آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عرف عام میں کنگ کی پارٹی کو ’’کنگز‘‘ پارٹی کہا جاتا ہے۔ پاکستان کے مختلف ادوار میں مختلف ’’کنگز‘‘ پارٹیز رہی ہیں، اگر تین دہائی پیچھے کی بات کریں تو محمد خان جو نیجو کی سربراہی میں 80 کی دہائی میں ’’کنگز‘‘ پارٹی بنائی گئی اور جب کنگ کی محمد خان جونیجو سے ناراضگی ہوئی یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جب محمد خان جونیجو سے دل بھر گیا تو ا س کے بعد نواز شریف کو ’’کنگز‘‘ پارٹی کا سربراہ بنا دیا گیا۔ اگر چہ 88 کے انتخابات میں نواز شریف کی سربراہی میں بنائی جانے والی آئی جے آئی(کنگز پارٹی) قومی اسمبلی کا الیکشن ہار گئی لیکن پنجاب میں وہ الیکشن جیتنے میں کامیاب ہوئی اور نوازشریف وزیراعلیٰ پنجاب بن گئے۔ اس وقت محترمہ بے نظیر بھٹو کی عوام سے وابستگی اور عوام کے محترمہ بے نظیر بھٹو سے پیار اور اعتماد نے ’’کنگز‘‘ پارٹی بنانے والوں کے منصوبے کو حتمی طور پر کامیاب نہ ہونے دیا مگر ’’کنگز‘‘ پارٹی پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔ محترمہ بے نظیر بھٹونے ووٹ حاصل کرنے کے باوجود ’’کنگز‘‘ پارٹی بنانے والوں کے ساتھ محاذ آرائی کے بجائے ان سے بات چیت کا راستہ نکالا اور ’’کچھ دو اور کچھ لو‘‘ کے اصول پر حکومت بنائی اور چلائی لیکن یہ معاملہ زیادہ دیر تک نہ چل سکا اور آخر 90 کی

دہائی میں محترمہ کی حکومت گرا دی گئی۔ ’’کنگز‘‘ پارٹی بنانے والوں کا منصوبہ کامیاب ہوا اور انہوں نے عوامی تاثر قائم کیا کہ محترمہ بے نظیر کی حکومت کرپٹ ہے اور انہیں گھر جانا چاہیے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومتی کارکردگی پر بہت سارے سوال اٹھائے گئے خاص طور پر انکے شوہر آصف علی ز رداری پر کرپشن کے نہ صرف الزامات لگائے گئے بلکہ یہ تاثر پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ انہوں نے اس ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹاہے۔90کی دہائی میں کروائے گئے عام انتخابات میں اس وقت کی ’’کنگز‘‘ پارٹی آئی جے آئی، جس میں نوازشریف کی مسلم لیگ اور دیگر دینی اور مذہبی جماعتوں کا اتحاد تھا، نے نہ صرف کامیابی حاصل کی بلکہ وفاق اور صوبوں میں حکومت سازی بھی کی۔ یہ حکومت 93تک چلتی رہی پھر93میں ہی ’’کنگز‘‘ پارٹی کے سربراہ نواز شریف کی ’’کنگز‘‘ سے لڑائی ہو گئی جس کے بعد کنگز پارٹی ختم کر دی گئی اور دوبارہ الیکشن کروایا گیا۔ 93میں ہونے والے الیکشن میں ایک مرتبہ پھر پاکستان پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی اور محترمہ بے نظیر بھٹو دوسری مرتبہ پاکستان کی وزیراعظم بنیں مگر محترمہ دوسری مرتبہ بھی ’’کنگز‘‘ کو زیادہ دیر خوش نہ رکھ سکیں اور96میں ان کی دوسری حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا جسکے بعد ایک مرتبہ پھر میاں محمد نوازشریف کو کنگ کی خوشنودی حاصل ہوئی اور میاں محمد نوازشریف کی مسلم لیگ نے ملک بھر میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی اور وفاق سمیت چاروں صوبوں میں حکومت بنائی۔ میاں محمد نواز شریف ’’کنگ‘‘ کو دوسری مرتبہ بھی نہ صرف خوش کرنے میں ناکام رہے بلکہ ان کی توقعات پر پورا بھی نہ اترے۔ اس ساری صورتحال کے باعث کنگ کی مایوسی کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے پھر جمہوریت کو چلتا کیا جس کے بعد مشرف کی آمریت کا دور شروع ہوا۔ مشرف کو اپنی آمریت کے تین سال بعد پھر جمہوریت کا سہارہ لینے کی ضرورت پڑی اور ایک مرتبہ پھر نئی ’’کنگز‘‘ پارٹی معرض وجود میں آئی۔ اس مرتبہ محمد خان جونیجو کی طرح سابق گورنر آف پنجاب میاں اظہر کو کنگز پارٹی کا سربراہ بنایا گیا ۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن سمیت تمام جماعتوں کے اپنے اپنے حلقوں میں اثر و رسوخ کے حامی سیاستدانوں کو اس پارٹی میں شامل کروایا گیا۔ اسکرپٹ کے مطابق پارٹی کے سربراہ میاں اظہر 2002 کے عام انتخابات میں خود تو شکست کھا گئے مگر ان کی پارٹی نے واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی جس کے بعد بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگی سیاستدان میر ظفر اللہ خان جمالی کو وزیراعظم پاکستان نامزد کیا گیا اور جس مقصد کیلئے ان کو وزیراعظم پاکستان بنایا گیا جب وہ پورا ہو گیا تو ایک غیر سیاسی شخصیت شوکت عزیز کو وزیراعظم نامزد کر دیا گیا جسکے بعد 2008ء تک شوکت عزیز ہی وزیراعظم رہے۔ ’’کنگز‘‘ پارٹی کا یہ تجربہ ماضی کی نسبت بہتر اور کامیاب تھا۔ 2008ء کے انتخابات میں ایک نیا فارمولا بنایا گیا جس میں عوام کی خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی اور کنگز پارٹی کو مل کر نئی حکومت سازی کیلئے تیار کیا گیا جسکے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو اور کنگ پارٹی والوں کے درمیان این آراو پر دستخط ہوئے اور محترمہ بے نظیر بھٹو وطن واپس آئیں۔ فارمولے کے مطابق محترمہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم پاکستان جبکہ کنگز پارٹی کے سربراہ چودھری برادران کو پنجاب کی حکومت دینا مقصود تھا مگر محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل نے یکسر سیاسی صورتحال تبدیل کر دی جسکے بعد مجبوراً پاکستان پیپلز پارٹی کووفاق میں اور پاکستان مسلم لیگ ن کو پنجاب میں حکومت دینا پڑی۔ یہ فارمولا بھی قدرے کامیابی سے چلتا رہا اور 2013ء تک پہلی مرتبہ کسی جمہوری حکومت نے مدت پوری کی۔ 2013ء کے عام انتخابات میں کنگ پارٹی کا تصور مدہم ہوتا نظر آیا اور شاید یہی گمان کیا جانے لگا کہ شاید اب کنگز پارٹی بنانے کا دور ختم ہو چکا ہے یا ضرورت باقی نہیں رہی۔ 2013ء کے عام انتخابات میں بظاہر کنگ پارٹی میدان میں نہ آئی لیکن پاکستان مسلم لیگ ن کو کنگ کی حمایت حاصل تھی یا پھر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ 2013ء کے انتخابات میں قدرے عوام کو انکی امنگوں کے مطابق ووٹ دینے اور حکومت بنانے کا خیال رکھا گیا لیکن یہ بات جزوی طور پر تو درست ہو سکتی ہے لیکن یہ کہا جانا کہ ’’کنگ‘‘ کی اس میں ذاتی منشااور رضامندی شامل نہ تھی یا پھر100فیصد عوام کے ووٹ کے ذریعے حکومت بنائی گئی ایک سوالیہ نشان ہے لیکن ’’نا اہل‘‘ نواز شریف تیسری مرتبہ بھی کنگ کو خوش رکھنے میں ناکام رہے بلکہ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ بری طرح ناکام رہے۔ جس کے بعد بلاشبہ ماضی کی حکومتوں سے بہتر کارکردگی کے باوجود پاکستان مسلم لیگ زوال کا شکار ہے اور یہ قوی امکان ہے کہ مسلم لیگ ن آئندہ انتخابات میں وہ نتائج حاصل نہیں کر پائے گئی جس کی انکو کچھ عرصہ پہلے توقع تھی اور یہ بات زبان زد عام ہے کہ ’’کنگز‘‘ پارٹی کا تصور دوبارہ زندہ ہو چکا ہے اس مرتبہ یہ تاج عمران خان کے سر پر رکھا گیا ہے۔ تاج سر پر آتے ہی عمران خان کی پارٹی میں Electables کا تانتا بندھ گیا اور حالات یہ پیدا ہوگئے کہ عمران خان کو ٹکٹوں کی تقسیم پر انتہائی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک اندازے کے مطابق عمران خان نے اپنی پارٹی کی 70 فیصد سے زائد ٹکٹیں ایسے افراد کو دی ہیں جن کا اِن کی جماعت اور نظریہ سے کوئی تعلق نہیں۔ اس ساری صورتحال کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے پرانے اور مخلص ورکروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کو جو لسٹیں ملتی رہی ہیں کپتان نے اس حساب سے لوگوں کو ٹکٹیں جاری کی ہیں۔ ورکروں کی اس بات کی تصدیق اس طرح بھی کی جاسکتی ہے کہ علامہ اقبال کے پوتے اور تحریک انصاف کے لاہور سے متحرک ورکر اور رہنما ولید اقبال جن کو انکی مرضی کے مطابق لاہور سے ٹکٹ نہ دیا گیا اور ان کے احتجاج کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ولید اقبال سے ملاقات میں کہا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ میں نے 70فیصد چوروں اور ڈاکوؤں کو ٹکٹ دیا ہے لیکن انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے یہ ضروری تھا مگر جب ہماری جماعت اقتدار میں آئے گی تو میں بتدریج ان لوگوں سے نجات حاصل کر لوں گا جسکے بعد آپ جیسے مخلص لوگوں کو جائز مقام دیا جائے گا ورکرز کے وفد نے ہنسی خوشی کپتان کا ’’لولی پوپ ‘‘لیا اور واپس آ گئے مگر ان ورکروں سمیت ملک بھر میں موجود پاکستان تحریک انصاف کے ورکر انتہائی مایوسی کا شکار ہیں جو کپتان کی اصل طاقت ہیں۔ ان ورکرز کا کہنا ہے کہ ہمارا کپتان بھی وہی غلطی کر رہا ہے جو پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی ماضی میں کر چکی ہے اور اس کے نتائج بھی سب کے سامنے ہیں۔ کپتان بھی طاقت کے اصل سرچشمہ یعنی کہ عوام اور اپنے مخلص اور نظریاتی ورکرز کو چھوڑ کر تحریک انصاف کا یا تو خاتمہ کر چکا ہے یا پھر کرنے والا ہے کیونکہ کنگز پارٹی تو کنگ کی ہے اور جس کے سر پر یہ تاج ہوگا یہ Electables اس کے ساتھ ہوں گے۔ بہرحال یہ بات طے ہو گی ہے کہ آئندہ انتخابات کی کنگ پارٹی تحریک انصاف ہے مگر 2018ء کے انتخابات کے بارے میں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ انتہائی غیر یقینی صورتحال ہے اگرچہ کنگز پارٹی کا پلڑا بھاری نظر آ رہا ہے کیا یہ مطلوبہ نتائج حاصل کر سکے گی یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ مجھ ناچیز سمیت بہت سے لوگوں کی رائے ہے کہ آنیوالا وقت پاکستان کا مشکل ترین وقت ہوگا اور ہماری دعا ہے کہ تمام ادارے اور سیاسی جماعتیں بردباری کا مظاہرہ کریں اور پاکستانی کشتی کو اس بھنور سے نکالنے کے لیے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں