• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپریشن غضب للحق: 352 طالبان رجیم اہلکار و خوارج جہنم واصل، 535 سے زائد زخمی

—تصویر: اے ایف پی
—تصویر: اے ایف پی

وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء تارڑ  کا کہنا ہے کہ آپریشن غضب للحق میں 352 طالبان رجیم کے اہلکار و خوارج ہلاک اور 535 سے زائد زخمی کر دیے گئے ہیں۔

وزیرِ اطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ نے آپریشن غضب للحق کے دوران فغان طالبان کو پہنچائے جانے والے نقصانات کی تازہ تفصیلات جاری کر دیں۔

ایک بیان میں انہوں نے بتایا ہے کہ طالبان رجیم کے تباہ کیے جانے والے ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کی تعداد 171 ہو گئی، 130 طالبان چوکیوں کو مکمل تباہ کر دیا گیا، جبکہ 26 چوکیاں پاکستان کے قبضے میں آ گئیں۔

عطاء تارڑ نے بتایا ہے کہ افغانستان بھر میں 41 مقامات کو فضائی کارروائی میں مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔

ان سے قبل گزشتہ روز ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس بریفنگ میں آپریشن غضب للحق کی تفصیلات بتائی تھیں۔

افغان طالبان کی متعدد پوسٹس اڑا دی گئیں

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کا افغان طالبان رجیم کے خلاف آپریشن غضب للحق جاری ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ قلعہ سیف اللّٰہ سیکٹر میں افغان طالبان کی اعلیٰ جرگہ تھانہ پوسٹ اور رحیم تھانہ پوسٹ تباہ کر دیں، نوشکی سیکٹر میں افغان طالبان کی پوسٹ اڑا دی گئی، کارروائی میں افغان طالبان کے اوماری کیمپ کو بھاری نقصان ہوا، افغان طالبان کی خیبر پوسٹ کو بھی مکمل تباہ کر دیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے کی گئی کارروائی میں  افغان طالبان کے کانڈکسی بیس چترال کو شدید نقصان پہنچا، پاک فوج نے نیو افغان 8 پوسٹ تباہ کر دی، افغان طالبان کے فوجی آریانہ کمپلیکس، دبگئی چیک پوسٹ کو تباہ کر دیا جبکہ افغان پولیس ہیڈکوارٹر اور ذاکر خیل پوسٹ کو بھی تباہ کر دیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ پاک فوج نے افغان طالبان فورسز کو چیک پوسٹیں چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کر دیا، پاک فوج  نے زؤبا سیکٹر میں افغان گالف پوسٹ تباہ کر دی، ڈیلٹا پوسٹ بھی تباہ کر دی گئی، زؤبا سیکٹر ساؤتھ کمپلیکس کے قریب افغان طالبان کی گاڑی کو بھی نشانہ بنایا۔

اس سے پہلے آپریشن غضب للحق کے دوران سیکیورٹی فورسز نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے 3 افغانی بٹالین اور سیکٹر ہیڈ کوارٹر مکمل تباہ اور اسلحہ ڈپو کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا، مؤثر جوابی کارروائی میں 80 سے زائد ٹینک، توپ خانہ اور بکتر بند تباہ کر دیں، وطن کا دفاع کرتے ہوئے پاک فوج کے 2 جوان شہید اور 3 زخمی ہوئے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے افغان طالبان فورسز کو آرٹلری اور کواڈ کاپٹر کے ذریعے بھی مؤثر انداز میں نشانہ بنایا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کی فیصلہ کن کارروائی میں افغان طالبان کی متعدد اہم پوسٹس مکمل تباہ ہونے کے بعد افغان طالبان نے متعدد بار پوسٹوں پر سفید جھنڈا بھی لہرایا۔

پاکستانی افواج نے افغانستان کے صوبے پکتیا میں 5 افغان پوسٹوں پر قبضہ کر کے پاکستان کا جھنڈا لہرا دیا۔

قندھار میں بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، ایمونیشن ڈپو، لاجسٹکس بیس تباہ

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ملکی سلامتی اور خود مختاری یقینی بناتے ہوئے افغان طالبان کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جا رہا ہے، پاک فوج نے افغانستان کے صوبے قندھار میں افغان طالبان کے بریگیڈ ہیڈکوارٹرز کو کامیابی سےتباہ کر دیا ہے، اس کے علاوہ قندھار میں افغان طالبان کے ایمونیشن ڈپو اور لاجسٹکس بیس بھی تباہ کر دیے گئے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ کے حملے جاری ہیں، ننگرہار میں بڑا ایمونیشن ڈیپو تباہ کر دیا گیا، ڈرونز کے ذریعے بھی چن چن کر افغان طالبان رجیم کی پوسٹیں ہدف بنائی گئی ہیں۔

سیکیورٹی فورسز نے انگور اڈہ میں ایک اور افغان پوسٹ کو تباہ کر دیا، جبکہ افغان صوبے پکتیکا کی پوسٹ پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج افغان طالبان کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنا رہی ہے، افغان طالبان پوسٹس چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔

جنوبی وزیرستان میں پاک فوج نے کارروائی کر کے افغان طالبان کی داؤد پوسٹ تباہ کر دی، افغان طالبان کی جانب سے کواڈ کاپٹر کے ذریعے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر حملے کی تمام کوششیں ناکام بنا دی گئیں، پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے تمام کواڈ کاپٹرز گرا دیے گئے۔

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ چترال سیکٹر پر افغان طالبان کی چیک پوسٹ کو پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا، افغان طالبان نے پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر فائرنگ کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے جواب میں ناؤگئی سیکٹر، باجوڑ، تیراہ اور خیبر میں بھرپور جواب دیا ہے، پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ضلع مہمند اور ارندو سیکٹر چترال میں بھی بھرپور جواب دیا ہے، فورسز نے باجوڑ  میں افغان طالبان کی 2 چوکیاں تباہ کر دیں۔

پاک افغان سرحد پر مہمند میں گرسال سیکٹر میں پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائی جاری ہے، گرسال سیکٹر میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے افغان طالبان کی چیک پوسٹیں تباہ کر دیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کسی بھی قسم کی جارحیت کے خلاف سخت اور فوری جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں کے ذریعے گولہ باری جاری ہے، ڈرونز کے ذریعے بھی چن چن کر افغان طالبان رجیم کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے میڈیا اور سوشل میڈیا پر جھوٹے دعوے اور فیک ویڈیوز کی بھرمار ہے۔

پاک فضائیہ کے حملے: کابل اور پکتیا میں ملٹری تنصیبات تباہ

پاک فضائیہ نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے کابل اور پکتیا میں اہم ملٹری تنصیبات تباہ کر دی ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فضائی کارروائیوں کے دوران کابل میں 2 بریگیڈ ہیڈکوارٹر تباہ ہو گئے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پکتیا میں بھی کور ہیڈ کوارٹر کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

افغان پوسٹوں پر کنٹرول کر کے قومی پرچم لہرا دیا گیا

پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے افغان پوسٹوں پر کنٹرول حاصل کیا اور وہاں قومی پرچم لہرا دیا۔

پاک فوج نے واضح پیغام دیا کہ سرحدی خلاف ورزی یا کسی بھی اشتعال انگیزی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، پاک افغان سرحد پر کھڑے پاک فوج کے جوان مادرِ وطن کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہیں۔

باجوڑ بارڈر پر کھڑے پاک فوج کے جوان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کو اندازہ نہیں کہ انہوں نے کس قوم کو للکارا ہے، اگر کوئی بھارت کے کہنے پر ہم سے پنگا لے گا تو اسے یہ پنگا بہت مہنگا پڑے گا۔

افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت، مسجد کو نشانہ بنا ڈالا

افغان طالبان کی اسلام دشمنی بھی کھل کر سامنے آ گئی، باجوڑ میں مسجد کو بھی نشانہ بنا ڈالا، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی شیلنگ سے مسجد کی چھت اور دیگر حصے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ پاک فوج افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا بھرپور طریقے سے منہ توڑ جواب دے رہی ہے، دشمن اپنی چوکیاں چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

افغان طالبان کے سول آبادی پر حملے، 5 افراد زخمی

پاک فوج کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی پر حملے شروع کر دیے، جن میں 5 افراد زخمی ہو گئے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے فائر کیے گئے گولے باجوڑ کے علاقے لغڑئی اور گرد و نواح میں گرے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ باجوڑ میں مارٹر گولے گرنے سے 5 افراد زخمی ہو گئے جن میں 3 خواتین بھی شامل ہیں۔

اسپتال ذرائع کے مطابق زخمی افراد کو خار اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

پاکستان امن اور علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا: صدرِ مملکت

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان امن اور علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا ہے کہ امن کو کمزوری سمجھنے والے مضبوط جواب کے لیے تیار رہیں، کوئی بھی دشمن ہماری پہنچ سے باہر نہیں ہوگا۔

آصف علی زرداری نے یہ بھی کہا کہ قومی سلامتی پر کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔

مسلح افواج ملک کی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں: وزیرِ اعظم

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مسلح افواج ملک کی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں، افواج کا عزم ہے کہ ملک کے امن اور تحفظ پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔

اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ افواج جارحانہ عزائم کو خاک میں ملانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں افواج جذبے کے ساتھ فرائض انجام دے رہی ہے۔

وزیرِاعظم نے یہ بھی کہا کہ وطنِ عزیز کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، دشمن کو ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

اب ہماری تمھاری کھلی جنگ، اب دما دم مست قلندر ہو گا: خواجہ آصف

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان سے مخاطب ہو کر کہا ہے کہ اب ہماری تمھاری کھلی جنگ، اب دما دم مست قلندر ہو گا، پاکستان کی فوج سمندر پار سے نہیں آئی، ہم تمہارے ہمسائے ہیں، تمہاری اوقات جانتے ہیں۔

اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا ہے کہ صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جا رہا ہے، قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

افغان طالبان نے حملہ کر کے بھیانک غلطی کی: وفاقی وزیرِ داخلہ

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ افغان طالبان نے حملہ کر کے بھیانک غلطی کی، افغان طالبان کی جارحیت پر پاک فوج نے منہ توڑ جواب دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی جارحیت ناقابلِ برداشت ہے، انہیں سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

قومی خبریں سے مزید