• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حقانی صاحب آپ کے خاندانوں کی دہائیوں تک مہمانداری کی، خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کو کہا ہے کہ آپ ہمارے مہمان رہے، آپ کے خاندانوں کی دہائیوں تک مہمانداری کی، سوویت یونین کے خلاف ہم نے مل کے جنگ لڑی، ہم آپ کی آپس کی لڑائیں ختم کراتے رہے، مکہ میں صلح کراتے رہے، صلہ کیا ملا ؟ آپ نے ہمارے قاتلوں کو پناہ دی۔

خواجہ آصف نے کہا کہ آپ کا اور ہمارا ایک ھی ہدف تھا اور یہ ہدف آپ کو اور ہمیں امریکہ نے دیا تھا۔

اب آ جائیں 9/11 کے بعد ہمُ نیٹو کے سہولت کا ر ضرور تھے مگر ہم پہ امریکہ کا الزام رہا کہ ہم حقانی نیٹ ورک کے سہولت کار ہیں انکی اعانت کرتے ہیں، ہم سے آپکا پتہ پوچھا جاتا تھا، کچھ یاد ہے آپکو، ہم پہ آپکی سہولت کاری کا الزام سچ تھا یا جھوٹ آپ ہی دنیا کو بتا دیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ان دونو ں نورا کشتیوں کے درمیان 1979سے 9/11 تک امریکہ نے ہمیں اور آپ کو لفٹ کرانا بند کردی، آپ سب ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے، ہم نے آپ کے بزرگوں سے لیکر تین نسلوں کی مہان نوازی کی ہے۔

صلہ کیا ملا آپ ہمارے قاتلوں کو پناہ دیں معصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیلنے والوں کو سینے سے لگائیں، ہمارے گلی محلوں کو خون سے رنگین کرنے والوں کے حلیف بنیں، میں کابل گیا آپ سے ملاقات ہوئی تھی، ایک درخواست کی تھی ہمارے دشمنوں کے حلیف نہ بنے اعانت نہ کریں، آپ نے رقم ما نگی ہم وہ بھی دینے کو تیار تھے مگر ضمانت کوئی نہیں تھی۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ جس نسبت سے آپ کو حقانی پکارا جاتا ہے وہ بہت عظیم بزرگ تھے، اس نام کی ہی لاج رکھیں، ہم آپ سے کچھ بھی نہیں مانگتے، آپ اپنے گھر راضی رہیں ہم اپنے گھر راضی رہیں، ہمارے دشمن کو بیشک اپنے گھر بسائیں، لیکن ان کے ساتھ ملکر ھمارے ساتھ دشمن کا کردار نہ ادا کریں، اپنی سر زمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری روایت، ثقافت اور دین سکھاتا ہے کہ جس گھر میں پناہ لی ہو اس کی خیر مانگتے ہیں۔ اللّٰہ اکبر ۔۔۔۔پاکستان زندہ باد

قومی خبریں سے مزید