• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پتے کی پتھری

ڈاکٹرصابر سکندری، حیدرآباد

پتّا، جسے انگریزی میں گال بلیڈر(Gallbladder)کہا جاتا ہے، ناشپاتی کی شکل کا چھوٹا عضو ہے، جو جگر کے نیچے دائیں جانب پایا جاتا ہے۔اس میں سیال بائل یا صُفرا(Bile)ہوتا ہے، جو چربی اور مخصوص وٹامنز ہضم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ بعض وجوہ کی بنا پر اسی پتّے میں پتھری بن جاتی ہے، جوزیادہ ترکیسزمیں کوئی علامت ظاہر نہیں کرتی، لیکن بعض اوقات اس سے ہونے والی پیچیدگیاں بےحد خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بَھر میں دس سے بیس فی صد آبادی پتّے کی پتھری کی شکایت میں مبتلا ہے۔یہ مرض زیادہ ترموٹے افراد اور حاملہ کو متاثر کرتا ہے، جب کہ کولیسٹرول یا صُفرے کی زائد مقدار، نشاستے دار اور چکنائی والی اشیاء کا زائد اور فائبر ڈائٹ یا سبزیوں کا کم استعمال بھی پتّے کی پتھری کی وجہ بن سکتا ہے۔ تاہم، اگر خاندان میں کسی کو اس کی شکایت ہو، تو بھی قریبی رشتے داروں میں اس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔شعبۂ طب میں پتّے کی پتھری بننے کی وجوہ کے لیے’’5F‘‘ کی اصطلاح مستعمل ہے۔

یعنی female(خواتین)، فیٹس(موٹاپا)،Flatulence(گیس، تیزابیت) ففٹی (پچاس سال سے زائد عُمر )۔اگر علامات کی بات کی جائے،تولگ بھگ ایک سے تین فی صد مریضوں میں علامات ظاہر ہوتی ہیں، جب کہ80 فی صد کیسز میں کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی۔تاہم، پسلیوں کے نیچے درد اس کی ایک عام علامت ہے، جو دُکھن اور چُبھن کے ساتھ ہوتا ہے۔اس کا دورانیہ ایک تا 5 گھنٹے ہے۔ یہ درد پسلیوں کے نیچے یعنی معدے کی جگہ پر محسوس ہوتا ہے، جو پیٹ کے دائیں طرف نیچے تک جاتا ہے اور اوپر کی جانب پھیل کر دائیں کندھے تک چلا جاتا ہے۔ شدّت کی صورت میں لبلبے تک بھی پہنچ جاتا ہے۔

پتّے میں پتھری کی ایک عام پیچیدگی پتّے کا اندورنی یا بیرونی ورم ہے، جسے طبّی اصطلاح میں’’Cholecystitis‘‘کہا جاتا ہے۔90فی صد مریضوں میں پتّے کا ورم، اس میں موجود پتھری اور نالی میں رکاوٹ کے سبب ہوتا ہے۔مریض مسلسل درد کی شکایت کرتا ہے،جو عموماً کئی گھنٹوں، بعض اوقات تو کئی دِنوں تک رہتا ہے،جب کہ علامات میں بخار، پیٹ درد، متلی اور قے وغیرہ شامل ہیں۔اگرمعالج پیٹ کے دائیں حصّے کو دبائے، تو مریض درد کی شدّت سے اچھل پڑتا ہے، جسےMurphy's Signکہتے ہیں۔واضح رہے کہ صرف تیس فی صد مریضوں میں اگر پتّا پھول جائے،تو ہاتھ لگانے سے محسوس کیا جاسکتا ہے، جب کہ دس سے پندرہ فی صد میں پتّے میں مواد بَھر جانے اور پھٹ جانے سے Peritonitis کی شکایت پیدا ہوجاتی ہے، جو ایک سرجیکل ایمرجینسی ہے۔بعض اوقات پتّے کی پتھری، پتّے سے نکل کر صُفرے کی نالی(Bile Duct)میں بھی پھنس جاتی ہے،جس کے نتیجے میں یرقان، نالی میں مواد بَھر جانے یا پھر لبلبے میں انفیکشن جیسی پیچیدگیوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔بعض اوقات ایک طویل عرصے تک پتّے میں پتھری کی وجہ سے سوزش کے ساتھ مواد بَھر جاتا ہے، جوEmpyemaکہلاتا ہے۔ 

اس کی عام علامات میں پیٹ کے دائیں جانب درد، بخار، الٹی اور بھوک نہ لگنا شامل ہے۔ اگر بروقت علاج نہ کروایا جائے، تو پتّا پھٹ جانے کے سبب فاسد مواد پورےپیٹ میں پھیل جاتا ہے۔علاج کے لیے فوری طور پر اینٹی بایوٹکس دی جاتی ہیں اور پتّے میں ایک آلے کی مدد سے سوراخ کرکے مواد اور پانی نکال دیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ اس حالت میں پتّے کا آپریشن ہرگز نہیں کیا جاتا ہے۔پتّے میں پتھری کی پیچیدگیوں میں ایک پیچیدگی پتّے کا سرطان بھی ہے، مگر اس کی شرح بہت کم ہے۔ زیادہ تر اُن معّمر افراد میں،جن کے پتّے میں برس ہا برس سے پتھری موجود ہو، اس کے امکانات پائے جاتے ہیں۔

پتّے میں پتھری کی تشخیص کے لیے پیٹ کا الٹرا سائونڈ کیا جاتا ہے،جو نہ صرف92فی صد درست نتائج دیتا ہے،بلکہ اس کی بدولت99فی صد اُن پتھریوں کی بھی تشخیص ممکن ہے،جو حجم میں دو ملی میٹر سے بڑی ہوں، جب کہ صفرے کی نالی میں پتھری کی تشخیص کے لیے بھی یہ طریقۂ کار 50فی صد کام یاب ہے۔ ماضی میں جب الٹراسائونڈ کی سہولت دستیاب نہیں تھی ،تو ایکسرے کے ذریعے پتّے اور نالی کی پتھری کی تشخیص کی جاتی تھی، اس کے لیےCholecystogram کرنا پڑتا تھا۔ یعنی مریض کو رات سونے سے قبل مخصوص دوا کھلائی جاتی اورصُبح ایکسرے کرلیا جاتا، جب کہ دوسرے طریقۂ کار میں انجیکشن کے ذریعے مریض کے جسم میں ایک ڈائی داخل کی جاتی، جو ایکسرے میں پتھریوں کو واضح طور پر ظاہر کردیتی تھی۔اگرچہ تشخیص کے یہ دونوں ہی طریقے درست نتائج دیتے ہیں، لیکن اب تقریباً مسترد کیے جاچُکے ہیں۔ رہی بات سی ٹی اسکین کی، تو20فی صد مریضوں میں پتھریاں ظاہر نہیں ہوتیں، لیکن پیچیدگی کی تشخیص خصوصاً پتّے میں مواد بَھر جانے یا پھٹ جانے کے لیے یہ ایک کام یاب ٹیسٹ قرار دیا گیا ہے۔تاہم، اینڈو اسکواپک الٹرا سائونڈ(Endoscopic Ultrasound)کے ذریعے پتّے کی پتھری، ریت اور مٹّی(Sludge)کی بھی تشخیص ممکن ہے۔ زیادہ تر معالجین تشخیص کے لیے یہی طریقۂ کار تجویز کرتے ہیں کہ اس کے نتائج سو فی صد درست ہوتے ہیں۔

بعض کیسز میں پتّے میں پتھری کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی۔ کسی اور مرض کی تشخیص کے لیے الٹراساونڈ کروایا جاتا ہے، اور پتھری ظاہر ہوجاتی ہے۔ اس صورت میں اگر تو مریض کو درد نہیں، تو پھر آپریشن میں تاخیر کی جاسکتی ہے اور کبھی کبھار درد ہونے کی صورت میں دافع درد دوا استعمال کی جاسکتی ہے، لیکن اگر درد بار بار ہو، تو بہتر ہوگا کہ معالج کے مشورے سے آپریشن کروالیا جائے، تاکہ کسی بھی قسم کی پیچیدگی سے بچا جاسکے۔ماضی میں پسلیوں کے نیچے دائیں طرف کافی بڑا چیرا لگا کر پتّا، پتھریوں سمت نکال کر مریض کو کم از کم ایک ہفتے تک اسپتال میں رکھا جاتا تھا۔اس آپریشن کو’’Open Cholecystectomy‘‘کہتے ہیں، مگر اب’’ Laparoscopic Cholecystectomy‘‘کی جاتی ہے، جس کے ذریعے مریض جلد صحت یاب ہو کر تیسرے دِن گھر چلا جاتا ہے۔

اس طریقۂ علاج کو کافی عرصے تک’’Key Hole‘‘آپریشن بھی کہا گیا۔ شاید اس لیے کہ اس میں پیٹ میں چابی کے سوراخ کی طرح تین سوراخ کیے جاتے ہیں۔ ایک سوراخ کے ذریعے کیمرا داخل کیا جاتا ہے، دوسرے سوراخ سے پتّا نکالا جاتا ہے، توتیسرے سوراخ کے ذریعے ایک نلکی داخل کرکے صفائی کی جاتی ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق امریکا میں پتّے کی پتھری کے سالانہ سات لاکھ آپریشن ہوتے ہیں، جن میں80فی صد لیپرو اسکوپی کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔تاہم، پتّے کے سرطان میں مبتلا مریضوں میں مذکورہ آپریشن زیادہ کام یاب نہیں کہ زیادہ تر کیسز میں سرطان، پتّے سے نکل کر صُفرے کی نالی اور جگر تک پھیل چُکا ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں جگر کا کچھ حصّہ نکالنے سے بھی فائدہ نہیں ہوتا،جب کہ کیمو اور ریڈیو تھراپیز بھی فائدہ مند ثابت نہیں ہوتیں۔ مریض زیادہ سے زیادہ چھےماہ جی پاتا ہے۔ 

صرف پانچ فی صد مریض ہی سروائیو کرتے ہیں اور وہ بھی پانچ سال تک زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا رہ کر انتقال کرجاتے ہیں۔بدقسمتی سے اتائی اور نیم حکیم یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے پاس پتّے کی پتھری کا بغیر آپریشن کام یاب علاج موجود ہے۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ گُردے کی پتھری اگر حجم میں چھوٹی ہو، تو مائع اشیاء کے زیادہ استعمال سے گُردے سے مثانے تک پہنچ کر قدرتی طور پر خارج ہوسکتی ہے، مگر پتّے کی پتھری کے اخراج کا ایسا کوئی قدرتی طریقہ نہیں۔ گرچہ کئی برس قبل پتّے کی پتھری کے آپریشن کا متبادل طریقہLithotripsyمتعارف کروایا گیا، جس میں شعاؤں کے ذریعے پتھری توڑ کر اس کا سفوف بنادیا جاتا اور بعد ازاں مریض کو ایک مخصوص دوا دی جاتی،جسے ختم ہونے تک پابندی کے ساتھ استعمال کی سخت تاکید کی جاتی، مگر یہ طریقۂ علاج بھی زیادہ کام یاب نہ ہوسکا،کیوں کہ سفوف دوبارہ گٹھلیوں کی شکل میں جمع ہوکر پتھری بنا دیتا ہے، لہٰذا یہ طے ہے کہ پتّے کی پتھری نکالنے کے لیے آپریشن کے سوا کوئی دوسرا طریقۂ علاج موجود نہیں۔ سو، تشخیص کی صورت میں اتائیوں، نیم حکیموں کے جھانسے میں آنے کی بجائے کسی مستند، تجربہ کار معالج سے رجوع کیا جائے، تاکہ درست علاج کی بدولت پیچیدگیوں کے امکانات معدوم ہوجائیں۔

(مضمون نگار، جنرل فزیشن ہیں اور حیدرآباد میں خدمات انجام دے رہے ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید