آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ اگلے ہفتے کراچی آئیں گے ،کراچی آمد پروہ یقینی طور پر مزار قائد پر بھی حاضری دیں گے،18اگست کو وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہونے کے بعد سے ان کی کراچی آمد کابے چینی سے انتظار کیا جارہا ہے۔

عام انتخابات 2018میں منی پاکستان کہلانے والے شہر کراچی کا بڑا مینڈیٹ حاصل کرنےکے بعد امید کی جارہی تھی کہ وہ پہلی فرصت میں کراچی آکر مزار قائد پر حاضر ی دیں گےلیکن یقیناً امور مملکت کی انتہائی مصروفیات کے سبب وہ تاھال کراچی نہیں جاسکے ہیں۔

کراچی آمد اور مزارقائد پر حاضری میں دنوں کی تاخیر کوئی غیر آئینی غیرقانونی عمل نہیں لیکن سوشل میڈیا پھر اس کے بعد تحریک انصاف کے اپنے رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت کا اس معاملے پر شکوہ شکایت جس کا فائدہ لگے ہاتھوں ان کی مخالف جماعتوں نے بھی اس معاملے پر بیان بازی سےسے کیا۔

عوامی طور پریہ خیال کیا جارہا ہے کہ شاید ماضی میں اس منصب پر فائز ہونے والے ہرنئے وزیر اعظم جلد از جلد پہلی فرصت میں کراچی جاتے ہیں اور مزار قائد پرحاضری دیتے ہیں جہاں وہ یقینا، قائد کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور ان کے مزار پر کھڑے ہو کر عہد کرتے ہیں کہ وہ قائد کے پاکستان کو مستحکم اور خوشحال بنائیں گے۔

کیا واقعی ماضی میں ایسا ہی ہوتا رہا اس کےلیے ہم 1971 سے جائزہ لیں تو 20 دسمبر 1971 کوپاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے بحیثیت صدر مملکت اور چیف مارشل لا ایڈمسٹریٹر کی ذمہ داری سنبھالی تھی ۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد وہ 31دسمبرکراچی پہنچے اوراسکے اگلے دن یعنی بارویں دن یکم جنوری1972 کو مزار قائد پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔

23 مارچ1985کوغیر جماعتی انتخاب میں منتخب سندھ سے تعلق رکھنے والے محمد خان جونیجو نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا وہ آٹھویں روز31مارچ1985 کوپہلی مرتبہ بحیثیت وزیراعظم کراچی آئے اور مزار قائد پرحاضری دی فاتحہ خوانی کی۔

2 دسمبر 1988 کو پاکستان پیپلزپارٹی کی شریک چیئرمین بے نظیر بھٹونے پہلی مرتبہ بطور وزیراعظم حلف اٹھایا،اسی رات قوم سے خطاب کیا اس کے اگلے روز تین دسمبر کو اسلام آباد میں ایک پرہجوم کانفرنس سے بھی خطا ب کیا جس میں صحافیوں کے سوالات کے جواب بھی دیئے،بعد ازاںتیسرے روز 4دسمبر1998 کوکراچی پہنچی جہاں پہلی مرتبہ مزار قائد پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی بھی کی۔

میاں محمد نواز شریف پہلی مرتبہ6نومبر1990 کو وزیراعظم منتخب ہوئے، گیاروہیں ہ دن وہ پہلی مرتبہ سترہ نومبر 1990 کو بحیثیت وزیراعظم کراچی پہنچے اور مزار قائد پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔

اٹھارہ اکتوبر1993 کومحترمہ بے نظیر بھٹو دوسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوئیں تو وہ اٹھارویں روز 5نومبر 1993 کراچی تشریف لائیں اورقائد اعظم کے مزار پر حاضری دی۔

سترہ فروری1997 کو میاں نواز شریف نے دوسری مرتبہ وزارت عظمیٰ پر فائز ہوئے،تاہم اس بار وہ47ویں روز 5اپریل1997 کو پہلی مرتبہ کراچی تشریف لائے بانی پاکستان کے مزار پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔

تئیس نومبر2002 کو ق لیگ سے تعلق رکھنے والے بلوچستان سے منتخب رکن قومی اسمبلی ظفراللہ خان جمالی نئے وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔وہ اٹھارویں روز11دسمبر2002 کو پہلی مرتبہ کراچی تشریف لائے اور مزار قائد پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔

تیس جون2004 کو ق لیگ کے چوہدری شجاعت حسین نے وزارت عظمی کا حلف اٹھایا۔ وہ چھٹے روز 6جولائی 2004 کوکراچی آئے اور مزار قائد پر حاضری دی۔

اٹھائیس اگست 2004 کو شوکت عزیز نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا،وہ انیسویں روز 16ستمبر2004 کو بحیثیت وزیراعظم کراچی آئے اور مزار قائد پر حاضری دی۔

پچیس مارچ 2008 کو پیپلزپارٹی کے یوسف رضا گیلانی نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا،وہ دسویں روز 4اپریل کو پہلی مرتبہ بحیثیت وزیراعظم کراچی آئے اور مزار قائد پر حاضری دی۔

بائیس جون 2012 کوپیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے راجہ پرویز اشرف ملک کے نئے وزیراعظم منتخب ہوئےوہ تیسرے روز چوبیس جون 2012 کو وہ پہلی مرتبہ بحیثیت وزیراعظم کراچی آئے اور مزار قائد پر فاتحہ خوانی کی۔

پانچ جون2013 کو میاں نواز شریف تیسری مرتبہ وزیراعظم کےعہدے پر فائز ہوئے تو اس مرتبہ وہ 57ویں دن یکم اگست2013 کو پہلی مرتبہ کراچی کے دورے پر تشریف لائے اور مزار قائد پر حاضری دی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں