غیر جانب دار ماہر کے تقرّر کی تجویز کو تسلیم کر لیا گیا۔ ایسی صورت میں سازشی فلسفے اور دشمنوں پر لعن طعن کے ذریعے اندرونِ مُلک عوام کو مطمئن کر دیا جاتا ہے، جب کہ مضبوط جمہوری حکومت بہ ذاتِ خود تمام سازشوں کا توڑ ہوتی ہے اور دُنیا بھی اس کے کردار کو سراہتی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں سیاسی بلوغت تک نہیں پہنچ پائیں کہ اُن سے جمہوریت کی حفاظت کی توقّع کی جاسکے اور نہ ہی ہمارا مُلک معاشی طور پر اتنا مستحکم ہے کہ وہ غیر معیّنہ مدّت تک تجربہ گاہ بنا رہے۔ وگرنہ جاپان میں ایک عرصے تک ہر سال حکومتیں بدلتی رہیں اور اس کے باوجود وہ دُنیا کی دوسری بڑی اقتصادی قوت بن گیا۔ خیال رہے کہ کسی بھی مُلک کے لیے اس کی سیاسی قیادت بہت اہم ہوتی ہے اور وہی اسے منجدھار سے نکالتی ہے۔ تاہم، کوئی بھی جمہوری حکومت تبھی مُلک و قوم کو استحکام بخش سکتی ہے کہ جب اسے اپنے عوام کا اعتماد حاصل ہو۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں