آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ11؍ربیع الثانی 1440ھ 19؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

12جولائی 2018ء کو لندن کے’’ ہارلے اسٹریٹ کلینک‘‘ میں ایک سال سے زاید زیرِ علاج، 68سالہ بیگم کلثوم نواز سے اُن کے شوہر، سابق وزیرِ اعظم، میاں نواز شریف نے پاکستان واپس آنے سے قبل ملاقات کی، تو اُن کے گمان میں بھی نہ تھا کہ رفیقِ حیات سے یہ اُن کی آخری ملاقات ہوگی اور 47سالہ رفاقت ٹوٹنے کی خبر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ملے گی۔ کلثوم نواز ایک سال، 25دن کینسر جیسے مُوذی مرض سے نبردآزما رہیں۔ اسپتال میں اُن کا بیش تر وقت نیم بے ہوشی کی حالت ہی میں گزرا۔ انتقال کے بعد ایسی کئی تصاویر، ویڈیوز منظرِ عام پر آئیں، جن میں آخری ملاقات کے جذباتی مناظر محفوظ تھے۔ ایسی ہی ایک ویڈیو میں نوازشریف، کلثوم نواز سے کہہ رہے ہیں کہ’’ زرا آنکھیں کھولو کلثوم… بائوجی۔ اللہ آپ کو صحت و تن درستی عطا کرے۔‘‘ اُس موقعے پر نوازشریف کی بیٹی، مریم بھی اُن کے ساتھ تھیں، جن کا کہنا ہے کہ’’بار بار نام لینے پر امّی نے ایک مرتبہ آنکھیں کھولیں، لیکن کچھ کہنے کی بجائے، اُن کی آنکھوں سے دو آنسو ڈھلک گئے۔‘‘ لاہور کے متوسّط کشمیری گھرانے میں جنم لینے والی یہ خاتون، زندگی کے غیر معمولی نشیب و فراز دیکھنے کے بعد، اپنے وطن سے دُور، دیارِ غیر میں 11ستمبر کو مقامی وقت کے مطابق سوا گیارہ بجے زندگی کی بازی ہار گئیں۔ اُس وقت پاکستان میں سہ پہر کے سوا تین بجے تھے۔ جب اڈیالہ جیل میں قید، میاں نواز شریف اور مریم نواز تک یہ خبر پہنچی ہوگی، تو یقیناً بیگم کلثوم نواز سے آخری ملاقات کے کرب انگیز مناظر اُن کی آنکھوں کے سامنے بھی گھوم گئے ہوں گے۔ پھر یہ بھی کہ میاں نوازشریف کی آنکھوں میں کئی دہائیوں پر محیط رفاقت کے شب و روز بھی سِمٹ آئے ہوں گے اور اس دَوران پیش آنے والے تلخ و شیریں واقعات نے اُنہیں اپنی گرفت میں لے لیا ہوگا کہ کس طرح کلثوم تین بار پاکستان کی خاتونِ اوّل رہیں اور جب شریف خاندان پر کڑا وقت آیا، تو ایک گھریلو خاتون نے کس پامَردی سے حالات کا مقابلہ کیا اور پارٹی کو متحد رکھا۔

دیکھا جائے، تو کلثوم نواز کی زندگی بھی تلخ اور شیریں واقعات کا مجموعہ تھی۔ 29مارچ 1950ء کو لاہور کے ایک کشمیری گھرانے میں حفیظ بٹ کے ہاں جنم لینے والی، کلثوم بی بی کو شاید جوانی میں بھی اندازہ نہ ہو کہ وہ آگے چل کر پاکستانی سیاست کا ایک اہم عنوان بن جائیں گی۔ مزید یہ کہ وہ ایک ایسے شخص کی زندگی کی ساتھی بنیں گی، جو پاکستانی سیاست کے کئی تہلکہ خیز باب رقم کرے گا اور وہ نہ صرف اس کی چشم دید گواہ ہوں گی، بلکہ عوام کے اندازوں کے برعکس، پاکستانی سیاست میں اہم کردار بھی ادا کریں گی۔ بیگم کلثوم نواز نے ابتدائی تعلیم مدرستہ البنات سے حاصل کی، اسلامیہ کالج فار گرلز اور فارمن کرسچین کالج (ایف۔ سی کالج) میں بھی زیرِ تعلیم رہیں۔ بعدازاں، پنجاب یونی ورسٹی، لاہور سے 1970ء میں ایم اے اُردو کیا۔اپریل 1971ء میں میاں نوازشریف سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوگئیں اور پھر آخری دَم تک ساتھ نبھایا۔ وہ شروع ہی سے بہت شگفتہ مزاج اور دھیمے لہجے والی، غریب پرور خاتون تھیں۔ بیگم کلثوم نواز کی دو بہنیں اور ایک بھائی ہے۔ جہاں ایوان ہائے اقتدار میں بہت ہی اچھے دن دیکھنے کو ملے، وہاں اُنہیں سیاست کے نشیب و فراز نے سڑکوں پر بھی لاکھڑا کیا۔ وہ تین بار خاتونِ اوّل رہنے والی پاکستان کی واحد خاتون ہیں۔ پہلی بار 1990ء سے 1993ء تک، دوسری بار 1997ء سے 1999ء تک اور تیسری بار 2013ء میں جب نون لیگ کو عام انتخابات میں کام یابی حاصل ہوئی۔ ایوان ہائے اقتدار کی غلام گردشوں میں شب و روز گزارنے والی کلثوم نواز، نہ جانے پاکستانی سیاست کے کتنے رازوں کی امین تھیں اور کتنے تاریخ ساز فیصلوں کی چشم دید گواہ، لیکن یہ راز ہائے درونِ خانہ، اُن کے انتقال کے ساتھ ہی دفن ہوگئے۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ وہ کم گو تھیں اور اُنھیں میڈیا کی لائم لائٹ میں آنا پسند نہیں تھا، البتہ جو بات سب کو معلوم ہے، وہ یہ ہے کہ جہاں اُنہوں نے خاتونِ اوّل کی حیثیت سے اقتدار اور اختیارات دیکھے، وہاں ضرورت پڑنے پر خاتونِ خانہ کی بجائے ’’مردِ میدان‘‘ بھی ثابت ہوئیں۔

یہ جنرل پرویز مشرف کے دَور کی بات ہے، جب اقتدار پھولوں کے ہار کی بجائے، کانٹوں کی سیج بن گیا تھا۔ فوجی سربراہ، جنرل پرویز مشرف نے منتخب وزیرِ اعظم، میاں نوازشریف کا تختہ الٹ کر اُنہیں قید اور کلثوم نواز کو گھر میں نظر بند کردیا۔ ان حالات میں نواز شریف نے کلثوم نواز کو پاکستان مسلم لیگ (نون) کا صدر نام زَد کردیا اور یہی وہ وقت تھا، جب کلثوم نواز نے اپنے شوہر کی توقّعات کو نہ صرف پورا کر دِکھایا، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر کام کیا۔ بیگم کلثوم نواز کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اُس نازک دَور میں، جب اُن کی جماعت کے لوگ باہر نکلنے سے گریزاں تھے، وہ مایوسی کے اندھیروں میں اُمید کا چراغ بن گئیں اور ثابت قدمی سے مَردانہ وار حالات کا مقابلہ کیا۔ اُنہوں نے کارکنوں کو متحد کرنے اور حوصلہ دینے میں اہم کردار ادا کیا اور اُن کی یہی وہ سیاسی جدوجہد ہے، جس کا اُن کے مخالفین بھی برملا اعتراف کرتے ہیں۔ وہ 1999ء سے 2002ء تک مسلم لیگ نون کی صدر رہیں اور اپنے فرائض خوش اسلوبی سے نبھائے۔ اُس موقعے پر نواب زادہ نصراللہ خان نے اُنہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ وہ ایک نڈر خاتون ہیں۔‘‘ وزیرِ اعظم، عمران خان نے بھی اپنے تعزیتی پیغام میں اُنہیں ایک بہادر خاتون قرار دیا۔ پرویز مشرف کے دَور میں اُن کی اس سیاسی جدوجہد نے اُنہیں اُن خواتین کی صف میں لاکھڑا کیا، جنہوں نے پُرآشوب حالات میں سیاسی جدوجہد کی۔ ان بہادر خواتین میں محترمہ فاطمہ جناح، بیگم نصرت بھٹّو، بے نظیر بھٹّو، بیگم نسیم ولی خان وغیرہ شامل ہیں۔ اُس دَور میں بیگم کلثوم نواز نے کہا تھا کہ’’ پرویز مشرف کا مارشل لاء، تاریخ کا آخری مارشل لاء ہوگا۔‘‘ گھریلو خاتون ہونے کے باوجود، اُنہوں نے لاہور میں وکلاء سے خطاب کے دَوران، جس بے خوفی سے اپنا نقطۂ نظر پیش کیا، اُس کی سب نے تعریف کی۔ اکثر سیاسی رہنما اس بات پر متفّق ہیں کہ اگر کلثوم نواز شوہر کی نظر بندی کے زمانے میں گھر سے باہر نہ نکلتیں، تو پارٹی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچتا۔ اُن کا سب سے بڑا کریڈٹ یہی ہے کہ ایک گھریلو خاتون ہونے کے باوجود، خار زارِ سیاست میں قدم رکھا اور پارٹی کو ایک ایسے وقت میں سنبھالا دیا، جب یہ منتشر ہونے والی تھی۔ اسی دَوران ایک واقعہ نہ صرف پاکستان، بلکہ عالمی میڈیا کا بھی موضوع بنا۔ بیگم کلثوم نواز کو ایک مظاہرے میں شرکت سے روکنے کی کوشش کی گئی، مگر وہ رکاوٹیں توڑ کر گھر سے باہر نکل آئیں، جس پر پولیس اہل کاروں نے ایک کرین کے ذریعے اُنھیں کار سمیت اٹھا لیا اور کئی گھنٹے اسی حالت میں رکھا۔

کلثوم نواز اپنے گھر میں سربراۂ خانہ تو تھیں ہی اور اُنہیں خاندان میں ایک بائنڈنگ فورس (Binding Force)کی حیثیت حاصل تھی، لیکن جب نازک حالات میں گھر سے باہر اُن کی ضرورت پڑی، تو یہاں بھی اُنہوں نے اسی بائنڈنگ فورس کا کام سرانجام دیا۔ شریف فیملی کو کئی بار سیاسی اونچ نیچ سہنی پڑی اور ہر بار اُنہوں نے مل کر مقابلہ کیا۔ سعودی عرب میں جلاوطنی کے دَوران میاں نوازشریف کے والد، محمّد شریف انتقال کر گئے، تو اُن کا جسدِ خاکی تدفین کے لیے لاہور لایا گیا۔ نمازِ جنازہ میں صرف حمزہ شہباز شریف اور کچھ دیگر فیملی ممبرز ہی شریک ہو سکے تھے۔ اب بیگم کلثوم نواز کی لاہور میں تدفین ہوئی، تو اُن کے بیٹے، حسن اور حسین والدہ کے سفرِ آخرت میں شرکت سے محروم رہے۔ سیاسی مبصّرین کے خیال میں موجودہ حالات کے پیشِ نظر شریف فیملی کے لیے یہ ایسا گھائو ہے، جسے مندمل ہونے میں ایک لمبا عرصہ لگے گا اور کلثوم نواز کی کمی ایک طویل عرصے تک شدّت سے محسوس کی جاتی رہے گی۔

سفرِ آخرت…

بیگم کلثوم نواز کا سفرِ آخرت، جو جمعرات 13ستمبر کو لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ سے شروع ہوا، جمعہ 14ستمبر کو شام 5بجے جاتی امرا کے قبرستان میں تدفین کے ساتھ ختم ہو گیا۔ نمازِ جنازہ عالمی مبلغ، مولانا طارق جمیل نے پڑھائی۔ اس شہرِ خموشاں میں شریف فیملی کے سربراہ، میاں محمّد شریف کے علاوہ کئی اور افراد بھی دفن ہیں۔ میّت کی لندن سے روانگی سے پہلے،’’ ریجنٹ اسلامک پارک‘‘ میں بھی اُن کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ اس سے قبل نواز شریف کو پیرول پر رہا کر دیا گیا تھا اور وہ جاتی امرا میں مقیم تھے، جہاں اُن سے تعزیت کے لیے دو گھنٹے، شام چار سے چھے بجے تک کا وقت مقرّر تھا۔ اس دَوران اُن کی طبیعت ناساز رہی اور وہ غم سے نڈھال تھے۔ لندن سے بیگم کلثوم نواز کے جسدِ خاکی کے ساتھ شہباز شریف اور اسما شریف کے علاوہ 13افراد آئے۔ نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے پیرول کی مدّت میں تین روز کی توسیع کی گئی، جسے پنجاب کی تاریخ کا پہلا واقعہ قرار دیا گیا۔ تدفین سے قبل، جمعرات کو مسلم لیگ (نون) کے صدر، شہباز شریف کے صاحب زادے، سلمان شہباز نے نمازِ جناز کی ادائی کے انتظامات کاجائزہ لیا۔ اُنہوں نے معروف صوفی شاعر، میاں محمّد بخش کا یہ شعر پڑھ کر کلثوم نواز کو خراجِ عقیدت پیش کیا’’باپ مَرے سِر ننگا ہوندا، وِیر مَرے کنڈھ خالی…ماواں باج محمّد بخشا، کون کرے رکھوالی۔‘‘ جاتی امرا میں لیگی کارکنوں اور دیگر شخصیات کا تعزیت کے لیے تانتا بندھا رہا۔ نمازِ جنازہ میں تحریکِ انصاف کا وفد گورنر پنجاب کی قیادت میں شریک ہوا، جب کہ ایم کیو ایم، پیپلزپارٹی کے وفود اور مولانا فضل الرحمٰن بھی تعزیت کے لیے پہنچے۔ نیز، تمام سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے سیاست سے بالاتر ہو کر میاں نواز شریف سے تعزیت کی، جب کہ مختلف ممالک کے سربراہان نے بھی فون کر کے اظہارِ افسوس کیا۔

زندگی کے چند پہلو…

بیگم کلثوم نواز نے خاتونِ اوّل کی حیثیت سے کئی انٹرویوز دیئے۔ سینئر صحافی، سہیل وڑائچ نے بھی اُن سے ایک انٹرویو لیا، جسے بعدازاں اپنی کتاب’’ غدّار کون…؟‘‘ میں شامل کیا۔ اس انٹرویو میں بیگم کلثوم نواز کی ذاتی زندگی کی بعض جھلکیاں بہت دِل چسپ ہیں۔ مثلاً بیگم صاحبہ نے بتایا کہ’’ بچپن کی سب سے پہلی یاد اُنہیں اپنی ماں کی آتی ہے۔‘‘ اُن کی پسندیدہ نظمیں، صوفی تبسّم کی تھیں۔ کلثوم نواز خود بھی ادب شناس تھیں اور شاعری سے لگائو تھا۔ اُنہیں مرزا غالب اور میر تقی میر کی شاعری پسند تھی۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ’’ مرزا غالب کی شاعری تو بہت مشکل ہے؟‘‘ تو اُنہوں نے جواب دیا’’ اگر غالب کو سمجھ کر پڑھا جائے، تو یہ بالکل مشکل نہیں۔‘‘ کلثوم نواز کے خیال میں غالب کی شاعری پوری دنیا میں منفرد ہے اور اُن کا ایک اپنا ہی اسٹائل ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ’’ اُردو اور انگریزی اُن کے پسندیدہ مضامین ہیں، جب کہ کیمسٹری اور فزکس اُنہیں بور کرتے تھے۔‘‘ حالاں کہ بی ایس سی میں فزکس اور کیمسٹری ہی اُن کے مضامین تھے۔ سہیل وڑائچ کے ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ’’ وہ پیش گوئیوں پر یقین نہیں رکھتیں، لیکن جب کبھی اکٹھے ہوتے ہیں، تو علمِ نجوم پر بات ضرور ہوتی ہے۔‘‘ کلثوم نواز کے مطابق، اچھی کتاب کا مطالعہ اُنہیں سکون پہنچاتا ہے، لیکن جب کبھی پریشان ہوتی ہیں، تو قرآنِ حکیم کا مطالعہ ہی سکون بخشتا ہے۔ البتہ لائٹ موڈ میں قرّاۃ العین حیدر کے ناول شوق سے پڑھتیں کہ وہ اُن کی پسندیدہ ادیبہ تھیں۔ جہاں تک پاکستانی ادیبوں کا تعلق ہے، اُنہیں احمد ندیم قاسمی بہت پسند تھے، جب کہ پروین شاکر کی شاعری بھی اچھی لگتی تھی۔ وہ عورت کے باوقار لباس کے حق میں تھیں، کیوں کہ اس سے پردے کے تقاضے پورے ہوتے ہیں۔ نیز، وہ خواتین کے ملازمت کرنے کو معیوب نہیں سمجھتی تھیں، بلکہ اس کی پُرجوش حامی تھیں۔ بیگم صاحبہ نے اُس انٹرویو میں یہ بھی بتایا تھا کہ وہ اپنے بچّوں کو سیاست میں لانے کے حق میں نہیں، لیکن اگر اُنہیں تقدیر سیاست میں لے آئی، تو یہ اور بات ہے۔ فلمز سے متعلق ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا’’ ہم لوگ فلمز نہیں دیکھتے، البتہ مہذّب اور یادگار پرانی فلمز کبھی کبھار دیکھ لیتے ہیں۔‘‘

کلثوم ریحانہ سے…کلثوم نواز تک

کلثوم نواز کو شروع ہی سے اُردو ادب سے دِل چسپی تھی، چناں چہ گریجویشن کے بعد مزید تعلیم و تحقیق کے لیے اُردو ادب ہی کو منتخب کیا۔ شادی سے پہلے اُن کا نام’’ کلثوم ریحانہ‘‘ تھا اور تعلیمی اسناد میں بھی یہی نام درج ہے۔ 

اُنہوں نے ایم اے میں ڈاکٹر سہیل احمد خان کی زیرِ نگرانی’’رجب علی بیگ کا تہذیبی شعور‘‘ کے موضوع پر مقالہ لکھا، جو کتابی شکل میں بھی شایع ہوا۔ علاوہ ازیں، اُنہوں نے 2007ء میں’’جبر اور جمہوریت‘‘ کے نام سے ایک کتاب بھی تحریر کی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں