آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 11؍صفر المظفّر 1440ھ 21؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کہا گیا تھا کہ گیس سستی کریں گے لیکن مہنگی کر دی گئی۔ وعدہ کیا گیا تھا کہ بجلی سستی ہو گی وہ بھی مہنگی ہو گئی۔ سی این جی کو مہنگا کر دیا گیا، پیٹرول کی قیمت بڑھ چکی۔ ایل پی جی کی قیمت بڑھا دی گئی۔ اسٹاک ایکسچینج کا بُرا حال ہے، انویسٹرز کے اربوں ڈوب گئے۔ ڈالر کے مقابلہ میں روپے کی قیمت ایسے گر رہی ہے جس کا کبھی نہ سنا، نہ دیکھا۔ صرف ایک دن میں روپے کی گراوٹ کی وجہ سے پاکستان کا بیرونی قرضہ نو سو ارب روپے سے زیادہ بڑھ گیا۔ تبدیلی کا وعدہ کرنے والوں نے عہد کیا تھا کہ نہ کسی دوسرے ملک سے پیسے مانگیں گے اور نہ ہی آئی ایم ایف کے پاس جائیں گے بلکہ یہاں تک کہا گیا تھا کہ دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے خودکشی کرنے کو ترجیح دیں گے لیکن اب سعودی عرب، عرب امارات اور چین سے امداد مانگنے کے بعد تبدیلی والے آئی ایم ایف سے بات چیت کر رہے ہیں کہ پاکستان کو قرضہ دیا جائے بالکل اُسی طرح جس طرح پرانے پاکستان کا رواج تھا۔ تمام معیشت دان اس بات پر متفق ہیں کہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے نتیجے میں پاکستان میں بہت مہنگائی ہو گی۔ ابھی نہیں معلوم کہ آئی ایم ایف کی شرائط کیا ہوں گی لیکن اس وقت ڈالر کے مقابلہ میں روپے کی قدر جتنی گر چکی ،اس کے نتیجے میں بھی بہت مہنگائی ہو گی۔

تبدیلی والے کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ اس لیے کرنا پڑ رہا ہے کہ پچھلے تمام حکمران چور اور ڈاکو تھے اور وہ سب کچھ کھا گئے جس کے وجہ سے تبدیلی والوں کو وہ وہ کچھ کرنا پڑ رہا ہے جس کا اُن کو بھی پہلے اندازہ نہ تھا۔ تبدیلی والے خیبر پختونخوا پولیس کا حوالہ دے دے کر تھکتے نہ تھے کہ کس طرح پولیس کو غیر سیاسی بنایا گیا اور اُس کے کام میں ہر قسم کی سیاسی مداخلت بند کی گئی، جس کے نتیجے میں صوبے میں پولیس ایک رول ماڈل بن کر اُبھری۔ تبدیلی کے سب بڑے رہنما اور موجودہ وزیراعظم نے بار بار کہا کہ وہ خیبر پختونخوا کی طرح پورے ملک کی پولیس کو غیر سیاسی بنائیں گے۔ پنجاب پولیس سب سے زیادہ بدنام رہی جس کے لیے تبدیلی والوں کی حکومت نے نہ صرف ایک اچھی شہرت کے حامل پولیس افسر طاہر خان کو پنجاب کا آئی جی بنایا بلکہ پنجاب پولیس کمیشن قائم کر کے سابق آئی جی خیبر پختونخوا ناصر درانی کو اس کا سربراہ بنایا تاکہ پاکستان کے سب کے بڑے صوبے کی پولیس کو کسی بھی قسم کی سیاسی مداخلت سے روکا جائے لیکن جب پنجاب میں اپنی حکومت بنائی تو پہلے پاکپتن کے ڈی پی او کو سیاسی دبائو پر فارغ کیا اور پھر ایک ماہ قبل اپنی مرضی سے لگائے گئے آئی جی پولیس پنجاب طاہر خان کو تبدیل کرنے کے احکامات اس لیے جاری کر دئیے گئے کہ طاہر خان نے تبدیلی والوں کی حکومت کی طرف سے پولیس کے محکمے میں تعیناتیوں سے متعلق سیاسی دبائو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ تبدیلی والوں کے اس فیصلے نے ناصر درانی جیسے شخص کو اتنا مایوس کیا کہ اُنہوں نے بھی پنجاب پولیس کمیشن کی سربراہی سے استعفیٰ دے دیا۔ درانی وہ شخص ہے جس کا نام لے لے کر تبدیلی والے فخر سے بتاتے ہیں کہ اُنہوں نے خیبر پختونخوا کی پولیس کو مثالی بنایا۔ پچاس دن کی تحریک انصاف کی حکومت کا کوئی دن ایسا نہیں گزرا جو تنازعات سے بچا ہو۔ ان پچاس دنوں میں کئی یو ٹرن لیے گئے، بہت کچھ ایسا کیا گیا جو تبدیلی والوں کے وعدوں اور نعروں کے بالکل برعکس تھا۔ ان حالات نے بہت سوں کو مایوس کیا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ابتدا کے مشکل دن ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ ان حالات، تنازعات، یوٹرنز میں تبدیلی والوں کی ناتجربہ کاری کا بھی کردار ہو۔ ہو سکتا ہے کہ تبدیلی والوں کی حکومت کا کل بہتر ہو اور عوام کے لیے وہ اچھے حالات پیدا کرنے میں کامیاب ہوں۔ تب تک وزیر اعلیٰ پنجاب جو بقول وزیراعظم عمران خان‘ اصل تبدیلی ہیں، اُنہیں دیکھ دیکھ کر دل کو بہلایا جائے۔

(کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں