مانچسٹر میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں گرین پارٹی نے کامیابی حاصل کرکے یہ نشست لیبر پارٹی سے چھین لی، ریفارم پارٹی دوسرے نمبر پر آگئی۔
انتخابی نتائج کے مطابق گرین پارٹی کی امیدوار ہانا اسپینسر 14,980 ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہو گئیں، ریفارم یو کے پارٹی کے امیدوار میٹ گڈون 10,578 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے، جبکہ لیبر پارٹی کی امیدوار اینجلیکی اسٹوجیا 9,364 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر آئیں۔
سرکاری نتائج کے مطابق کل 36,840 ووٹ ڈالے گئے اور ٹرن آؤٹ 47.6 فیصد رہا۔ اس حلقے میں کل 77,000 رجسٹرڈ ووٹرز تھے اور 11 امیدواروں نے انتخاب میں حصہ لیا۔
یہ ضمنی انتخاب لیبر کے رکنِ پارلیمنٹ اینڈریو گوین کے استعفا کے بعد خالی ہوئی تھی جنھوں نے خرابی صحت کے باعث پارلیمنٹ کی رکنیت چھوڑ دی تھی۔
سیاسی حلقوں کے مطابق لیبر پارٹی مانچسٹر کے حلقہ سے سو سال بعد ناکام ہوئی ہے، ان انتخابات میں ماضی کی دو بڑی حکمران جماعتیں کنزریوٹو اور لبرل ڈیمو کریٹ کا صفایا ہو گیا اور دو نئی جماعتوں گرین اور ریفارم ان کی جگہ آگئی ہیں۔
نتائج کے اعلان کے بعد گرین پارٹی کی حمایت یافتہ ورکر پارٹی کے رہنما کونسلر شہباز سرور نے کہا کہ ووٹرز نے نوجوانوں، ماحولیات، امیگریشن اور غزہ کی وجہ سے گرین پارٹی کی پالیسیوں پر اعتماد کیا ہے۔
لیبر پارٹی کے رکن پارلیمنٹ افضل خان نے کہا کہ ضمنی انتخابات حکومت کے لیے ہمیشہ مشکل ہوتے ہیں، لیکن لیبر پارٹی اب بھی مضبوط ہے، ضمنی انتخابات میں ایسے عناصر کو شکست ہوئی جو نفرت اور تقسیم کی سیاست کررہے تھے۔