آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 15؍ شوال المکرم 1440ھ 19؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی میں ضمنی انتخابات ، ٹرن آؤٹ کم رہا،کیمپ پر رش نہ ہونے کے برابر

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 243 کراچی ایسٹ 2 میں ہونے والے انتخابات میں عوامی دلچسپی کم نظر آئی۔ پولنگ کا آغاز صبح آٹھ بجے ہوا لیکن گلشن اقبال، گلستان جوہر، بہادر آباد اور اسکیم 33 میں قائم پولنگ اسٹیشن اور انتخابات لڑنے والے امیدواروں کی جانب سے لگائے گئے کیمپ خالی نظر آئے لیکن حلقے کے دیہی علاقے جن میں گوٹھ بھی شامل تھے وہاں ووٹرز کا رش نظر آیا۔

اتوار کا دن ہونے کے سبب مطابق لوگ رات دیر تک جاگنے کی سبب صبح دیر سے اٹھنے کے رجحان کے باعث بھی پولنگ اسٹیشنوں پر رش کم نظر آیا۔

پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹرز کی آمد کا سلسلہ دوپہر تین بجے کے بعد بڑھا اور مختلف امیدواروں کے کیمپوں پر رش نظر آیا۔

کراچی کے حلقہ 243 کی نشست عمران خان نے خالی کی تھی۔ اس پر پی ٹی آئی کی جانب سے محمد عالمگیر خان، متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے عامر ولی الدین چشتی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے حاکم علی پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے امیدوار تھے۔

اصل مقابلہ ان تینوں امیدواروں کے درمیان ہی قرار دیا جا رہا تھا چونکہ عمران خان کے 25 جولائی 2018ء کے انتخابات میں اس نشست پر جیتنے کے سبب ضمنی انتخابات میں عالمگیر خان کو ہی اس سیٹ پر فوقیت حاصل تھی لیکن متحدہ قومی موومنٹ کے امیدوار عامر ولی الدین چشتی نے بھی ضمنی انتخاب جیتنے کیلئے بھرپور کوشش کی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ضمنی انتخاب میں پیپلز پارٹی کے امیدوار حاکم علی کو بھی اس حلقہ کے دیہی علاقوں سے کافی ووٹ کاسٹ ہوئے ہیں۔ ان علاقوں کے لوگ صبح سے ہی ووٹ کاسٹ کرنے نکل آئے تھے اور پیپلز پارٹی کے کیمپ پر ان کی بڑی تعداد بھی نظر آرہی تھی۔

پولنگ ایجنٹس کو کھانےکے حصول میں مشکلات

دوسری جانب این اے 243 کراچی ایسٹ 2سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ضمنی انتخابات کے موقع پر قائم پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ ایجنٹوں کو کھانا، چائے اور پانی کی فراہمی کیلئے امیدواروں کے کارکنوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

انتخاب کے موقع پر تمام پارٹیوں نے صبح سے ہی اپنے اپنے ایجنٹوں کو کیمپوں میں بلایا تھا اور ان کو پولنگ اسٹیشنوں پر ڈیوٹی کیلئے صبح سات بجے پہنچانا شروع کردیا تھا۔

پولنگ ایجنٹس کیلئے کھانا، چائے اور پانی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے مختلف پارٹیوں نے اپنے اپنے کارکنوں کو پولنگ اسٹیشن کے اندر داخل ہونے کے اجازت نامے کے ساتھ بھیجا لیکن پولنگ اسٹیشن کے باہر ڈیوٹی انجام دینے والے رینجرز اہلکاروں نے ان کو اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔

پولنگ اسٹیشنوں کا دورہ کرنے والے اعلیٰ اہلکاروں کی مداخلت پر ڈیوٹی انجام دینے والے اہلکاروں نے پولنگ ایجنٹوں کو کھانے اور دیگر چیزوں کی فراہمی کو ممکن بنایا۔

فون لے جانے پر پابندی

ضمنی انتخاب کے موقع پر موبائل فونز اندر لیجانے کی پابندی برقرار رہی۔ 25 جولائی کو بھی عام انتخابات کے موقع پر ووٹرز کو موبائل فونز اندر لیجانے کی اجازت نہیں تھی اور کئی ووٹرز کو فون ہونے پر ووٹ ڈالنے نہیں دیا گیا تھا۔

ضمنی انتخاب کے موقع پر بھی موبائل فون کو پولنگ اسٹیشن کے اندر لیجانے کی اجازت نہیں تھی۔ اس کے باوجود کئی ووٹرز موبائل فون ساتھ لائے تھے اور سیکوریٹی اہلکاروں نے ان کو پولنگ اسٹیشن میں داخلے کی اجازت نہیں تھی۔

گلشن اقبال کے علاقے ہزارہ گوٹھ میں قائم پولنگ اسٹیشن پر موبائل فون اندر لیجانے پر منع کرنے پر ایک بزرگ نے ووٹنگ کارڈ اور بوتھ کے اندراج کی پرچی پھاڑ کر پھینک دی اور بغیر ووٹ ڈالے پولنگ اسٹیشن سے باہر نکل گئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں