آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اعتزاز احسن نے حال ہی میں ایک بیان دیا ہے کہ تحریک انصاف کھوٹے سکوں کے ساتھ تبدیلی نہیں لاسکتی۔ ان کی بات میں کسی حد تک وزن ہے۔ تحریکِ انصاف کے اصل نظریاتی کیڈر کے لوگ ان کے ساتھ یقینا اتفاق کریں گے۔ لیکن عمران خان کی دلیل میں بھی وزن موجود ہے کہ تجربہ کار اور نسبتاً صاف ماضی کے لوگوں کی شمولیت سے پارٹی اور اسکے مقاصد کے حصول کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔ فرق صرف اس بات سے پڑے گا کہ ان تجربہ کار لوگوں کا ماضی کس حد تک صاف ہے اور وہ پارٹی اور اسکے مقاصد سے کس حد تک مخلص ہیں۔اگر تحریکِ انصاف میں شامل ہونے والے زیادہ تر "کھوٹے سکے" اس معیار پر پورا اترتے ہیں تو امکان موجود ہے کہ عمران خان کا اصولوں اور تجربے کی آمیزش کا منصوبہ کامیاب ہوجائے گا، ورنہ تحریکِ انصاف کو نہ صرف آئندہ انتخابات میں نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے بلکہ تحریکِ انصاف اور عمران خان کے تبدیلی کے خواب کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ عمران خان کی طرف سے الیکشن جیت سکنے والے امیدواروں کو پارٹی میں خوش آمدید کہنے اور ان کی پذیرائی کے اقدام سے تحریکِ انصاف کو نقصان تو بہرحال اٹھانا پڑا ہے۔لاہور کے جلسے کے بعد پورے ملک میں 1970ء کے الیکشن والی وہ صورتحال اب تحلیل ہو چکی ہے جِس میں خیال کیا جا رہا تھا کہ تحریکِ انصاف اگر کھمبے کو ٹکٹ دے گی تو کھمبا بھی

جیت جائے گا۔اس کی سب سے بڑی وجہ تحریکِ انصاف کی جیت سکنے والے امیدواروں کو قبول کرنے کی پالیسی ہے۔یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ تحریکِ انصاف نے نہ صرف خوداعتمادی کے فقدان کا مظاہرہ کیا ہے بلکہ ایک آدمی کے دل میں تحریکِ انصاف کیلئے پیدا ہونے والی ہمدردی پر بھی عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔عوام الناس لا شعوری طور پر سوچ رہے ہیں کہ اگر تحریکِ انصاف کو بھی تبدیلی کیلئے جیت سکنے والے امیدواروں کی ضرورت ہے تو پھر وہ بھی "جیت سکنے والے امیدواروں" ہی کو ووٹ دیں گے۔ اس تمام تر مشکل صورتحال میں تحریکِ انصاف کی مقبولیت کو صرف ایک چیز سہارادئیے ہوئے ہے اور وہ عمران خان کی ساکھ اور انکا خلوص ہے۔ انکے بارے میں ایک تاثر ابھی بھی عوام میں بہت مضبوط ہے کہ وہ جو قدم بھی اٹھاتے ہیں اس میں نیک نیتی اور پاکستان سے محبت کے جذبات موجود ہوتے ہیں ۔ اس لئے وہ جو بھی کریں گے پاکستان کیلئے بہتر ہی کریں گے۔
بات شروع ہوئی تھی اعتزاز احسن کے بیان سے ، ایک صاحب نے انکے بیان پر بہت خوبصورت تبصرہ کیا کہ جب کھرے سکے ہی کھوٹے ہو جائیں تو پھر کوئی کیا کرے۔جب اعتزاز احسن نے وزیراعظم کی طرف سے سپریم کورٹ میں بطور وکیل پیش ہونے کا فیصلہ کیا تو پاکستان کے وکلا کو بحیثیت مجموعی بڑے زور کا جھٹکا لگا۔ میں ذاتی طور پر ان کے اس فیصلے سے بہت رنجیدہ ہوا۔میں اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کیلئے اور سپریم کورٹ سے اظہارِ یکجہتی کیلئے اس دن سینکڑوں وکلا ء کے ساتھ سپریم کورٹ کے احاطے میں موجود تھا جب وزیر اعظم اور انکے وکیل اعتزاز احسن پہلی مرتبہ سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔ وہاں بہت بدمزگی ہوئی اور اعتزاز احسن کو اسلام آباد کے وکلاء کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اعتزاز احسن کے خلاف نعروں کا سلسلہ تو گھنٹوں جاری رہا لیکن جب اعتزاز احسن نے وکلاء کے جذبات کو درخورِاعتنا نہ سمجھتے ہوئے میڈیا کے سامنے اپنا موقف بیان کرنے کی کوشش کی تو وکلاء اور زیادہ مشتعل ہو گئے ۔ بات اس وقت ہاتھا پائی تک پہنچ گئی جب وہ پیپلز پارٹی کے چند وکلا کے ہمراہ اسلام آباد کے مشتعل وکلاء کے درمیان سے گزرتے ہوئے سپریم کورٹ جانے کی کوشش کرنے لگے۔ میں اس وقت بہت دکھی ہوا جب اعتزاز احسن کو پوجنے والے وکلاء انکو تھپڑ مارتے مارتے رہ گئے۔ کافی عرصے بعد پیپلز پارٹی کے ایک وکیل نے جس نے اعتزاز احسن کے گرد اس دن حصار بنایا ہوا تھا، بتایاکہ اس روز اسکو اتنے ٹھڈے پڑے تھے کہ ہفتہ بھر اسکی ٹانگوں میں درد ہوتا رہا۔ اور اس کا خیال تھا کہ اعتزاز احسن کو جتنے ٹھڈے پڑے تھے ہو سکتا ہے کہ انکی ٹانگیں مہینہ بھر ٹھیک نہ ہوئی ہوں۔میں وکلاء کے اس پُر تشدد رویے کی بالکل حمایت نہیں کرتا لیکن اعتزاز احسن کے اس فیصلے سے اقبال کے اس شعر کی سمجھ ضرور آ گئی جس کا مصرع ہے
"بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا"
سوال یہ ہے کہ شاہ محمود قریشی ، جاوید ہاشمی ، جہانگیر ترین وغیرہ وغیرہ بھرے اقتدار میں اپنی پارٹیاں چھوڑنے پر کھوٹے سکے ہو گئے یا وہ پہلے سے ہی کھوٹے سکے تھے۔ تحریکِ انصاف کے ان لوگوں کو خوش آمدید کہنے پر ہونے والی تنقید کی یہ منطق تو سمجھ میں آتی ہے کہ ایسے لوگ جن کا سیاسی جنم ، سیاسی پرورش اور سیاسی تربیت اسٹیٹس کو کی پارٹیوں میں ہوئی وہ تحریکِ انصاف جیسی نئی اور ابھرتی ہوئی تبدیلی کی علمبردار جماعت کو اپنے اسٹیٹس کو والے تجربے سے نقصان پہنچا سکتے ہیں کہ کہتے ہیں "جیسا سیکھا ہے ویسا ہی سکھائے گا "لیکن اعتزاز احسن کی طرف سے ان لوگوں کو کھوٹے سکے قرار دینے کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے۔ شاید اعتزاز احسن یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اسٹیٹس کو کی سیاسی جماعتوں میں موجود سارے سیاستدان کھوٹے سکے ہیں اگر ان کا مطلب واقعی یہی ہے تو پھر انکی بات بڑی حد تک درست معلوم ہوتی ہے۔کیونکہ اسٹیٹس کو کی یہ تمام پارٹیاں مختلف اوقات میں حکومتوں کا حصہ رہی ہیں لیکن اسکے باوجود پچھلے چونسٹھ سالوں میں پاکستان کا سفر تنزّلی کا شکار رہا ہے اور اب حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ دنیا بھر میں یہ بحث ہو رہی ہے کہ خدانخواستہ پاکستان بچ پائے گا کہ نہیں اور اندرونی طور پر حالات اتنے دگرگوں ہیں کہ زندہ رہنا واقعتاً دشوار ہو گیا ہے۔ آخر یہ صورتحال کس کے کرموں کا پھل ہے؟ انہی کھوٹے سکوں کے جو قائد اعظم کی جیب سے نکلے اور مختلف جیبیں بدلتے بدلتے آج آصف زرداری ، نواز شریف، اسفند یار ولی، فضل الرحمن اور الطاف حسین کی جیبوں میں بند ہیں۔ ہمیں اس وقت پھر "اب یا کبھی نہیں "والی صورتحال کا سامنا ہے۔ ہمیں بدلنا ہے، ہمیں بدلنا ہوگا اور تبدیلی کے اس سفر میں کھوٹے سکے کام نہیں آئیں گے۔کھر ا کون ہے اور کھوٹا کون ،اس بات پر بحث ہو سکتی ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ کھوٹے سکے کبھی نہیں چلا کرتے۔ پاکستان میں اگر تبدیلی آئے گی تو وہ نئے اور کھرے سکے ہی لائیں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں