آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میںنے پاکستان کی تاریخ کو دلچسپی سے پڑھااور کچھ طالب علمانہ تحقیق بھی کی ہے چنانچہ میں قرآن حکیم کے فرمان کو اپنی تاریخ پر اپلائی کرکے اسے دوحصوں میں تقسیم کرتا ہوں۔ قرآن مجید کا فرمان ہے کہ حُبِّ جاہ یعنی حُبِّ اقتدار، شان و شوکت، دبدبے اور ٹوہر کی ہوس اور حُبِّ مال یعنی دولت کے حصول کی ہوس فتنہ ہیں اور انسان کی تذلیل کا باعث بنتی ہیں۔ خواہش، ہوس اور شہوت میں بڑا فرق ہے جس پر پھر کبھی لکھوں گا۔ البتہ میں نے اپنی گناہگار آنکھوں سے لوگوں کومال و دولت کی ہوس اورہوس کی اگلی منزل شہوت میںمبتلا دیکھا ہے۔ خواہش جائز طریقوں سےپوری کی جاتی ہے، ہوس جائز طریقوںکی پامالی سے تسکین پاتی ہے اور شہوت وہ آگ ہے جو نہ صرف ناجائز اور ظالمانہ طریقوں سے بھی مطمئن نہیںہوتی بلکہ انسان اس کی تسکین کے لئے ہمیشہ ہوس کی آگ میں جلتارہتا ہے۔ بے شک حُبِّ جاہ اور حُبِّ مال دنیامیںبھی تذلیل کا باعث بنتی ہیں اوریوم حساب بھی شاید کچھ ایسا ہی انجام ہوگا جس کا علم صرف میرے رب کو ہے۔ ایک وضاحت ضروری ہے کہ جاہ یعنی اقتدار، طاقت اور بالادستی کی خواہش خدمت کے جذبے سے معمور ہو اور حصول اقتدار کامقصد محض خدمت ہو تو وہ صدقہ جاریہ بن جاتی ہے لیکن اگر حُبِّ اقتدار یعنی حُبِّ جاہ نفس کی تسکین اور شان و شوکت کے لئے ہو تو اکثر حُبِّ مال بھی

ساتھ لاتی ہے اور انسان اقتدارسے فائدہ اٹھا کر دولت کے انبار بھی اکٹھے کرتاہے اور آمرانہ رجحانات بھی پالتاہے جو عام طورپر تکبر اور غرور کے مرض کو پروان چڑھاتے ہیں۔ میرے مشاہدے کے مطابق ہوس اقتدار عام طور پر ہوس مال کو جنم دیتی ہے اور پھر یہ ہوس تکبر کو پروان چڑھاتی ہے۔
بغور مطالعہ کریں تو احساس ہوتا ہے کہ قیام پاکستان کےفوراً بعد تحریک ِ پاکستان کے رہنمائوںکا برسراقتدار آنامحض خدمت کے جذبے کا کارنامہ تھا۔ یہ لوگ نہ اقتدارسے چمٹے رہنے کے قائل تھے اور نہ ہی کبھی وہ حُبِّ مال کی خواہش میںمبتلا ہوئے۔ پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو محکمہ بحالیات کے اعلیٰ افسران نے خوشامد کے انداز میں بہترین جائیدادیں الاٹ کرنے کی پیشکش کی کیونکہ لیاقت علی خان ہزاروں ایکڑ اراضی اور قیمتی جائیدادیں ہندوستان میںچھوڑ آئے تھے لیکن انہوںنے ان افسران کو ڈانٹ دیااور کہا کہ جب تک آخری مہاجر کو چھت نہیں مل جاتی وہ گھر بھی الاٹ نہیں کروائیں گے۔مرحوم قدرت اللہ شہاب نے عینی شاہدکی حیثیت سے اس واقعہ کی تفصیلات لکھی ہیں اور ’’شہاب نامہ‘‘ میں بیان کیا ہے کہ نوابزادہ لیاقت علی غصے میں تھے اور آکر کہنے لگے کہ ہمیں خوشامدیوں سے بہرحال محتاط رہنا ہے اور خوشامد کی ہر صورت حوصلہ شکنی کرنی ہے۔ چنانچہ نوابزادہ شہید ہوئے تو ان کے بچوںکے لئے پاکستان میں سر چھپانے کی جگہ بھی موجود نہیں تھی اور بقول جمشید مارکر ان کا بینک بیلنس بھی شرمندگی کی حد تک کم تھا۔ ان کی جگہ خواجہ ناظم الدین وزیراعظم بنے تو وہ بھی حُبِّ جاہ اور حُبِّ مال سے نہ صرف بے نیاز بلکہ پاک و صاف تھے۔ ان کی جگہ بیوروکریٹ غلام محمد گورنر جنرل بنا تووہ حُبِّ جاہ کی ایک عمدہ مثال تھا۔ گورنر جنرل غلا م محمد فالج زدہ تھا۔ بات کرتا تو منہ سے فقط غوںغوںکی آواز نکلتی، اسے سلانے کے لئے ڈاکٹر ٹیکے لگاتے، امریکن سیکرٹری مس بورل کے علاوہ کوئی ان کی زبان نہ سمجھتا اور وہ ہی ان کے ’’فرمودات‘‘ کا ترجمہ کرتیں۔ بسترکے ساتھ چپک جانے کی باوجود غلام محمد اقتدارچھوڑنے پر آمادہ نہ تھے اور بقول عینی شاہد جناب قدرت اللہ شہاب کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان، اسکندر مرزا اور چوہدری محمد علی نے مل کر ان کے خاندان کی مدد سے ہزار جتن کرکے غلام محمد سے استعفیٰ لیا اور انہیں کراچی میں ان کی بیٹی کے گھر منتقل کیا۔ اس پر ایک دوسرے عینی شاہد جناب الطاف گوہر مرحوم کا مضمون ’’گونر جنرل اِن دی بیگ‘‘ پڑھنے کے لائق ہے۔ اس فالج زدہ گورنر جنرل نے 1954میں دستور ساز اسمبلی تحلیل کی اور اس سے قبل 1953میں خواجہ ناظم الدین کو وزارت ِ عظمیٰ سے نکالا۔ غلام محمد کی جگہ اسکندر مرزا محلاتی سازشوںکے ذریعے گورنر جنرل بنے۔ وہ بھی حُبِّ جاہ وجلال کی اعلیٰ مثال تھے۔ مارشل لا لگانے کے بعد جب جنرل ایوب خان اسکندر مرزا کو جلاوطن کیا تو اسے زندہ رہنے اور پیٹ پالنے کے لئے ایک ہوٹل میں منیجری کرنی پڑی۔ مختصر یہ کہ ہماری تاریخ کے دو ڈھائی دہائیوں پرمحیط حکمران حُبِّ جاہ ضرور رکھتے تھے لیکن حُبِّ مال سے خاصی حد تک پاک تھے۔ اس عرصے میں کوئی وزیراعظم اور کوئی سربراہ بھی عزت سے رخصت نہ ہوا۔ سوائے قائداعظم محمد علی جناح کے جنہوں نے اپنی پوری زندگی، فیملی لائف اور زندگی بھر کی جمع پونجی قوم کو دے دی اور ماسوا لیاقت علی خان کے جنہوں نے سادہ طرز ِ حکومت، قومی خدمت اور حُبِّ مال سے پرہیز کی مثالیں قائم کیں۔
مختصریہ کہ 1988تک کے بعض حکمرانوں پر حُبِّ جاہ یاہوس اقتدار کا الزام تو آسانی سے لگایا جاسکتا ہے جن میں سارے آرمی ڈکٹیٹر شامل ہیں لیکن ان پر حُبِّ مال کا الزام مشکل سے لگتا ہے۔ اس کےباوجود وہ ذلیل ہو کر اقتدار سے نکلے اور عبرت کی مثالیں بن گئے البتہ پرویز مشرف دونوں امراض کے مریض تھے۔ دراصل دوستو! یہ دنیا اور زندگی عبرت کا مقام اور عبرت کی جگہ ہے بشرطیکہ ہم آنکھیں کھلی رکھیں اور غورو فکر کی عادت ڈالیں۔ ’’دارالفنا‘‘ اس دنیامیں ہرشے کو فنا ہے سوائے نیکی اوررضائے الٰہی کے۔ رہی اقتدار کی ہوس یا قرآنی الفاظ میں حُبِّ جاہ تو ہم نے خاندان ِ مغلیہ کے آخری علامتی حکمران بہادر شاہ ظفر کے الفاظ میں تاریخ میں صبح کے تخت نشینوںکو شام کو مجرم ٹھہرتے دیکھا مگر پھر بھی ہم عبرت حاصل کرتے ہیں نہ ’’قلب‘‘ کو حُبِّ جاہ اورحُبِّ مال سے پاک کرتے ہیں۔
میرے طالب علمانہ مشاہدےکےمطابق پاکستان کی تاریخ میںحُبِّ جاہ اورحُبِّ مال 1988کے بعد یکجا ہوئے اور یہ کسی حد تک اس طرز ِ سیاست کا شاخسانہ تھے جس کی داغ بیل جنرل ضیاء الحق نے ڈالی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد جنم لینے والی قیادت نے نہ صرف آمرانہ انداز اور شان و شوکت سے حکومتیں کیں بلکہ مال و دولت کماکر بیرونی ممالک میں اعلیٰ اور قیمتی جائیدادیں بھی خریدیں۔ ناجائز طریقوں سے کمائی گئی دولت چھپانے کا یہی بہترین طریقہ تھا کہ بیرون ملک بینکوں میں سرمایہ بھی محفوظ کیا جائے اورمحلات بھی خریدے جائیں۔ امریکی صحافی سکسنڈ نے اپنی کتاب میں چسکےلےکر نیویارک کےمہنگے ترین علاقے ’’مین ہٹن‘‘ میں بینظیر بھٹو کی خریدی گئی جائیداد اوربلاول کو کی گئی فون کالز کا ذکر کیا ہے جن میں بینظیر نے بلاول کو کچھ خفیہ اکائونٹس کے راز منتقل کئے تھے۔سرے محل، یواے ای اور فرانس میں خرید ی گئی جائیدادوںکی تفصیلات زبان زد عام ہیں اورزرداری صاحب کی ملکیت ہیں۔ نہ سوئٹزرلینڈ سے زرداری کے کمیشن کے طورپر حاصل کردہ کروڑوں ڈالر واپس لائے جاسکے اور نہ ہی ان کی بیرون ملک جائیدادوں کا حساب لیا جاسکا۔
میاں نوازشریف کے خلاف نیب کرپشن کا ثبوت تو نہ دے سکا لیکن میاں صاحب ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کا نہ منی ٹریل دے سکے نہ ان کی خرید کے لئے جائز وسائل کا ثبوت دے سکے۔ قانون کی نظر میں آمدنی سے زیادہ جائیداد Living beyond means بھی کرپشن ہی ہے اور یہی وہ الزام ہے جس کا جواز عدالت کو مطمئن نہ کرسکا۔ ایسا نہیں کہ 1988 کے بعد برسراقتدارآنے والی قیادتوں نے ملک و قوم کی خدمت نہیںکی۔ بلاشبہ اپنی اپنی حد تک انہوں نے خدمت کی اورمیاں صاحب کے موٹروے، ایٹمی دھماکے اور سی پیک بڑے کارنامے ہیں لیکن بالآخر جوالزام انہیں لے ڈوبا وہ حُبِّ مال کا الزام تھا جس کے ابھی کچھ مقدمات کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ میری کیا حیثیت، میری کیا مجال لیکن یاد رکھیں کہ قرآن مجید نے حُبِّ جاہ اور حُبِّ مال کو فتنہ قرار دیاہے جو تذلیل کا باعث بنتا ہے۔ یہ ایک طرح کی آزمائش ہے۔ اگر انسان اقتدار اور دولت کو رضائے الٰہی اور خدمت کے لئے استعمال کرے تو وہ سرخرو ہوگا ورنہ عبرت کی مثال بن جائے گا۔ فیصلہ ہمارا اپنا ہوتا ہے جس میں قدرت دخل نہیں دیتی۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں