آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


اردو کے نامور ادیب افسانہ نگار، ڈراما نویس ، ناول نگار، مترجم اور براڈ کاسٹر اشفاق احمد کو ہم سے بچھڑے 14 سال بیت گئے ہیں۔وہ کہتے تھے کہ انہیں فقیر اور فقیری سے عشق ہے۔

فقیر اور فقیری سے عشق کرنے والے اشفاق احمد
نامور ادیب اشفاق احمد

اشفاق احمد خان بھارت کے ایک چھوٹے سے گاؤں خان پور میں 22 اگست 1925ء کو پیدا ہوئے ۔ان کی پیدائش کے بعد اٴن کے والد ڈاکٹر محمد خان کا تبادلہ فیروز پور ہوگیا۔ فیروز پور کے ایک قصبہ مکستر سے میٹرک اور ایف۔ اے کا امتحان ’’رام سکھ داس ‘‘ سے پاس کیا۔ اس کے علاوہ بی۔اے کا امتحان امتیازی نمبروں کے ساتھ فیروز پور کے ’’آر، ایس ،ڈی ‘‘ کالج سے پاس کیا۔

قیام پاکستان کے بعد اشفاق احمداپنے خاندان کے ہمراہ فیروز پور سے ہجرت کرکے پاکستان آ گئے۔

انہوں نےگورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے اردو کیا اور اٹلی کی روم یونیورسٹی سے اطالوی اور فرانس کی نوبلے گرے یونیورسٹی سے فرانسیسی زبان کا ڈپلومہ حاصل کیا اور نیویارک یونیورسٹی سے براڈ کاسٹنگ کی خصوصی تربیت بھی حاصل کی۔

1953ءاشفاق احمد کا افسانہ ’گڈریا‘ ان کی شہرت کا باعث بنا۔ انہوں نے اردو میں پنجابی الفاظ کا تخلیقی طور پر استعمال کیا اور ایک خوبصورت شگفتہ نثر ایجاد کی جو ان ہی کا وصف سمجھی جاتی ہےاور پھر اشفاق احمد کا شمار ان عظیم سخن طراز کے ادیبوں میں ہونے لگا جوقیام پاکستان کے بعد ادبی افق پر نمایاں ہوئے۔

اردو ادب میں کہانی لکھنے کے فن پر اشفاق احمد کو جتنا عبور تھا وہ کم لوگوں کے حصہ میں آیا۔ ایک محبت سو افسانے اور اجلے پھول ان کے ابتدائی افسانوں کے مجموعے ہیں۔ بعد میں سفردر سفر (سفرنامہ) ، کھیل کہانی (ناول) ، ایک محبت سو ڈرامے (ڈراما سیریز) اور توتا کہانی (ڈراما سیریز) ان کی نمایاں تصانیف ہیں۔ 1965ء سے انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور پر ایک ہفتہ وار فیچر پروگرام تلقین شاہ کے نام سے کرنا شروع کیا جو اپنی مخصوص طرز مزاح اور دومعنی گفتگو کے باعث مقبول عام ہوا اور تیس سال سے زیادہ چلتا رہا۔

70 کی دہائی کے شروع میں اشفاق احمد نے معاشرتی اور رومانوی موضوعات پر ایک محبت سو افسانے کے نام سے ایک ڈراما سیریز لکھی اور 80 کی دہائی میں ان کی سیریز طوطاکہانی اور من چلے کا سودا نشر ہوئی جو عوام میں بہت مقبول ہوئی۔ اشفاق احمد اپنے ڈراموں کے پلاٹ سے زیادہ مکالمے پر زور دیتے تھے اور ان کے کردار طویل گفتگو کرتے تھے۔پھرکچھ عرصہ تک وہ پاکستان ٹیلی وژن پر زاویہ کے نام سے ایک پروگرام کرتے رہے جس میں وہ اپنے مخصوص انداز میں قصے اور کہانیاں سناتے تھے۔

  اشفاق احمد7 ستمبر، 2004ء کو جگر کی رسولی کی وجہ سے انتقال کرگئے تھے ۔اشفاق احمد ایک مایہ ناز صحافی اور دانشور تھے۔ اردو ادب کے قاری ہمیشہ اشفاق احمد کی تحریروں سے استفادہ کرتے رہیں گے۔اردو ادب میںاشفاق احمد جیسی کہانی لکھنے کا فن کسی دوسرے شخص کو حاصل نہیں ہو سکا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں

انٹرٹینمنٹ سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید
ویڈیو رپورٹس سے مزید