آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ19؍رمضان المبارک 1440 ھ25؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جمعیت علماء اسلام(فضل الرحمن گروپ) کا مذہبی سیاسی جماعتوں میں بنیادی کردار رہاہے۔جماعت کے امیر مولانا فضل الرحمن اور ان کے والد مولانا مفتی محمود اپنی جماعت کی سیاست میں نمایاں ترین ہے موجودہ انتخابات میں متحدہ مجلس عمل میں جے یو آئی ایف کے سب سے زیادہ امیدوار کامیاب قرار پائے۔گوکہ مولانا فضل الرحمن خود کامیاب نہیں ہوئے لیکن ان کے نامزد کردہ امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔مولانا مفتی محمود کے انتقال کے بعد مولانا فضل الرحمن اپنے والد کی سیاسی جماعت جمعیت علماء اسلام کے پہلے سیکرٹری جنرل اور بعد ازاں امیر مقرر ہوئے۔جو عصر حاضر میں دیوبندی مکتبہ فکر کی نمائندہ سیاسی جماعت کے طور پر جانی جاتی ہے۔2013ء کے عام انتخابات کے بعد جمعیت علماء اسلام (ف )نے مسلم لیگ ن کے ساتھ ملکر مخلوط حکومت بنائی۔2018ء کے انتخابات میں ایک پھر مولانا فضل الرحمان نے سیاسی حکمت عملی تبدیل کی اور جماعت اسلامی سے اتحاد کر کے ایک بار پھر متحدہ مجلس عمل کی بنیاد رکھی۔جے یو آئی ایف کی سیاست پر نظر دوڑائی جائے تو حالیہ الیکشن میں متحدہ مجلس عمل نے کل 12 نشستیں حاصل کیں جن میں 11پر جمعیت علماء اسلام ف کے امیدوار کامیاب ہوئے ۔جمعیت علماء اسلام (ف) نے ملک بھر سے11قومی اسمبلی نشستیں تو حاصل کر لیںمگر ایم ایم اے اتحاد کے بانی مولانا فضل الرحمان اور اکرم خان دورانی دونوں بڑے رہنما قومی اسمبلی کی نشستیں ہار گئے۔متحدہ مجلس عمل نے حالیہ انتخابات میں 2002ء میں بنائے گئے ایم ایم اے اتحاد کی نسبت8لاکھ ووٹ کم حاصل کئے ہیں۔2018ء کے عام انتخاب میں متحدہ مجلس عمل نے 25لاکھ41ہزار520ووٹ حاصل کئے ہیں جبکہ2002ء کے عام انتخابات میں متحدہ مجلس عمل نے33لاکھ35ہزار645ووٹ حاصل کئے تھے۔اسی طرح 2013ء کے عام انتخابات میں بنا کسی اتحاد کے جے یو آئی ایف کے 11گیارہ امیدوار قومی اسمبلی میں پہنچے جبکہ جمعیت علماء اسلام (ف)نے انتخابات میں ماضی کی نسبت دو گنا 14لاکھ61ہزار371ووٹ حاصل کئے تھے۔2008ء میں جماعت اسلامی نے تو الیکشن کا بائیکاٹ کیا لیکن جے یو آئی ایف نے متحدہ مجلس عمل کے اتحاد سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیااور آٹھ نشستوں پر کامیابی حاصل کی اس انتخاب میں اگر ووٹوں کا تناسب دیکھا جائے تو جے یو آئی( ف )نے صرف 7لاکھ66ہزار53ووٹ حاصل کئے تھے ۔2002ء میں ایک بار پھر دو بڑی مذہبی جماعتوںجماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام میں قومی مفادات کی خاطر متحدہ مجلس عمل نے نام سے اتحادبنا جس نے ملک بھر میں ایک بڑی کامیابی حاصل کی ۔2002ء کے انتخابات میں ایم ایم اے نے صوبہ بلوچستان سے 2لاکھ45ہزار612 ریکارڈ توڑووٹ حاصل کئے اور قومی اسمبلی کی6نشستیں بھی اپنے نام کیں اور قومی اسمبلی کی 60نشستیں حاصل کیں ۔1997ء میں جماعت اسلامی کا بائیکاٹ تھا اور جے یو آئی (ف)دوسری مذہبی جماعتوں سے اتحاد کے بغیر انتخابی میدان میں اُتری اور 3لاکھ27ہزار146ووٹ حاصل کر سکی ۔97ء کے انتخابات میں جے یو آئی نے قومی اسمبلی میں34 امیدوار میدان میں اتارے اور اُن میں سے صرف 2 کو کامیابی ملی ۔اسی طرح 1993ء کے الیکشن میں جے یو آئی ایف اسلامی جمہوری محاذ کیساتھ انتخابی میدان میں تھی اور انہیں چار نشستوں پر کامیابی ملی۔ اس انتخاب میں اسلامی جمہوری محاذ نے 4لاکھ33ہزار445ووٹ حاصل کئے تھے ۔بنا کسی اتحاد کے 1990ء میں جمعیت علماء اسلام (ف) نے6لاکھ 22ہزار214ووٹوں کے ساتھ 6 نشستیں جبکہ 1988ء میں 3لاکھ93ہزار164ووٹ حاصل کئے جبکہ انکو قومی اسمبلی کی سات نشستیں ملیں۔1985ء کے غیر جماعتی الیکشن سے پہلے 1977ء میں مولانا مفتی محمود پاکستان نیشنل الائنس کا حصہ تھے۔1970ء میں جے یو آئی ویسٹ پاکستان سے مفتی محمود کی سربراہی میں اس جماعت نے سات نشستیں حاصل کیں ۔اسی الیکشن میں مفتی محمود نے ذوالفقار علی بھٹو کو شکست دی تھی جے یو آئی ویسٹ پاکستان نے12لاکھ15ہزار245ووٹ حاصل کئے تھے۔ جے یو آئی (ف) سیاسی جماعت کی گزشتہ چار انتخابات کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو مولانا فضل الرحمان کے چاہنے والوں میں صوبہ بلوچستان میں بلوچ قبیلوںمیں انکی مقبولیت میںاضافہ ہوا ہے۔جمعیت علماء اسلام ف واحد جماعت ہے جس کے صوبہ بلوچستان میں ووٹ بینک میںماضی کی نسبت اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔حالیہ انتخابات میں جمعیت علماء اسلام نے صوبہ بلوچستان سے قومی اسمبلی کی 5نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔البتہ مجموعی طور پر جمعیت علمائے اسلام کو اس انتخاب میں سیاسی نقصان ہوا ہے۔

ملکی سیاست میں دائیں بازو کی سیاست میں مذہبی جماعتوں کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔جماعت اسلامی کا شمار بھی انہی مذہبی جماعتوں میں ہوتاہے جو دائیں بازو کی مذہبی و سیاسی جماعتیں ہیں۔جماعت اسلامی کی سیاسی تاریخ کاجائزہ لیں تو جماعت اسلامی نے معاشرے میں پڑھے لکھے ذہنوںکو متاثر توکیالیکن انتخابی میدان میں کوئی بہت بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔جماعت کے اندر بھی کئی سالوں تک یہ بحث رہی کہ اسے انتخابی میدان میں اترنا بھی چاہئے کہ نہیں لیکن بالآخر فیصلہ یہی ہوا تھاکہ الیکشن لڑنا ضروری ہے۔جب جب دائیں بازو کی جماعتیں حکومت میں آئیں جماعت اسلامی ان کے ساتھ اتحادی رہی اور بالخصوص مسلم لیگ نواز کے ساتھ سیاسی مفاہمت کے ذریعے ہی اسے اقتدار میں حصہ ملا۔1970ء میں جماعت اسلامی قومی اسمبلی میں صرف چار نشستیں حاصل کر سکی جبکہ اس کے حاصل کردہ ووٹوں کی کل تعداد 19لاکھ89ہزار461تھی ۔1977ء کے الیکشن میں جماعت اسلامی نے پیپلزپارٹی کے خلاف بننے والے اتحاد میں پاکستان نیشنل الائنس میں بطور اتحادی انتخابات میں حصہ لیا۔اس اتحاد میں تمام مذہبی وسیاسی جماعتوں نے کل61لاکھ54ہزار921ووٹ حاصل کئے تھے۔1985ء سے اب تک جماعت اسلامی دو بار بڑی کامیابی حاصل کرپائی اور دونوں بار وہ دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر انتخابات لڑی،اتحاد بنایااور اس میں اپنا حصہ لیا۔پہلی بار1988ء کے عام انتخابات میں ایک بار پھر پیپلزپارٹی کے خلاف اسلامی جمہوری اتحاد بنا یہ اتحاد نو جماعتوں پر مشتمل تھاجن میں مسلم لیگ ن ،نیشنل پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی سرفہرست تھیں۔اسلامی جمہوری اتحاد نے 59لاکھ8ہزار742ووٹ حاصل کئے تھے۔

90ء کے عام انتخابات میں دوسری باراسلامی جمہوری اتحاد کے ساتھ جماعت اسلامی کے قومی اسمبلی میں 7امیدوارپہنچے جبکہ اسلامی جمہوری اتحاد 79لاکھ8ہزار513ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر آئی تھی 2002 ء سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں ہونے والے عام انتخابات میں پہلی بار جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام (ف) صرف دو مذہبی جماعتوں کا اتحاد متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے کا قیام عمل میں آیا اور اس اتحاد میں سے قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے20 امیدوار پہنچنے ۔1993ء میں جماعت اسلامی بغیر اتحاد کے پاکستان اسلامک فرنٹ کے نام سے سیاسی میدان میں تھی اور اس کے صرف تین امیدوار کامیاب قرار پائے۔ 1997ء اور2008ء میں جماعت اسلامی کا انتخابی بائیکاٹ تھا۔ 2013ء میں جماعت اسلامی نے قومی اسمبلی کی صرف تین نشستیںحاصل کیں اور9لاکھ63ہزار909ووٹ حاصل کئے تھے۔حالیہ الیکشن میںجماعت اسلامی ایک بار پھر مذہبی اتحادمتحدہ مجلس عمل کیساتھ میدان میں تھی اور اس کے اپنے امیدواروں میں صرف ایک رکن قومی اسمبلی بن پایا۔ موجودہ صورتحال کاجائزہ لیں توجماعت اسلامی کے ووٹ بینک میں 90فیصد تک کمی ہوئی اور اتحاد کے ساتھ جماعت اسلامی نے زیادہ نشستیں حاصل کیں جبکہ اپنے زور بازو پر کوئی قابل قدر کامیابی نہیں سمیٹ سکی۔جماعت اسلامی کی اگر انتخابی تاریخ دیکھی جائے تو 1977ء سے2018ء کے انتخابات تک کا جائزہ لیا جائے توجماعت اسلامی 5 عام انتخابات میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ انتخابی میدان میں اتری ،دوبار انتخابات کا بائیکاٹ کیا جبکہ صر ف دو بار1970ء میں اور2013ء کے انتخابات میں جماعت اسلامی نے اکیلے الیکشن میں حصہ لیا۔1970ء کے انتخابات میں جماعت اسلامی نے19لاکھ89ہزار461ووٹ حاصل کئے تھے جبکہ قومی اسمبلی کی چار نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھی اسی طرح 2013ء کے عام انتخابات میں جماعت اسلامی کے امیدوارں نے صرف لاکھ 63ہزار909ووٹوں کے ساتھ قومی اسمبلی کی تین نشستیں حاصل کیں ۔1977ء سے2013ء تک جماعت اسلامی کے ووٹوں میں 10لاکھ کی کمی ہوئی ہے۔

حالیہ انتخابات میں جماعت اسلامی ضرورت وقت کے تحت مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ملکر ایم ایم اے اتحاد کا حصہ بنے۔جماعت اسلامی خیبر پختو انخوا اسمبلی میں گزشتہ پانچ سال پاکستان تحریک انصاف کا اتحادی بن کر حکومت کا حصہ بنی رہی بالکل جمعیت علماء اسلام (ف) کی طرح جنہوں نے مسلم لیگ ن کے ساتھ وفاق میں پانچ سال اقتدار کے مزے لوٹے۔2018ء کے انتخابات سے پہلے جماعت اسلامی نے پی ٹی آئی کی حکومت کو خیبر پختوانخوا میں خداحافظ کہہ کر اپنے پرانے اتحادی فضل الرحمان سے ملکر ایم ایم اے اتحاد بنایا ۔جماعت اسلامی کی ناقص حکمت عملی کا خمیازہ انکے امیدواروں کو انتخابات میں اس وقت بھگتنا پڑا جب خیبر پختوانخوا میں جماعت اسلامی این اے1چترال سے صرف ایک قومی اسمبلی کی نشست حاصل کر سکی جبکہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق بھی اپنی نشست ہار گئے۔

علامہ خادم رصوی اور حافظ سعید کے بڑے پریشر گروپس بریلوی اور اہل حدیث مکتب فکر کا ووٹ بینک مضبوط ہوگیا

ملکی سیاست میں جہاں نئی سیاسی جماعتیں جنم لیتی رہیں وہیں مذہبی جماعتوں کی تشکیل بھی نظریہ ضرورت کے مطابق عمل میں آتی رہی ہے۔روایتی مذہبی سیاسی جماعتوں میں جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام قابل ذکر ہیں اور بہت سی چھوٹی مذہبی جماعتیںوقت کیساتھ ساتھ سیاسی منظر سے غائب ہوگئیں۔تحریک لبیک پاکستان کی تشکیل بھی باقی مذہبی سیاسی جماعتوں کی طرح مذہبی نعرے بالخصوص ختم نبوت اور توہین رسالت کے تحت عمل میں آئی جسے بریلوی مکتبہ فکر کی حمایت حاصل تھی۔ اس جماعت کی مقبولیت اورقیام کا بنیادی محرک سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا قتل تھا جنھیں ان کے اپنے ہی سیکورٹی گارڈ اور بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے سکیورٹی پر معمور اہلکار ممتاز قادری نے جنوری 2011 میں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔اس واقعے کے بعد ممتاز قادری کے حق میں بریلوی علما ء کی اکثریت نے آواز بلند کی جن میں سب سے زیادہ شہرت لاہور سے تعلق رکھنے والے علامہ خادم حسین رضوی اور علامہ آصف اشرف جلالی کو ملی ۔فروری 2016 ء میں ممتاز قادری کی پھانسی کی سزا دی تو علامہ آصف اشرف جلالی نے پہلے اور بعد میں خادم حسین رضوی نے اسلام آباد میں دھرنا دیا۔بعد ازاں دونوں کے درمیان اختلافات کے باعث تحریک لبیک پاکستان کی سربراہی علامہ خادم حسین رضوی کے حصے میں آئی اور تحریک لبیک اسلام کے سربراہ علامہ آصف اشرف جلالی بنے۔تحریک لبیک پاکستان کی عملاً تشکیل 2017ء میں ہوئی اور اس نے پہلا سیاسی معرکہ این اے 125لاہور کے ضمنی انتخاب میں لڑا اور تیسری بڑی سیاسی قوت بن کر ابھری ۔ تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار شیخ اظہر رضوی نے سات ہزار ووٹ حاصل کئے ۔اسی طرح اگلے ماہ تحریک لبیک نے پشاور کے حلقہ این اے 4 میں حیران کن طور پر تقریباً 10 ہزار ووٹ حاصل کیے جو روایتی طور پر کبھی بھی بریلوی مکتبہ فکر کا گڑھ نہیں رہا۔ ان کے مقابلے میں جماعت اسلامی جس نے 2013 میں 16 ہزار ووٹوں کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی تھی، ضمنی انتخاب میں صرف سات ہزار ووٹ لے کر چھٹے نمبر پر چلی گئی۔یوں ان دو ضمنی انتخابات نے بڑی سیاسی جماعتوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی جو ٹی ایل پی کی حریف تھیں۔2018ء کے عام انتخابات میں ایک بار پھر حیران کن طور پرملک بھرسے 22 لاکھ ووٹ حاصل کیے۔ 

صوبہ پنجاب میں ان کے ووٹوں کی تعداد 18 لاکھ کے لگ بھگ رہی۔ صوبہ سندھ سے ان کی جماعت نے 4 لاکھ سے زائد ووٹ لیے اور ان کے دو امیدوار سندھ اسمبلی میں بھی پہنچ گئے۔کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 246 لیاری میں تحریکِ لبیک کے امیدوار نے دوسری پوزیشن حاصل کی اور حاصل کیے گئے ووٹوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔اس حلقہ میں بلاول بھٹو کے حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد39ہزار325جبکہ تحریکِ لبیک کے امیدوار احمد نے 42ہزار345ووٹ حاصل کئے۔باقی سیاسی جماعتوں کی طرح ٹی ایل پی نے بھی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگائے ۔مجموعی جائزہ لیاجائے تو سنی ووٹ نے علامہ خادم حسین رضوی پر اعتماد کا اظہار کیا مذہبی جماعتوں میں ایم ایم اے کے بعد تحریک لبیک پاکستان دوسری بڑی مذہبی سیاسی جماعت بن کر ابھری ۔دیکھاجائے تو ماضی میں سنی ووٹ مسلم لیگ ن کو کاسٹ ہوتا رہااور اب بریلوی مکتبہ فکر کا ووٹ بینک اپنی نمائندہ جماعت ٹی ایل پی کی جانب منتقل ہوا۔دیکھنا ہوگا کہ آنے والے مقامی حکومتوں کے انتخابات میں یہ ووٹر کس حد تک اثر انداز ہوتاہے۔ دوسری جانب اگست 2017ء میں نئی مذہبی سیاسی پارٹی ملی مسلم لیگ بنائی گئی جسے اہلحدیث مکتبہ فکر کی واضح حمایت حاصل تھی ۔اور جماعت الدعوۃ سے منسلک سیف اللہ خالد کو اس پارٹی کا پہلا صدر منتخب کیا تھا۔باقی روایتی مذہبی جماعتوں کی طرح اس جماعت نے بھی نظریہ پاکستان اور نفاذ اسلام کو بنیاد بنایا تاکہ دائیں بازو کی سیاست میں اپنی جگہ بنائی جاسکے۔ملی مسلم لیگ کالعد م جماعت الدعوۃ اور اس کے سربراہ حافظ محمد سعید کی واضح حمایت حاصل تھی در پردہ یہ کالعدم جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فائونڈیشن کی ذیلی جماعت تصور کی گئی۔ملی مسلم لیگ نے پہلی بار ستمبر 2017ء میں این اے 125لاہور سے سابق وزیر اعظم کی نااہلی کے بعد ضمنی انتخاب میں اپنا امیدوار اتارجس میں انکے امیدوار یعقوب شیخ نے قریباً چھ ہزار ووٹ حاصل کئے اور چوتھے نمبر پر تھے ۔بعد ازاں ملی مسلم لیگ پر وزارت داخلہ کے اعتراض کے بعد الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔2018ء کے عام انتخابات میں ایم ایم ایل باقاعدہ طور پر رجسٹرڈ نہیں ہوسکی ۔ ملی مسلم لیگ نے ایک اور جماعت اللہ اکبر تحریک سے اتحاد بنایا اور انتخابات میں حصہ لیا۔اللہ اکبر تحریک نامی یہ مذہبی سیاسی جماعت ڈسٹرکٹ بہاولپور سے الیکشن کمیشن کے ساتھ رجسٹرڈ تھی اور اس کی قیادت ڈاکٹر میاں احسان باری نامی ایک شخصیت کر رہی تھی۔

اللہ اکبر تحریک نے ملک بھر سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر دو سو سے زائد امیدوار کھڑے کرنے کا اعلان کیا لیکن انکو کسی بھی قومی اور صوبائی نشست پر کامیابی نہیں مل سکی تاہم ملک بھر سے اسے ایک لاکھ 71ہزار ووٹ ملے۔مذہبی جماعتوں کی فہرست میں حافظ سعید کی حمایت یافتہ جماعت عددی اعتبارسے تیسرے نمبر پر رہی۔یوں یہ کہا جاسکتاہے کہ جو اہلحدیث مکتبہ فکر کاووٹ پہلے مسلم لیگ ن یا متحدہ مجلس عمل کو ملتارہاہے وہی اب اللہ اکبر تحریک کی جانب منتقل ہوگیا۔ دیکھنا ہوگا کہ آنے والے مقامی حکومتوں کے انتخابات میں یہ ووٹر کس حد تک اثر انداز ہوتاہے۔ 

جماعت اسلامی: لیڈر بڑے، مگر ووٹ کم

2018ء کے عام انتخابات میں متحدہ مجلس عمل(ایم ایم اے) نے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب سے کل 2 لاکھ33 ہزار 623 ووٹ حاصل کئے ان ووٹوں میں اکثریتی ووٹ جماعت اسلامی کے امیدواروں کے ہیں۔ پنجاب میںجماعت اسلامی کے امیدواوں کو نہ صرف شکست سے دو چار ہونا پڑا بلکہ انکے انتخابی امیدواروں کو حلقوں میں انتہائی کم ووٹ پڑے جن کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ لاہور کے سابق ضلع ناظم حافظ سلمان بٹ اپنے آبائی حلقے سے صرف1ہزار825ووٹ لے سکے جبکہ کامیاب ہونے والے ن لیگ کے امیدوار نے 1لاکھ ووٹ حاصل کئے۔2013ء کے عام انتخابات کی بات کی جائے تو حافظ سلمان بٹ لاہور کے اسی حلقے سے صرف 953ووٹ لے سکے تھے۔حافظ سلمان بٹ کے صاحبزادے جبران بن سلمان نے صوبائی ٹکٹ پی پی 150سے انتخاب میں حصہ لیا اور صرف1ہزار821 ووٹ لے سکے۔ اسی طرح لاہور کے حلقے این اے130کی بات کریں تو جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ اپنے حلقے میں صرف 5ہزار ووٹ لے سکے جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوار شفقت محمود 1لاکھ ووٹوں کے ساتھ کامیاب ہوئے۔2013ء کے عام انتخابات میں لیاقت بلوچ نے جماعت اسلامی کی ٹکٹ پر 3ہزار226ووٹ حاصل کئے تھے۔ ترجمان جماعت اسلامی امیر العظیم نے صرف 4ہزارووٹ حاصل کئے جبکہ انکے مد مقابل پی ٹی آئی کے ملک کرامت علی 64ہزار765ووٹ لے کر حلقے میں کامیاب ہوئے ۔جماعت اسلامی کے سابق ایم پی اے سید وسیم اختر نے این اے170 بہاولپور 2 سے پہلی بارقومی اسمبلی کے انتخاب میں حصہ لیا اور14ہزار ووٹ لے سکے جبکہ تحریک انصاف کے کامیاب امیدوار فاروق اعظم کے 84ہزار ووٹ حاصل کئے۔ 

صوبہ خیبر پختوانخوا میں جماعت اسلامی نے 10امیدواروں کو قومی اسمبلی کے ٹکٹ جاری کئے تھے۔ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے این اے 7لوئر دیر سے 46ہزار ووٹ لئے جبکہ انکے مد مقابل تحریک انصاف کے امیدوار محمد بشیر خان 63ہزار017ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے ۔این اے 26نو شہرہ 2سے (سابق امیر جماعت اسلامی)مرحوم قاضی حسین کے صاحبزادے آصف لقمان قاضی نے22ہزار ووٹ حاصل کئے۔آصف لقمان قاضی جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس عاملہ کے رکن ہیں۔2013ء میں آصف لقمان قاضی نے صرف19ہزار ووٹ حاصل کئے تھے۔این اے28پشاور سے(امیر جماعت اسلامی پشاور)صابر حسین اعوان نے 22ہزار ووٹ حاصل کئے جبکہ انکے مد مقابل پی ٹی آئی کے امیدوار ارباب عامر ایوب 74ہزار ووٹ لے کر قومی اسمبلی کی نشست اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوئے۔2013کے انتخابات میں صابر حسین نے 16ہزار ووٹ حاصل کئے تھے جبکہ 2002ء مشرف کے دور میں ہونے والے الیکشن میں(ایم ایم اے)اتحاد ہونے کی وجہ سے صابر حسین28ہزار728ووٹ لے کر حلقے میں کامیاب ہوئے تھے۔صوبہ پنجاب سے جماعت اسلامی نے 13امیدواروں کو قومی اسمبلی کے ٹکٹ جاری کئے تھے۔کراچی سے بھی جماعت اسلامی کے امیدواروں کو کوئی کامیابی نہیں ملی۔ این اے 242لراچی شرقی سے(نائب امیر جماعت اسلامی) اسد اللہ بھٹو نے صرف8ہزار ووٹ حاصل کئے۔اسد اللہ بھٹو2002ء میں ایم ایم اے اتحاد پر28ہزار840ووٹ لے کر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔2013ء کے عام انتخابات میں اسد اللہ بھٹو نے جماعت اسلامی کی ٹکٹ پر انتخاب میں حصہ لیا اور صرف12ہزار651ووٹ لئے جبکہ متحدہ قومی مومنٹ کے امیداور محمدمزمل قریشی نے ریکارڈ 1لاکھ1ہزار386ووٹ لے کر کامیابی اپنے نام کی تھی۔ این اے 247کراچی جنوبی سے (سابق امیر جماعت اسلامی )محمد حسین محنتی نے22ہزار ووٹ لینے میں کامیاب ہوئے اگر 2013ء کے عام انتخابات میں محمد حسین محنتی کا ووٹوں کا جائزہ لیں تو انہوں نے16ہزار342ووٹ حاصل کئے تھے۔محمد حسین محنتی کراچی کے جس حلقے سے انتخاب میں حصہ لیتے ہیں یہ حلقہ (سابق امیر جماعت اسلامی ) سید منور حسن کا ہوتا تھا۔سید منور حسن نے اس حلقے میں پہلا انتخاب 1988ء میں لڑا تھا مگر کامیاب نہیں ہوئے تھے۔ کراچی کا یہ حلقہ اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ یہاں سے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواراعلیٰ عہدیدار (سابق امیر جماعت اسلامی ) کا حلقہ کہلاتا ہے۔ اسی لئے اگر گزشتہ 7عام انتخابات میں اس حلقے کے انتخابی تنائج کا جائزہ لیں تو جماعت اسلامی صرف ایک بار2002ء کے انتخابات میں متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے پلیٹ فارم سے(محمد حسین محنتی)33ہزار089ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔این اے 250لراچی شرقی سے ( امیر جماعت اسلامی کراچی )حافظ نعیم الرحمن نے 22 ہزار 692ووٹ حاصل کئے ۔ این اے256کراچی وسطی سے (امیر جماعت اسلامی سندھ) ڈاکٹر معراج الہدی صدیقی نے 22ہزار ووٹ لے سکے۔غور طلب بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی کا صرف ایک امیدوار قومی اسمبلی کا رکن بننے میں کامیاب ہوا۔این اے1چترال سے جماعت اسلامی کے مولانا عبدالاکبر چترالی (ایم ایم اے)کے پلیٹ فارم سے 48ہزار616ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔اس حلقے میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار عبدالطیف 38ہزار481ووٹ لے کر رنر اپ رہے۔ صوبائی نشستوں پر جماعت اسلامی کے صرف 2ایم پی ایز کامیاب ہوئے ۔خبیر پختو انخواسمبلی میں جماعت اسلامی کے امیدوار عنایت اللہ نے27ہزار413ووٹ لے کر ممبر صوبائی اسمبلی بنے۔صوبائی نشست پر دوسری کامیابی کراچی جنوبی سے جماعت اسلامی کے سید عبدالرشید ہزارنے821ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں