آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سروسز اسپتال، لاہور کے شعبہ انتہائی نگہداشت کے کنسلٹنٹ، ڈاکٹر محمد جاوید احمد سے خصوصی بات چیت

سروسز اسپتال، لاہور کے شعبہ انتہائی نگہداشت کے کنسلٹنٹ، ڈاکٹر محمد جاوید احمد سے خصوصی بات چیت

عکّاسی:عرفان نجمی

بِلا شُبہ قرآنِ حکیم کے ایک ایک حرف میں شفا ہے۔ خود ذاتِ باری تعالیٰ نے قرآنِ پاک کو ہر مرض کے لیے شفا قرار دیا ہے اور قرآن شریف کی تلاوت کرنے اور سُننے کے نتیجے میں اب تک اَن گنت انسان مختلف امراض سے نجات حاصل کر چُکے ہیں۔ یوں تو دُنیا بَھر کے سائنس داں اپنے تجربات کی روشنی میں قرآنِ حکیم میں بیان کیے گئے حقائق کے سامنے سرِ تسلیم خم کر چُکے، لیکن اس وقت خاص طور پر قرآنِ پاک کی سورۂ رحمٰن سائنس دانوں، ماہرینِ طب اور ڈاکٹرز کی خصوصی توجّہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اور اس سورہ میں پوشیدہ شفا یابی کی طاقت نے تحقیق کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ کافی عرصہ قبل پاکستان ٹیلی ویژن پر سورۂ رحمٰن کی غیر معمولی افادیت کے بارے میں ایک سلسلہ وار پروگرام پیش کیا جاتا تھا، لیکن یہ سلسلہ ختم ہونے کے بعدخاموشی چھا گئی۔ تاہم، اب ایک مرتبہ پھر میڈیکل سائنس کے مختلف حلقوں میں اس سورہ کے مختلف پہلوئوں کو اُجاگر کیا جا رہا ہے۔

چند ہفتے قبل دارالحکومت، اسلام آباد میں سائنس دانوں اور طبّی ماہرین کا ایک سیمینار منعقد ہوا، جس میں مقرّرین نے سورۂ رحمٰن کی مدد سے موذی امراض کے علاج کے حوالے سے اپنے مشاہدات اور تاثرات پیش کیے۔ اس موقعے پر ماہرین نے مختلف امراض میں مبتلا مریضوں کو 7روز تک سورۂ رحمٰن تھراپی کی تجویز دیتے ہوئے اس طریقۂ علاج کو تمام سرکاری اسپتالوں میں رائج کرنے کا مطالبہ کیا۔ سیمینار میں پِمز(پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز) اسلام آباد کی ہارٹ سرجن، ماہ رُخ خان، سروسز اسپتال، لاہور کے شعبۂ انتہائی نگہداشت کے کنسلٹنٹ، ڈاکٹر محمد جاوید احمد، لمز(لاہور یونی ورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز) کے شعبۂ مالیکیولر بائیولوجی کے سائنس داں، ڈاکٹر محمد طارق اور ڈائریکٹر ایس اینڈ آئی، ارم حمید سمیت دیگر ماہرین نے شرکت کی۔ مقرّرین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قرآنِ حکیم کے ایک ایک حرف میں شفا ہے۔ بالخصوص سورۂ رحمٰن کے حوالے سے اب پاکستانی ماہرین گرینڈ ٹرائل کی طرف جا رہے ہیں۔ لمز کے شعبۂ مالیکیولر بائیو لوجی میں سورۂ رحمٰن کے انسانی دماغ، خلیات اور بیکٹیریا پر اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیمینار میں سروسز اسپتال کے شعبۂ انتہائی نگہداشت کے ماہر، ڈاکٹر محمد جاوید احمد نے گزشتہ 10برس کے دوران آئی سی یو میں کینسر سمیت دیگر مُہلک امراض میں مبتلا مریضوں کی سورۂ رحمٰن کے ذریعے صحت یابی سے متعلق اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ سورۂ رحمٰن تھراپی کے بہترین نتائج سامنے آ رہے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ اس سورہ کے مریضوں پر حیران کُن اثرات کو بین الاقوامی سطح پر سائنسی نقطۂ نظر سے پرکھا جائے، تاکہ زیادہ سے زیاہ خلقِ خدا اس سے استفادہ کر سکے۔ سیمینار میں شریک دیگر ماہرین کا کہنا تھا کہ عہدِ حاضر میں اسمائے الہٰی کے بھی حیرت انگیز روحانی و جسمانی اثرات سامنے آ رہے ہیں اور پوری دُنیا کے مسلمان ان سے مستفید ہو رہے ہیں۔

یوں تو پاکستان کے مختلف سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے علاج کے لیے سورۂ رحمٰن سے مدد لی جارہی ہے، لیکن اس طریقۂ علاج کا دائرہ خاصا محدود ہے۔ البتہ سروسز اسپتال کا شعبۂ انتہائی نگہداشت اس اعتبار سے ایک ہر اول دستے کا کام سر انجام دے رہا ہے، جس میں ڈاکٹر محمد جاوید کا کردارکلیدی ہے۔ ڈاکٹر محمد جاوید نے 1992ء میں علاّمہ اقبال میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا۔ پھر سروسز اسپتال میں ایک سال تک ہائوس جاب کرنے کے بعد شیخ زید اسپتال اور اتفاق اسپتال سے آئی سی یو کے ماہر کی حیثیت سے وابستہ رہے۔ بعد ازاں، پوسٹ گریجویشن کی اور 2005ء میں دو سال کے لیے سعودی عرب چلے گئے۔ اسی دوران ایم آر سی پی کا امتحان پاس کیا اور 2008ء میں وطن واپسی کے بعد سروسز اسپتال، لاہور کے شعبۂ انتہائی نگہداشت سے وابستہ ہو گئے۔ اس وقت وہ اسی اسپتال میں کنسلٹنٹ فزیشن کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

یوں تو ڈاکٹر محمد جاوید کی پوری زندگی ہی نشیب و فراز سے عبارت ہے۔ تاہم، 2دسمبر 2002ء کو اُن کی زندگی میں اس وقت ایک اہم موڑ آیا کہ جب ایڈز میں مبتلا ایک مریضہ کو انجیکشن لگاتے وقت مریضہ کے خون سے آلودہ سرنج ان کے ہاتھ میں پیوست ہو گئی اور چند روز بعد ہی ان کے جسم میں ہیپاٹائٹس سمیت دیگر موذی امراض کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو گئیں۔ وہ کم و بیش ڈیڑھ برس تک اس عذاب میں مبتلا رہے اور پھر معالجین نے انہیں لا علاج قرار دے دیا۔ اسی اثنا میں ڈاکٹر محمد جاوید کو اپنی کولیگ لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ داتا دربار کے قریب سیّد صفدر حسین بخاری نامی بابا جی سے ملنے کا اتفاق ہوا، جن کی زبان پر صرف یہی جملہ تھا کہ ’’کون کہتا ہے کہ دُنیا میں کسی بیماری، اُلجھن، مصیبت، بد بختی یا نحوست کا علاج نہیں۔‘‘ بابا جی نے اُن سے کہا کہ’’ اے پاگل ڈاکٹر! تم شفا یابی کے جس نُسخے کی تلاش میں تھے، وہ مل گیا ہے۔ جو لوگ کسی جسمانی مرض، رُوحانی اُلجھن یا ذہنی کرب میں مبتلا ہوں یا کالے جادو اور منفی طاقتوں کے شر سے نجات چاہتے ہوں، انہیں چاہیے کہ وہ صبح، دوپہر اور شام کے وقت آنکھیں بند کر کے 7روز تک مسلسل مصر کے مشہور قاری، عبدالباسط کی آواز میں سورۂ رحمٰن کی (بغیر ترجمے کے) تلاوت سُنیں اور ہر بار تلاوت سُننے کے بعد آنکھیں بند کر کے 3مرتبہ دل میں ’’اللہ‘‘ کہہ کر آدھا گلاس پانی 3گھونٹ میں پی لیں۔ البتہ شرط یہ ہے کہ پوری تلاوت نہایت انہماک و استغراق اور دُنیا و مافیہا سے بے خبر ہو کر سُنیں اور ہر بار تلاوت سُننے کے بعد اُن افراد کو صدقِ دل سے معاف کر دیں کہ جن کے لیے آپ کے دل میں کدورت، بغض اور نفرت پائی جاتی ہے۔‘‘ پریشان حال ڈاکٹر جاوید نے اُسی روز ہی اس کارِ خیر کا آغاز کر دیا اور پہلی ہی نشست میں انہیں یہ احساس ہو گیا کہ اُن کے دل کا بوجھ ہلکا ہونا شروع ہو گیا ہے۔ اس عمل سے گزرنے کے دوران انہیں اپنے باطن میں ایک عجیب سی تبدیلی محسوس ہوئی اور 7روز بعد اُن کے باطن میں صحت یابی کا احساس اتنا قوّی ہو چُکا تھا کہ انہیں اپنی تمام میڈیکل رپورٹس سو فی صد دُرست آنے کا یقین ہو گیا اور پھر ایسا ہی ہوا۔ یعنی جس مرحلے پر میڈیکل سائنس ناکام ہو گئی تھی، وہاں قرآن نے کمال کر دکھایا۔ بعد ازاں، بابا جی نے ڈاکٹر جاوید سے یہ عہد لیا کہ وہ اس نیک کام کو آگے بڑھائیںگے۔ چناں چہ وہ گزشتہ 10برس سے سروسز اسپتال کے آئی سی یو میںزیرِ علاج مریضوں کو دن میں3مرتبہ سورۂ رحمٰن کی تلاوت سُنانے کا بندوبست کرتے ہیںاور دیگر مریضوں کو بھی اس کی ترغیب دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں، وہ اپنے کلینک میں آنے والے مریضوں کو بھی دیگر ادویہ کے ساتھ یہ تھراپی تجویز کرتے ہیں۔ ڈاکٹر جاوید کا ماننا ہے کہ علاج معالجے کے ساتھ سورۂ رحمٰن کی تلاوت سُننے سے صحت یابی کا عمل تیز ترہو جاتا ہے۔

سروسز اسپتال، لاہور کے شعبہ انتہائی نگہداشت کے کنسلٹنٹ، ڈاکٹر محمد جاوید احمد سے خصوصی بات چیت
ڈاکٹر محمد جاوید

ڈاکٹر محمد جاوید کے مطابق، شعبۂ طب سے وابستگی اختیار کرنے کے بعد وہ ہمیشہ یہ دُعا کرتے تھے کہ ’’اے اللہ! تو نے ہر مرض کی دوا اور شفا نازل کی ہے۔ سو، مُجھے کوئی ایسا نُسخہ بتا کہ جسے مَیں تیری خاطر لوگوں میں تقسیم کروں، کیوں کہ مَیں نہیں چاہتا کہ میری کم علمی کے باعث کوئی مریض جاں سے گزر جائے۔‘‘ اللہ نے اُن کی سُن لی اور انہیں یہ نُسخہ مل گیا، جسے اب وہ فی سبیل اللہ تقسیم کر رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’’سورۂ رحمٰن کے کرشمات کوئی نئی بات نہیں، بلکہ آج سے کم و بیش 15برس قبل پی ٹی وی نے ایک پروگرام ’’الرحمٰن‘‘ کے نام سے شروع کیا تھا، جس میں سورۂ رحمٰن کی تلاوت سے شفا یاب ہونے والے سیکڑوں مریضوں کے تاثرات پیش کیے جاتے تھے، جس کے نتیجے میں دیگر افراد کو بھی اس سورہ کی غیر معمولی افادیت کا علم ہوا اور انہوں نے اس نسخے پر عمل شروع کر دیا۔ تاہم، اب پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سورۂ رحمٰن کے شفا بخش اثرات کو سائنسی انداز میں پرکھا جا رہا ہے۔ یوں تو ہمارا اس بات پر مکمل ایمان ہے کہ قرآنِ حکیم کا ایک ایک حرف شفا ہے اور خود اللہ تعالیٰ نے بھی اسے ہر مرض کی شفا قراردیا ہے، لیکن عہدِ جدید کے تعلیم یافتہ، بالخصوص مادّہ پرستی کے شکار افراد اور غیر مسلم اسے سائنس کی کسوٹی پر پرکھنا چاہتے ہیں اور قرآنِ حکیم کی حقانیت انہیں اپنی طرف مائل کر رہی ہے۔ گرچہ اس وقت لاہور کے متعدد اسپتالوں میں مریضوں کو سورۂ رحمٰن کی تلاوت سُنانے کا بندوبست کیا گیا ہے، 

جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اب اسپتال بند کر دیے جائیں اور مریض ادویہ لینا چھوڑ دیں، بلکہ سورۂ رحمٰن تھراپی کا مقصد شفا یابی کے عمل کو تیز تر کرنا ہے۔ لاہور کے علاوہ اسلام آباد کے پِمز اسپتال کے آئی سی یو میں پاکستان کی پہلی ہارٹ سرجن، ڈاکٹر ماہ رُخ نے سورۂ رحمٰن کی تلاوت سُنانے کا اہتمام کیا ہے، جس کے نتیجے میں مریضوں کی شرحِ اموات میں ماضی کے مقابلے میں 50فی صد کمی واقع ہوئی ہے، جب کہ لمز کی تجربہ گاہ میں پروفیسر محمد طارق تحقیق کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جب کوئی مریض سورۂ رحمٰن کی تلاوت سُنتا ہے، تو اس کے خلیات پر کیا اثرات مرتّب ہوتے ہیں۔‘‘

سورۂ رحمٰن کے ذریعے علاج کا آغاز کرنے پر ڈاکٹر جاوید کو اپنے ساتھی ڈاکٹرز کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس بارے میں وہ بتاتے ہیں کہ’’ جب مَیں نے اسپتال میں سورۂ رحمٰن کی تلاوت کا بندوبست کیا، تو میرے ساتھی ڈاکٹرز نے یہ کہتے ہوئے اس سے اختلاف کیا کہ جہاں قرآنِ پاک کی تلاوت نہیں سُنی جاتی، کیا وہاں مریض صحت یاب نہیں ہو رہے، لیکن چُوں کہ مَیں خود سورۂ رحمٰن کی غیر معمولی افادیت کا قائل ہو چُکا تھا، لہٰذا سخت مزاحمت کے باوجود ڈٹا رہا۔ سورۂ رحمٰن کی تلاوت کی وجہ سے ماضی کے مقابلے میں آئی سی یو میں شرحِ اموات میں کمی واقع ہوئی اور لاعلاج مریضوں کی شفایابی کا تناسب بڑھ گیا، جو میرے لیے اطمینان بخش تھا۔‘‘ ڈاکٹر محمد جاوید کے مطابق، اب سورۂ رحمٰن کے کرشماتی اثرات کی گونج پاکستان کے علاوہ دُنیا کے دوسرے ممالک میں بھی سُنائی دے رہی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے پاکستان میں جگر کی پیوند کاری کے ماہر، ڈاکٹر طارق بنگش کے ساتھ برطانیہ کے معروف لِیڈز اسپتال میں پیش آنے والا ایک واقعہ سُنایا۔ انہوں نے بتایا کہ ’’ڈاکٹر طارق بنگش لِیڈز اسپتال میں جگر کی پیوند کاری کی تربیت حاصل کر رہے تھے۔ ایک روز وہ اسپتال کے مشہور سرجن، پروفیسر ڈاکٹر بیلمی کے وارڈ کے قریب سے گزرے، تو انہیں اندر سے سورۂ رحمٰن کی تلاوت کی آواز سُنائی دی، جسے سُن کر وہ دنگ رہ گئے۔ ڈاکٹر بنگش نے اپنے ساتھیوں سے اس بابت پوچھا، تو انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر بیلمی نے آئی سی یو میں زیرِ علاج مریضوں کے لیے سورۂ رحمٰن کی تلاوت کا اہتمام کر رکھا ہے۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ تلاوت سُننے کی وجہ سے مریضوں کی شرحِ اموات میں ماضی کے مقابلے میں کئی گُنا کمی واقع ہوئی ۔ ڈاکٹر بیلمی کو اُن کے بعض ساتھی پاگل سمجھتے تھے اور بعض مسلمان۔ تاہم، ڈاکٹر بنگش کا کہنا تھا کہ وہ کچھ عرصہ سعودی عرب میں مقیم رہے ۔ ہو سکتا ہے کہ انہوں نے یہ آئیڈیا وہاں سے لیا ہو۔ بعد ازاں، جب دیگر ڈاکٹرز نے ڈاکٹر بیلمی کو کریدنا شروع کیا، تو وہ صرف اتنا کہہ کر خاموش ہو گئے کہ ’’مَیں اس وقت کچھ نہیں بتا سکتا۔ البتہ مَیں اس بارے میں لکھوں گا ضرور، جسے آپ میری موت کے بعد پڑھ لیجیے گا۔‘‘ ڈاکٹر بیلمی سے کئی مسلمان ڈاکٹرز رابطہ کر چُکے ہیں، لیکن وہ کسی کو اپنے پاس موجود اعداد و شمار دینے پر آمادہ نہیں اور پہلے دوسرے ڈاکٹرز سے ڈیٹا طلب کرتے ہیں۔ ویسے ڈاکٹر بیلمی نے جلد ہی ایک ایسا ’’ملٹی پریز سینٹر‘‘ تعمیر کرنے کا عندیہ ہے کہ جہاں سورۂ رحمٰن تھراپی سے مریضوں کا علاج ہو گا۔‘‘

ڈاکٹر محمد جاوید، سورۂ رحمٰن کو’’Ultimate Remedy ‘‘یا حتمی طریقۂ علاج قرار دیتے ہیں۔ یعنی جہاں میڈیکل سائنس کام کرنا چھوڑ دے، وہاں یہ سورہ اپنا کمال دکھانا شروع کر دیتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ’’ مَیں اپنے پاس موجود گزشتہ 10برس کے اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ جب سے مَیں نے اپنے وارڈ میں سورۂ رحمٰن کی تلاوت سُنانے کا اہتمام کیا ہے، انتہائی نگہداشت کے مریضوں کی شرحِ اموات میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔ سورۂ رحمٰن کی تاثیر کے سبب معالجین کی جانب سے لاعلاج قرار دیے گئے مریض بھی صحت یاب ہو گئے۔ مَیں اس موقعے پر دانستہ یا نادانستہ طور پر زہریلی گولیاں کھانے والے مریضوں کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ امریکا سمیت دوسرے ترقّی یافتہ ممالک کے اسپتالوں کے آئی سی یو میں لائے جانے والے ایسے مریضوں کی شرحِ اموات 80فی صد ہے، جب کہ ہمارے شعبۂ انتہائی نگہداشت میں اس قسم کے80فی صد مریض شفایاب ہو جاتے ہیں، حالاں کہ ترقّی یافتہ ممالک کے اسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولتیں ہم سے کئی گُنا بہتر ہیں۔ خیال رہے کہ گندم میں رکھی جانے والی ان زہریلی گولیوں میں المونیم فاسفیٹ نامی زہر پایا جاتا ہے، جس کا کوئی تریاق نہیں۔ ہمارے ہاں ایسے مریضوں کی شفا یابی کی شرح پر دوسرے ممالک کے ڈاکٹرز بھی حیران ہیں۔ اسی طرح پاگل کُتّے کے کاٹنے سے متاثر ہونے والے مریض بھی بہ مشکل بچ پاتے ہیں، لیکن ہمارے اسپتال میں ان کی شفا یابی کی شرح بھی کافی زیادہ ہے، جب کہ یہی حال دل، گُردے، جگر اور کینسر سمیت دیگر امراض میں مبتلا مریضوں کا ہے۔ تاہم، مَیں یہاں یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ہم کسی بھی مریض کا علاج معالجہ ترک نہیں کرتے، بلکہ دوا کے ساتھ 7روز تک نہایت انہماک و استغراق سے سورۂ رحمٰن کی تلاوت سُننے اور صدقِ دل سے دوسروں کو معاف کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ یہ ایک اضافی تھراپی ہے، جو ماہرین کے مطابق، جسم کے اندر موجود شفا یابی کی قوت کو متحرّک کر کے مریض کو تیزی سے صحت یاب کرتی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی فرد سحر کے اثرات میں گرفتار ہو یا دوسرے گوناگوں مسائل سے دو چار ہو، تو اس کے لیے بھی سورۂ رحمٰن کی تلاوت سُننا، باعثِ رحمت و برکت ہے۔ یوں تو پورا قرآن ہی خیر و برکت کا سَر چشمہ ہے، لیکن سورۂ رحمٰن بنی نوع انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کا خصوصی تحفہ ہے۔ ایک دِل چسپ اَمر یہ بھی ہے کہ اس سورہ کی تلاوت سُننے والے غیر مسلم مریضوں کو بھی خاطر خواہ فائدہ پہنچا۔ ‘‘

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر محمد جاوید نے بتایا کہ ’’ کئی افراد مجھ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا دوا کھائے بغیر صرف سورۂ رحمٰن کی تلاوت سُننے سے علاج ممکن ہے، تو مَیں یہ سمجھتا ہوں کہ صرف تلاوت سُننا بھی یقیناً فائدہ مند ہے۔ تاہم، 90فی صد مریض دیسی، یونانی یا ہو میوپیتھک علاج ضرور کرواتے ہیں۔ علاج کروانا برحق ہے ، البتہ سورۂ رحمٰن تھراپی سے شفا یابی کا عمل تیز تر ہو جاتا ہے۔ تقریباً تمام طریقۂ ہائے علاج، بالخصوص ہومیو پیتھی کا بنیادی مقصد جسم کے اندر پائے جانے والے منفی عناصر کو ختم کر کے شفا یابی کی قوّتوں اور قوّتِ مدافعت کو حرکت میں لا کر مرض پر قابو پانا ہے۔ مَیں اپنے تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر یہ سمجھتا ہوں کہ قرآنِ حکیم کا ہر حرف خیر و برکت کی لہروں سے لب ریز ہے۔ یہ لہریں جب پانی میں جذب ہو کر انسانی جسم میں موجود پانی میں شامل ہوتی ہیں، تو اس کے نتیجے میں جسم میں مثبت تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ تاہم، یہ میرا مشاہدہ ہے اور سائنس دانوں کو سائنس کی کسوٹی پر پرکھ کر ان کی افادیت ثابت کرنی چاہیے۔ ‘‘ ڈاکٹر محمد جاوید کا مزید کہنا تھا کہ ’’ ہم نے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم تشکیل دی ہے، جو گزشتہ 10برس کے دوران ہمارے آئی سی یو میں مریضوں کی شفا یابی اور اموات کے اعداد و شمار جمع کر نے کے بعد اُن کا ماضی کے ڈیٹا سے موازنہ کر کے ایک جائزہ رپورٹ مرتّب کر رہی ہے۔ ہم یہ ڈیٹا صرف ماہرین کے لیے مرتّب کر رہے ہیں، تاکہ اسے بین الاقوامی سطح پر طبّی ماہرین میں عام کیا جا سکے۔‘‘

آئی سی یو سے مالیکیولر لیب تک

ڈاکٹر محمد طارق، لمز میں شعبۂ مالیکیولر بائیولوجی کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے سوئٹزر لینڈ کی معروف یونی ورسٹی، ای ٹی ایچ سے ڈی این اے ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کی ۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’مَیں سورۂ رحمٰن تھراپی کے حیرت انگیز نتائج دیکھنے کے بعد کافی عرصے پہلے ہی اسے سائنسی نقطۂ نظر سے پرکھنے کا فیصلہ کر چُکا تھا اور جب سروسز اسپتال کے آئی سی یو کی انتظامیہ نے مُجھے گزشتہ 10برس کا ڈیٹا دینے کا فیصلہ کیا، تو میرا کام آسان ہو گیا۔ ہم نے اپنے شعبۂ مالیکیولر بائیولوجی میں تین پہلوئوں پر کام شروع کیا ہے ۔ یہ ایک کافی پیچیدہ عمل ہے۔ سادہ ترین الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہم بیکٹیریا، انسانی خلیات اور انسانی دماغ پر سورۂ رحمٰن کی تلاوت کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ہم یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سورۂ رحمٰن کی تلاوت کے سبب پیدا ہونے والے ارتعاش سے بیکٹیریا، انسانی خلیات کی بناوٹ اور دماغ میں پائے جانے والے نیورونز اور اس کے مختلف حصّوں پر کیا اثرات مرتّب ہوتے ہیں، کیوں کہ دماغ ہی شفا یابی کے سگنلز بھیجتا ہے۔ آئی سی یو میں مریض تو بے ہوش ہوتا ہے، لیکن اس کا دماغ سورۂ رحمٰن کے سگنلز وصول کر رہا ہوتا ہے۔‘‘ ڈاکٹر محمد طارق نے مزید بتایا کہ ’’انسانی جسم میں جینز کا ایسا حیرت انگیز نظام پایا جاتا ہے، جس کے بارے میں جان کر انسان ورطۂ حیرت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہ جینز آن، آف ہوتے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب شکمِ مادر میں جینز آنکھیں بنا رہے ہوتے ہیں، تو دل بنانے والے جینز آف ہو جاتے ہیں۔ ہم جینز کی اس پُر اسرار دُنیا میں سورۂ رحمٰن سے پیدا ہونے والے ارتعاش کے اثرات کا معمّا حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم مکھیوں کو بھی ماڈل کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ ان میں کینسر کے جراثیم داخل کر کے سورۂ رحمٰن کی تلاوت کے اثرات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ نیز، لیبارٹری میں تلاوت کے دوران ٹشو کلچر کی گروتھ کا معائنہ بھی کیا جاتا ہے۔ ہمارے اب تک کے تجربات کافی حوصلہ افزا رہے ہیں اور ہمیں شفا یابی کے اعداد و شمار کو سائنسی بنیاد فراہم کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ انشاء اللہ۔‘‘

خزانوں کا منہ کھول دینے والی لہریں

ڈاکٹر غلام جیلانی برق مرحوم اپنی کتاب، ’’مَن کی دُنیا‘‘ میں دُعا کی شمولیت کی سائنسی توجیہہ پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’کائناتی ارتعاش (Cosmics Vibrations) ایک سائنسی حقیقت ہے، جس میں نہ صرف بجلیوں کی کڑک، طیّارے کی پرواز یا ٹرین کی حرکت سے لہریں اُٹھتی ہیں، بلکہ ایک ہلکی سی آواز یا تارِ رباب کی جُنبش سے بھی ہماری اس کائنات میں ایک ہیجان پیدا ہو جاتا ہے۔ ماہرینِ رُوح کی تازہ تحقیق تو یہ کہتی ہے کہ ہمارے ارادہ و خیال سے بھی لہریں اُٹھنے لگتی ہیں اور جب ہم کسی مصیبت یا بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد نیاز و گداز میں ڈُوب کر دُعا کے لیے ہاتھ اُٹھاتے ہیں (یا پھر قرآنی آیات سے پیدا ہونے والی لہروں کو اپنے جسم میں جذب کرتے ہیں) تو ہمارے اندرونی جذبات کی پُراسرار قوّت (Emotional Energy) کاسمک ورلڈ یا کائناتی دُنیا میں زبردست لہریں پیدا کرتی ہے۔ یہی لہریں کائنات کی فیض رساں قوّتوں سے (جن کا ہمیں پوری طرح علم نہیں) ٹکراتی ہیں، تو وہ یا تو خود ہماری مدد کو دوڑی آتی ہیں یا ہمارے جسم میں کوئی ایسی لہر یا قوّت چھوڑ جاتی ہیں، جس سے ہماری تکلیف دُور ہو جاتی ہے۔‘‘

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں