آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 12؍صفر المظفّر 1440ھ 22؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عام انتخابات کے بعد سب سے بڑا انتخابی دنگل ، قومی اسمبلی کے 11 ، چاروں صوبائی اسمبلیوں کے 24 حلقوں میں امیدواروں کا چناؤ آج ہورہا ہے۔ 8 بجے شروع ہونے والا پولنگ کا عمل شام پانچ بجے تک جاری رہے گا،عوام کو تبدیلی بھاگئی یا پرانوں کی یاد آگئی، نتائج سے فیصلہ ہوجائے گا۔

مجموعی طور پر 35 حلقوں میں 92لاکھ 83 ہزار 74 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے جب کہ کل 370 امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

آج قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کی گیارہ ،گیارہ، سندھ اور بلوچستان اسمبلی کی دو، دو نشستوں جبکہ خیبرپختونخوا اسمبلی کی 9 نشستوں پر پولنگ ہورہی ہے۔

قومی اسمبلی کے جن 11 حلقوں میں الیکشن ہورہے ہیں ان میں این اے 35 بنوں ،این اے 53اسلام آباد،این اے 56اٹک،این اے 60 راولپنڈی ،این اے 63راولپنڈی ،این اے 65 چکوال ،این اے 69 گجرات ،این اے 103 فیصل آباد،این اے 124لاہور ،این اے 131 لاہور اور این اے 243 کراچی شامل ہے ۔

پنجاب اسمبلی کے جن 11 حلقوں میں الیکشن ہورہے ہیں ،ان میں پی پی 3 اٹک،پی پی 27 جہلم،پی پی 87 میانوالی،پی پی 103 فیصل آباد،پی پی 118 ٹوبہ ٹیک سنگھ،پی پی 164 لاہور،پی پی 165 لاہور،پی پی 201 ساہیوال،پی پی 222 ملتان،پی پی 261 رحیم یار خان،پی پی 272 مظفر گڑھ،پی پی 292 ڈیرہ غازی خان شامل ہیں ۔

سندھ اسمبلی کے جن دو حلقوں پر آج دنگل سجا ہے ،ان میں پی ایس 30 خیر پور، پی ایس 87 ملیر کراچی شامل ہیں،بلوچستان کے جن دو حلقوں میں الیکشن کا میدان لگ رہا ہے ان میں پی بی 35 مستونگ اور پی بی 40 خضدار کے شامل ہیں ۔

خیبرپختونخوا اسمبلی کے 9 حلقوں میں پی کے 3سوات ،پی کے 7 سوات ،پی کے 44 صوابی ،پی کے 53 مردان ، پی کے 61 نوشہرہ ، پی کے 64نوشہرہ ، پی کے 78 پشاور، پی کے 97 ڈی آئی خان ، پی کے 99 ڈی آئی خان شامل ہیں ،ووٹر اپنے من پسند امیدوار کو صوبائی اسمبلی میں بھیجنےکےلئے حق رائے دہی استعمال کررہےہیں۔

لاہور کے دو حلقوں پر ملک بھر کے عوام کی نظریں ہیں، خواجہ سعد رفیق این اے 131 سے دوبارہ قسمت آزما رہے ہیں ، پی ٹی آئی کے ہمایوں اختر مدمقابل ہیں، این اے 124 میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا مقابلہ تحریک انصاف کے غلام محی الدین سے ہے جبکہ گجرات سے اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی کے بیٹے مونس الٰہی قسمت آزما رہے ہیں۔

کراچی میں عمران خان کی چھوڑی ہوئی نشست این اے 243 پر بھی ووٹنگ ہورہی ہے، گلشن اقبال اور گلستان جوہر کے علاقوں پر مشتمل قومی اسمبلی کی نشست پر تحریک انصاف کے عالمگیر خان، ایم کیو ایم کے عامر ولی الدین چشتی، پیپلز پارٹی کے حاکم علی اور پاک سرزمین پارٹی کے آصف حسنین سمیت 22 امیدوار مدمقابل ہیںجبکہ کراچی میں ڈیفنس کے 2حلقوں این اے 247 اور پی ایس 111 پر پولنگ 21 اکتوبر کو ہو گی ۔

بعض حلقوں کےپولنگ اسٹیشن پر ووٹنگ میں تاخیر

راولپنڈی میں وقارالنساء کالج پولنگ اسٹیشن پر پولنگ ایجنٹس کی عدم موجودگی کے باعث ووٹنگ کے آغاز میں تاخیر،فیصل آباد میں پولنگ اسٹیشن نمبر282 اور فتح جنگ میں گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول پر بھی پولنگ وقت پر شروع نہیں ہوسکی۔

ووٹ ڈالنے کے لئے اصل قومی شاختی کارڈ لانا لازمی

ضمنی انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کے ہدایات کے مطابق ووٹ ڈالنے کے لئے اصل قومی شاختی کارڈ لانا لازمی ہے، زائد المیعاد اصل شناختی کارڈ پر بھی ووٹ ڈالا جا سکتا ہے دیگر دستاویزات پر ووٹ نہیں ڈالا جا سکے گا،ووٹرز کو موبائل فون اور کیمرا ساتھ نہ لانے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ خواتین ووٹرز پرس یا بیگ بھی پولنگ اسٹیشن میں نہیں لے جا سکتیں۔پہلی بار بیرون ملکوں میں مقیم پاکستانی بھی ووٹ ڈال سکتے ہیں۔

قبل ازیں  99 لاکھ، 24 ہزار 700 بیلٹ پیپرز فوج کی نگرانی میں پولنگ اسٹیشنز پہنچا دیے گئے۔

پولنگ اسٹیشن جانے سے قبل ووٹرز ز اپنے ووٹ کی معلومات قومی شناختی کارڈ نمبر 8300 پر ایس ایم ایس کر کے حاصل کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی کی دو نشستوں پی پی 87 میانوالی اور پی پی 296 راجن پور پر امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہو گئے ہیں۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں