• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں دھرنا کلچر کافی پرانا ہے۔ حکومت یا دوسرے اداروں سے مطالبات منوانے کے لئے دھرنے دیئے جاتے رہے ہیں مگر یہ چھوٹے موٹے احتجاج تھے جنہوں نے شاید ہی کبھی معمول کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہو۔ 2014ء میں ڈی چوک اسلام آباد میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے طویل دھرنا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان عوامی تحریک نے دیا جس نے نہ صرف اسلام آباد میں عام لوگوں کی زندگیاں مفلوج کر دیں بلکہ اس نے ملک کو دنیا میں لافنگ اسٹاک بنا دیا۔ اس نے معاشی طور پر بھی انتہائی برے اثرات پیدا کئے یہاں تک کہ چینی صدر کا دورہ بھی کئی ماہ تک ملتوی کرنا پڑا جس کے دوران اربوں ڈالر کے منصوبے سی پیک کے تحت فائنل ہونے تھے۔اس دھرنے کے دوران قانون، آئین اور پارلیمان کی وہ دھجیاں اڑائی گئیں جن کا نہ کسی نے ہماری تاریخ میں سنا تھا اور نہ دیکھا۔ اہم سرکاری عمارتوں پر حملے کئے گئے اور پولیس اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروںکو مارا پیٹا گیا ۔یہ تھا سبق جو عمران خان اور علامہ طاہر القادری نے اپنے کارکنوں کو دیا یعنی اپنے مطالبات منوانے کے لئے انہیں ہر حد بغیر کسی خوف وخطر کے عبور کر لینی چاہئے قانون ان کا کچھ نہیں بگاڑے گا۔ آئین اور قانون کی تباہی کرنے کے الزام پر نہ تو کوئی جیل گیا اور نہ ہی کسی کو کوئی سزا ہوئی۔یہ ہے ہمارے ملک میں قانون کی حکمرانی جس کے لئے بلند بانگ دعویٰ یہ دونوں سیاستدان اور دوسرے رہنما کرتے رہتے ہیں۔ دنیا میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں یہ سب کچھ بڑی آسانی سے کیا جاسکتا ہے اور ایسے مجرموں کا احتساب کوئی نہیں کر سکتا۔
مختلف اضلاع میں ٹکٹوں کی تقسیم پر پی ٹی آئی کے پرانے ’’نظریاتی‘‘ کارکن سخت طیش میں ہیں اور وہ اپنی لیڈر شپ کے فیصلے جس میں اس نے لوٹوں کو ٹکٹ دیئے ہیں کو ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ ان میں سے سینکڑوں ورکرز کئی روز سے عمران خان کی بنی گالا میں رہائش کے باہر دھرنا دیئے ہوئے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ فصلی بٹیروں سے ٹکٹ واپس لئے جائیں اور ان رہنمائوں کو دیئے جائیں جو مشکل وقت میں جماعت کے ساتھ کھڑے رہے ،قربانیاں دیں اور بہت بڑا سرمایہ انویسٹ کیا۔ کئی مالدار افراد نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے دھرنے کے دوران کروڑوں روپے خرچ کئے کیونکہ ان کی پی ٹی آئی کے ساتھ کمٹمنٹ تھی اور انہیں امید تھی کہ انہیں ٹکٹ دیئے جائیں گے مگر ایسا کچھ نہیں ہوا اور اس طرح ان کی انویسٹمنٹ ضائع ہو گئی۔ عمران خان کے دھرنا کلچر کو انتہا پر لے جانے کی بناپر ہم سمجھتے ہیں کہ ان ناراض کارکنوں کا طریقہ احتجاج بالکل صحیح ہے اور انہیں اسے جاری رکھنا چاہئے جب تک کہ ان کے مطالبات پورے نہ ہو جائیں کیونکہ گزشتہ پانچ سال کے دوران عمران خان کا یہی وطیرہ رہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ کسی مسئلے کو چاہے وہ صحیح ہو یا غلط چھوٹا ہو یا بڑا اسکینڈلائز کریں اور احتجاجوں کے ذریعے متعلقہ اداروں اور اپنے مخالفین پر دبائو ڈالیں۔ ان دھرنے والوں نے عمران خان کو بڑی حد تک زچ کر دیا ہے اور لگ نہیں رہا کہ وہ بنی گالا سے اپنے مطالبات منوائے بغیر اپنے گھروں کو چلے جائیں گے۔ چیئرمین پی ٹی آئی ہمیشہ یہی کہتے رہے ہیں کہ احتجاج چاہے وہ قانون کی ریڈ لائن جتنی مرضی کراس کر لے ان کا آئینی اور جمہوری حق ہے اور پولیس کی اس کے خلاف کسی قسم کی کارروائی قانون کی خلاف ورزی ہوگی بالکل ان کے کہنے کے مطابق ہی ان ورکرز کا بھی جمہوری حق ہے کہ وہ دھرنا دیئے رکھیں۔ تاہم پی ٹی آئی کی درخواست پر ہی رینجرز کی ایک بہت بڑی نفری فوری طور پر دھرنا دینے والوں سے نمٹنے کے لئے تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پولیس پہلے ہی وہاں موجود ہے جو احتجاجیوں پر ڈنڈا باری کر چکی ہے۔ عمران خان نے اپنے ورکروں کا ایسا مزاج بنا دیا ہے جو ہر وقت ہر بات پر احتجاج کے لئے تیار رہتے ہیں۔ تاہم اس بار ان ورکرز کے مطالبات میں بڑی جان ہے کیونکہ پی ٹی آئی نے لوٹوں کی اتنی بڑی فوج کو ٹکٹ دے دیئے ہیں کہ اصل پارٹی ان میں نظر ہی نہیں آرہی۔ یہ سب کچھ عمران خان کے ان دعوئوں جو وہ گزشتہ پانچ سال سے دن رات کر رہے ہیں کے صریحاً خلاف ہے۔ اب انہوں نے اس کی یہ توجیح پیش کی ہے کہ انتخابات صرف اس صورت میں ہی جیتے جاسکتے ہیں جب امیدواروں کے پاس الیکشن لڑنے کا تجربہ ہو اور جن فصلی بٹیروں کو انہوں نے ٹکٹ دیئے ہیں ان کے پاس ایسی مہارت موجود ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ 2013ء میں ان کے امیدواروں کے پاس ایسا تجربہ نہیں تھا جس کی وجہ سے وہ کوئی خاطر خواہ نتائج نہ دے سکے۔ کہاں گیا ان کا وژن اور دعویٰ نیا پاکستان بنانے کا جب کہ انہیںصرف اور صرف پرانے معمار اور مستری دستیاب ہیں جن کے پاکستان کے خلاف ہی وہ ’’جدوجہد‘‘ کرتے رہے ہیں یہ تو سب لوگ ’’پرانا پاکستان‘‘ بنانے والے ہیں اور اسٹیٹس کو کے بانی اور قائم رکھنے والے۔ ان کا نہ کوئی سیاسی عقیدہ ہے اور نہ ایمان یہ تو صرف ریوڑ کے گڈریئے کی چھڑی سے ہانکے جاتے ہیں کبھی ق لیگ میں، کبھی پیپلزپارٹی میں، کبھی ن لیگ میں اور اب پی ٹی آئی میں۔
اگر ہم محتاط الفاظ بھی استعمال کریں تو آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ سیاستدانوں نے جو اپنے اثاثے کاغذات نامزدگی میں ظاہر کئے ہیں ان کی ویلیو صرف اور صرف جھوٹ کا پلندہ ہے۔ اربوں کی جائیدادوں کو کروڑوں میں ظاہر کیا گیا ہے اور کروڑوں کی پراپرٹیز کو صرف لاکھوں میں۔ سارا آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے جب اتنے بڑے بڑے جھوٹ اہم سیاسی رہنما بولیں گے تو وہ قوم کے لئے کیا کر سکیں گے اور اپنے حمایتیوں کو کیا پیغام دیں گے۔ مارگلہ روڈ اسلام آباد کے کسی گھر کی مالیت شاید ہی 30-40 کروڑ سے کم ہو مگر اس کی قیمت 2یا 3کروڑ ظاہر کی گئی ہے جو کہ ظاہر ہے ایک بہت بڑے فراڈ سے کم نہیں ہے۔ ان اثاثوں میں جو ٹرِک استعمال کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کی وہ ویلیو ظاہر کی جاتی ہے جس پر یہ خریدے گئے تھے جو کہ یقیناً موجودہ مارکیٹ ریٹس کے مطابق بہت ہی کم ہے۔ ان تمام اثاثوں کی چھان بین کے لئے کوئی میکنزم بنانا چاہئے جس کا مقصد یہ معلوم کرنا ہو کہ یہ کیسے بنائے گئے مگر ایسے پراسس کے ذریعے ویچ ہنٹنگ نہیں ہونی چاہئے جس کا ہمارے ہاں بہت رواج ہے خاص طور پر ان سیاستدانوں کا جو کہ مقتدر حلقوں کی گڈ بکس میں نہیں ہوتے۔ ایسا احتساب ججوں اور جرنیلوں کا بھی ہونا چاہئے اور صرف سیاستدانوں کو ہی اس چکی میں نہیں پیسنا چاہئے۔ جب سے نیب کے موجودہ چیئرمین کی تعیناتی ہوئی ہے۔ یہ ادارہ احتساب کی ایک نئی ’’تاریخ‘‘ رقم کررہا ہے جس کا مقصد صرف اور صرف ن لیگ کو رگڑا دینا ہے۔ ایسے ایسے مردے اکھاڑے جارہے ہیں جو کہ کئی دہائیوں پہلے دفن کئے جاچکے ہیں اور ایسے ایسے نئے کیس بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں جن کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین