آپ آف لائن ہیں
بدھ15؍ محرم الحرام1440ھ 26؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برسات کے علاوہ ایک اور یورش کا زمانہ، آپ کا منتظر ہے۔ حکومت پاکستان14اگست کو ملک کے تمام اہم شعبوں کے چیدہ چیدہ اشخاص کو درجہ بدرجہ انعام، عطا کرتی ہے۔ گزشتہ برس سے سیکرٹریٹ میں بیٹھے بقراطوں نے فیصلہ کیا کہ ا سکول ماسٹروں کی طرح منتخب دانشوروں کو 100 میں سے نمبر دیں۔ جس کے نمبر زیادہ ہوں تو وہ انعام کا حقدار ٹھہرے۔ مثلاً فرحت عباس شاہ کی سو سے زیادہ کتابیں ہیں۔ اسطرح کے 60سے زیادہ مجموعے ہیں۔ گزشتہ دنوں پر اسرار کہانیاں لکھنے والے مظہر کلیم کی بھی سو سے اوپر مطبوعات تھیں۔ پھر قیمت کے لحاظ سے دیکھیں تو بابا یحییٰ کی کتابوں کی قیمت ہزاروں میں ہوتی ہے۔ اب چونکہ اے آر خاتون یا رضیہ بٹ جیسی نسوانی ناول نگار نہیں رہیں تو اب عمیرہ احمد کے علاوہ دیگر ناول نگاربھی بہت مقبول ہیں۔ بلکہ پورے سو نمبر کی حقدار ہیں مگر وہ جو مستونگ میں مرے یا کوئلے کی کانوں میں ، انکے ورثا کو کیا ملےگا۔
ادیبوں، دانشوروں، محققین جنکی ساری عمر اسی دشت کی سیاحی میں گزری ہے، انکے نام سیکرٹریٹ بابوئوں کو آتے نہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپنی اوقات اور پسند کے مطابق نام تجویز کردیئے جاتے ہیں۔ معاشرتی اور فلاحی کاموں کے شعبوں جن میں دور دراز دیہات میں کوئی نئی ایجاد کرنے والے نوجوان، یا تھر جیسے علاقے میں ٹرک چلانے والی

خواتین،3روپے میں ایک وقت کا کھانا دینے والی عظیم عورت، یا کراچی کے نوجوانوں کے گروپ جو ہوٹلوں سے کھانا بچا ہوا، جمع کرکے غریبوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ اس طرح دیوار ِ مہربانی بنانے والے نوجوان جو کپڑے، جوتے ، کمبل جمع کرکے، عوام کو تن ڈھانپنے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ وہ کراچی کے نوجوان لڑکے، لڑکیاں جو کچرا اٹھاتے اور کار آمد چیزوں میں منتقل کرتے ہیں۔ دور دراز علاقوں میں نوجوان زرعی اور سائنسی تجربات کررہے ہیں۔ حیدر آباد میں میاں بیوی نے مل کر کچرا صاف کرنے کا کام شروع کیا۔ محلّے کی عورتیں مرد، دونوں شامل ہوگئے۔ ہر چند جتنا گندحیدر آباد میں ہےوہ کسی صورت کم نہ ہوگا پھر بھی کوشش تو قابلِ ستائش ہے۔ آیئے ذرا دور چلیں، مالا کنڈ میں فاطمہ طبی جڑی بوٹیوں کو تلاش کرنے والے ( مغربی) لوگوں کی مدد کرتی ہیں۔ مریم بی بی بنوں کے علاقے میں، فاٹا سے نکلے ہوئے غریبوں کے لئے کام کرتی ہیں۔ کتاب لکھنے کے سلسلے میں طاہرہ اقبال، نیلم احمد بشیر اور سب سے بڑی تو خالدہ حسین ہیں۔ کوئٹہ میں ڈاکٹر شاہ محمد مری نے پاکستان بھر کے انقلابیوں کی زندگی اور جدوجہد پرمنضبط کتابیں خود لکھیں، دوستوں سے ترجمہ کروائیں اور اپنی جیب سے خرچہ کیا۔ یہیں آپ کو وہ ڈاکٹر بھی مل جائینگے جو دل کے آپریشن میںاتنے کامیاب ہیں کہ تین ماہ امریکہ اور یورپ میں پریکٹس کرتے ہیں باقی نو ماہ پاکستان کے غریبوں کا علاج کرتے ہیں۔ انکی ستائش کی بھی ضرورت ہے۔ مگر یہ کام کریگا کون؟
ہر صوبے کے دفتری بابو، ایرے غیرے، نتھو خیرے کی فہرست بناکر مرکز میں اور مرکز والے بابو، اپنےدوستوں کے نام دیتے ہیں۔ کبھی کبھی وہ اپنا نام دیکر دس لاکھ روپے حاصل کرلیتے ہیں۔ یہ وطیرہ، جب سے انعامات کا سلسلہ قائم ہوا،جاری و ساری ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ نوبیل انعامات یا ساھتیہ اکیڈمی دلی کی طرح پورے ملک کے ان علاقوں کی معلومات اکٹھی کریں جہاں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کام بالکل خاموشی سے کرتے ہیں کہ اسطرح کی حوصلہ افزائی سے زندگی کے تمام شعبوں میں نئے عزم کے ساتھ کام کرنے والوں کو آگے بڑھنے کا موقع ملےگا۔
اسوقت سوشل میڈیا پہ ہر طرح کی بات لکھنے والوں کاہجوم ہے۔ وائس ایپ بھی بہت مقبول ہے، مگر انکی مقبولیت کو اجتماعی سطح پر کام کرکے، ایک طرف روزگار کا بندوبست کیا جائے، دوسرے یہ کہ یگانگت کا عنصر جو بالکل مفقود ہوگیا ہے، اُسے باہمی رفاقت میں اور لڑکے لڑکیوں کو مل کر پروجیکٹ بنانے کے تصور کو فروغ دینے سے مذہب کے نام پر عوام کو جاہل اور بے شعور کے تلازمات ختم ہوسکیں۔ لوگ خدا اور خود اپنی محنت پر اعتماد کریں نہ کہ پیری مریدی میں وقت ضائع کریں مجھے ان پر اعتراض یہ ہے کہ چاہے شاہ لطیف ہوں کہ بابا فرید، انکی تعلیمات سے آشنا ہونے کے بعد، بے شک جی چاہے تو درگاہوں تک سجدے کرتے جائو، مگر اندھی عقیدت تو ایک طرح کا شرک ہے۔
گزشتہ برس کے14اگست کے انعامات کے اعلان کو نواز شریف کے بقراط نے روک لیا تھا کہ انکے خیال میں بہت لبرل لوگوں کو نوازا جارہا تھا، پھر اچانک 23مارچ سے پہلے ایک فہرست ان بقراط نے اپنی مرضی کے لوگوں کو شامل کرکے نکال دی۔اِسوقت تو اور بھی مصیبت کازمانہ ہے، نگران بے چارے تو مظلوم ہیں۔ نے ہاتھ باگ پہ ہےنہ پاہے رکاب میں۔ میٹنگ ہوتی ہے۔ کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے سوائے نواز شریف کو رعایت دینی ہے تو وہ بھی کسی کے حکم پر۔
چلو اڈیالہ جیل جاکر، کچھ حقیقتوں کا علم ہورہا ہے۔ فیض صاحب بھی چار سال جیل میں رہے۔ انہوں نے تو مچھروں کے تنگ کرنے کی سرکاری سطح پر شکایت نہیں کی۔ وہ تو جیل میں بھی قلم کی مشقت کرتے رہے۔ جب نئی غزل ایلیس کو بھیجتے تو ساتھ یہ بھی کہہ دیتے کہ اس سے جو دس روپے ملیں گے، وہ کہاں خرچ کرنے ہیں۔ جیل کے نئے مسافروں کے لوازمات تو باقاعدہ ٹی وی پر دکھائے جارہے ہیں۔ اگر اس کو قیدکہتے ہیں تو پھر قوم کو قید کردیں کہ دو وقت کی روٹی تو میسر آجائے گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں