آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 11؍صفر المظفّر 1440ھ 21؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آغا سید حامد علی شاہ موسوی

 نواسۂ رسول ؐ امام حسینؓ کی شہادت کوصدیاںبیت چکی ہیں۔ ہر محرم کے قریب آتے ہی ایسے لگتا ہے جیسے نبی ﷺکے لاڈلے نے آج ہی اسلام کے تحفظ کےلیےرختِ سفر باندھا ہے۔ فرزند رسول ؐ کی پُردرد داستان سن کرآنسو ہیں کہ رکتے ہی نہیں، ہر صاحب درد رسولﷺ کے گھرانے کی قربانی کا ذکر سن کر ایک ولولہ، ایک جذبہ ایک قوت حاصل کرتا ہے۔ شہدائے کربلا ؓکے خون کی لافانی تاثیر ہی ہے کہ جتنے آنسو آج تک اس واقعے پر بہائے گئے، اگر ان کو جمع کیا جائے تو آنسؤوں کا سمندر وجود میں آ جائے ۔ بقولِ مولانا ابوالکلام آزاد ’’جس واقعے نے اسلام کی دینی، سیاسی اور اجتماعی تاریخ پر سب سے زیادہ اثر ڈالا ہے، وہ امام حسینؓ کی شہادت کا عظیم واقعہ ہے۔ بغیر کسی مبالغے کے کہا جاسکتا ہے کہ دنیا کے کسی المناک حادثے پر نسلِ انسانی کے اس قدر آنسو نہیں بہے ، امام حسین ؓکے جسم خونچکاں سے دشتِ کربلا میں جس قدر خون بہا ، اس کے ایک ایک قطرے کے بدلے دنیا اشک ہائے ماتم و الم کا ایک ایک سیلاب بہا چکی ہے۔‘‘

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’اور ہم تمہاری آزمائش کر کے رہیں گے، کچھ خوف اور بھوک سے اور مال و جان اور پیداوار کے کچھ نقصان سے اور (اے پیغمبرﷺ) صبر کرنے والوں کو (فتح و کامرانی) کی بشارت دے دیجیے۔(سورۃ البقرہ)

تاریخ گواہ ہے کہ اس آیت میں جن آزمائشوں کا ذکر کیا گیا ہے، سوائے فرزند رسول ؐ امام حسینؓ کےکوئی بہ یک وقت ان امتحانوں سے نہ گزر سکا۔ نواسۂ رسول الثقلینﷺ حضرت امام حسین ؓنے دین اسلام کی بقا کی خاطر دشت کر بلا میں ہر امتحان کا سامنا کیا،اپنا گھر بار لٹا دیا،اپنے اصحاب باوفا کی قربانی دی، اپنے پیاروں کو بھوک اور پیاس سے بلکتے دیکھا،انہیں ذبح ہوتے اور ان کی لاشوں کو پامال ہوتے دیکھا،حتیٰ کہ اپنی مخدرات کی چادریں بھی قربان کردیں،لیکن پائے استقلال میںذرا لغزش نہ آئی۔

دوشِ نبیؐ پہ خود کبھی،نوکِ سناں پہ سر کبھی

عشق کی بارگاہ میں ،یوں ہوا سرفراز عشق

دینِ خداوندی ، شریعتِ مصطفوی ؐاور انسانی اقدار کے تحفظ کے لئے ان عظیم مصائب پر صبر کرنے والے حسین ؓ کو یوں فتح و کامرانی نصیب ہوئی کہ آج ہرقوم ،ہر زمانہ ،ہر انسان سیدنا حسینؓ کی عظمت و بزرگی کے سامنے سرجھکا رہا ہے ۔

آج ہر باضمیر حسینؓ کو اپنا پیشوا سمجھتا ہے ،ہر حریت پسند حسین ؓ کے کردار سے جذبہ کشید کرتا ہے، ہر محروم و مظلوم حسینؓ کے دامن سے وابستہ ہونا باعث نجات سمجھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں لکھنے والا مورخ ایڈورڈ گبن یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے ’’ امام حسینؓ کی شہادت کا پُردرد واقعہ بے رحم اور سنگ دل کو بھی متاثر کردیتا ہے ‘‘اور آزادی ہند کی تحریک کے دوران مہاتما گاندھی کہتا نظر آتا ہے : " حسینی اصول پر عمل کرکے انسان نجات حاصل کرسکتا ہے۔" ہیروز اینڈ ہیرو ورشپ کا مصنف کارلائل اعتراف کرتا ہے : " شہادت حسین ؓ کے واقعے پر جس قدر غور و فکر کیاجائے گا، اسی قدر اس کے اعلیٰ مطالب روشنی میں آتے جائیں گے۔" واشنگٹن ارونگ حیران نظر آتا ہے: ’’حسینؓ پر پڑنے والی مصیبتیں ایسی نہ تھیں جو کسی بھی فرد کو اپنے ارداے پر قائم رہنے دیتیں، لیکن حسینؓ آخر دم تک اپنے عزم و ارادے پر قائم رہے ‘‘ ۔

انسانیت کے نام پہ کیا کرگئے حسینؓ

تاریخ کے بلند خیالوں سے پوچھ لو

امام حسین ؓ ایسے انسان ہیں، جنہوں نے ذلت و ر سوائی کو اپنے قریب پھٹکنے نہیں دیا ،تلوار کے سائے میں جرأت و دلیری اور شہادت کو ترجیح دی۔آپ کی باوقار اور پُرافتخار تاریخ ملل و ادیان کے لئے درس آموز ہے ۔خونِ حسین دین و شریعت کے ماتھے کی سرخی ہے،آپ کے خانوادہ ٔ اطہارؓ کی قید و بند کی صعوبتیں دشمنانِ دین کی ذلت کا باعث اور آپ کی فدا کاری کی پیروی دنیائے انسانیت کی غیرت کا سبب ہے۔آپ کے صبر و تحمل اور جرأت وشجاعت سے آسمانوں کے فرشتے محوِحیرت ہیں۔کسی شخصیت کی نقشہ کشی اس کے نمایاں ترین خواص ،علم و عمل ،جہاد و مبارزہ،ایثار و قربانی،استقامت،طہارت و اخلاص اور زہد و تقویٰ سے ہوتی ہے۔

ایک روایت ہے کہ چند صحابہ کرام ؓ حضور اکرمﷺ کے ہمراہ جارہے تھے کہ سامنے سے حضرت حسینؓ آگئے ،سرکار دوعالمﷺ نے آگے بڑھ کر انہیں پکڑنا چاہا تو حسینؓ ادھر اُدھر دوڑنے لگے، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے انہیں اپنی آغوش میں اُٹھا لیا ،ایک دستِ رسالت حسینؓ کی گردن کے پیچھے اور ایک ٹھوڑی کے نیچے رکھ کر حسین ؓ کے لبوں کو چوم کر فرمایا کہ حسین ؓ مجھ سے ہے اور میں حسین ؓ سے ہوں ،پالنے والے تو اسے دوست رکھ جو حسین ؓ کو دوست رکھے۔(طبقات ابن سعد)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم آقا ومولیٰ ﷺکے ساتھ نماز عشاء ادا کر رہے تھے۔ جب آپ سجدے میں گئے تو حسنؓ اور حسینؓ آپ ﷺکی پشت مبارک پر سوار ہو گئے۔ جب آپ ﷺ نے سجدے سے سر اٹھایا تو دونوں شہزادوں کو اپنے پیچھے سے نرمی کے ساتھ پکڑ کر نیچے بٹھا دیا۔ جب آپ ﷺدوبارہ سجدے میں گئے تو وہ پھر کمر مبارک پر سوار ہو گئے۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ نے نماز مکمل کر لی۔پھر آپ ﷺ نے دونوں کو اپنے مبارک زانوؤں پر بٹھا لیا۔ (مسند احمد، المستدرک للحاکم، طبرانی فی الکبیر،سنن نسائی )نانا نے حسین ؓ کے لئے سجدہ طویل کیا تھا نواسے نے نانا کا قرض اتارتے ہوئے سجدۂ خالق میں سر کٹا کر سجدے کو معراج عطا کردی۔

ایک روایت کے مطابق راوی کہتا ہے کہ میں خدمت رسالتﷺ میں شرف یاب ہوا تو کیا دیکھا کہ حسنؓاورحسینؓ دوشِ رسولﷺ پر سوار ہیں ،میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسو ل ﷺ آپ انہیں دوست رکھتے ہیں ،تو فرمایا کہ کیوں نہ رکھوں یہ باغ دنیا کے میرے دو پھول ہیں۔

محرم الحرام اپنے دامن میں غم و الم اور مصائب وآلام کی داستانیں سموئے ہوئے ہے۔یہ نواسۂ رسول الثقلین شہزادہِ کونین حضرت امام حسینؓ سے خاص نسبت رکھتا ہے، جنہوں نے جذبہ صادق کے ساتھ اپنے جدِ نامدار رسول اکرم ﷺکے پیغام کو استحکام و دوام بخشنے کے لئے فساد پیکروں سے نبرد آزما ہوکر اپنے72جاں نثاروں کے ہمراہ شہادت کو گلے لگایا اور ظلم و بربریت،جبر و استبداد کو نابود کرکے عدل و انصاف کے الٰہی مکتب کی بنیاد رکھ کر انسانوں کو عملی درس دیا۔

آپ کا مقصدِ وحید اُمت کو ضلالت و گمراہی کے گڑھے سے نکالنا اور نجات دلانے کے لئے رشدو ہدایت سے نوازنا تھا۔آپ نے اس لیے قیام فرمایا، تاکہ اُمتِ مسلمہ کی اصلاح کرکے امر بالمعروف او رنہی عن المنکر کا فرض ادا کریں اور اللہ کی حاکمیت کا بول بالا ہو،چناں چہ بحار الانوار کی جلد44میں امام عالی مقام ؓ کا مقصدِ قیام اس طرح مذکور ہے کہ میں ظلم و زیادتی ،فساد و تفریق پیدا کرنے کے لئے نہیں، بلکہ نانا ؐکی امت کی اصلاح ،معروف کا حکم دینے اور منکرات سے روکنے کے لئے قیام کررہا ہوں ۔آپ کا مقصدِ حیات نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ اقوام عالم کے مابین زندگی کو رواج دینا تھا، یہی وجہ ہے کہ بشریت آپ کو کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔

حسین ابن علیؓ نے دشتِ کربلا میں اپنے خون سے جو انقلاب برپا کیا، اس کے ثمرات سے دنیا تا روز حشر استفادہ کرتی رہے گی ۔حسینؓ کی شہادت نے مکرو فریب کے ذریعے عوام پر حکمرانی کرنے والے حکمرانوں کے خلاف جہاد کا درس دیا۔شہادت حسین ؓ اس قدر اثر آفریںہے کہ اس کی جہات کا اندازہ آج تک کوئی مفکر و نکتہ داں نہ کرسکا۔

حالات کتنے ہی ناسازگار کیوں نہ ہو جائیں، حسین ؓنے ایک ایسے انقلاب کی بنیاد رکھ دی ہے جو کبھی حق پرستوں کے حوصلے پست نہیں ہونے دیتا،کربلا کے دشت میں بلند ہونے والاحسینی استغاثہ آج بھی دنیا میں گونج رہا ہے۔نبیوں کی محنت بچانے والا حسین ؓ کسی انسان کی مدد کا محتاج نہ تھا، بلکہ اس استغاثہ کا مقصد ہر عہد میں انسانیت کو جھنجھوڑنا تھا کہ جب بھی کہیں ظلم وجبرحق والوں سے بیعت کا طلب گار ہوتو صدائے حسینؓ پر لبیک کہتے ہوئے علم انکار بلند کردو۔حسینؓکا پیغام بیمار قوموں کے لئے نسخہ اکسیر ہے، مظلوموں کی ڈھارس ہے، ظالموں کے لئے پیغام اجل ہے، اسی لئے کشمیر ہو یا فلسطین ہر مظلوم حسینؓ کا نام لے کر ہی موت سے ٹکرانے کا حوصلہ پاتا ہے کہ: ۔

سر کو تو کاٹ سکتا ہے ہر دور کا یزید

لیکن وہ سر جھکا نہیں سکتا حسینؓ کا

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں