آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مفتی محمد طاہر مکی

 قرآن وسنت کی بنیادی تعلیمات اس حقیقت کی ترجمان ہیں کہ عقیدۂ ختم نبوت دین اسلام کی اساس اور بنیاد ہے،جس کامعنیٰ یہ ہے کہ آپ ﷺ تمام انبیاء میں سب سے آخری رسول ہیں،آپ ﷺ کا دین اور آپ ﷺکی شریعت تمام گزشتہ شریعتوں اور ادیان کی ناسخ ہے،اب قیامت تک کوئی نبی اور رسول نہیں آئے گا،یہ رسالت محمدیؐ کا امتیازی پہلو ہے۔عقیدۂ ختم نبوت پر کئی دلائل قرآن پاک میں بیان فرمائے گئے ہیں،مثلاًسورۃ الاحزاب میں فرمایاگیا : ’’محمدﷺ تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، لیکن اللہ کے رسول اور سب نبیوں کے آخر میں ہیں۔‘‘تمام مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ’’خاتم النبیین ‘‘کے معنیٰ یہ ہیں کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں،امام ابن کثیر،امام قرطبی،امام غزالی نے اس پر سیرحاصل بحث فرمائی ہے کہ ’’خاتم النبیین ‘‘ کے معنیٰ یہ ہیں کہ اب آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا،اس بات پر امت کا اجماع ہوچکا،جس طرح ختم نبوت پر قرآن کی ایک سوکے لگ بھگ آیات دلالت کرتی ہیں،اسی طرح دوسوکے لگ بھگ احادیث طیبہ بھی اس بات پر دلالت کرتی ہیں،اب حضورنبی کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا،ہاں جھوٹے نبوت کے دعوے داروں کی پیش گوئی آنحضرت ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں ہی فرمادی تھی مثلاًابودائودشریف میں حضرت ثوبانؓ سے مروی ہے کہ رسولِ خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری امت میں تیس جھوٹے پیداہوںگے،ہر ایک یہی دعویٰ کرے گا کہ میں نبی ہوں، حالاںکہ میں آخری نبی ہوں،میرے بعد کوئی نبی نہیں،اس قسم کی کئی اور احادیث بھی ہیں،اور امت محمدیہ کا سب سے پہلا جو اجماع ہوا وہ بھی اسی مسئلۂ ختم نبوت پر ہوا،وہ تھامنکرختم نبوت مسیلمہ کذّاب کے خلاف جہادپر اجماع ،جس نے آنحضرت ﷺکے زمانے میں ہی نبوت کا دعویٰ کردیا تھا،تمام صحابہؓ اس بات پر متفق ہوئے کہ اس کے خلاف جہاد کیا جائے،حالاںکہ اس سے قبل کئی ایک مسائل میں صحابہؓ میں اختلاف ہوا مثلاًمانعین زکوٰۃ کے خلاف جہاد،جمع وتدوین قرآن وغیرہ جیسے مسائل، لیکن مسیلمہ کذّاب کے خلاف تمام صحابہؓ مجتمع ہوئے اور پھر جہاد کیا سب سے پہلی تحفظ ختم نبوت کی خاطر لڑی جانے والی اس جنگ کے قائد خود خلیفۂ رسول حضرت سیدنا صدیق اکبر ؓ بنے اور اس مسئلے کی خاطر جہادکیا۔ اس کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام کی خاطر لڑی جانے والی ستائیس اسلامی جنگوں میں شہیدصحابہ کی تعدادڈھائی سوکے لگ بھگ ہے، صحابہؓ نے اس بات سے امت مسلمہ کو یقینی طور سے یہی سبق دیا کہ منکرین ختم نبوت کے خلاف کسی قسم کی کوئی رعایت نہ رکھی جائے،آپ ﷺ کے بعد جھوٹے نبیوں کا سلسلہ بھی جاری رہا، ادھر صحابہؓ کے بتائے ہوئے راستے پر گامزن انبیاءؑ کے وارث علماء میدان میں منکرین ختم نبوت کے سامنے سیسہ پلائی دیواربن کر ’’تحفظ ناموس رسالت‘‘ کے لشکر کی کمان کرتے رہے ،برصغیر میں جھوٹی نبوت کا سلسلہ مرزا غلام احمد پرپہنچا جب اس نے مامور من اللہ ،مجدد،مثیل مسیح،مسیح موعود،کے دعوے کیے۔1900 ء میں آکر نبوت کا دعویٰ کردیا،آخر میں آکر اس نے ’’خاتم النبیین ‘‘ ہونے کادعویٰ بھی کرڈالا ،اور نبوت کا اعلان کرتے ہی مرزا غلام احمد قادیانی نے جس کام کے لیے اسے کھڑا کیا گیا تھااس پر روشنی ڈالنا شروع کردی کہ اب جہاد ختم ہوچکا،اور یہ شعرکہا کہ ’’چھوڑدو اے دوستوجہاد کا خیال۔حرام ہے دین کے لیے اب جنگ وقتال‘‘۔

علمائے امت نے اس کے خلاف ایک متحدمحاذبنایا۔1953 ء میں کم از کم تیس ہزار مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ فقط اس وجہ سے پیش کیا کہ ختم نبوت پر قدغن برادشت نہیں کیا جائے گا۔ قادیانیت کواسلام سے الگ ملت قراردیا جائے، مولاناعبدالستار خان نیازی،مولاناسیدخلیل احمد قادری،سیدابوالاعلیٰ مودودی کو سزائے موت سنائی گئی،لیکن اللہ نے ان کی حفاظت فرمائی کہ اس سزاکے باوجود باعزت بری ہوگئے تفصیل کے لیے دیکھیے:’’بھٹواور قادیانی مسئلہ‘‘ دوسری جانب علامہ سیدعطاء اللہ شاہ بخاری،شیعہ عالم دین علامہ سیدمظفرعلی شمسی،بریلوی عالم دین مولاناعلامہ سیدابوالحسنات قادری،دیوبندی عالم دین مولانالال حسین اختر کو کراچی میں ہی گرفتار کرلیاگیا،لیکن علمائے کرام نے 1953 ء میں قادیانیت کے خلاف ایسی زبردست تحریک چلائی کہ امت مسلمہ اس مسئلے پر نہ صرف بے داربلکہ اپنے مسلکی اختلافات بھلاکر ایک ہوگئی،آخر کار علمائے امت کی آواز اورتحفظ ناموس رسالت پر لبیک کہہ کر تیس ہزارعاشقان رسول ﷺ کا مقدس لہو یوں رنگ لایا کہ24مئی 1973 ء کو سب سے پہلے آزاد کشمیر کے صدر سردار عبدالقیوم نے اس بل پر دستخط کردیے کہ قادیانی ایک غیر مسلم اقلیت ہیں،اب دنیاکی نظریں پاکستان پر ٹھن گئیں۔

30جون1974 ء کو قومی اسمبلی کے اپوزیشن محرکین قرارداد مولانامفتی محمود،مولاناشاہ احمد نورانی،پروفیسر غفور احمد،مولاناعبدالحق،رئیس عطاء محمد مری سمیت 36 اراکین نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردینے کے لیے ایک قراردادپیش کی۔آخرکار7ستمبر 1974 کو تحفظ ناموس رسالت کے پروانوں کی اس صداپر کہ ختم نبوت کے ڈاکوؤں کو اسلام کے فوجیوں کا لبادہ نہ اوڑھنے دیا جائے اور انہیں غیر مسلم اقلیت قراردیا جائے میں دم ابھرا اور شام کو سوا چار بجے کے قریب قومی اسمبلی میں عبدالحفیظ پیرزادہ نے یہ بل پیش کیا۔ قومی اسمبلی میں طے پایا ہے اس بل کا مقصد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں اس طرح ترمیم کرنا ہے،تاکہ ہر وہ شخص جو حضرت محمد ﷺ کے خاتم النبیین ہونے پرقطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتایا حضرت محمد ﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے،یا جو کسی ایسے مدعی کونبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے اسے غیرمسلم قراردیا جائے۔ جس کے بعدقومی اسمبلی نے متفقہ طورپریہ بل منظور کرلیا کہ قادیانی متفقہ طور پر غیر مسلم اقلیت ہیں،یقناًیہ دن برصغیر میں طویل جدوجہد کے بعد مسلمانوں کے لیے عیدکے دن سے کم نہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں