آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دُنیا کے کامیاب ترین افراد میں سے ہر شخص کی اپنی ایک جداگانہ کہانی اور سفر ہوتا ہے، تاہم ان میں کئی عادات مشترک بھی ہوتی ہیں۔ ہرچندکہ یہ ضروری نہیں کہ تمام مثبت عادات نے ان سب کی زندگیوں میں کامیابی کے حصول میں اہم کردار ادا کیا ہو، کم از کم ایک ایسی عادت کی نشاندہی ضرور کی جاسکتی ہے، جو ایسے تمام افراد کی کامیابی کی ضمانت بنی اور وہ عادت اگر عام افراد میں بھی موجود ہو تو انھیں بھی کامیاب ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ کیا آپ جانتے ہیں وہ عادت کون سی ہے؟ وہ عادت ہے مطالعہ اور کُتب بینی کی۔ امریکا میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق، روزانہ صرف آدھے گھنٹے کا مطالعہ آپ کی زندگی میں کئی برس کا اضافہ کر سکتا ہے۔ آپ نے معروف امریکی سرمایہ کار، وارن بُفیٹ کے بارے میں ضرور سُنا ہوگا کہ وہ روزانہ 5سے 6گھنٹے مطالعہ کرتے گزارتے ہیں۔ فیس بُک کے بانی مارک زکربرگ ہر2ہفتوں میں ایک کتاب ضرور مکمل کرتے ہیں۔ اسپیس ایکس کے سی ای او اَیلن مَسک بچپن سے ہی دن میں2کتابیں پڑھتے آرہے ہیں۔ مشہور امریکی ٹی وی میزبان اوپرا ونفری بھی اپنی کامیابی کی وجہ کتابوں کو قرار دیتی ہیں۔

باراک اوباما کا مطالعہ

امریکا کے 44ویں اور پہلے سیاہ فام صدر باراک اوباما اپنے مطالعہ کے شوق کے وجہ سے کافی شہرت رکھتے ہیں۔ ان کے صدارتی دور کے دوران، جس وقت امریکی صدر ہونے کی وجہ سے دنیا بھر کی نظریں ان پر مرکوز رہتی تھیں اور ان کے ہر عمل کا باریک بینی سے جائزہ لیا جاتا تھا، میڈیا اور لوگوں کو اس بات کا بھی تجسس رہتا تھا کہ کون سی کتابیں ان کے زیرِ مطالعہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ باراک اوبام وقتاً فوقتاً اپنی پسندیدہ کتابوں کے ساتھ ساتھ اپنے پسندیدہ نغموں کی فہرست بھی جاری کیا کرتے تھے۔ دُنیا کی سب سے بڑی سپرپاورکا صدر ہونا یقیناً ایک مشکل کام ہوتا ہے اور ایسی مصروفیت بھری زندگی میں سے مطالعے کے لیے وقت نکالنا اس سے بھی زیادہ مشکل، تاہم اوباما اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود مختلف کتابیں پڑھنے کے لیے وقت ضرور نکالتے تھے۔اوباما کو زمانہ طالب علمی سے ہی مطالعہ کا شوق رہا ہے اور ان کے علمی رجحان کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انہیں ہارورڈ یونیورسٹی کے جریدے کا ایڈیٹر بھی مقرر کیا گیا تھا۔ 

صدارت کے عرصے کے دوران، سب سے پہلے اوباما اس وقت ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنے، جب خریداری کے دوران لی گئی ان کی تصویر میں کتابیں بھی شامل تھیں۔ اتنے اہم ملک کا مصروف صدر کتابیں پڑھنے کے لیے وقت نکالے، یہ نا صرف حیرانی کی بات تھی، بلکہ اس میں ان تمام لوگوں کے لیے سبق بھی تھا جو مصروفیت کا بہانہ کر کے کتب بینی سے دور بھاگتے ہیں۔ اوباما کی یہ عادت وائٹ ہاؤس کو خیرباد کہنے کے بعد بھی جاری ہے۔ وہ اب بھی روزانہ ایک گھنٹہ اپنی پسندکی مختلف کتابوں کا مطالعہ ضرور کرتے ہیں۔

اوباما کی پسندیدہ پاکستانی کتاب

یہ تو ہر پاکستانی جانتا ہے کہ اپنے دورِ جوانی میں اوباما ناصرف پاکستان آچکےہیں، بلکہ انھیں پاکستانی بریانی اور دال چاول بھی بہت پسند ہیں، تاہم ان کی یہ پسند صرف کھانوں تک محدود نہیں ہے۔ وہ پاکستانی مصنفین کی کتابیں پڑھنا بھی پسند کرتے ہیں۔ گزشتہ سال یعنی 2017ء کے اختتام پر جب انھوں نے گزرے سال کی اپنی پسندیدہ کتابوں کی فہرست اپنے فیس بک پیج پر جاری کی تو اس فہرست میں پاکستانی مصنف محسن حامد کا ایک ناول بھی شامل تھا۔اوباما کے پسندیدہ اس ناول کا نام Exit West ہے، جس کی کہانی ایک پناہ گزین جوڑے کے گِرد گھومتی ہے۔ محسن حامد کا یہ ناول مین بکر پرائز کے لیے بھی شارٹ لسٹ ہوا تھا۔ 

یہ محسن حامد کا چوتھا ناول ہے۔ اس سے قبل محسن حامد کے ناول موتھ اسموک(Moth Smoke)، دی ریلکٹنٹ فنڈامینٹالسٹ(The Reluctant Fundamentalist) اور ہاؤ ٹو گیٹ فلتھی رچ اِن رائزنگ ایشیا(How to Get Filthy Rich in Rising Asia) کے نام سے شائع ہو کر بین الاقوامی ناقدین اور قارئین سے داد و تحسین سمیٹ چکے ہیں۔ ان کے ناول The Reluctant Fundamentalist پر ہالی ووڈ میں فلم بھی بنائی جاچکی ہے۔ باراک اوباما کی 2017ء کی دیگر پسندیدہ کتابوں میں نومی ایلڈرمین کی’دی پاور‘ اور، رون کرناؤ کی ’گرانٹ‘ بھی شامل ہیں۔

کتب بینی اور دورِ صدارت

ابراہم لنکن کے بعد باراک اوباما، غالباً دوسرے امریکی صدر تھے، جو اس قدر مطالعہ کا ذوق رکھتے تھے کہ وائٹ ہاؤس کی تھکا دینے والی ذمہ داریوں کے باوجود کتابیںپڑھنے کے لیے وقت ضرور نکالتے تھے۔ اس حوالے سے اپنے دوسرے دورِ صدارت کے آخری دنوں میں ایک انٹرویو میں اوباما کا کہنا تھا، ’ایک ایسے دور میں جب واقعات بڑی تیزی سے رونما ہورہے ہوتے ہیں اور آپ پر معلومات کی بھرمار ہورہی ہوتی ہے، مطالعہ کرنے سے مجھے تھوڑی دیر ٹھہر کر، واقعات کو اپنے نقطۂ نظر سے دیکھنے اور دوسروں کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ میں اس بات کو اپنے 8سالہ دورِ صدارت کی دو انمول چیزیں قرار دے سکتا ہوں۔ کیا اس چیز نے مجھے امریکا کا بہتر صدر بننے میں مدد دی ہے؟ یہ میں نہیں جانتا، تاہم ایک بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان 8برسوں میں اس چیز نے مجھے توازن ضرور فراہم کیا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں