آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حالیہ دنوں میں افعانستان میں ایک طرف تو مختلف علاقوں میں شدید لڑائی ہوئی ہےتودوسری جانب جنگ بندی کی امیدیں بھی سامنے آئی ہیں۔ ان امیدوں کے پیچھے چند عوامل ہیں جن کا ہم یہاں جائزہ لے رہے ہیں۔

اوّل تو امریکا نے افغانستان میں جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے۔اس سلسلے میں افغان حکومت اور طالبان، دونوں کی طرف سے ہونے والے اعلانات کو امریکا نے سراہا ہے۔تاہم یہ اعلان دونوں طرف سے مشروط کیے گئے ہیں۔ سب سے پہلے افغان صدر، ڈاکٹر اشرف غنی نے عیدالاضحیٰ سے قبل طالبان کو مشروط جنگ بندی کی پیش کش کی ،پھر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نےامید ظاہر کی کہ اس سال افغان عوام عیدپر پُر امن رہ سکیں گے اور بغیر کسی خوف کے عید منا سکیں گے۔

امریکی وزیر خارجہ، جنہیںعہدہ سنبھالے بہ مشکل چار ماہ ہوئے ہیں،اس کوشش میں ہیں کہ کسی طرح افغانستان میں امن بحال ہو اور امریکا کو اس مصیبت سے نجات ملے۔ مائیک پومپیو خاصے تجربہ کارہیں اور اس عہدے سے قبل امریکی جاسوسی کے ادارے سی آئی اے کے ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔مارچ 2018میںامریکا کے وزیر خارجہ ریکس ٹلر سن نے استعفیٰ دیا تو ٹرمپ نے مائیک پومپیو کو وزیر خارجہ بنایا تھا۔ یہ سابق فوجی افسر صدر ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد صرف ڈیڑھ سال کے عرصے میں پہلے سی آئی اے کے ڈائریکٹربنےاور اب وزیر خارجہ بن چکے ہیں۔ ان کے سامنے رکھے جانے والے کام آسان نہیں تھے جن میں پورے مشرق وسطیٰ کے ملکوں میں لگی ہوئی آگ کا سامنا کرنا اور پھر افغانستان میں امریکا کو درپیش مشکلات کم کرنا تھا۔

دوسری طرف ستّر سالہ محمد اشرف غنی ہیںجو احمدئی زئی پٹھان ہیں، مگر روسی اور پشتو دونوں زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔یہ غالباً افغانستان کی تاریخ کے سب سے زیادہ تعلیم یافتہ صدر ہیںجوپیشے کےلحاظ سےماہرِ بشر یا ت ہیں اورملک کے وزیر خزانہ اور کابل یونیورسٹی کے چانسلر رہ چکے ہیں۔اس کے علاوہ وہ امریکا کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی میں علم بشریات پڑھا چکے اور عالمی بینک میں بھی کام کر چکے ہیں۔

افغانستان میںامریکی مداخلت کے بعد طالبان کی حکومت ختم ہوئی تو ملک کی معیشت بالکل ڈھیر ہو چکی تھی۔ ایسے میں 2002میں ڈاکٹر اشرف غنی امریکا سے وطن واپس آئے اور سابق صدر حامد کرزئی کی حکومت میں وز یر خزانہ کا عہدہ سنبھال کر ملک کی اقتصادی بحالی میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔ پھر 2009میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں اشرف غنی نے حصہ لیا، مگر حامد کرزئی اور عبد اللہ عبد اللہ، دونوں سے پیچھے رہے۔ اس طرح حامد کرزئی پھرصدربن گئےتھے۔حامدکرزئی نے 2001سے 2014تک افغانستان پر حکومت کی، مگر وہ بھی طالبان کا خطرہ کم نہیں کر سکے تھے اور طالبان مختلف اوقات میں عارضی پس پائی اختیار کرنے کے بعد پھر اچانک نمودار ہوتےاور افغانستان کےمختلف علاقوں پر حملے کرتے رہے ۔ یہی سلسلہ اشرف غنی کے 2014 میں صدر بننے کے بعد سے جاری ہے۔ اب چند مہینوں میں ہونے والے حملوں نے ثابت کیا ہے کہ طالبان اب بھی ایک طاقت ور گروہ کی شکل میں موجود ہیں اور کسی بھی وقت کہیں بھی حملے کر سکتے ہیں۔یہی صورت حال پریشان کن رہی ہے ۔

افغان صدر کی جانب سے جنگ بندی کی تازہ ترین پیش کش تین ماہ کے لیے کی گئی ہےجس کا آغاز یوم عرفات سے کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ لیکن انہوں نے یہ شرط بھی عاید کر دی ہے کہ اس کا اطلاق اس صورت میں ہوگا جب طالبان بھی آنے والے دنوں، یعنی عید اور اس کے بعد محرم کے دنوں میں جنگ بندی کا احترام کریں۔ اس دوران کوئی بھی حملہ ہوا تو افغان حکومت بھی فوری طورپرجنگ بندی ختم کرکے جوابی کارروائیاں شروع کر دے گی ۔ اچھی بات یہ ہے کہ اس اعلان پر پاکستان نے بھی بہت مثبت ردعمل کا اظہار کیاہے اور فوری طورپرپاکستانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اس سے افغانستان میں امن قائم کرنے میں مدد ملے گی اور ملک کے علاوہ خطے میں بھی استحکام پیدا ہو گا۔

افغانستان کی خانہ جنگی چالیس سال سے جاری ہے۔ اس کے دو بڑے فریق یعنی امریکا اور پاکستان نے اب بہ ظاہر مثبت قدم اٹھانے شروع کیےہیں۔ خاص طورپر امریکا کی سترہ سال میں جو پالیسی رہی ہے اس نے اب تک اس خطے کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ ایسی بات نہیں کہ امریکا کا کردار 2001میں ہی شروع ہوا ۔ 1979 سے ہی جنرل ضیاء الحق کے ساتھ مل کر جس جنگ کا آغاز کیا گیا وہ سوویت فوجوں کے انخلاکے بعد بھی جاری رہی ہے ۔ 1990کے عشرے میں مجاہدین آپس میں لڑتے رہے ۔پھر طالبان نے 1996میں کابل پر قبضہ کیا تو ایک نئے تاریک دور کا آغاز ہوا۔ طالبان کاپانچ سالہ دور اقتدار امریکا کے ہاتھوں ختم ہونے کے بعد سے اب تک خانہ جنگ جاری ہے۔

اس طرح کی جنگ بندی کا اعلان گزشتہ عیدالفطر کے موقعے پر بھی کیا گیا تھا جس پر فریقین نے نہ صرف عمل کیا تھا بلکہ بعض علاقوں میں سرکاری فوج اور طالبان کے جنگ جوئوں نے ایک دوسرے کو گلے سے بھی لگایا تھا۔ اس سے یہ امید پیدا ہو ئی تھی کہ شاید اب جنگ بندی دیر پا ثابت ہو اور بالآخر افغان عوام کو امن نصیب ہو جائے، مگر ایسا نہ ہو سکا۔

دراصل اس کھیل میں امریکا کی شمولیت اور مسلسل مداخلت نے علاقے کے دیگر ممالک کو بھی سرگرم کر دیا ہے کہ وہ امریکا کو نیچا دکھانے کے لیے طالبان کی مدد کرتے رہیں۔ مثلاً یہ بات بعید از قیاس قرار نہیں دی جا سکتی کہ پاکستان کے علاوہ چین ،ایران اور روس بھی افغان طالبان کی مدد کر رہے ہوں۔ روس کو تو اپنا پرانا حساب برابر کرنا ہے۔ 1979سے 1989تک سوویت افواج افغانستان میں رہیں تو یہ امریکا ہی تھا جو سوویت یونین کے خلاف افغانستان اور پاکستان کی مدد کر رہا تھا۔پھر ایران کی امریکا سے دشمنی بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور عین ممکن ہے کہ ایران درپردہ طالبان کی مدد کر رہا ہو، کیوں کہ زیادہ تر لڑائی ان علاقوں میں ہو رہی ہے جو ایران سے نزدیک ہیں اور وہ پرانا بیانیہ کہ افعانستان میں ہونے والے ہر حملے اور طالبان کی کارروائی کے پیچھے پاکستان ہے، پرانا ہوچکا ہے۔اس صورت حال میں پاکستان میںنئی حکومت کا قیام اور وزیر اعظم عمران خان کے بیانات بھی اہم ہیں،جو انہوں نے قیام امن کے لیے دیے ہیں۔

تیسری طرف بھارت ہے جس کے تعلقات افغانستان کے ساتھ بہت اچھے ہیں اور پاکستان کا موقف یہ ہے کہ بھارت افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائی کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسی را کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اس طرح کے الزامات بھارت بھی، پاکستان اور آئی ایس آئی پر لگاتا رہا ہے۔اس طرح کی صورت میں یہ اندازہ لگانا اور حتمی فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے کہ کون درست کر رہا ہے۔ البتہ ایک بات تو بالکل صحیح معلوم ہوتی ہے کہ اگرامریکا چالیس سال میں افغان خانہ جنگی پر کھربوں ڈالرز خرچ کرنےکے بجائے یہ رقم افغان عوام کی فلاح و بہبود کے لیے خرچ کرتا تو افغانستان کی صورت حال آج کے مقابلے میں کہیں بہتر ہوتی۔

اب پاکستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد اگلے سال افغانستان اور بھارت دونوں میں انتخا با ت ہونےہیں۔ایسے میں نئی اور پرانی حکومتوں کو مل کر ایسے قدم اٹھانے چاہییں کہ افغانستان میں واقعی امن قائم ہو جائے۔پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو افغانستان اور بھارت دونوں کے دورے کرنے چاہییںاور ان ممالک کو یقین دلانا چاہیےکہ پاکستان قیام امن کے لیے کوشاں ہے۔ لیکن اس کے لیے پاکستان میں سویلین بالا دستی کا ہونا بہت ضروری ہے، ورنہ ماضی کی طرح ہم ایک کے بعد ایک دوسری جنگ میں الجھتے رہیں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں