آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عام طور پر سر درد کی بیماری کو ایک عام بیماری تسلیم کیا جاتا ہے۔سردرد ہے تو پیناڈول کھالو یا پھر ڈسپرین کچھ ہی دیر میں درد میں افاقہ ۔۔لیکن ہر سر درد عام نہیں ہوتا سر درد کی مختلف اقسام ہوتی ہیں، اکثر لوگوں کو ہر کچھ دن بعد آدھے سر میں دردہونے لگتا ہے (کسی کو دائیں یا پھرکسی کو بائیں جانب ) یہ درد تین چار گھنٹے رہتا ہے لیکن اس کی شدت اور پیمانہ ہر فرد میں مختلف ہوتا ہے۔ اس دوران جس حصے میں درد ہو اس حصے کے کان ،آنکھ اور گال بھی درد سے متاثر ہونے لگتے ہے یہ درد منہ کے اندر موجود مسوڑھوں سے شروع ہوتا ہے اور مریض کو ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ جیسےکنپٹیاں پھٹ جائیں گی اور دماغ کی نسیں کام کرنا بند کردیں گی ۔یہ درد دوائیوں کی صورت ختم ہوتا ہے یا پھر کچھ لوگوں کو جتنی قے آتی ہےآہستہ آہستہ ان کا درد اتنا ہی ختم ہوتا چلا جاتا ہے۔ ماہرین طب اس مرض کو میگرین کا نام دیتے ہیں دنیا کا ہر ساتواں فرد اس مرض کا شکار ہے جن میں کئی نامور سلیبرٹیز بھی شامل ہیں۔

سلیبرٹیز اور میگرین کا مرض

٭دنیا ٹینس کی ملکہ سرینا ولیم بھی ماضی میں میگرین کے مرض کا شکار رہ چکی ہیں ان کا کہنا ہےاس مرض کے حملہ آور ہونے تک میں اس مرض سے واقف نہیں تھی لیکن جب میں اس مرض کا شکار ہوئی تب میں نے جانا کہ دنیا کی 60فیصد خواتین اس مرض کا شکار ہیں جس کا تعلق خواتین کے ہارمونز کی خرابی،کھانوں میں بد احتیاطی یا پھر نیند کی کمی یا زیادتی سے ہےمیرے ڈاکٹر کے مشوروں اور دی گئی میڈیسن کی بدولت ہی اس مرض سے نجات ممکن ہوپائی۔

٭امریکی سیاستدان مائیکل بیکمن ایک جانی مانی شخصیت ہیں جنہیں 2011میں امریکی ذرائع ابلاغ کی اجنب سے سخت تنقید اور مضحکہ خیز مضامین کا سامنا کرنا پڑا ۔سخت ذہنی دباؤ کے سبب مائیکل بھی میگرین مرض کا شکار ہوگئیں اس دوران انہیں کنپٹیاں پھٹتی ہوئی محسوس ہوتی اور بالاخر انھیں بھی ڈاکٹر سے رجوع کرنا پڑا۔

٭امریکی اداکارہ ،کامیڈین اور رائٹر لسا کدرو بھی میگرین کے مرض کا شکا رہ چکی ہیںان کا کہنا ہے کہ جب یہ مرض مجھ پر حملہ آور ہوا تب ایک خوبصورت دن کا اختتام تیز اور شدید سر درد پر ہوتا۔ان کا کہنا ہے کہ میرے والد اور خاندان کے دیگر رشتہ دار بھی اس سے قبل اس مرض کا شکار رہ چکے تھے جس کے باعث یہ مرض مجھ میں منتقل ہوا۔طبی ماہرین کی رائے کے مطابق جو والدین میگرین کے مرض کا شکار رہے ہوں ان میں میں اس مرض کے منتقل ہونے کے چانسز 50سے75فیصد پائے جاتے ہیںاسی لیے اگر والدین اس مرض کا شکار ہوں تولازم ہے کہ آپ مناسب وقت پر ڈاکٹر سے مشورہ لیں،

٭باسکٹ لیجنڈ کریم عبد الجبارکو 14سال ی عمر میں پہلی مرتبہ میگرین کا سامنا رہاان کے مطابق دوران میگرین مرض ایسا محسوس ہوتا تھاکہ گردن اور کنپٹیوں کے گرد درد کی شدت زیادہ ہے۔لیکن میڈیسن،ڈاکٹر کی ہدایات،یوگا ،مساج اور بائیوفیڈ بیک کی بدولت اس مرض پر قابو پانا آسان ہوگیا۔اگر آپ ذہنی دباؤ پر قابو پالیں تو اس مرض کی شدت کم ہوتی محسوس ہوتی ہے ۔

میگرین سے کیسےبچاجائے؟

اس مرض سے متعلق معلومات سے زیادہ جو چیزضروری ہےوہ یہ کہ اس مرض سے نجات کے طریقوں اور ان ہدایات پر گفتگو کی جائے جن کے پیش نظر اس مرض پر قابو پانا آسان ہوسکے ۔اس مرض سے نجات کا سب سے پہلا مرحلہ ڈاکٹرز سے مشاورت ہے آپ کو محسوس ہے کہ آپ سر درد کے علاوہ میگرین کے مرض کی علامات (سر بھاری ہوناا اور شدید درد،نظر دھندلانا،متلی کی کیفیت ہونا،چڑچڑاپن اوراکتاہٹ میگرین کی علامات میں شامل ہیں)

بھی محسوس کررہے ہیں تو فوری طور پر اپنے فیملی ڈاکٹر سے رجوع کریں اور دی گئی میڈیسن اور ہدایات پر باقاعدگی سے عمل کریں ساتھ ہی مندرجہ ذیل ہدایات بھی میگرین کے مریضوں کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہیں ۔

٭ ماہرین کے مطابق نیند کے باعث بھی میگرین کی بیماری لاحق ہوسکتی ہے اس لیے کوشش کریں کہ بھرپور اور پرسکون نیند لیں ۔ان طریقوں مثلا ،پسندیدہ کتاب کا مطالعہ ،گرم پانی کا غسل ،یا پھر ہلکی پھلکی موسیقی پر عمل کریں جن کے بعد آپ اچھی نیند لے سکیں۔

٭رات کو سونے سے قبل کی جانے والی سرگرمیوں کا خیال رکھیں مثلا بھاری ایکسرسائز نہ کریں ،مرغن کھانے نہ کھائیں نہ ہی نکوٹین اور الکحل والے مشروبات کا استعمال کریں یہ تمام اشیاء اچھی نیند کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں ۔

٭ روانہ استعمال کی جانے والی غذااؤں کا خیال رکھیں ۔مثلا

نمک سے پرہیز۔تحقیق سے ثابت ہے کہ نمک کے زیادہ استعمال سے میگرین کے درد میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

پنیر کا استعمال کم کردیں خاص طور پر باسی پنیر کیونکہ پنیر میں موجود ٹائرامن میگرین کی شدت میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔

٭ذہنی تناؤ سے دور رہیں اپنے روزمرّہ کے اسٹریس (ذہنی دباؤ) کو نظر انداز کردیا کریں اپنے اُوپر حاوی نہ کریں کیونکہ کوئی نہ کوئی تناؤ اس قسم کے دورکاسبب بنتا ہے۔

٭میگرین کی صورت میں واک، سوئمنگ، سائیکلنگ، بہترین چوائس ہوسکتی ہیں ایکسر سائزنگ میگرین کے خاتمہ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

٭کوشش کریں کہ دیر سے نہ سوئیں اور نا ہی صبح دیر سے جاگیں، اگر چھٹی کے دن دیر تک سونا ہو تو کوئی کھڑکی تھوڑی سی کھلی رکھیں تاکہ تازہ ہوا آتی رہے۔

سیلیبرٹیز اور میگرین کا مرض

٭دنیا ئےٹینس کی ملکہ سرینا ولیم بھی ماضی میں میگرین کے مرض کا شکار رہ چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہےاس مرض کے حملہ آور ہونے تک میں اس مرض سے واقف نہیں تھی لیکن جب میں اس مرض کا شکار ہوئی تب میں نے جانا کہ دنیا کی 60فیصد خواتین اس مرض کا شکار ہیں، جس کا تعلق خواتین کے ہارمونز کی خرابی،کھانوں میں بد احتیاطی یا پھر نیند کی کمی یا زیادتی سے ہے۔ میرے ڈاکٹر کے مشوروں اور دی گئی میڈیسن کی بدولت ہی اس مرض سے نجات ممکن ہوپائی۔

٭امریکی سیاستدان مشل بیکمن ایک جانی مانی شخصیت ہیں، جنہیں 2011ء میں امریکی ذرائع ابلاغ کی جانب سے سخت تنقید اور مضحکہ خیز مضامین کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ سخت ذہنی دباؤ کے سبب مشل بھی میگرین کے مرض کا شکار ہوگئی تھیں، اس دوران انہیں کنپٹیاں پھٹتی ہوئی محسوس ہوتی تھیں۔ اس مرض سے نجات حاصل کرنے کے لیے بالآخر انھیں بھی ڈاکٹر سے رجوع کرنا پڑا۔

٭باسکٹ بال لیجنڈ کریم عبد الجبارکو 14سال کی عمر میں پہلی مرتبہ میگرین کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق میگرین کے دوران گردن اور کنپٹیوں کے گرد درد کی شدت بہت زیادہ محسوس ہوتی تھی۔ لیکن میڈیسن،ڈاکٹر کی ہدایات،یوگا ،مساج اور بائیوفیڈ بیک کی بدولت اس مرض پر قابو پانا آسان ہوگیا۔ اگر آپ بھی ذہنی دباؤ پر قابو پالیں تو اس مرض کی شدت کم ہوتی محسوس ہوگی۔

٭امریکی اداکارہ،کامیڈین اور مصنف لسا کدرو بھی میگرین کے مرض کا شکا ر رہ چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب یہ مرض مجھ پر حملہ آور ہوتا تھا تو تب ایک خوبصورت دن کا اختتام تیز اور شدید سر درد پر ہوتا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ میرے والد اور خاندان کے دیگر رشتہ دار بھی اس سے قبل اس مرض کا شکار رہ چکے تھے، جس کے باعث یہ مرض مجھ میں منتقل ہوا۔ طبی ماہرین کی رائے کے مطابق جو والدین میگرین کے مرض کا شکار رہے ہوں، ان کے بچوں میں اس مرض کے منتقل ہونے کے چانسز 50سے75فیصد پائے جاتے ہیں۔ اسی لیے اس مرض کا شکار والدین کو چاہیے کہ مناسب وقت پر ڈاکٹر سے مشورہ کرلیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں