آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا نے دس ستمبر کو ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے واشنگٹن میں فلسطین کی تحریک آزادی یا پی ایل او کا دفتر بند کرنے کا حکم دیا ہے۔امریکا نے الزام لگایا ہے کہ فلسطین کے رہنما اسرائیل کے ساتھ مذاکرات میں امن کی جانب پیش رفت نہیں کر رہے، اس لیے ان کا دفتر بند کردیا جائے ۔امریکی محکمہ خارجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ بار بار کی کوششوں کے باوجود فلسطین کی تحریک آزادی کے رہنما امریکا کے ساتھ امن کے عمل میں شامل ہونے سے گریز کرتے رہے ہیں۔ ان دعوئوں کی تنظیم کے سیکریٹری جنرل ،صائب عریقات نے تردید کی ہے اور امریکی اقدام کو کشیدگی بڑھانے کا موجب قرار دیا ہے۔

صائب عریقات فلسطین کے سفارت کار ہیںجو اس سے قبل پی ایل او کے مختلف عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ وہ بائیس سال سے فلسطین علاقے اریحا (JERICHO) سے فلسطین کی پارلیمان کے رکن بھی ہیں۔یاد رہے کہ اریحا فلسطین کا مشرقی علاقہ ہے جو بحیرہ مردار کی شمالی حدودوں سے ملتا ہے۔

تنظیمِ آزادی فلسطین 1964میں قائم کی گئی تھی اور ابتدامیں اس کا مقصد مسلح جدوجہد کے ذریعے فلسطین کو آزاد کرانا تھا ۔ سو سے زیادہ ممالک اس تنظیم کو فلسطینیوں کی واحد نمائندہ جماعت تسلیم کرتے ہیں جن سے اس کے سفارتی تعلقات بھی ہیں۔اپنے قیام کے دس سال بعد یعنی 1974میں اس تنظیم کو اقوام متحدہ نے بھی آبزرور (OBSERVER) کا درجہ دے دیا تھا، مگر امریکا اور اسرائیل اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دیتے رہے ہیں۔ اس صورت حال میں1991میں تبدیلی آئی تھی،جب اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں کانفرنس ہوئی۔اس کانفرنس کے وقت سوویت یونین قائم تھااور اس نے اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر قیامِ امن کی کوشش کی تھی۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ اس کانفرنس کے انعقاد کےصرف ایک ماہ بعد دسمبر 1991میں سوویت یونین کو خود اس کے صوبوں نے توڑنے کا اعلان کر دیا تھا اوروہ دنیا کے نقشے سے مٹ گیا۔اس کانفرنس میں اردن، لبنان، اور شام بھی شریک ہوئے تھے۔ اس کانفرنس کے پسِ منظر میں اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ جیمز بیکر کی کوششوں کا بھی دخل تھاجو امریکی صدر جارج بش سینئر کی ایما پر مشرق وسطیٰ میںقیامِ امن کی کوششیں کر رہے تھے ۔اسی دوران پہلی خلیجی جنگ بھی ہوئی تھی، جس میں کویت کو عراق کے قبضے سے آزاد کرایا گیا تھا ۔میڈ رڈ کانفرنس کے بعد1993میںاوسلو معاہدےپردست خط کیےگئے جسے اب پچیس سال ہو چکے ہیں، مگر امن کی جانب خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

دراصل اوسلو معاہدے بھی دو مرحلوں پر مشتمل تھے۔ اوسلو اوّل معاہدے کے تحت ایسا خاکہ تیار کرنے کی کوشش کی گئی تھی جس کے تحت اس مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔ یہ اسرائیل اور پی ایل او کا پہلا بہ راہ راست اور روبہ رو معاہدہ تھا جس کی سرپرستی امریکی صدر بل کلنٹن نے کی تھی اور اس میں اسرائیلی وزیر اعظم اسحاق رابن اور پی ایل او کے سربراہ یاسر عرفات شریک تھے۔ اسے اوسلو معاہدہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کے لیےخفیہ مذاکرات ناروےکےدارالحکومت اوسلومیں ہوئے تھے۔ مگر اس پر دست خط ستمبر1993میں واشنگٹن میں ہوئے۔ اس معاہدے کے دو سال بعد اوسلو دوم معاہدے پر ستمبر 1995میں دست خط ہوئے تھے۔اس معاہدے کے تحت اسرائیل نے پہلی مرتبہ فلسطینی علاقوں میں پی ایل او کی عبوری خود مختاری تسلیم کی تھی، مگر حتمی آزاد ریاست کا مطالبہ منظور نہیں کیا گیا تھا۔ اس طرح فلسطینی اتھارٹی کو مقامی حکومت کےکچھ اختیارات دے دیے گئے تھے۔ اس معاہدے کاخمیازہ اسحاق رابن کو بھگتنا پڑااور نو مبر 1995میں انہیں قتل کر دیا گیا ۔

اس معاہدے کی رو سے فلسطینی اتھارٹی کو محدود خود مختاری تو مل گئی، مگر پھر خود فلسطینی آپس میں لڑ پڑے اور الفتح اور حماس کی راہیں جداہوگئی تھیں۔ فلسطین اتھارٹی غزہ کی پٹی اور دریائے اردن کے مغربی کنارے پر مشتمل ہے۔یہ دونوں علاقے ایک دوسرے سے جدا ہیں اور ان کے بیچ میں اسرائیل گھسا ہوا ہے۔ غزہ کی پٹی بحیرہ روم کے ساحل پر واقع علاقہ ہے۔ جس کی چوڑائی صرف دس کلومیٹرز اور لمبائی بہ مشکل پچاس کلومیٹرزہے۔ اتنے سے علاقے میں تقریبا بیس لاکھ کے قریب فلسطینی آباد ہیں جن پر پچھلے دس سال سے حماس حکومت کر رہی ہے۔غزہ کی پٹی کے مقابلے میں مغربی کنارے کے علاقے میں کوئی سمندر نہیں ،سوائے بحیرہ مردار کے جو خود ایک جھیل ہے۔مغربی کنارے کی آبادی تقریباً تیس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے اس طرح فلسطینی اتھارٹی کے دونوں الگ الگ بازوئوں میںمجموعی طور پر پچاس لاکھ کے قریب فلسطینی آباد ہیں۔

حماس سُنّی اصلاح پسند جماعت ہے جسے تیس برس قبل 1987میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کے دو ذیلی ادارے ہیں۔ایک تو دعوۃ کے نام سے سماجی خدمات فراہم کرنے والا بازو ہے اور دوسرا عز الدین القسام بریگیڈ ہے جسے کتائب القسام بھی کہا جاتا ہے۔ القسام بریگیڈ اوسلو معاہدےکا شدید مخالف رہاہے۔اس کے مطابق یہ معاہدے فلسطین کی آزاد ریاست کے منافی ہیں اور یاسر عرفات نے یہ معاہدے کر کے غلطی کی تھی۔ ایک طرح سے اس بات میں کچھ صداقت بھی ہے،کیوں کہ پچیس سال میں اسرائیل نےبار بار اوسلو معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے اور اسرائیل میں اسحاق رابن کے قتل کے بعد دائیں بازو کے سیاست داںفلسطینیوں کو کوئی رعایت دینے کے لیےتیار نہیں ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ حماس نے 1987میں اپنے قیام کے بعد انتقاضہ یا مسلح مزاحمت شروع کی تھی جس کےنتیجے میں اسرائیل اوسلو معاہدوں پر مجبور ہوا تھا۔

امریکا نے پی ایل اوکا جودفتر بند کرنے کا اعلان کیا ہے وہ اوسلو اول معاہدے کے بعد1994میں کھولا گیا تھا جس کی اجازت امریکی صدر بل کلنٹن نے دی تھی اور اس معاہدے کے تحت فلسطینی اتھارٹی اپنے لوگوں کو پاسپورٹ بھی دینے لگی تھی جسے امریکا اور دیگربہت سے ممالک نے سفری دستاویز کے طور پر قبول بھی کر لیاتھا ۔ اب ایک طرف تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرکے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں،دوسری طرف وہ پی ایل او کا دفتر بند کر رہے ہیںاور تیسری طرف دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ ایک اور امن منصوبے کا اعلان کرنے والے ہیں۔دراصل اس نئے مبینہ معاہدے کے لیےپی ایل او نے امریکا کے ساتھ کام کرنے سے انکار کردیا ہےجس کی پاداش میں اس کا دفتر بند کیا جا رہا ہے۔

دراصل ٹرمپ یہ چاہتے ہیں کہ پی ایل او اسرائیل سے اس کی شرائط کے مطابق مذاکرات کرے،یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلے، فلسطین کی آزاد ریاست کے قیام کے مطالبے سے دست بردار ہو جائے اور دیگر اسرائیلی شرائط بھی تسلیم کر لے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح تو فلسطین کی آزاد ریاست کے قیام کے خواب کو تعبیر ملنا ناممکن ہو جائے گا اور امریکا اوراسرائیل یہی چاہتے ہیں کہ فلسطین میں ہر طرح کی مزاحمت کا مکمل طورپر خاتمہ کر دیا جائے جو فلسطینیوں اور پی ایل او کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔

امریکا اور اسرائیل کو اس بات پر بھی غصہ ہے کہ فلسطینی کیوں عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اسرائیل نے دس پندرہ برسوںمیں فلسطینی علاقوں پر پے درپے حملے کیے ہیں اور ہزاروں فلسطینیوں کو شہید کر دیا ہے۔ مگر وہ ان حملوں کا ذمے دار خود فلسطینیوں کو قرار دیتا رہا ہےجو بےچارے پتھروں اورغلیل سے اسرائیل کی توپ و تفنگ کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس ساری صورت حال میں خود مسلم ممالک ، بالخصوص عرب ممالک کا کردار ناقابلِ معافی ہے۔سب بالکل خاموش ہیں اور سعودی عرب تو اب اپنے نئے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں اسرائیل سے روابط بڑھا رہا ہے۔ سعودی عرب کا اصل نشانہ ایران اور یمن ہیں اور سعودی ولی عہد نے برملا اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی اسرائیلی کارروائی کی حمایت کریں گے۔

اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ امریکا کی تمام تر مسلم دشمن پالیسیز کے باوجود عرب ممالک کے حکم راںاور غیر عرب اسلامی ممالک کی حکومتیں بھی کوئی واضح موقف اپنانے میں ناکام رہی ہیں جس کے نتیجے میں امریکا اور اسرائیل اپنے ایجنڈے پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ان حالات میںہونا تو یہ چاہیے کہ پی ایل اوکا دفتر بند کرنے کے حکم کے جواب میں تمام مسلم ممالک امریکا سے اسلحے کی خریداری بند کر دیںاور وہ تمام مذہبی جماعتیں جو ذرا ذرا سی بات پر سڑکوں پر آ جاتی ہیں انہیں اپنے مجاہدین فلسطین بھیجنے چاہئیں جووہاں جا کر اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی مدد کریں۔لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں