آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اقوام متحدہ کا ادارہ برائے ماحولیات، ییل یونیورسٹی اور یو این ہیبی ٹاٹ(UN Habitat) پہلی بار ایک منصوبے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔ یہ منصوبہ ہے ایک ماحول دوست چھوٹے گھر کی تعمیر اور اسے دنیا بھر میں متعارف کرانے کا، جو نہ صرف لوگوں کے ایک بڑے حصے کی پہنچ میں آسکیں بلکہ ان میں قدرتی وسائل کا کم سے کم استعمال ہو۔ منصوبے کا مقصد آرکیٹیکٹس اور سٹی پلانرز کو اس بات پر راغب کرنا ہے کہ وہ مستقبل کے ایسے گھروں کے بارے میں سوچیں، پھر ان کو ڈیزائن اور تعمیر کریں۔

اس منصوبے کے تحت22مربع میٹر رقبے پر تعمیر شدہ گھر میں ایک باورچی خانہ، ایک باتھ روم، کھانا کھانے کی جگہ اور چار لوگوں کے لیے سونے اور آرام کرنے کی جگہ بنائی گئی ہے۔ تاہم یہ صرف ایک چھوٹا سا گھر ہی نہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقی کے 17اہداف کا احاطہ بھی کرتا ہے۔ یہ گھر مکمل طور پر قابلِ تجدید توانائی پر چلتا ہے اور اسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اس میں قدرتی وسائل کا کم سے کم استعمال کیا جائے، جیسے کہ پانی کا استعمال۔ تجرباتی طور پر تعمیر کیے گئے اس گھر کے ذریعے لوگوں کو یہ پیغام دینے اور سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ آپ رہنے کے لیے ایک چھوٹی سی جگہ کو بھی کس طرح مؤثر انداز میں استعمال کرسکتے ہیں اور کس طرح ماحولیات پر اس کا منفی اثر کم سے کم ہوگا۔

اس منصوبے کو اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے ’ہائی لیول پولیٹیکل فورم‘ میں پیش کیا جاچکا ہے۔ اس منصوبے کو "Ecological Living Module"کا نام دیا گیا ہے۔ یہ گھر مقامی طور پر حاصل کردہ حیاتیاتی مواد سے تیار کیا گیا ہے ۔ اس میں استعمال ہونے والا تمام مواد قابلِ تجدید ہے۔ یہ گھر یواین پلازہ، نیویارک سٹی میں رکھا گیا ہے، جسے عام لوگ دیکھ کر اس کا جائزہ لے سکتے ہیں۔

اس گھر کو ییل سینٹر فار ایکو سسٹمز اِن آرکیٹیکچر کے انجینئرز، آرکیٹیکٹس اور ڈیزائنرز نے ڈیزائن کیا ہے جبکہ اس کی تعمیر اور تنصیب میں ایک نجی ادارے گرے آرگنشی آرکیٹیکچرسے معاونت لی گئی ہے۔اس گھر کی اس طرح ڈیزائننگ اور تعمیر کی گئی ہے کہ یہ خود کار نظام کے تحت چلایا جاسکتا ہے۔ توانائی کے حصول کے لیے گھر میں سولرٹیکنالوجی نصب کی گئی ہے، جس کے لیے ایک فی صد سے بھی کم نقصان دہ سیمی کنڈکٹر مٹیریل استعمال کیا گیا ہے۔ پانی کے لیے آن سائٹ واٹر کلیکشن کا نظام لگایا گیا ہے، بیرونی دیواروں کی خارجی تہہ پر چھوٹے پیمانے پر زراعت اور کاشتکاری کا بندوبست کیا گیا ہے، دن میں گھر کے اندر سورج کی دھوپ اور روشنی کا انتظام کیا گیا ہے، گھر میں ہوا کو آلودہ ہونے سے بچانے کے لیے پلانٹ بیسڈ ائیر پیوریفکیشن (پودوں کے ذریعےہوا کی صفائی) ٹیکنالوجی نصب کی گئی ہے اور قدرتی ہوا کی گزرگاہ کا انتہائی خیال رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، گھر میںآرام سے رہنے اور کام کرنے کے لیے دیگر کئی لچکدار (Flexbile)اور تصرف پذیر (Adaptable)اشیا کا بندوبست کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ماحولیات کے سربراہ ایرِک سالہیم کہتے ہیںکہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا کو مزید گھروں کی ضرورت ہے لیکن یہ بات بھی اتنی ہی اہم ہے کہ ہمیں اسمارٹ ہاؤسنگ کی ضرورت ہے۔ زمین کے 40فیصد وسائل ہاؤسنگ سیکٹر استعمال کرجاتا ہے، اس کے علاوہ نقصان دہ گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں ہاؤسنگ سیکٹر کا ایک تہائی حصہ ہے۔ یہ کوئی پائیدار رجحان نہیں، طویل مدت تک یہ رجحان جاری نہیں رہ سکتا، اسے ایک نہ ایک دن ختم ہونا ہے۔ تعمیرات کو پائیدار اور زیادہ باکفایت بنانے میں ہی سب کی بہتری ہے۔کیونکہ اس سے بلوںمیں کمی آئے گی‘۔

یواین Habitat کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر میمونہ محمد شریف بھی ایرِک سالہیم کی بات سے اتفاق کرتی نظر آتی ہیں۔ ’اگر ہم اپنے شہروں کو پائیدا ر بنانا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ لوگ شہروں کی طرف جب نقل مکانی کریں تو انھیں پائیدار ماحول دستیاب ہو تو اس سلسلے میں ہمیں ان کے لیے مناسب رہائش کا انتظام کرنا ہوگا۔ رہنے کے لیے چھت حاصل کرنا انسان کے بنیادی حقوق میں سے ایک ہے۔ چھت کے بغیر ایک انسان کیا کرسکتا ہے؟ گھروں کی تعمیر کے لیے مناسب اور موزوں تعمیراتی مواد کا استعمال، بہتر منصوبہ بندی اور تعمیراتی انداز میں بہتری لاکر ہی ہم عمارتوں اور گھروں میں توانائی کا استعمال کم کرسکتے اور عمارتوں کو زیادہ پائیدار بناسکتے ہیں۔ ہم نے اس منصوبے کے تحت جو گھر تیار کیا ہے، اگر اسے بڑے پیمانے پر اختیار کیا جائے تو اس سے نہ صرف نوکریوں کے نئے مواقع پیدا ہونگے اور خوشحالی آئے گی بلکہ ماحول کے لیے نقصان دہ گیسوں کے اخراج میں بھی قابلِ ذکر کمی آجائے گی‘۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ماحولیات کا کہنا ہے کہ نیویارک سٹی کے یون این پلازہ میں رکھا جانے والا گھر کا یہ نمونہ ،نیویارک شہر کے مقامی ماحول کو مدِ نظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔ اس منصوبے کو جب دنیا کے کسی اور حصے میں بنایا جائے گا تو اس کے لیے، اس منصوبے میں وہاں کی مقامی ضروریات اور ماحول کے مطابق ضروری تبدیلیاں کی جائیں گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں