آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد (رپورٹ۔ مہتاب حیدر) پاکستان کے اقتصادی منیجرز نے واشنگٹن سے آئی ایم ایف کی ٹیم کو وڈیو کانفرنس کے ذریعے بریفنگ دی جس میں آئندہ ہفتے منی بجٹ اور ٹیکس مراعات کی جزوی واپسی، پرتعیش اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی کا نفاذ اور ترقیاتی اخراجات میں330ارب سے430ارب روپے تک کٹوتی شامل ہیں۔ فنانس ایکٹ2018ء میں مجوزہ تبدیلیوں کے ذریعے100ارب سے125ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگائے جائیں گے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے جمعرات کو یہاں آئی ایم ایف کی ٹیم کو بتایا کہ بجٹ حقیقت پسندانہ مفروضوں، مالی وصولیوں کے مجموعی اہداف اور اخراجات کے مطابق ہو گا جس کا مقصد بجٹ خسارے کو قابل برداشت حد پر لانا ہے۔ گزشتہ مالی سال میں بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے6.6فیصد کے مساوی2260ارب روپے رہا۔ آئی ایم ایف کی اسٹاف ٹیم27ستمبر کو ہفت روزہ مذاکرات کے لئے اسلام آباد پہنچے گی لیکن پاکستانی حکام نے اسے وڈیو کانفرنس کے ذریعے بریفنگ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں