آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پشاور (نمائندہ خصوصی)خیبر پختونخوا کو تھلی سیمیا فری صوبہ بنانے کیلئے خصوصی مہم کا آغاز کر دیا ہے ،پاکستان میں ہر سال تھیلی سیمیاکےمریض بچوں کی تعداد 12ہزار کا ہزار کا اضافہ ہورہاہے جبکہ خیبر پختونخوا میں تعداد40ہزار سے بڑھ گئی ہے،یہ اعداد وشمارحمزہ فائونڈیشن کے چیئر مین اعجاز علی خان نے اجلاس کے بعد بریفنگ میں بتائے، انہوں نےکہا کہ تھیلیسیمیا کے شکار بچوں کو پیدائش سے لے کر عمر بھر ہر 15روز بعد خون چڑھایا جاتاہے ،تھیلی سیمیاسے مستقل نجات ہڈی کے گودے کے آپریشن ہی سے حاصل کی جاسکتی ہے جس پر 25لاکھ روپے تک خرچ آتاہے اوریہ غریب لوگوں کے بس میں نہیں ،انہوں نےکہا کہ کراچی کے ممتاز ہیماٹالوجیسٹ پروفیسرڈاکٹر طاہر شمسی اور پروفیسر ڈاکٹر ثاقب حسین انصاری کی 10سالہ تحقیقات کی روشنی میں نئی دوائی دریافت کرلی گئی ہے جس سےبچوں کی جانیں خون چڑھائے بغیر بھی بچائی جاسکتی ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں