آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا کا خلائی تحقیق کا ادارہ ، ناسا، اپنے خلائی جہاز خلا ء میں بھیج کرنت نئی معلومات سامنے لاتا اور دریافتیں کرتا رہتا ہے ۔حال ہی میں ناسا نے’’ ٹرانزیٹنگ ایگزو پلینٹ سروے سیٹلائٹ‘‘(ٹی ای ایس ایس) نامی خلائی جہاز خلا میں بھیجا ہے ۔ ا س خلائی جہاز کواسپیس ایکس فالکن نائن راکٹ کے ذریعے فلوریڈا سے خلا میں روانہ کیا گیا۔اس کا مقصد ہمارے نظام شمسی کے باہر موجود سیاروں کو تلاش کرنا ہے ۔ لیکن اس سیٹلائٹ نے جو پہلی تصویر حاصل کی ہے وہ ایگزوپلینٹ (ایسے فلکیاتی اجسام جو جسامت میں چھوٹے ہوتے ہیں، مگر اپنی خصوصیات کے باعث سیاروں میں شمار کیے جاتے ہیںاور یہ نظام شمسی سے باہر ہوتے ہیں) کی نہیں ہے ۔اس خلائی جہاز نے ایگزوپلینٹتلاش کرنے کے لیے اپنا سائنسی آپریشن شروع کردیا ہے۔25 جولائی کو ٹیسس خلائی جہاز نےاپناپہلا آپریشن شروع کرنےکے 17 گھنٹے بعد زمین سے تقریباً 29 ملین میل (48 ملین کلو میٹرز) دور ایک دُم دار ستارہ دیکھا۔ماہرین کے مطابق اس خلائی جہاز کی مدد سے آسمان کا وسیع علاقہ بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ ماہرین نے اس خلا ئی جہاز کے پہلے دُم دار ستارے کوحاصل کرنےکی رفتار کا اندازہ نیئر ارتھ آبجیکٹ وائڈ فیلڈ انفرا ریڈسروے ایکسپلور ر (Near -earth object wide field infrared survey explorer) کی مدد سےلگایاتھا ۔ناسا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیسس خلائی جہاز نے آخری مرحلے میں دُم دارستارے 2018 این 1 کو خلا ء میں چھپا دیا تھا۔

یہ دُم دارستارہ، پیسکیس اور آسٹر ینس(ستاروں کے جھر مٹ ) میں موجود ہوتا ہے ۔اس کے دائیں اوربائیں جانب سے دائرے کی شکل میں گزرنے والی سفید روشنی کو بھی بآسانی دیکھا جاسکتا ہے ۔یہ ستارہ ان گیسوں پر مشتمل ہوتا ہے جو شمسی توانائی سے گزرتی ہیں۔مثلاً ہیلیم اور ہائیڈروجن۔ جب یہ گیسیں ستارے سےگزرتی ہوئی سورج تک جاتی ہیں تو یہ ’’شمسی ہوا ‘‘ کہلاتی ہیں ۔علاوہ ازیں یہ خلائی جہاز دیگرستاروں سے آنے والی روشنی اور مریخ (لال سیارہ ) جب زمین سے بہت زیادہ قر یب آجاتا ہے اُس وقت جو روشنی خارج ہوتی ہے اس کا بھی مشاہدہ کرسکتا ہے۔

ٹیسس نے اپنا پہلا مشن رواں سال اپریل کے مہینے میں شروع کیا تھا ۔ماہرین کو اُمید ہے کہ یہ پہلا مشاہدہ رواں سال ہی میں مکمل کرلے گا ۔ جب سے اس خلائی جہاز کا مشن شروع ہوا ہے ،اُس وقت سے یہ ہر 13.5 دنوں میں زمین پر اپنے مشاہدات بھیج رہا ہے ۔

ناسا کے ایسٹرو فزکس ڈویژ ن کے ڈائر یکٹر پال ہرٹز کا کہنا ہے کہ ،میں اس بارے میں پر جوش ہوں کہ ہمارا نیا سیاروں کو تلا ش کرنے کا مشن ہمارے نظام شمسی کے پڑوسی سیاروں کو کھنگالنے اور نئی دنیائیں تلاش کر نے کے لیے تیار ہے ۔

واضح رہے کہ ہماری کا ئنات میں ستاروں سے زیادہ سیارے ہیں ۔اب ماہرین فلکیات ایک شاندار اور عجیب دنیا دریافت کرنے کے لیے سر گرداں ہیں۔ناساکے اس خلائی جہاز نے رواں سال 17 مئی کو چاند کا بہت قریب سے مشاہدہ کیا تھا،بعدازاں اس کو ،اس کے آخری مدار میں منتقل کر دیا جو تقریباً5000 میل دور مو جو دہے ۔یہ خلائی جہاز اپنے دو سال کے سروے کے دوران آسمان کو 26 حصوں میں تقسیم کر کے ان کا جائزہ لےگا ۔ماہرین کے مطابق اس میں 4 جدید ترین وائڈ فیلڈ کیمرے نصب ہیں جو 85 فی صد آسمان کو کھنگالیں گے ۔جب نظامِ شمی میں موجود دور دراز سیارے اپنے مرکزی سورج یا ستارے کے سامنے سے گزرتے ہیں تو اسے ٹرانزٹ کہاجاتاہے،جس میں ستاروں کی روشنی کچھ کم ہو جاتی ہے ۔اس کیفیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ماہرین نے اب تک 3700 نئے سیارے در یافت کیے ہیں اور ٹیسس بھی یہ ہی تیکنیک استعمال کرے گا ۔ٹیسس خلائی جہاز 30 سے 100 نوری سال کے فاصلے پر موجود سیاروں کو تلاش کرنے کا اہم کام بھی انجام دے گا۔بعدازاں اسپیکٹرو اسکوپی اور دوسرے طریقوں سے سیارے کی کیفیت ،کمیت یااس کی ممکنہ فضا کا جائزہ بھی لیا جائے گا ۔ یہ خلائی جہاز خلا میں بھیجنے کا مقصدوہ ستارے تلاش کرنا ہے جو 300 سال سے کم عر صے تک خلاء میں موجود روشنی سے دور رہے ہیں ۔ ناسا کے ماہرین کو اُمید ہے کہ ٹیسس کائنات میں دوسری جگہوں پر موجود زندگی کے آثار کے بارے میں نئے اشارے دے گا ۔آپریشن کے پہلے سال میں یہ جنوبی آسمان سے 13 سیکٹرز کا نقشہ بنا ئے گا ۔اس کے بعد ٹیسس شمالی آسمان کوٹارگٹ کرے گا۔

پال ہارٹز کا کہنا ہے کہ کیپلر ٹیلی اسکوپ سے ہمیں یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ آسمان میں ستاروں سے زیادہ سیارے ہیں اور اب ٹیسس قریب تر ین سیاروں کے ارد گرد مختلف قسم کے سیاروں کو تلاش کرے گا ۔دیگر خلا ئی جہازوں کے مقابلے میں اس کا نیٹ ور ک زیادہ وسیع ہوگا ۔اس کےنیٹ ورک کی خصوصیات کی تحقیق ناسا کے آنے والی جیمزویب اسپیس ٹیلی اسکوپ اور دیگر مشنز کریں گے۔ٹیسس کی چوڑائی 5 فیٹ (1.5میٹر)ہے۔اس کی مشاہدہ کرنے کی صلاحیت 4 فیٹ (1.2 میٹرز )ہےاوراس میں نصب شمسی پنکھوں کا وزن 800 پائونڈ ز(362 کلو گرام) ہے۔ناسا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیسس خلائی جہاز کا سائز ریفریجریٹراور اسٹیکڈ واشر (stacked washer) کے درمیان ہے ۔اس جہاز کا مقصد زمین کے لمبے مدار تقریبا ً45,000 میل دور سے گزرنا ہے ۔یہ 2 ہفتوں میں زمین کو اس کے مدار میں پہنچادے گا۔

اس خلائی جہاز نے اپنی ابتدائی تصویرچاروں کیمروں کو استعمال کرتے ہوئے 2 سیکنڈ میں حاصل کی تھی ۔علاوہ ازیں یہ سینٹورس(ستاروں کا جھر مٹ) سے 200,000سے زائد ستاروں کے جھرمٹ کا پتہ لگا نے میں بھی کام یاب ہوا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ اس نے کولکس نیبولا( ڈارک ستاروں کا گچھا ) اور روشن ستارہ بیٹا سینٹوری کی ایک جھلک بھی دیکھائی ہے ۔ٹیسس اب تک اپنے حتمی مدارمیں نہیں پہنچاہے لیکن ماہرین کو اُمید ہے کہ چند ہفتوں میں یہ اپنے آخری مقام تک پہنچ جائے گا ۔اس کے علاوہ یہ تو قع بھی کی جارہی ہے کہ ٹیسس زمین کی طرح کے سیاروں کو تلاش کرے گا، جہاں ممکنہ طور پر زندگی موجود ہوسکتی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں