آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عمران خان نے کامیابی کا پہاڑ سر کر لیا ہے۔ وہ بڑے مشکل اور سنگلاخ راستے کو عبور کر کے مسند اقتدار تک پہنچنےمیں کامیاب ہوا ہے۔ اس کا عزم و حوصلہ، مضبوط اور مستحکم ہے۔ فی الحال ہر طرف سے واہ واہ کے نعرے گونج رہے ہیں لیکن اس کامیابی نے عمران خان کو جہاں بے پناہ خوشی اور کامیابی سے سرفراز کیا ہے وہیں اس کے کاندھوں پر پہاڑوں سا بوجھ بھی ڈال دیا ہے۔ عمران خان جس نے ساری جوانی ایک کھلنڈرے جوان کی مانند گزاری ہے، اب اس عمر میں جس میں لوگ آرام اور صرف آرام کے بارے میں سوچتے ہیں نے اپنے آرام کو تیاگ کر عوامی خدمت کے جذبے اور حوصلے کے تحت عوامی فلاح و بہبود کے کاموں کا بیڑہ اٹھایا ہے اور اس نے صرف وسائل و تعلقات اور عوام کے عطیات سےپاکستان کو شوکت خانم جیسا کینسر کی علاج گاہ کا تحفہ دیا اور ایک سنجیدہ شخصیت کی حیثیت سے کار سرکار کی اصلاح کے لئے میدان سیاست کو اپنایا ہے، اللہ جو بڑا مہربان اور ہماری نیتوں تک سے پوری طرح واقف ہے، نے مملکت خداداد پاکستان جو گزشتہ حکمرانوں کی بد عنوانیوں کے باعث اس قدر مقروض ہوچکا ہے کہ اس کی لٹیا ڈوبنے کو ہے، ایسے نازک موقع پر اللہ نے عمران خان کو ایک بڑی ذمہ داری سونپی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ماضی کا یہ کھلاڑی کیسے اپنی اہلیت سے اس ڈوبتی کشتی کو پار لگاتا ہے۔ بظاہر تو ایسا نظر آرہا ہے کہ ماضی کا یہ شوخ و شنگ کھلاڑی جس نے ہمیشہ پاکستان کی عظمت کو محسوس کیا اور اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے حب الوطنی کے جذبے کو پیش نظر رکھا آگے چل کر بھی اسی جذبے پر کاربند رہے گا۔ عمران خان کی حب الوطنی کا سب سے بڑا واقعہ اس کی پہلی بیگم جمائما کا اس سے علیحدہ ہونا اور پاکستان سے ترک وطن کر کے لندن میں قیام کرنے کے باعث عمران خان کو طلاق دینے کا فیصلہ جس کی رو سے برطانوی قانون کے مطابق عمران خان کو جمائما خان کے طلاق کے مطالبے کے نتیجے میں اربوں روپے ملنے والے تھے جو ایک عام آدمی کے اعتبار سے اس کی ساری زندگی کے لئے بہت زیادہ ہوتے لیکن اس نے حیرت انگیز طور پر اس ملنے والی قانونی رقم کو لینے سے انکار کردیا۔ جج کے اصرار پر اس نے کہا میں چاہتا ہوں کہ میرےبیوی بچے میرے ساتھ رہیں لیکن میری بیوی نے اگر میرے ساتھ میرے وطن میں نہ رہنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو میں اس عورت اور اپنے بچوں کے لئے اپنے وطن پاکستان کو نہیں چھوڑ سکتا۔ اس علیحدگی کے باعث جمائما کی طرف سے ملنے والی رقم کی بھی میرے لئے کوئی اہمیت نہیں۔ میرے لئے میرا وطن اور اس کی قومیت سب سے زیادہ اہم ہے۔ مجھے کوئی گلہ شکوہ نہیں ہے، میری بیوی اور میرے بچوں کی ماں کی حیثیت سے جمائما ایک اچھی بیوی اور ایک اچھی ماں ہے لیکن میرے لئے میرا ملک ان سے زیادہ اہم ہے۔ بھری عدالت میں فیصلہ سناتے ہوئے جج نے کھڑے ہو کر عمران خان کے جذبوں کو، اس کی حب الوطنی کو سلام کیا اور ایک گرم جوش مصافحہ کیا۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ عمران خان کو دولت کی ہوس نہیں۔ اب جبکہ اللہ نے اس کی جدوجہد کو رنگ لگا دیا اور اسے مسند اقتدار تک پہنچادیا ہے۔ عمران خان ایک دم سے اپنے فطری خول سے نکل کر ایک سنجیدہ و متین شخصیت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اس وقت ہر خوف سے ہر قسم کے دباؤ اور مخالفت کے باوجود وہ اپنی سوچی سمجھی راہ پر چل رہا ہے۔ اس کی استقامت اور ارادوں کی مضبوطی ہی کو دیکھ کر تمام عالمی قوتیں اسے سراہ رہی ہیں اس کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں اب تک جانے کتنی حکومتیں آئیں اور گئیں لیکن جیسا بین الاقوامی سطح پر عمران خان کا استقبال کیا جا رہا ہے۔


اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان اقتدار کے بھاری پتھر کو کیسے اٹھاتے ہیں۔ کیسے اپنی حکومت کو چلاتے ہیں بہت سے نجومیوں کا کہنا ہے کہ عمران خان اس ذمہ داری کو ادا کرنے کا اہل نہیں لیکن ایسا کچھ نہیں ہوگا کیونکہ انتخابات سے لے کر اب تک کے واقعات حالات جس پر اس کے مخالفین انگلیاں اٹھا رہے ہیں اسے یو ٹرن کا نام دے رہے ہیں ۔ اس کے مخالفین کا خیال ہے کیونکہ عمران خان کو سیاست کی کوئی سوجھ بوجھ نہیں اس لئے وہ الٹی سیدھی بات داغ رہا ہے لیکن دیکھنے والے اور سننے والے دیکھ اور سن رہے ہیں کہ وہ کیسے ٹھنڈے پیٹوں اپنی پارٹی کو اقتدار کی طرف بڑھاتا جا رہا ہے۔ اس کی اپنی جماعت میں بھی اقتدار کے حصول کے لئے دیوانوں کی کمی نہیں بقول اس کے اس کے ساتھی فرشتے نہیں اس زمین پر رہنے والے انسان ہیں جن میں ہر طرح کی خواہشات کا ہونا فطری بات ہے اس سے کیسے نبرد آزما ہونا ہے وہ خوب اچھی طرح سمجھ اور دیکھ رہا ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ حکومت سازی اور حکمرانی کے لئے بڑے تجربے اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے جو عمران خان کے پاس نہیں ہے اور ایسا وہی لوگ کہہ رہے ہیں جو خود ماضی میں قومی خدمت کے جذبوں سے عاری اور نابلد تھے جو اقتدار میں صرف لوٹ مار اور پیسہ کمانے کے لئے آتے رہے ہیں لیکن اس بار ایسا کچھ نظر نہیں آرہا۔ عمران خان خود اپنے آپ سے ابتدا کر رہا ہے اس نے بھاری بھرکم پروٹوکول لینے سے اور وزارت عظمیٰ کی مخصوص قیام گاہ میں رہنے سے قطعی انکار کردیا ہے۔ وہ آہستہ آہستہ بتدریج اپنے افکار و نظریات کو سامنے ہی نہیں لا رہا بلکہ ان پر عمل کر کے دکھا بھی رہا ہے اس کے حریفوں، مخالفین کا خیال ہے کہ ابھی تو نیا نیا عشق ہے جب اسے اور اس کے ساتھیوں کے منہ کو اقتدار کا خون لگ جائے گا تو سب حب الوطنی اور نیا پاکستان کے دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے، ایسا وہی لوگ کہہ رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں جو عمران خان کے ماضی کو ان کی مستقل مزاجی کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ عمران خان نے جب جب جس جس مشکل ترین کاموں میں ہاتھ ڈالا تمام تر مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود انہیں پائےتکمیل تک پہنچایا ہے۔ شوکت خانم اسپتال کوئی چھوٹا موٹا منصوبہ نہیں تھا نہ ہی نمل یونیورسٹی کوئی معمولی کام تھا جبکہ وسائل بھی میسر نہیں تھے، وسائل کا پیدا کرنا اور اپنے منصوبوں کی تکمیل کوئی معمولی کام نہیں۔


عوامی فلاح کے ان منصوبوں کو عزم و استقامت نے ہی نہ صرف مکمل کیا بلکہ کامیاب بھی کیا۔ لوگوں کا خیال ہے کہ عمران خان ایک ضدی اور خود سر انسان ہے جو آمرانہ زندگی گزارتا رہا ہے اس سے جمہوری رویوں کی امید رکھنا حماقت ہوگی لیکن دنیا دیکھ رہی ہے کہ عمران خان وقت کی بھٹی سے کندن بن کر نکلا ہے۔ وہ سب کی سنتا بھی ہے سب کو سناتا بھی ہے اور کرتا وہی ہے جو اسے کرنا چاہیے وطن کی محبت اور اس کی فلاح و بہتری کے لئے اسے جو کرنا ہے جو کر رہا ہے وہ خوب سوچ سمجھ کر رہا ہے وہ ایک ایک قدم پھونک پھونک کر اٹھا رہا ہے اس کے اپنے ساتھی حیران ہیں کہ اس میں یہ کیسی تبدیلی آرہی ہے کہ وہ ہر قسم کے دباؤ کے باوجود اپنے سوچے سمجھے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ وہ وزارت عظمیٰ ملنے کی خوشی میں حواس باختہ نہیں ہوا تحمل سے براہ راست فیصلے کر رہا ہے۔ وہ اندرونی اور بیرونی دباؤ کو پوری طرح برداشت کر رہا ہے اور وقت کی اہمیت اور موقع محل کی مناسبت سے قدم اٹھا رہا ہے۔ اس کے اس طرز عمل سے یہ یقین ہوچلا ہے کہ وہ جو کچھ اب تک کہتا رہا ہے، وہ کرنے کا عزم و حوصلہ بھی رکھتا ہے۔ کرپشن اور بد عنوانی کا خاتمہ اگر واقعی ہوجائے تو پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اللہ کرے عمران خان وطن عزیز کے لئے مہاتیر محمد بن کر ابھرے اور وطن عزیز کی تقدیر بدل دے۔ آمین یا رب العالمین۔


(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں