آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر3؍ربیع الاوّل 1440ھ 12؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری

کسی بھی ملک کی ترقی میں انفرااسٹرکچر (بنیادی ڈھانچہ) کا کلیدی کردار ہوتاہے۔اگر ملک میں بہترانفرااسٹرکچر ہوتوپھر تجارت و سرمایہ کاری کو بڑھانے کی کاوشیں بھی اہمیت اختیار کرجاتی ہیں۔ اگر ہم گزشتہ پانچ برسوں میں انفرااسٹرکچر کا جائزہ لیں تو اس میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

2018ء میں عالمی بینک کی جاری کردہ تازہ ترین سالانہ رپورٹ’’ انفرااسٹرکچر میں نجی شعبے کی شرکت2017‘‘ کے مطابق ترقی پذیر ممالک کے انفرااسٹرکچر منصوبوں میں نجی شعبے میں سرمایہ کاری کوحکومتی تعاون حاصل رہا۔ ہر چند2017ء میں سرمایہ کاری کی یہ سطح اب بھی 15 فیصد کم رہی تاہم کئی لحاط سے مثبت اشاریے بھی دیکھنے میں آئے۔2017ء میں 52 ترقی پذیر ممالک میں انفرااسٹرکچر کی مد میں37فیصد زائد سرمایہ کاری موصول ہوئی، جبکہ2.4 ارب ڈالر کے20 میگا پروجیکٹس میں کل سرمایہ کاری51فیصد رہی۔اسی طرح پروجیکٹس میں سرمایہ کاری کے حوالے سے سرکاری حمایت و تعاون میں بھی اضافہ ہوا اور 2016ء کے مقابلےمیں 2017ء میںپروجیکٹس کی تعداد94سے بڑھ کر 135 ہو گئی۔یوں انفرااسٹرکچر میں نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شرکت کے لحاظ سے حکومتی پالیسی حوصلہ افزا رہی۔اس بات کی توثیق کرتے ہوئے عالمی بینک کے ڈائریکٹر برائےانفرااسٹرکچر پی پی پیز اینڈ گارنٹیز، جارڈن شواز نے کہا کہ’’یہ حوصلہ افزا امر ہے کہ ترقی پذیرممالک میں انفرااسٹرکچر سرمایہ کاری میں نجی شعبہ دلچسپی لے رہاہے۔‘‘

ان اعداد و شمار کو خطے میں واقع ممالک کے لحاظ سے تقسیم کیا جائے تو کل سرمایہ کاری کا نصف سے زائد مشرقی ایشیا اوربحر الکاہل براعظموں میں واقع ممالک نے حاصل کیا اور پہلی بار لاطینی امریکہ اورکیربیئن ممالک نے بھی شرکت کی۔یہ ان ممالک میں نجی شعبے کی انفرااسٹرکچر سرمایہ کاری کی سب سے بلند سطح ہے،جس کی مالیت49ارب امریکی ڈالر ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقی ممالک میں 2016ء میں یہ سطح تین گنا رہی جبکہ جنوبی ایشیا میںانفرااسٹرکچر پر نجی سرمایہ کاری دُگنی رہی جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔

صرف ذیلی صحرائی افریقہ میں سرمایہ کاری میں کمی دیکھی گئی جو گزشتہ 10 برسوں میں دوسری سب سے کم تر سطح پرتھی۔خوش آئند امر یہ ہے کہ دنیا کے غریب ممالک میں بھی سرمایہ کاری تیزی سے بڑھی، جہاں 2016ء کے4.3فیصد کے مقابلے میں 2017ء میں8.5فیصد سرمایہ کاری دیکھنے میں آئی۔ان ممالک میںسے 17 ملکوں میں سرمایہ کاری کی مالیت7.9ارب ڈالر رہی،جو14 ممالک کے گزشتہ 10 برسوں کے ترقیاتی ہدف کے مقابلے میں بہت بڑی کامیابی ہے۔

مزید برآں متبادل توانائی پروجیکٹس میں بھی اضافہ ہوا۔ بجلی کی پیداوار میں روایتی ذرائع کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے، انڈونیشیا میں کوئلے سے بجلی کی پیداوارکے پروجیکٹس میں7.7ارب ڈالرکی سرمایہ کاری ہوئی۔واضح رہے کہ متبادل توانائی پروجیکٹس کا رجحان چھوٹے پیمانے پر ہے اور تقریباً70فیصد پروجیکٹس اب بھی بڑے پیمانے پربجلی پیدا کرنے کے روایتی ذرائع استعمال کررہے ہیں۔

پاک چین اقتصادی راہداری نے انفرااسٹرکچر میں نجی سرمایہ کاری کے لیے گنجائش پیدا کی ہے۔انفرااسٹرکچر فنانس پالیسی2017ء نے اہم پروجیکٹس کے حصول میں سرمایہ کاروں کو سہولیات مہیا کیں اور ضروری حمایت کے حامل پروجیکٹس کے لیے نجی سرمایہ کاری حاصل کی۔یہ پالیسی غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے اور پبلک انفرااسٹرکچر کے لیے نجی سرمایہ کاروں کو متحرک کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔

عالمی بینک کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ میں دنیا کےپا کاری کا56 فیصد بنتا ہے۔بجلی کی پیداوار کے پروجیکٹس میں متبادل توانائی پروجیکٹس کا زیادہ رجحان رہا۔197میں سے173 پروجیکٹس ونڈ ٹربائن، سولرانرجی، بائیو ماس، جیو تھرمل اور ہائیڈرو ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 2017ء کے دوران 36.5ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کی گئی،جو انفرااسٹرکچر میں نجی شعبے کی شمولیت اور شراکت داری کا 39فیصد بنتا ہے۔ٹرانسپورٹ اور توانائی کے شعبوں میں انفرااسٹرکچرپر نجی شعبے کی مجموعی شرکت 95 فیصد رہی۔

انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے شعبے نے پانچ پروجیکٹس میںصرف 3ارب ڈالر وصول کیے۔اس کے بعد 30 پروجیکٹس کے ساتھ واٹر اینڈ سیوریج نے1.9ارب ڈالر وصول ہوئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں