آپ آف لائن ہیں
اتوار7؍ذوالحجہ 1439ھ 19؍اگست 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اس وقت ہم 2018 ء کے اہم انتخابی معرکے کے قریب ہیں،لیکن انتخابی ماحول مکدر ہوتا جارہا ہے ۔ اگرچہ ہر کسی کا کہنا ہے کہ موجودہ انتخابات ملکی تاریخ کے اہم ترین انتخابات ہوں گے، لیکن ان دعوئوں پر اعتماد کرنے کے لئے کوئی ٹھوس وجہ دکھائی نہیں دیتی۔
مجموعی طور پر تمام سیاسی ماحول اس قدر آلودہ ہوچکا ہے کہ اس سے دودھ اور شہد کی نہروں کا بہہ نکلنا محال ہے ۔ ا س کی بجائے کشمکش، ٹکرائو اور عدم استحکام کا دہکتا ہوا لاوا زیادہ بہے گا۔ کیا ہم ایک اور شب گزیدہ سحر کے انتظار میں جاگ رہے ہیں؟ جزوی طور پر اس حقیقت پسندی کا تعلق احتساب فورمز اور عدالت کی طرف سے آنے والے کچھ فیصلوں کی ٹائمنگ سے ہے ۔ یہ فورمز انتخابی امیدواروں کی غلط کاریوں کا کھوج لگارہے ہیں۔اوریہ اُس وقت ہورہا ہے جب عوام نے ووٹ کے ذریعے اپنی رائے دینی تھی ۔
یہاں ٹائمنگ کی بہت اہمیت ہے ۔ اگر کسی ایک آدھ شخصیت کے خلاف کوئی ایک آدھ کیس نکل آتا تو اسے انتخابات پر اثر انداز ہونے والے عامل کے طور پر نہ دیکھا جاتا۔ لیکن جب ان کیسز کا تانتا بندھا ہوا ہو،مخصوص افراد کو سزائیں سنائی جارہی ہوں، ان کی مبینہ بداعمالیوں کی میڈیا پر تشہیر جاری ہو تو پھر اس تمام کارروائی پر سوالیہ نشان ضرور لگتا ہے ۔ یہ نہ تو قیاس آرائی ہے ، اور نہ ہی ہیجان خیز تشریح۔ نقش ہائے

فریادی بہت واضح ہیں۔ صرف ایک کیس کو ہی لے لیں جس میں سابق وزیر ِاعظم شاہدخاقان عباسی کو اُن کے آبائی حلقے، این اے 57 سے الیکشن لڑنے کے لئے نااہل قرار دے دیا گیا۔ اگرچہ اُنہیں لاہورہائی کورٹ نے ریلیف دے دیا ، لیکن اُن کی نااہلی کا فیصلہ ایک ایسا شاہکار ہے جسے سنجیدہ افراد کبھی نہیں بھول پائیں گے ۔
یہ انتخابات نہ تو ہمارے خوف وخدشات کا علاج کرنے جارہے ہیں اور نہ ہی ان کی وجہ سے قوم کسی حقیقی تبدیلی کی طرف کروٹ لے گی۔ انتخابی امیدوار (عباسی) کو نااہل قرار دینے والے حکم نامے کے مطابق پاکستان کے سیاسی نظام کو اُس برائی سے نجات دلانا ضروری ہے جس نے اس پر پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ چنانچہ تمام دیانت دار افرا د کو آگے بڑھ کر اس برائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا۔ صرف یہی نہیں، نااہلی کا فیصلہ لکھنے والوں نے اُن جج صاحبان کو بھی آڑے ہاتھوں لیا جنہوں نے اُن کے فیصلے کو منسوخ کیا۔ تاثر یہ دیا گیا کہ اس سسٹم کو مافیا سے نجات دلانے ، اور اس ملک کو بچانے کے لئے ایسا کرنا ضروری تھا۔ یہ فیصلہ، اس پر غصہ، اور اس کی منسوخی پر جذبات کے اظہار سے پتہ چلتا ہے کہ ملک میں دیگر فورمز پر کیا کچھ ہورہا ہے ۔ یہ فیصلہ صرف ایک امیدوار کو الیکشن میں حصہ لینے کے لئے نااہل ہی قرار نہیں دیتا،یہ متاثر ہ شخص کو ملک کی تمام خرابیوں کی وجہ قرار دیتا ہے ، اور درخواست کرتا ہے کہ اس طرح کے تمام افراد (جن کا تعلق اس پارٹی سے ہے ) کو اٹھا کر پھینک دینا چاہیے ، قبل اس کے کہ یہ لوگ عوام سے انتخابی حمایت حاصل کرسکیں۔
کوئی اور موقع ہوتاتو اس فیصلے کو محض ناقص ڈرافٹ، اورقانون اور زمینی حقائق کو نظر انداز کرنے والا فیصلہ قرار دیا جاتا، لیکن جب عام انتخابات ایک ماہ سے بھی کم وقت کی دور ی پر ہوں ، اور جب ایک مخصوص جماعت کے امیدوار وں کو توہین عدالت کے الزامات پر نااہل قرار دیا جارہا ہو، یا اُنہیں اُس و قت عدالت میں حاضری کا پابند کیا جارہاہوجب اُنہیں اپنی انتخابی مہم چلانی تھی تو پھر ایسے فیصلے محض ناقص ڈرافٹ کانتیجہ نہیںرہتے، ان کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے ۔ ان سے انتخابی عمل کی ایسی افسوس ناک تصویر سامنے آتی ہے جس میں جانبداری اور عدم توازن کے رنگ گہرے ہیں۔ آپ دلیل دے سکتے ہیں کہ اگر ایک ، دو ، تین ، چار، یا دس امیدواروں کوعدالتی فیصلوں کے نتیجے میں انتخابی عمل سے باہر بھی کردیا جائے تو ا س سے وسیع تر جمہوری عمل اور الیکشن کی شفافیت کس طرح متاثر ہوتی ہے ؟ لیکن یہ ایک بودی دلیل ہوگی ۔ موجودہ دور میں معلومات کا بہائو انتہائی برق رفتار ہے ، اور یہ دلیل اس کا ساتھ دینے سے قاصر ہے ۔ ایسے فیصلوں کے اثرات برق رفتار اور دور رس ہوتے ہیں۔
چند ایک واقعات بھی تمام منظر نامے میں مایوسی اور حوصلہ شکنی کا رنگ بھرنے کے لئے کافی ہیں۔ اور پھر اس وقت طاقت کے مقامی دھڑے’’قومی ہوا ‘‘کا رخ دیکھ کر اپنی سیاسی ترجیحات کا رخ متعین کررہے ہیں۔ میں نے پنجاب میں اپنی حالیہ فیلڈ رپورٹنگ کے دوران اس بات کا عملی تجربہ کیا ۔ مغربی اور وسطی پنجاب کے کم از کم تین انتخابی حلقوں میں مقامی طاقت کے دھڑے، جو پی ایم ایل (ن) سے وابستہ تھے، اُن میں سے ایک ( جس کی جیب میں چار ہزار سے زائد ووٹ تھے ) نے پی ٹی آئی سے ڈیل کرلی ہے ، اور ایک اور نے ( جس کی جیب میں سات ہزار سے زائد ووٹ تھے ) پی پی پی سے۔ اور ایسا شاہد خاقان عباسی کے نااہل قرار پانے کے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر ہوا تھا۔ اس سے انداز ہ لگایا جاسکتا ہے کہ ملک کے دیگر حصوں پر یہ فیصلہ کس طرح اثر انداز ہوا ہوگا۔
حکومت سازی کرنے، یا ایسا کرنے میں ناکام رہنے والی سیاسی جماعتوںکے لئے انتخابی حرکیات انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ عدالت میںبولے جانے والے ، یا فیصلے میں لکھے جانے والے الفاظ صرف قانونی بیان نہیں ہوتے کہ قانون کا اطلاق کس طرح اور کیوں کیا گیا ہے، بلکہ یہ ایسا وزنی ہتھوڑا ثابت ہوتے ہیں جو مقامی سیاسی اکائیو ں کو توڑ دیتے ہیں جنہیں جوڑ جوڑ کر انتخابی حلقوں میں ووٹ حاصل کیے جاتے ہیں۔ امیدوار ایسی پارٹیوں سے دور بھاگ جاتے ہیں جو ایسے بیانیے کی زد میں آتی ہیں، یا جن کو ایک کونے میں دھکیل دیا جاتا ہے جہاں سے اُن کے مستقبل قریب میں باہرآنے کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔ اس ضمن میں کسی کوغلط فہمی کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں۔ سیاسی تصورات کی مارکیٹ پر اچھی اور بری خبروں کا اثراسی طرح ہوتا ہے جس طرح اسٹاک مارکیٹ پر۔
یہ وہ مقام ہے جہاں عدالتی فیصلوں اور احتساب کا اثر اُس انتخابی عمل کو متاثر کرتاہے جسے شفاف اور منصفانہ ہونا چاہیے، اور جس کے ذریعے عوام کو بے لاگ طریقے سے اپنی رائے کے اظہار کا موقع ملنا چاہیے ۔ وسیع ترقومی سیاسی منظرنامے میں کچھ دیگر ایشوز بھی ہیں جن کا پتہ اُس وقت چلتا ہے جب آپ امیدواروں اور مقامی نمائندوں سے ملاقات کرتے ہیں۔ مختلف یونین کونسلز میں مقامی عوامل کو کس طرح بروئے کار لایا جانا ہے ؟ کسی طاقتور خاندان کے سربراہ کو سیاسی حمایت پر کس طرح آمادہ کرنا ہے ؟ میڈیا کی نظروں میں کس طرح آنا ہے ؟ وغیرہ۔
میڈیا کی سنسر شپ اور اس کے سر پر لٹکتی ہوئی تلوار ، یا خبروں اور تبصروں پرطاری احتیاط کا موسم اپنی جگہ پر ، لیکن مقامی اجتماعات اور گلیوں اور تھڑوں کا بیانیہ اس سنسر شپ کی زد میں نہیں ہے ۔ انتخابات کا دن قریب آنے پر دور افتادہ دیہات اور قصبوں میں ہونے والی بات کو جو متاثر کرسکے گا، وہ الیکشن جیت جائے گا۔ وہاں جو اپنے بیانیے کا دفاع کرپائے گا، کامیاب ٹھہرے گا۔
اچھا ہوتا اگر انتخابات کا میدان سب کے لئے یکساں طور پر ہموار ہو۔ اس میں کسی کے گھوڑے کی طنابیں نہ کھینچی جائیں۔ سب ٹریک ایک جیسے ہوں، سب کے سامنے رکاوٹوں کی اونچائی ایک سی ہو ۔لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ جیسے جیسے انتخابی معرکے کا دن قریب آرہا ہے ، متنازع فیصلوں کی تعداد اور تعدد میں اضافہ ہورہا ہے ۔ چنانچہ ہم سیاسی استحکام اور داخلی امن کی طرف نہیں بڑھ رہے ہیں۔ چنانچہ بہت محتاط الفاظ میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ انتخابات ہمارے خوف اور خدشات کو دور نہیں کرنے جارہے ہیں، اورنہ ہی تبدیلی کے پیغامبر ہیں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں