آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ترک انتخابات کے پہلے مرحلے میں رجب طیب اردوان کی واضح کامیابی سے پوری مسلم دنیا میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ترک میڈیا کے مطابق اردوان نے 53فیصد ووٹ حاصل کئے اور اپوزیشن امیدوار محرم انجے کو صرف 31فیصد ووٹ ملے۔ اگرچہ ترکی میں سابق حکمراں جماعت کی شاندار حکومتی کارکردگی کی وجہ سے یہ امید کی جارہی تھی کہ اردوان باآسانی صدارتی انتخابات جیت جائیں گے مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ 24جون کو ترکی کے انتخابات سے ایک روز قبل تک مغربی تجزیہ کار یہ ثابت کرنے پر تُلے ہوئے تھے کہ سابق صدر اردوان اپنی مقبولیت کھوچکے ہیں اور محرم انجے اگلے صدر ہوں گے۔ مغربی میڈیاکے ان دعوئوں کے برعکس ترکی کے عوام نے 24جون کو حسب سابق اپنا پلڑا اردوان کے حق میں جھکا دیا۔ 24جون کو انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے مغربی میڈیا کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ سی این این، بی بی سی سمیت مغربی میڈیا کو ابھی تک جسٹس ایند ڈویلپمنٹ پارٹی کی تاریخی فتح ہضم نہیں ہورہی۔ ماضی میں الجزائر، مصر اور فلسطین میں حماس کی کامیابی کو بھی امریکہ اور یورپی ملکوں نے تسلیم نہیں کیا تھا۔ اسلام پسند افراد اور پارٹیاں اگر جمہوری نظام کے ذریعے ووٹ کی طاقت سے اقتدار میں آتے ہیں تو انہیں حکومت سے روکنا درحقیقت جمہوریت کی نفی ہے۔ ترک سرکاری میڈیا کے

مطابق حالیہ انتخابات میں ووٹرز کا ٹرن آئوٹ تقریباً 90فیصد رہا۔ ترکی کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ صدارتی اور پارلیمانی انتخابات ایک ساتھ ہوئے۔ طیب اردوان کے مقابلے میں چھ امیدوار محرم انجے، میریل ایکسینر، سلاحتین دیمارتس، تیمل، دوگو پریسنک تھے۔ اردوان نے پہلے مرحلے میں ہی اپنے مقابل حریفوں کے خلاف بھاری مینڈیٹ حاصل کرلیا ہے۔ ترکی کے حالیہ انتخابات نے واضح پیغام دیا ہے کہ طیب اردوان آج بھی وہاں مقبول ترین لیڈر ہیں۔ اردوان 2014میں صدر بننے سے قبل 11سال تک ترکی کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ ان کی بے پناہ مقبولیت کا شاندار مظاہرہ دوسال پہلے اس وقت دیکھنے میں آیا کہ جب ان کاتختہ الٹنے کی کوشش عوام نے ناکام بنادی ۔ حقیقت یہ ہے کہ اردوان کی کوششوں سے ترکی کو بدترین معاشی بحران سے نجات ملی۔ انہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر دگرگوں معیشت رکھنے والے ترکی کو ترقی یافتہ اقوام کے مدمقابل لاکھڑا کیا ہے۔ یہ ان کی کاوشوں کا ثمر ہے کہ ترکی اس وقت جی 20 ملکوں میں شرح ترقی کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر ہے۔ تعلیم، صحت، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں انہوں نے کافی ترقی کی ہے۔ مسلمان ملکوں میں بھی ترکی کو ایک رول ماڈل ملک کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ ترکی میں صدارتی و پارلیمانی انتخابات نومبر 2019میں ہونے تھے لیکن صدر اردوان نے اچانک قبل از وقت انتخابات کا اعلان کرکے اپوزیشن کو حیران کردیا تھا۔ انہوں نے یہ اعلان کردیا ہے کہ ترکی کا مستقبل اسلام سے وابستہ ہے۔ طیب اردوان کا جیتنے کے بعد جشن فتح ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عوام نے مجھے صدارت کے لئے مینڈیٹ دیا ہے۔ عدلیہ پر اعتباربڑھانے کے لئے اقدامات جاری رہیں گے۔ ترکی کے 6کروڑ باشندے ووٹ دینے کے اہل تھے۔ ٹرن آئوٹ بہت اچھا رہا۔ ترکی کے الیکشن کمیشن کے مطابق طیب اردوان پہلے مرحلے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اگر پہلے مرحلے میں کسی کو بھی 50فیصد ووٹ نہ مل پاتا تو آٹھ جولائی کو انتخابات کا دوسرا مرحلہ ہونا تھا جس میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والوں کے درمیان مقابلہ ہوتا۔ اب چونکہ طیب اردوان پہلے مرحلے میں ہی اپنے مخالفین کے مقابلے میں واضح برتری اور بھاری مینڈیٹ لینے میں کامیاب ہوگئے ہیں اس لئے اردوان کو اب بہت سے اختیارات حاصل ہوجائیں گے۔ ترک عوام نے مغرب کا پروپیگنڈہ مسترد کرکے طیب اردوان کو مزید پانچ سال کے لئے صدر منتخب کرلیا ہے۔ خلافت عثمانیہ کی بحالی کا سفر جاری ہے کیونکہ رجب اردوان خود کو عظیم عثمانی سلطنت کا جانشین کہلانا پسند کرتے ہیں۔ عالم اسلام کے مسائل حل کرنے کے لئے بھی ترک صدر کا ماضی میں قابل رشک کردار رہا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ کشمیر، فلسطین، اراکان (برما) سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں پر مظالم کے خلاف اپنی آواز بلند کی ہے۔ ان کی کامیابی سے امت مسلمہ کا سر بھی فخر سے بلند ہوگیا ہے۔ پاکستان اور دیگر اسلامی ملکوں نے بھی طیب اردوان کی عظیم کامیابی پر انہیں مبارکباد پیش کی ہے۔ رجب اردوان ایک متحرک اور درددل رکھنے والے انسان ہیں۔ ان کے دور اقتدار کے دوران پاکستان کے ساتھ بھی ترکی کے تعلقات مثالی رہے۔ اگر پاکستانی سیاست کے تناظر میں ترکی کے حالیہ انتخابات کو دیکھا جائے تو یہاں پاکستان میں آئندہ انتخابات میں بھی اسلام پسند دینی اتحاد متحدہ مجلس عمل جدوجہد کرتا نظر آرہا ہے۔ متحدہ مجلس عمل2002میں الیکشن سے قبل بنا تھا۔ اُس وقت بھی پاکستان کے سیاسی تجزیہ کار متحدہ مجلس عمل کو اہمیت نہیں دے رہے تھے مگر 2002کے انتخابات میں مجلس عمل کو کے پی اور بلوچستان میں اکثریت حاصل ہوئی تھی۔ اس طرح یہ دینی اتحاد کراچی اور پنجاب میں بھی کچھ نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ بدقسمتی سے 2008کے الیکشن میں بائیکاٹ کی وجہ سے متحدہ مجلس عمل غیرفعال ہوگئی۔ 2013کے الیکشن میں بھی یہ دینی اتحاد بحال نہ ہوسکا۔ 2002میں دینی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے کا کریڈٹ سابق امیر جماعت اسلامی اور مجاہد ملت قاضی حسین احمدؒ کو جاتا ہے۔ انہوں نے مولانا شاہ احمد نورانیؒ اور مولانا فضل الرحمان کو دینی قوتوں کے اتحاد کی طرف متوجہ کیا۔ اب 2018میں متحدہ مجلس عمل اپنی بھرپور قوت کے ساتھ پھر فعال ہوگئی ہے۔ لاہور اور پشاور کے حالیہ بڑے جلسوں سے مجلس عمل نے اپنی انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے۔ اب بھی یہ کہا جارہا ہے کہ ایم ایم اے کے پی اور بلوچستان میں دوبارہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ اسی طرح کراچی اور پنجاب میں بھی بہتر ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ وہ کچھ نشستیں جیت سکتی ہے۔ تحریک انصاف اس وقت اپنا پورا زور پنجاب پر لگا رہی ہے کیونکہ جو پنجاب سے زیادہ نشستیں جیتے گا وہ ہی مرکز میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) سیاسی طور پر پس منظر میں جاچکی ہے۔ چونکہ اُس نے عاشق رسولؐ ممتاز قادری کو پھانسی دی اور ختم نبوتؐ کے حوالے سے حلف نامے میں ترمیم کرنے کی ناپاک جسارت کی، اس لئے وہ اس وقت مکافات عمل کا شکار ہے۔ لگتا یہ ہے کہ پنجاب سے تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی اور دینی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے کو بہتر ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے ملاجلا مینڈیٹ مل سکتا ہے۔ واقفان حال کا مزید کہنا ہے کہ اندرون سندھ اور جنوبی پنجاب سے پیپلزپارٹی زیادہ سیٹیں جیتنے کی پوزیشن میں ہے اور دکھائی یہ دے رہا ہے کہ آئندہ انتخابات میں مرکز اور پنجاب میں مخلوط حکومت بننے کا امکان ہے۔ آئندہ حکومت سازی میں آزاد جیتنے والوں کا کردار بھی بڑا اہم ہوگا۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں