آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہزارو ں سال پہلے انسان نے شعور کی آنکھ کھولی اور پانچ ہزارسال پہلے گھوڑے کو سدھایا اور اپناساتھی بنالیا۔ پہلے گھوڑے سفر، حضر اور جنگ میں انسان کے ساتھی بنے۔ اب سیاستدان گھوڑے بن کر انتخابات لڑتے اور حکومتیں بناتے ہیں۔ پہلے زرداری گھوڑے مشہور ہوا کرتے تھے اب عمرانی گھوڑے، نوازی گھوڑے حتیٰ کہ بے وفا گھوڑے بھی بہتات میں ہیں۔ تاریخ میں گھوڑے کا بہت کرداررہا ہے۔ اسکندر یونانی دنیافتح کرنے نکلا تو بیوسی فالس نامی گھوڑا اس کا ہمراہی تھا۔منزلیں مارتا ہزاروں میل کا سفر کرکے دریائے جہلم پہنچاتو پنجاب کے پورس سے مقابلہ ہوا۔ اسکندر جیت گیا مگر اس کا گھوڑا زخمی ہو کر سانسیں ہار بیٹھا۔ اسکندر نے اپنے وفادار گھوڑے کو بڑے احترام سے دفنایا۔ یہ مقام فالس سے بگڑ کر پھالس ہوا اوراب ضلع منڈی بہائو الدین میں پھالیہ کے نام سے موجود ہے۔ انگریزوں کے زمانے تک گھوڑے کی ٹیلہ نما قبر بھی قائم تھی جو اب امتداد ِ زمانہ کی نذر ہوچکی۔

پنجاب کا سورما مہاراجہ رنجیت سنگھ اچھے گھوڑوں کا عاشق تھا۔ پشاور کی گھوڑی لیلیٰ کا ایسا دیوانہ ہواکہ باقاعدہ جنگ لڑ کر لیلیٰ کو حاصل کیا۔ مشہور برطانوی محقق کرنل جیمز ٹاڈ نے اپنی شہرہ ٔ آفاق کتاب ’’بہارستانِ چمنستانِ راجستھان‘‘ میں لکھا ہے کہ جب مغل فوج کے سپہ سالار راجہ مان سنگھ نے میواڑ پر چڑھائی کی تو میواڑ کے مہاراجہ پرتاب سنگھ کا نیلاگھوڑا ’’چیتک‘‘ اپنی بہادری اور ذہانت کی وجہ سے تاریخ رقم کرگیا۔ مہاراجہ پرتاب سنگھ زخمی ہوا تو چیتک حملہ آوروں کی صفیں چیرتا ہوا اپنے زخمی سوارکو محفوظ مقام پر لے آیا۔ چیتک زخموں کی تاب نہ لاکر خودمر گیا مگر راجہ کو بچا لیا۔ میواڑ میں چیتک کے مجسمے آج بھی اس گھوڑے کی بہادری اور وفاداری کی یاد دلاتے ہیں۔

فرانسیسی ہیرو نپولین بوناپارٹ کا چھوٹا گھوڑا ’’میرنگو‘‘ ہر جنگ میں اپنے مالک کے ساتھ ہوتا تھا۔ واٹر لو کی جنگ میں نپولین کو شکست ہوئی توبرطانوی فوج نے میرنگو کو بھی گرفتار کرلیااور پھر میرنگو قید ہی میں مر گیا البتہ اس کاڈھانچہ اب بھی برطانوی آرمی عجائب گھر میں موجود ہے۔

پنجاب کی جنگ ِ آزادی کےہیرو رائے احمد خان کھرل اور ڈپٹی کمشنر گوگیرہ برکلی کی جنگ آج بھی پنجابی شاعری کے ڈھولوں، ماہیوں میں محفوظ ہے۔ رائے احمد خان کھرل کی گھوڑی ’’مورنی‘‘ لڑائی کی ایک بڑی وجہ بنی تھی۔ برکلی نے احمد خان کھرل سے گھوڑی مانگی تو اس نے تاریخی فقرہ کہا ’’ہم کھرل بیویوں، گھوڑیوں اور زمین میں شراکت داری نہیں کرتے‘‘ دسویں محرم کے روز رائے احمد خان کھرل کو شہیدکیاگیا اور گھوڑی’’مورنی‘‘خالی کاٹھی واپس آئی تو سب کوعلم ہو گیا کہ احمد خان کھرل انگریزوں سے لڑتے لڑتے شہید ہو چکا۔

اسلامی تاریخ میں بھی گھوڑوں کا ذکر ملتاہے۔ سید الشہدا حضرت امام حسین ؓ کے گھوڑے ذوالجناح کا تاریخ میں اپنا ایک خاص مقام ہے۔ صلیبی جنگوں کے دوران صلاح الدین ایوبی نے اپنے مخالف رچرڈ شیردل کو دو گھوڑے بطور تحفہ بھجوا دیئے، جب اسے یہ پتہ چلا کہ رچرڈ شیردل کاگھوڑازخمی ہوگیاہے۔

یونانی ادب میں وہ کاٹھ کا گھوڑا بھی اہم ہے جس کی وجہ سے ٹروجن کویونانی فوج کےہاتھوں شکست ہوئی تھی۔ یونانی پسپا ہوئےتو لکڑی کابناہوا ایک ٹروجن گھوڑا، جو اندر سے خالی تھا اسےوہیں چھوڑ آئے، ٹروجن فیصلہ نہ کرسکے کہ اس گھوڑے کو تباہ کردیں یا اس کی عبادت کریں حالانکہ اس وقت بھی کہا گیا کہ’’یونانیوں سے خاص کراس وقت ڈریں جب وہ آپ کو تحفہ دیں‘‘ بعد میں یونانی اسی ٹروجن گھوڑے میں چھپ کر حملہ آورہوئے اور شہر پر قبضہ کرلیا۔ بس اسی روز سے ٹروجن گھوڑا ایک ایسی ضرب المثل بن گیا جس کے ذریعےسے دھوکہ یاچال میں لا کر دشمن کوزیر کیاجاتا ہے۔اگر اس ضرب المثل کا اطلاق، آج کے زمانے پر کیا جائے تو چوہدری نثار علی خان پیپلزپارٹی اور نون لیگ کے اختلاف بڑھانے کے لئے ٹروجن گھوڑا ثابت ہوئے۔ وہ ن لیگ میں تھے مگر ن لیگ کے کئی مفادات کو نقصان بھی پہنچا گئے۔

ہماری ثقافت کا ایک نشان کاغذی گھوڑا یا گھگو گھوڑا بھی ہے جو خانہ بدوش کاغذ سے بناتے اور پھراسے بیچتے ہیں۔ سیاست میں کاغذی گھوڑے بہت ہیں۔ یہ کچھ کئے بغیر اپنی جگہ بناتے ہیں۔ سیلفی، خوشامد اور کہنیاں مارکر آگے بڑھنا ان کی نمایاں خصوصیت ہوتی ہے۔

دیسی گھوڑے مختلف رنگوں میں پائے جاتے ہیں۔ مشکاگھوڑا، کالے سیاہ رنگ کا ہوتا ہے اس گھوڑے کی شان ہی اپنی ہے۔ جیل ہو یامیدان، یہ اپنی دُلکی چال سے آگے ہی آگے جاتا ہے۔ ساوا اور نیلاگھوڑا کھلے میدان کے کھلاڑی ہیں۔ سفید گھوڑا نُکرا اور سرخ گھوڑا کمید کہلاتا ہے۔ یہ سیاست اور کھیل دونوں میدانوں میںقیادت کرتے ہیں۔

سیاسی گھوڑے ہمیشہ سے ہی سیاست اور اقتدار میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں مگر اس بارانتخابی گھوڑوں نے پانسہ ہی پلٹ دیا۔ بڑا سیدھا سادا فارمولا استعمال کیاگیا۔ ق لیگ کےساوےاور نیلے گھوڑے جو عرصہ درازسے فارغ بیٹھے تھے، ان 45گھوڑوں کو پی ٹی آئی کے نُکروں میںشامل کردیا گیا۔ پیپلزپارٹی کے 30مشکے گھوڑے جوجیالے پن کی وجہ سے وفاداریاں نہیں بدلتے تھے، اس باروہ بھی جیت کامزہ لینے پی ٹی آئی کےگھڑ دستے میں شامل ہوگئے اور تو اور ن لیگ کے سرخ کمید گھوڑے بھی اقتدار کے لالچ میں چوکڑیاں بھرتے پی ٹی آئی کی چراگاہ میں چلے گئے۔ ن کے یہ 23گھوڑے وفاداریاںبدل کر اپنی سابقہ جماعت کو یقینی شکست کی طرف دھکیل گئے۔

آج کل ہر لب پرسوال ہے کہ عمرانی گھوڑے ڈربی جیت پائیں گے یا پھر یہ گھوڑے ریس میں دوڑنے کے قابل ہیں یا نہیں۔سچ یہ ہے کہ یہ چند مہینے ہنی مون پیریڈ ہے عمرانی گھوڑوں کو فری ہینڈ حاصل ہے وہ گرائونڈ کا پوراچکر لگائیں، آدھے چکر سے واپس آجائیں یا ناچ دکھائیں۔ لوگ عمرانی گھوڑوں کو وقت دینا چاہتےہیں ان کی کارکردگی دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہیں ان کے دعوئوںاور عمل کی روشنی میں پرکھنا چاہتے ہیں۔

نوازی اور شہبازی گھوڑے اپنی صفیں درست کر رہےہیں جبکہ زرداری گھوڑے دلدل سے بچ کراگلی منزل تک پہنچنا چاہتے ہیں اگر اعتزاز احسن کو مشترکہ صدارتی امیدوار بنا لیاجائے اور مقتدر طاقتوں سے مہر تصدیق ثبت کروالی جائے اور یوں اعتزاز احسن کی لاٹری نکل آئے تو یہ ملک، قوم، حکومت، اپوزیشن اور فوج سب کے لئے بہتر ہوگا۔ زمان پارک کے اعتزاز احسن اپنے محلہ دار عمران خان سے بخوبی شناسا ہیں۔ بچپن اکٹھے کرکٹ کھیلتے گزرا۔ کیا اب اکٹھے چلنے کا کوئی راستہ نہیں نکل سکتا؟ ن لیگ کو چیئرمین سینیٹ کاعہدہ دیاجائے۔ پیپلزپارٹی کے اعتزاز احسن صدر اور پی ٹی آئی کو اس مدد کے بدلے میں اس کےمثبت اقدامات میں مدد کی جائے۔ پاکستان کو بدترین معاشی صورتحال سے نکالنے کےلئے سب متحد ہو جائیں۔ صدارتی الیکشن پر قومی وحدت کا مظاہرہ ہو جائے تو پاکستان کے مقدر کا ستارہ روشن ترین ہو جائے گا۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں