الیکشن کمیشن کے پاس 120 جماعتیں رجسٹرڈ ہیں، جن میں سے 107 کو انتخابی نشانات الاٹ کیے گئے، لیکن ان میں سے 12 جماعتیں الیکشن میں حصّہ نہیں لے رہیں۔ یعنی 2018 ء کے انتخابات میں مجموعی طور پر 95 جماعتوں نے اپنے امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ ان 95 میں دو انتخابی اتحاد، متحدہ مجلسِ عمل اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس بھی شامل ہیں۔ مُلک بھر سے قومی اسمبلی کی 272 نشستوں کے لیے تین ہزار پانچ سو سات امیدوار میدان میں موجود ہیں، جن میں ایک بڑی تعداد آزاد امیدواروں کی بھی ہے۔ اسی طرح صوبائی اسمبلیوں کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے جنرل نشستوں پر 8 ہزار 526 امیدوار انتخابی دنگل میں موجود ہیں۔
واضح رہے کہ 2013 ء کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے لیے 4 ہزار 671 اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے 10 ہزار 958 امیدوار میدان میں اترے تھے، جب کہ الیکشن کمیشن نے148 جماعتوں کو انتخابی نشانات الاٹ کیے تھے۔ اس لحاظ سے اس بار جماعتوں کے ساتھ، امیدواروں کی تعداد میں بھی کمی ہوئی ہے۔ چوں کہ جمہوری نظام میں سیاسی جماعتوں کا کردار کلیدی ہوتا ہے، اسی لیے انتخابات میں حصّہ لینے والی نمایاں جماعتوں کا تعارف پیشِ خدمت ہے۔
مسلم لیگ… ایک سے 13 تک کا سفر
الیکشن کمیشن سے انتخابی نشان حاصل کرنے والی جماعتوں میں 13 مسلم لیگیں بھی شامل ہیں اور ان میں سے چند ایک کے علاوہ، باقی کسی نہ کسی صُورت انتخابی میدان میں بھی موجود ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ( نون)، جس کی سربراہی میاں شہباز شریف کے پاس ہے، اس وقت سب سے بڑی مسلم لیگ ہے، جب کہ دیگر مسلم لیگز میں آل پاکستان مسلم لیگ، چوہدری شجاعت کی پاکستان مسلم لیگ، شیخ رشید کی عوامی مسلم لیگ، پیر پگارا کی پاکستان مسلم لیگ( فنکشنل)، آل پاکستان مسلم لیگ(جناح)، پاکستان مسلم لیگ(ج)، پاکستان مسلم لیگ( شیربنگال)، پاکستان مسلم لیگ کاؤنسل، پاکستان مسلم لیگ آرگنائزیشن، اعجاز الحق کی پاکستان مسلم لیگ(ض)، پاکستان نیشنل مسلم لیگ اور ارباب غلام رحیم کی پیپلز مسلم لیگ شامل ہیں۔ چوں کہ مسلم لیگ کو پاکستان کی بانی جماعت ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور یہ بھی کہ مُلکی تاریخ میں سب سے زیادہ عرصے تک اقتدار اسی کے پاس رہا ہے، اس لیے اس جماعت کے سیاسی سفر کا جائزہ لیا جانا ازحد ضروری ہے۔
ڈھاکا کے شاہ باغ میں’’ محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس‘‘ کے دوسرے روز یعنی 30 دسمبر 1906 ء کو نواب وقار الملک کی صدارت میں ایک غیر معمولی اجلاس ہوا، جس میں ہندوستان بھر سے آنے والے مسلم عمایدین نے شرکت کی۔ ان رہنماؤں نے مُلک پر انگریز قبضے اور ہندو، مسلم تعلقات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کے بعد مسلمانوں کی ایک جماعت بنانے کا فیصلہ کیا، جس کا نام’’ آل انڈیا مسلم لیگ‘‘ رکھا گیا۔ شرکاء نے سر آغا خان کو جماعت کا پہلا صدر منتخب کیا ۔ ابتدائی ایّام میں تو یہ جماعت کوئی بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکی، تاہم آگے چل کر اس نے حصولِ پاکستان کی جدوجہد میں کلیدی اور قائدانہ کردار ادا کیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا، جب کانگریس کی کُل جماعتی کانفرنس میں شرکت کے معاملے پر مسلم لیگ دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی اور یہ گروپ بندی کافی دنوں تک جاری بھی رہی، تاہم اسے رہنماؤں کا اخلاص ہی کہیے کہ سر شفیع اور جناح گروپ جلد ہی قائدِ اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں متحد ہو گئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد 14 دسمبر 1947 ء کو کراچی کے خالقدینا ہال میں قائدِ اعظم محمد علی جناح کی صدارت میں اجلاس ہوا، جس میں پاکستان اور بھارت کی مسلم لیگیں ایک دوسرے سے الگ کردی گئیں۔ یوں آل انڈیا مسلم لیگ کا سفر تمام ہوا اور پاکستان مسلم لیگ نے سفر کا آغاز کیا۔ محمّد علی جناح گورنر جنرل تھے، اس لیے اُنھوں نے پارٹی صدارت قبول کرنے سے معذرت کرلی، جس پر پارٹی کی رکنیت سازی کے لیے چوہدری خلیق الزماں کو آرگنائزر مقرّر کیا گیا، جو بعدازاں 20 فروری 1949 ء کو مسلم لیگ کے پہلے صدر بھی منتخب کر لیے گئے۔ اُن کے صدر منتخب ہوتےہی پارٹی میں عُہدوں کی ایک ایسی جنگ چھڑ گئی، جو آج تک رُکنے کا نام نہیں لے رہی۔ بہرحال، چوہدری خلیق الزمان کے خلاف مظاہرے ہوئے، تو وہ پارٹی سربراہی سے مستعفی ہوگئے، جس پر وزیراعظم، لیاقت علی خان کو مسلم لیگ کا صدر منتخب کر لیا گیا، اس طرح پارٹی اور حکومتی عُہدے یک جا ہو گئے۔ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد خواجہ ناظم الدّین نے وزارتِ عظمیٰ کے ساتھ پارٹی کی سربراہی بھی سنبھال لی۔
خواجہ صاحب کی حکومت برطرف ہوئی، تو محمد علی بوگرہ وزیرِ اعظم بنے اور اُنھوں نے بھی روایت کے مطابق مسلم لیگ کی صدارت اپنے نام کر لی۔ 29 جنوری 1956 ء کو تحریکِ پاکستان کے ایک اہم رہنما، سردار عبدالرّب نشتر مسلم لیگ کے صدر بنے، مگر وہ تقریباً دو برس بعد ہی انتقال کر گئے، جس پر مارچ 1958 ء میں خان عبدالقیوم خان کو مسلم لیگ کا صدر بنایا گیا، مگر ابھی اُنھوں نے ہاتھ پاؤں کھولے ہی تھے کہ اکتوبر 1958 ء میں ایوب خان نے مارشل لاء لگا کر سیاسی پارٹیوں کو کام کرنے سے روک دیا۔ 1962 ء میں مارشل لاء اٹھا اور سیاسی جماعتوں کو کام کرنے کی اجازت ملی، تو ایوب خان مسلم لیگ کو اپنے گھر لے آئے۔ وہ اس طرح کہ اُنھوں نے 4 ستمبر 1962 ء کو کراچی میں مسلم لیگیوں کا ایک کنونشن منعقد کیا، جس میں چوہدری خلیق الزمان وغیرہ شریک ہوئے اور مسلم لیگ کی بحالی کا اعلان کردیا۔ کچھ دنوں بعد ایوب خان اس مسلم لیگ کے باضابطہ صدر بن گئے اور اُنھوں نے صدارتی انتخاب اسی مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے لڑا ۔ دوسری طرف، مسلم لیگ کے کئی رہنماؤں کا مؤقف تھا کہ پارٹی کو بحال کرنے کا فیصلہ اس کی منتخب کاؤنسل ہی کرسکتی ہے، جو 1958 ء کے مارشل لاء کے نفاذ کے وقت موجود تھی۔ لہٰذا ان رہنماؤں نے مسلم لیگ کی کاؤنسل کا اجلاس بلوا کر خواجہ ناظم الدّین کی قیادت میں پارٹی قائم کردی۔ اس دھڑے کو محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت حاصل تھی اور اُنھوں نے صدارتی انتخاب میں ایوب خان کا مقابلہ اسی جماعت کے پلیٹ فارم سے کیا تھا۔ چوں کہ ایوب خان نے مسلم لیگ کو ایک کنونشن کے ذریعے بحال کیا تھا، اس لیے اُن کی جماعت کنونشن مسلم لیگ کہلائی، جب کہ دوسرے دھڑے کو کاؤنسل مسلم لیگ کا نام دیا گیا۔ یوں 1962 ء میں اصل مسلم لیگ کا خاتمہ اور دھڑے بندیوں کا آغاز ہوگیا۔ گو کہ 1949 ء میں حسین شہید سہروردی نے’’ آل پاکستان عوامی مسلم لیگ‘‘ اور اُسی برس افتخار ممدوٹ نے’’ جناح مسلم لیگ‘‘ کی بنیاد ڈال دی تھی، مگر یہ مرکزی دھارے سے الگ ہونے والے چھوٹے گروہ تھے اور اُن کے الگ ہونے سے مسلم لیگ کی اصل حیثیت برقرار تھی، تاہم ایوب خان کے اقدام نے پرانی مسلم لیگ کو لپیٹ دیا۔
کنونشن اور کاؤنسل مسلم لیگیں کئی برس تک کسی نہ کسی صورت فعال رہیں۔ جب سیاست دانوں پر پابندیاں ختم ہوئیں، تو خان عبدالقیوم خان بھی سرگرم ہوگئے اور کچھ ہی دنوں بعد مسلم لیگ قیوم گروپ کی بنیاد رکھ دی، تاہم 1970 ء کے بعد پیر صاحب پگارا سامنے آئے اور پھر 1985 ء تک اُن ہی کی مسلم لیگ سیاسی منظر نامے پر چھائی رہی۔ اس دَوران مسلم لیگیوں کے اتحاد بھی ہوئے اور بعض نئے گروپس بھی وجود میں آئے۔ کہا جاتا ہے کہ فنکشنل مسلم لیگ کو 1965 ء میں محترمہ فاطمہ جناح نے قائم کیا تھا، مگر وہ اسے فعال نہ کر سکیں، جسے بعدازاں پیر پگارا نے متحرّک کیا۔۔ 18 جنوری 1986ء کو مسلم لیگ کی جنرل کاؤنسل نے اُس وقت کے وزیرِ اعظم، محمّد خان جونیجو کو پارٹی صدر منتخب کرلیا، جنھیں پیر صاحب پگارا کی حمایت حاصل تھی۔ ضیاء الحق کی وفات کے بعد مسلم لیگ دو دھڑوں میں بٹ گئی۔ ایک کے صدر، محمّد خان جونیجو اور جنرل سیکریٹری، اقبال احمد خان تھے، تو دوسرے دھڑے کی صدارت فدا محمّد خان کے پاس تھی، جب کہ میاں نواز شریف کو سیکریٹری جنرل منتخب کیا گیا۔ اکتوبر 1988 ء میں اسلامی جمہوری اتحاد بنا، تو فدا خان گروپ اُس کا حصّہ بن گیا اور جونیجو لیگ نے دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر پاکستان عوامی اتحاد بنا لیا۔ 1988 ء کے انتخابات میں اس اتحاد کو محض تین نشستیں ملیں، جب کہ آئی جے آئی نے 54 نشستیں جیتیں۔
اگلے برس نواز شریف، غلام مصطفیٰ جتوئی کی جگہ آئی جے آئی کے صدر بنے اور پھر اُنھیں مسلم لیگ کا صدر منتخب کرلیا گیا۔ یوں عملاً نون لیگ کی بنیاد پڑ گئی۔ اسی دوران، پیر پگارا نے بھی اپنی مسلم لیگ کو فنکشنل کردیا۔ 1999ء میں نواز شریف اقتدار سے معزول ہوئے اور اُنھیں مختلف مقدمات میں سزائیں ملیں، تو اس کا نون لیگ پر بھی اثر پڑا۔ جولائی 2000 ء میں نون لیگ میں ہم خیال گروپ قائم ہوگیا، جس نے 25 مارچ 2001 ء کو مستقل مسلم لیگ کا روپ دھار لیا، یہی دھڑا بعد میں مسلم لیگ (قائدِ اعظم) بنا، جس کی صدارت اِن دنوں چوہدری شجاعت کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ نون کو گزشتہ انتخابات میں 176 نشستوں پر کام یابی ملی اور اس نے ایک کروڑ، 48 لاکھ، 74 ہزار 104 ووٹ حاصل کرکے حکومت بنائی، تاہم 28 جولائی 2017ء کے ایک عدالتی فیصلے کے نتیجے میں اُنھیں حکومت کے ساتھ، پارٹی عُہدے سے بھی دست بردار ہونا پڑا۔ اب نون لیگ کی سربراہی میاں شہباز شریف کے پاس ہے۔ ق لیگ نے 2013 ء کے الیکشن میں 14 لاکھ 9 ہزار 905 ووٹ لیے اور اُسے صرف دو نشستوں پر کام یابی مل سکی۔ پیر پگارا کی فنکشنل لیگ صرف سندھ تک ہی محدود ہے، تاہم اُس نے گزشتہ انتخابات میں قومی اسمبلی کی چھے نشستوں پر کام یابی حاصل کی تھی۔ باقی شیخ رشید اور اعجاز الحق کی جماعتیں صرف اُن کی اپنی نشستوں ہی تک محدود ہیں۔ اسی طرح کی ایک مسلم لیگ سابق صدر، پرویز مشرف کی بھی ہے۔ آل پاکستان مسلم لیگ نے2013 ء میں چترال سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی ایک، ایک نشست پر کام یابی حاصل کی تھی۔ 2018ء کے الیکشن میں پرویز مشرف کراچی اور چترال سے امیدوار تھے، لیکن عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے کاغذات مسترد کیے جانے کے بعد وہ پارٹی صدارت سے بھی مستعفی ہو گئے۔
پیپلز پارٹی…پہلی بار بلاول کی قیادت
30 نومبر 1967 ء کو لاہور میں ممتاز ترقّی پسند رہنما، ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر پر منعقدہ کنونشن میں’’ پاکستان پیپلز پارٹی‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا، جس کے چیئرمین، ذوالفقار علی بھٹّو اور جے اے رحیم جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے۔ بھٹّو صاحب اس سے قبل ایوب خان کی کابینہ سے مستعفی ہوکر کئی شہروں کا دَورہ کرچکے تھے، جس کے دوران اُن کا بھرپور استقبال کیا گیا اور اس عوامی جوش وخروش نے نئی پارٹی کے قیام کی راہ ہم وار کردی تھی۔ اُس کنونشن میں تین سو کے لگ بھگ افراد شریک تھے، جن میں رسول بخش تالپور، حنیف رامے، شیخ محمد رشید، حیات محمد خان شیرپاؤ، معراج محمد خان، حق نواز گنڈا پور، ڈاکٹر مبشر حسن، جے اے رحیم، ملک حامد سرفراز وغیرہ نمایاں تھے۔ پیپلز پارٹی کے سیاسی سفر میں یکم اور 2 جولائی کو ہالا میں مخدوم طالب المولیٰ کی( مخدوم امین فہیم کے والد) میزبانی میں منعقدہ کنونشن انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جس میں مُلک بھر سے کئی سو مندوبین نے شرکت کر کے اہم سیاسی فیصلے کیے۔ پیپلز پارٹی نے اپنے قیام کی ابتدا ہی میں چار نکاتی پروگرام عوام کے سامنے رکھا جو، (1) اسلام ہمارا دین ہے(2) جمہوریت ہماری سیاست ہے(3) سوشلزم ہماری معیشت ہے(4) طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں، پر مشتمل تھا۔پیپلزپارٹی نے پہلی بار بھٹّو کی قیادت میں 1970 ء کے انتخابات میں حصّہ لیا اور مخالفین کو بہا لے گئی۔ اسے مغربی پاکستان کی 138 میں سے 81 نشستوں پر فتح حاصل ہوئی، مگر سیاسی ڈیڈ لاک کے سبب جمہوری سفر آگے نہ بڑھ سکا اور مُلک دولخت ہوگیا۔ بہرکیف، جنرل یحییٰ خان، اقتدار پیپلز پارٹی کے سربراہ، ذوالفقار علی بھٹّو کے سپرد کرکے چلے گئے، جنھوں نے مُلک کے پہلے سِول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدرِ مملکت کے طور پر اقتدار سنبھال لیا۔ یہ پہلا موقع تھا، جب پیپلز پارٹی نے حکومت قائم کی۔ اس حکومت کا ایک بڑا اور تاریخی کارنامہ قوم کو متفقہ آئین دینا ہے۔ اسی آئین کی روشنی میں بھٹّو نے 14 اگست 1973 ء کو بہ طورِ وزیراعظم حلف اٹھایا۔ چوں کہ اس موقعے پر اپوزیشن تقسیم تھی، اس لیے بھٹّو صاحب نے قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان کردیا، جو بہرحال اُن کے لیے اچھا فیصلہ ثابت نہ ہوا۔ 1977 ء میں عام انتخابات ہوئے، جس میں پیپلزپارٹی نے بھاری اکثریت سے کام یابی حاصل کی، لیکن اپوزیشن اتحاد،’’ پی این اے‘‘ نے انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے احتجاجی تحریک کا آغاز کردیا، جو وقت گزرنے کے ساتھ پُرتشدد ہوتی گئی۔ اس سیاسی انتشار کے سبب فوجی سربراہ، جنرل ضیاء الحق نے 5 جولائی 1977 ء کو مارشل لاء نافذ کرکے پیپلز پارٹی کی حکومت ختم کردی۔ فوجی اقدام کے بعد زیڈ اے بھٹّو گرفتار ہوئے اور رہائی بھی مل گئی، مگر پھر دوبارہ گرفتار ہوئے اور 4 اپریل 1979 ء کو اُنھیں قتل کے ایک مقدمے میں پھانسی دے دی گئی۔ بھٹّو صاحب نے اپنی زندگی ہی میں اپنی اہلیہ، نصرت بھٹّو کو پارٹی سربراہ نام زَد کردیا تھا اور اُنھوں نے 17 ستمبر 1977 ء سے پارٹی قیادت سنبھال بھی رکھی تھی، اس لیے بھٹّو صاحب کے بعد وہی پارٹی سربراہ کی حیثیت سے کام کرتی رہیں۔ پیپلز پارٹی کے لیے یہ دَور بہت مشکل رہا، اُس کے رہنماؤں اور کارکنان کو قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اس سب کچھ کے باوجود پارٹی نے اپنا وجود برقرار رکھا۔ 19 نومبر 1982 ء کو پی پی پی چیئرپرسن، نصرت بھٹّو علاج کے لیے پیرس گئیں اور سیاست سے ریٹائر ہونے کا اعلان کردیا۔ پھر یکم دسمبر 1982 ء کو بے نظیر بھٹّو پارٹی کی شریک چیئرپرسن بن گئیں۔ بعدازاں، بے نظیر بھٹو کو بھی جلاوطنی کی زندگی گزارنا پڑی، وہ 10 جنوری 1984ء کو بیرونِ مُلک روانہ ہو گئیں اور جب 10 اپریل 1986ء کو اُن کا جہاز لاہور ائیرپورٹ پر اترا، تو انسانوں کا ٹھاٹیں مارتا سمندر اُن کے استقبال کے لیے موجود تھا۔ پیپلز پارٹی نے دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر ضیاء حکومت کے خلاف تحریک بھی چلائی، جسے ایم آر ڈی کی تحریک کہا جاتا ہے۔
1985 ء کے عام انتخابات کا تو پی پی پی نے بائیکاٹ کیا تھا، لیکن1988 ء کے الیکشن میں بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں اتری اور محترمہ بے نظیر بھٹّو حکومت بنانے میں کام یاب ہو گئیں۔ بے نظیر بھٹّو نے 1993 ء میں دوسری بار حکومت قائم کی اور اسی دوران 5 دسمبر 1993 ء کو پارٹی چیئرپرسن کا عُہدہ سنبھال لیا، جو شہادت تک اُن کے پاس رہا۔ دراصل، 93 ء کے انتخابات میں بیگم نصرت بھٹّو اپنے بیٹے مرتضیٰ بھٹّو کی انتخابی مہم چلاتی رہی تھیں، جس کے سبب اختلافات پیدا ہوئے۔ پھر 2008 ء میں پیپلز پارٹی نے حکومت بنائی، لیکن یہ اس لحاظ سے اُس کے لیے ایک غم کا موقع تھا کہ اُن کی لیڈر، محترمہ بے نظیر بھٹّو اُن کے درمیان نہیں رہی تھیں۔ بے نظیر صاحبہ کو 27 دسمبر 2007 ء کو راول پنڈی کے لیاقت باغ میں انتخابی جلسے کے دَوران شہید کردیا گیا۔2013 ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نےمجموعی طور پر 39 نشستیں حاصل کیں اور اپوزیشن لیڈر کا عُہدہ اس کے پاس رہا۔ اس کے حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد 69 لاکھ 11 ہزار 218 تھی۔ 2002 ء میں پیپلز پارٹی نے کچھ قانونی معاملات کے پیشِ نظر الیکشن کمیشن میں ایک نئی پارٹی’’ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹرین ‘‘ کے نام سے رجسٹر کروائی، جس کے سربراہ مخدوم امین فہیم تھے۔ اس کے بعد ہونے والے تمام انتخابات اسی پارٹی کے پلیٹ فارم سے لڑے گئے اور 2018 ء کا الیکشن بھی اسی نام سے لڑا جا رہا ہے۔ یہ دراصل پیپلزپارٹی کا پارلیمانی رُوپ ہے۔ اس کے صدر اب آصف زرداری ہیں اور اس کا انتخابی نشان تیر ہے، جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین، بلاول بھٹّو ہیں اور اس کا نشان تلوار ہے۔ ذوالفقار بھٹّو نے 1970 ء اور 77 ء کے الیکشن تلوار کے نشان پر لڑے تھے، لیکن ضیاء حکومت نے اسے فہرست سے نکال دیا تھا۔ اس بار تلوار کو بھی انتخابی نشانات کی فہرست میں شامل کیا گیا ،تو اس کے دوسرے دعوے دار بھی سامنے آ گئے ،لیکن الیکشن کمیشن نے یہ نشان پاکستان پیپلز پارٹی کو الاٹ کردیا۔
پیپلزپارٹی، مسلم لیگ کی نسبت اس لحاظ سے زیادہ خوش نصیب ثابت ہوئی ہے کہ اس میں دھڑے بندیاں پنپ نہیں سکیں۔ گو کہ الیکشن کمیشن سے انتخابی نشانات حاصل کرنے والی جماعتوں میں نیشنل پیپلز پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی( شہید بھٹّو)، پیپلز پارٹی( شیرپاؤ) اور پاکستان پیپلز پارٹی ورکرز بھی شامل ہیں، لیکن ان کے انتخابات جیتنے کی صلاحیت انتہائی محدود ہے۔ پیپلز پارٹی میں زیڈ اے بھٹّو کی زندگی ہی میں دھڑے بندیاں شروع ہو گئی تھیں، مولانا کوثر نیازی کی پروگریسیو پیپلز پارٹی اسی دور میں قائم ہوئی تھی، تاہم بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد اختلافات میں اضافہ ہوا۔ کئی ایک نے چھوٹے موٹے گروپ بنائے، مگر اُس وقت پیپلزپارٹی میں سب سے بڑی بغاوت، سابق وزیراعلیٰ سندھ، غلام مصطفیٰ جتوئی کی طرف سے دیکھنے میں آئی۔ اُنہوں نے 1986ء میں’’ نیشنل پیپلزپارٹی‘‘ کے نام سے جماعت قائم کی، جس میں غلام مصطفیٰ کھر، حنیف رامے، حامد رضا گیلانی، ایس ایم ظفر وغیرہ بھی اُن کے ساتھ تھے۔ جتوئی صاحب اسلامی جمہوری اتحاد کے سربراہ اور نگران وزیراعظم بھی رہے۔ این پی پی کی سربراہی اِن دنوں غلام مصطفیٰ جتوئی کے صاحب زادے، غلام مرتضیٰ جتوئی کر رہے ہیں۔ اس جماعت نے 2013 ء کا الیکشن مسلم لیگ نون کی اتحادی کے طور پر لڑا اور ایک لاکھ 97 ہزار 829 ووٹ حاصل کیے، تاہم اس بار یہ تحریکِ انصاف کی اتحادی ہے۔ ذوالفقارعلی بھٹّو کے بڑے صاحب زادے، میرمرتضیٰ بھٹّو نے 15 مارچ 1995 ء میں پیپلزپارٹی (شہید بھٹّو) کے نام سے الگ جماعت بنائی، جو آج کل اُن کی بیوہ، غنویٰ بھٹّو کی قیادت میں سرگرم ہے، تاہم یہ جماعت گزشتہ الیکشن میں صرف 50 ہزار 46 ووٹ حاصل کر پائی۔ اسی طرح ممتاز بھٹّو نے بھی پی پی پی چھوڑکر اپنا فرنٹ بنایا، لیکن وہ بھی کوئی اہم سیاسی کام یابی نہ سمیٹ سکا۔ ممتاز بھٹّو بھی گزشتہ انتخابات میں مسلم لیگ نون کے اتحادی تھے، تاہم اس بار وہ پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں۔ پیپلز پارٹی کو 2202 ء میں اس وقت شدید جھٹکا لگا ،جب پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی منتخب ہونے کے بعد اٹھارہ اراکین نے پیپلز پارٹی پیٹریاٹ نامی نئی جماعت بنا کر صدر جنرل پرویز مشرف کی حمایت کا اعلان کردیا۔ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے پارٹی قیادت سے اختلافات پر2002 ء میں’’ پیپلز پارٹی( شیرپاؤ)‘‘ کے نام سے اپنا الگ دھڑا بنایا۔ تاہم2012 ء میں پارٹی کا نام’’ قومی وطن پارٹی‘‘ رکھ دیا گیا۔2013 ء کے الیکشن میں اسے قومی اسمبلی کی ایک اور کے پی اسمبلی کی 10 نشستوں پر کام یابی حاصل ہوئی۔ یہ تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت کا دو بار حصّہ بنی اور دونوں بار اتحاد ناکام رہا۔
تحریکِ انصاف…سب سے زیادہ امیدوار
پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد کرکٹ ہیرو ،عمران خان نے 25 اپریل 1996 ء کو لاہور میں رکھی۔ اس جماعت نے اگلے ہی برس ہونے والے عام انتخابات میں حصّہ لیا اور عمران خان سات حلقوں سے کھڑے ہوئے، لیکن 3 لاکھ 14 ہزار 820 ووٹ لینے کے باوجود وہ کہیں سے بھی کام یاب نہ ہو سکے۔ 2002ء کا الیکشن اس لحاظ سے پی ٹی آئی کے لیے اہم ہے کہ عمران خان میاں والی سے قومی اسمبلی کی نشست جیتنے میں کام یاب ہوگئے اور یوں پی ٹی آئی پہلی بار پارلیمنٹ میں داخل ہوئی۔ چوں کہ تحریکِ انصاف2002 ء میں ’’ آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ‘‘ کا حصّہ تھی، جس میں نون لیگ، ایم ایم اے، اے این پی اور پختون خوا ملی عوامی پارٹی بھی شامل تھی، اس لیے الائنس کے فیصلے کی روشنی میں اُس نے 2008 ء کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا، تاہم اس نے2013 ء کے عام انتخابات میں بھرپور تیاری کے ساتھ شرکت کی اور قومی اسمبلی کی 35 نشستیں جیت لیں۔ پی ٹی آئی 76 لاکھ 79 ہزار 954 ووٹ لے کر دوسری بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی۔ نیز، اس نے خیبر پختون خوا میں اتحادی حکومت بھی تشکیل دی۔
عمران خان انتخابی نتائج سے مطمئن نہیں تھے، اس لیے اُنھوں نے اسلام آباد کے ڈی چوک میں 120 دنوں تک دھرنا بھی دیا۔ 2018 ء کے الیکشن میں پی ٹی آئی نے سب سے زیادہ امیدوار میدان میں اتارے ہیں، جب کہ مختلف جماعتوں سے انتخابی اتحاد بھی کیے ہیں۔ اگرچہ تحریکِ انصاف کے بھی کئی دھڑے منظرِ عام پر آ چکے ہیں، تاہم ان کی سرگرمیاں اخباری بیانات ہی تک محدود ہیں، البتہ پی ٹی آئی کی منحرف رُکن، عائشہ گلالئی نے اپنا الگ دھڑا’’ پی ٹی آئی( گلالئی) کے نام سے میدان میں اتارا ہے۔
متحدہ مجلس عمل…مذہبی جماعتیں پھر متحد
یہ مذہبی جماعتوں کا اتحاد ہے، جس میں جے یو آئی( ف)، جماعتِ اسلامی، مرکزی جمعیت اہلِ حدیث، جے یو پی اور اسلامی تحریک پاکستان شامل ہیں، جب کہ اس کے صدر مولانا فضل الرحمٰن اور جنرل سیکریٹری لیاقت بلوچ ہیں۔ یہ اتحاد 2 جنوری 2002 ء میں اُس وقت کے فوجی حکم ران، پرویز مشرف کی پالیسز اور افغانستان پر امریکی حملے سے پیدا شدہ حالات کی بنا پر تشکیل دیا گیا تھا، جس میں جے یو پی اور جے یو آئی(س) بھی شامل تھی۔ اتحاد کی سربراہی سینئر سیاست دان، مولانا شاہ احمد نورانی کے پاس تھی، جب کہ اس میں قاضی حسین احمد جیسی قد آور شخصیت بھی موجود تھی، بلکہ اس اتحاد کے پیچھے انہی کی زیادہ تگ و دَو شامل تھی۔ بہر کیف، ایم ایم اے نے 2002ء کے انتخابات میں 272 جنرل نشستوں میں سے 59 نشستیں جیت کر سب کو حیران کردیا، جب کہ وہ صوبہ سرحد( موجودہ کے پی کے) میں بھی حکومت بنانے میں کام یاب رہی۔ قائدِ حزب اختلاف کا عُہدہ بھی اس کے حصّے میں آیا، جس پر مولانا فضل الرحمٰن فائز ہوئے۔ اسی دوران 11 دسمبر 2003 ء میں مولانا شاہ احمد نورانی انتقال کرگئے، جن کے بعد ایم ایم اے کی صدارت پر قاضی حسین احمد فائز ہوئے۔ پرویز مشرف کی بعض پالیسز خاص طور پر وردی اتارنے کی تاریخ اور حدود آرڈینینس کے حوالے سے حکمتِ عملی پر ایم ایم اے میں اختلافات پیدا ہوئے، جس نے بڑھتے بڑھتے اس اتحاد کو غیر فعال کردیا۔ اس کے بعد ہونے والے تمام انتخابات، اتحاد میں شامل جماعتوں نے اپنے اپنے پلیٹ فارم ہی سے لڑے، تاہم 2018 ء کا الیکشن ایک بار پھر ایم ایم اے کے انتخابی نشان کے تحت لڑا جا رہا ہے، مگر اس بار کئی اہم جماعتیں اس اتحاد میں شامل نہیں ہیں اور کئی نئی مذہبی جماعتیں بھی میدان میں آ چکی ہیں۔ مولانا نورانی کے انتقال کے بعد جے یو پی کئی دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے اور اس کے کئی اہم دھڑے ایم ایم اے سے باہر ہیں۔ اسی طرح ،اس بار مولانا سمیع الحق بھی اس کا حصّہ نہیں ہیں اور مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کے علاّمہ ساجد میر نے بھی 9 جولائی کو ایم ایم اے کو چھوڑ کر نون لیگ کی حمایت کا اعلان کردیا۔ اس لیے اب اس اتحاد میں جے یو آئی( ف) اور جماعتِ اسلامی ہی دو ایسی جماعتیں رہ گئی ہیں، جو انتخابی وزن کی حامل ہیں۔ عصرِ حاضر کے ایک نام وَر مذہبی اسکالر، مولانا سیّد ابو الاعلیٰ مودودی نے 26 اگست 1941 ء میں جماعتِ اسلامی کی بنیاد رکھی۔ یہ جماعت اپنے انتخابی نشان کے علاوہ آئی جے آئی اور ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے بھی انتخابات میں حصّہ لیتی رہی ہے۔ جماعتِ اسلامی نے 2013 ء کے انتخابات میں 9 لاکھ 63 ہزار 909 ووٹ لیے اور اسے قومی اسمبلی کی 4 نشستیں ملیں، جب کہ جے یو آئی نے 14 لاکھ 61 ہزار 371 ووٹ لے کر قومی اسمبلی کی 14 نشستیں اپنے نام کی۔ جمعیت علمائے اسلام، دراصل جمعیت علمائے ہند کا تسلسل ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد مولانا شبیر احمد عثمانی جیسی قد آور شخصیت اس کی سربراہ رہی۔ 1970 ء کے انتخابات میں جے یو آئی کے امیر مفتی محمود نے ڈی آئی خان سے ذوالفقار بھٹو کو شکست دی تھی، بعدازاں اُنھوں نے صوبہ سرحد میں حکومت بھی بنائی، جو پونے دس ماہ ہی چل سکی۔ جے یو آئی کا بلوچستان کی سیاست میں بھی ہمیشہ سے اہم کردار رہا ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ…نیا امتحان
1988 ء سے سندھ کے شہری علاقوں سے کام یابیاں سمیٹنے والی متحدہ قومی موومنٹ شدید سیاسی اور تنظیمی بحران کی حالت میں 2018 ء کا الیکشن لڑ رہی ہے۔ طویل قانونی جنگ کے بعد بہادر آباد گروپ کے خالد مقبول کو ایم کیو ایم کا سربراہ قرار دے دیا گیا ، جس کے بعد فاروق ستّار گروپ بھی اُن سے تقریباً آ ملا ہے اور اب یہ دونوں دھڑے مل کر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ ایم کیو ایم نے 11 جون 1978 ء میں کراچی یونی ورسٹی میں قائم ہونے والی طلبہ تنظیم، اے پی ایم ایس او کے بطن سے 18 مارچ 1984 ء کو جنم لیا۔ اس نے اپنا پہلا عوامی جلسہ 8 اگست 1986 ء کو نشتر پارک میں کیا، جس کے بعد آگے ہی بڑھتی رہی۔1987 ء کے بلدیاتی انتخابات میں کراچی اور حیدرآباد سے فتح کے بعد 1988 ء کے الیکشن میں حصّہ لیا اور کام یاب ٹھہری۔ بعد کے انتخابات میں بھی کام یابی کا یہ سفر جاری رہا، لیکن 22 اگست 2016ء کو پارٹی قائد کی جانب سے کی گئی ایک تقریر نے ایم کیو ایم کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا۔ اس تقریر کے بعد یہ تنظیم ایم کیو ایم پاکستان اور ایم کیو ایم لندن میں تقسیم ہو گئی ہے۔
ایم کیو ایم سے الگ ہونے والے کئی دھڑے بھی 2018 ء کے الیکشن میں حصّہ لے رہے ہیں، جن میں سب سے نمایاں،’’ پاک سرزمین پارٹی‘‘ ہے۔ ایم کیو ایم کے سابق سٹی ناظم، مصطفیٰ کمال اور سینئر رہنما، انیس قائم خانی نے 23 مارچ 2016 ء کو اس نئی پارٹی کی بنیاد ڈالی، جس میں بعدازاں کئی ارکان اسمبلی نے اپنی سابقہ جماعت کو خیرباد کہہ کر شمولیت اختیار کر لی۔ یہ جماعت اپنی تاریخ کا پہلا الیکشن لڑنے جا رہی ہے۔ علاوہ ازیں، آفاق احمد کی مہاجر قومی موومنٹ نے بھی کئی حلقوں میں امیدوار کھڑے کیے ہیں۔
عوامی نیشنل پارٹی…کم بیک کے لیے سرگرم
عوامی نیشنل پارٹی، جس کے سربراہ اِن دنوں اسفند یار ولی ہیں، دراصل کئی جماعتوں کے انضمام سے قائم ہونے والی، نیشنل عوامی پارٹی( نیپ) کی تبدیل شدہ شکل ہے۔ خان عبدالولی خان نے اپنی جماعت، نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی کے بعد اس کی بنیاد رکھی تھی۔ 26 جولائی 1986 ء کو قائم ہونے والی اس جماعت نے 2008 ء کے انتخابات میں اپنی تاریخ کی سب سے اچھی کارکردگی دِکھائی۔ اُسے قومی اسمبلی میں دس نشستیں ملیں، تو کے پی میں پیپلز پارٹی کی مدد سے حکومت بنانے میں بھی کام یاب رہی۔ نیز، بلوچستان اور کراچی سے بھی پہلی بار کام یاب ہوئی، تاہم 2013 ء میں اسے قومی اسمبلی کی صرف ایک ہی نشست مل سکی۔ اجمل خٹک اور بیگم نسیم ولی خان کی جانب سے مختلف اوقات میں پارٹی کے اندر گروپس بنائے گئے، جو کچھ عرصے تک فعال بھی رہے،تاہم پارٹی قیادت ان رہنماؤں کو منانے میں کام یاب رہی۔
بلوچستان عوامی پارٹی… پہلی کوشش
یہ بلوچستان کے سیاسی منظر نامے پر ابھرنے والی ایک نئی جماعت ہے، جس کی جڑیں صوبے میں رونما ہونے والے ان واقعات سے منسلک ہیں، جو سابقہ حکومت کے آخری دنوں میں پیش آئے۔ مارچ 2018 ء میں بلوچستان کے بزرگ سیاسی رہنما، سعید احمد ہاشمی نے اُس وقت کے وزیر اعلیٰ بلوچستان، میر عبد القدوس بزنجو اور اُن کی کابینہ کی موجودگی میں اس نئی جماعت کے قیام کا اعلان کیا۔بعدازاں، جام کمال خان کو بی اے پی کا صدر منتخب کیا گیا۔ مسلم لیگ نون اور ق لیگ کے کئی سابق ارکانِ اسمبلی کی شمولیت سے یہ صوبے کی ایک اہم سیاسی قوّت کے طور پر ابھری ہے اور اس نے صوبے کے بیش تر حلقوں سے اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔
پختون خوا ملّی عوامی پارٹی …
پختون خوا ملّی عوامی پارٹی نے محمود خان اچکزئی کی قیادت میں 2013 ء کے انتخابات میں قومی اسمبلی کی تین نشستوں پر کام یابی حاصل کی، جب کہ صوبے میں اتحادی حکومت کا بھی حصّہ رہی۔ دراصل، اس جماعت کی بنیاد محمود خان اچکزئی کے والد، عبدالصمد خان اچکزئی نے پختون خوا نیشنل پارٹی کے نام سے رکھی تھی، جنھیں 1973 ء میں قتل کردیا گیا تھا۔ 1986 ء میں اس پارٹی نے مزدور کسان پارٹی کے ساتھ مل کر پختون خوا ملّی عوامی اتحاد تشکیل دیا، جس نے 1989 ء میں موجودہ نام اختیار کر لیا۔ یہ جماعت 1988 ء سے ہر الیکشن میں بلوچستان سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر کام یاب ہوتی آئی ہے، البتہ 2008 ء کے انتخابات کا اس نے بائیکاٹ کیا تھا۔
گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس…پی پی پی کی آزمائش
سندھ میں اس بار پیپلز پارٹی مخالف جماعتوں نے گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس تشکیل دیا ہے، جس میں مسلم لیگ فنکشنل، نیشنل پیپلز پارٹی، ارباب رحیم کی پیپلز مسلم لیگ اور صفدر عباسی کی پاکستان پیپلز پارٹی ورکرز شامل ہیں، جب کہ ذوالفقار مرزا سمیت صوبے کی کئی بااثر شخصیات بھی اس اتحاد کا حصّہ ہیں۔ عمران خان نے بھی اپنے حامیوں کو جی ڈی اے کے امیدواروں کی حمایت کی ہدایت کی ہے۔ گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس نے مختلف حلقوں میں اتحاد سے باہر جماعتوں سے بھی سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کی ہے۔ اسی طرح کا ایک دس جماعتی اتحاد لاڑکانہ میں بھی قائم کیا گیا ہے، جس کی جانب سے بلاول بھٹو کے مقابلے میں مشترکا امیدوار میدان میں اتارا گیا ہے۔
تحریک اللہ اکبر
الیکشن کمیشن کے مطابق،’’ تحریک اللہ اکبر‘‘ سب سے زیادہ امیدوار کھڑے کرنے کے لحاظ سے پاکستان کی پانچویں بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ یہ پنجاب کے علاقے، ہارون آباد کے ڈاکٹر احسان باری کے نام پر رجسٹرڈ ہے، لیکن اس کی اصل شہرت کی وجہ ملی مسلم لیگ سے اتحاد ہے۔ سابقہ حکومت نے ملی مسلم لیگ پر حافظ سعید سے تعلق رکھنے کا الزام عاید کرتے ہوئے اس کی رجسٹریشن پر اعتراض کیا تھا، جس پر اسے رجسٹر نہیں کیا گیا۔ ملی مسلم لیگ نے اتحادی جماعت کے نشان پر 260 امیدوار میدان میں اتارے ہیں، جن میں دس خواتین بھی شامل ہیں۔ یہ جماعت این اے 120، لاہور اور دیگر حلقوں کے ضمنی انتخابات میں قابلِ ذکر ووٹ لے کر اپنی موجودگی کا ثبوت دے چکی ہے۔ چوں کہ ملی مسلم لیگ منظّم نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہ بڑے پیمانے پر انتخابی مہم بھی چلا رہی ہے، اس لیے عین ممکن ہے کہ پنجاب کی سطح پر سب سے بڑی مذہبی جماعت کے طور پر سامنے آئے۔
تحریک لبّیک پاکستان
یہ تنظیم، تحریک لبّیک یا رسول اللہﷺ کا سیاسی ونگ ہے، جس کے سربراہ مولانا خادم حسین رضوی ہیں۔ اسے 26 جولائی 2017 ء کو الیکشن کمیشن میں رجسٹر کروایا گیا۔ مولانا نوارنی کے انتقال کے بعد بریلوی مکتبِ فکر میں جو سیاسی خلا پایا جا رہا تھا، اُسے یہ جماعت پُر کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس مقصد میں بہت حد تک کام یاب بھی رہی ہے، جس کا اندازہ ضمنی انتخابات میں اس کے حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد سے لگایا جا سکتا ہے۔
نیشنل پارٹی
اکتوبر 2003 ء میں حاصل خان بزنجو کی بلوچستان نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی اور ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کی بلوچستان نیشنل موومنٹ کے انضمام کے نتیجے میں نیشنل پارٹی قائم ہوئی، جس کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالحئی اور جنرل سکیریٹری حاصل بزنجو منتخب ہوئے۔ 2008 ء میں سینئر رُکن، عبدالمالک بلوچ کو پارٹی کا صدر منتخب کیا گیا۔ نیشنل پارٹی نے 2008 ء کے الیکشن کا تو بائیکاٹ کیا، تاہم 2013 ء میں صوبے کی 11 اور قومی اسمبلی کی ایک نشست جیتنے میں کام یاب رہی، جس کے بعد عبدالمالک بلوچ کی قیادت میں بلوچستان میں اتحادی حکومت تشکیل دی گئی۔ بعدازاں، عبدالمالک بلوچ نے معاہدے میں طے کردہ مدّت پوری ہونے پر اقتدار نون لیگ کے ثناء اللہ زہری کے حوالے کردیا۔
بلوچستان نیشنل پارٹی
سردار اختر جان مینگل کی’’ بلوچستان نیشنل پارٹی‘‘ صوبے کی ایک اہم اور بااثر جماعت ہے، جسے اُن کے والد، عطاء اللہ خان مینگل نے 1996 ء میں قائم کیا تھا۔ اس پارٹی نے 1997 ء کے انتخابات میں کام یابی کے بعد اتحادیوں کے ساتھ مل کر صوبائی حکومت تشکیل دی، مگر اگلے ہی سال اختر مینگل کو حکومت چھوڑنا پڑ گئی۔ بی این پی نے 2002 ء اور 2008 ء کے انتخابات میں حصّہ نہیں لیا، تاہم 2013 ء میں وہ قومی اسمبلی کی ایک نشست جیتنے میں کام یاب رہی۔ 2018 ء کے الیکشن میں بھی بی این پی نے کئی حلقوں سے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ اسی جماعت کا ایک دھڑا’’ بلوچستان نیشنل پارٹی(عوامی)‘‘ کے نام سے اسرار اللہ زہری کی قیادت میں فعال ہے، جو 1998ء میں پارٹی سے الگ ہوا تھا۔ یہ جماعت بھی صوبے میں انتخابی کام یابیاں حاصل کرتی رہی ہے۔
جمعہ بازار…
الیکشن کمیشن کے پاس تین سو سے زاید سیاسی پارٹیاں رجسٹرڈ تھیں، لیکن اس بار کم از کم دو ہزار افراد کی پارٹی ممبرشپ کی شرط عاید کی گئی، تو صرف 120 جماعتیں ہی باقی بچیں، جن میں سے107 کو نشانات الاٹ کیے گئے۔ ان 107 میں سے بھی صرف چند ہی جماعتیں ایسی ہیں، جو خاطر خواہ ووٹ لے پاتی ہیں، وگرنہ بیش تر تو تانگہ پارٹیاں ہیں، جن کے کہیں دفاتر ہیں اور نہ کارکن، بلکہ آج تک اُن کے عُہدے داروں تک کے نام بھی سُننے میں نہیں آئے۔ 2013ء کے انتخابات کے نتیجے میں 18 جماعتوں کے ارکان قومی اسمبلی میں پہنچے تھے، جن میں سے کئی اپنی پارٹی کے واحد رکن تھے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق، چھوٹی سیاسی جماعتوں کے ووٹوں کا تناسب 0.03 فی صد رہا۔ ٹھیک ہے، پاکستان کا آئین شہریوں کو جماعت بنانے کا حق دیتا ہے، مگر جماعت بنا کر الیکشن لڑنے کے حق کو کسی اصول اور ضابطے کا پابند بنایا جانا چاہیے تاکہ محض شہرت اور قائد بننے کے شوق میں پارٹیوں کی تشکیل کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔
ہوئے نام وَر بے نشاں کیسے کیسے…
کہتے ہیں کہ سیاست وقت، وقت کا کھیل ہے۔ آج کا تاج دار، کل تختہ دار پر بھی ہو سکتا ہے یا پھر کہیں گم نام وادیوں کا راہی۔ زیادہ دُور کیا جانا، پاکستان ہی کو دیکھ لیجیے۔ کئی ایسی شخصیات اور جماعتیں، جو کسی زمانے میں سیاست کا مرکز ہوا کرتی تھیں، آج لوگ اُن کے نام تک بھول گئے۔ کنونشن مسلم لیگ کسی دَور کی کنگ پارٹی تھی۔ لوگ اُس کی جانب دوڑے جاتے تھے، بھٹّو جیسا رہنما بھی ایک زمانے میں اُس کا حصّہ رہا اور پھر وقت نے اُس کا باب بند کردیا۔ 70 ء کی دہائی میں اصغر خان کی تحریکِ استقلال کا طوطی بولتا تھا۔ یہ جماعت کیا تھی؟ اسی سے اندازہ لگا لیجیے کہ نواز شریف جیسے کئی سیاسی رہنما اُس میں شامل رہے، مگر آج یہ پارٹی الیکشن کمیشن کی فہرست تک میں شامل نہیں۔ ڈاکٹر خان کی ری پبلکن پارٹی بھی آپ کو یاد نہیں ہوگی، حالاں کہ ایک زمانے میں یہ مُلک پر راج کرتی تھی۔ پھر ہم تو نواب زادہ نصراللہ خان کو بھی بھول گئے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ سیاسی اتحاد بنانے کا ریکارڈ اُنہی کے نام ہے، مگر کیا اب بھی کوئی پارٹی اُن کے نام سے منسوب ہے؟نہیں ۔