آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر2؍ربیع الثانی 1440ھ 10؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ابوظبی ٹیسٹ میں سبق آموز شکست کے بعد پاکستانی ٹیم نے جس طرح دبئی ٹیسٹ کی شروعات کی ہیں،وہ کسی طرح بھی قابل تعریف نہیں ،ٹاس جیتنے کے بعد امام الحق اور محمد حفیظ کا 25 کےمجموعی اسکور پر پویلین لوٹ جانا مایوس کن تھا،محمد حفیظ 2 سال بعد واپسی کرنے والے آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں سنچری بنانے کے بعد وہ اگلا ایک سال اسی بنیاد پر کھیلتے دکھائی دیں گے، ا سپنر بلال آصف کے حوالے سے کوچنگ اسٹاف کو ا ن کی کارکردگی میں نکھار لانا ہوگا،یہ عجب بات ہے کہ ایک بیٹسمین سنچری کے ساتھ اپنی فارم اور اہمیت ظاہر کرے اور پھر مسلسل ناکامی کی دلدل میں دھنستا چلاجائے،ایسا عمل باصلاحیت ٹیم میں نہیں ہوتا،کارکردگی میں تسلسل ہی پلیئر کے بڑے پن اور افادیت کو بنیاد بناتا ہے،ہوم سیریز میں گھر کی کنڈیشن جیسے گرائونڈ اور من پسند وکٹوں پر اگر بیٹنگ کا یہ عالم ہے کہ محمد حفیظ جیسے تجربہ کار بیٹسمین ایک اننگز میں سنچری کریں اور وہ سنچری بھی ایسی ہو کہ ٹیم میچ نہ جیت سکے اور پھر مسلسل فلاپ رہنا جاری رکھیں،اسد شفیق ناکامی کی داستان بن جائیں،اظہر علی کی اننگز بے مقصدبن رہی ہوں تو پلاننگ گیم میں کہیں نہ کہیں گڑ بڑ ہے،اب اسی جاری دبئی ٹیسٹ کو لے لیں،پاکستان نے قریب 2 دن 167 اوورز کی بیٹنگ میں محض اڑھائی کی اوسط سے 5 وکٹ پر 418 رنز بنائے ،سست ترین بیٹنگ کا اندازہ اس امر سے لگالیں کہ سب سے بڑی اننگز کھیلنے والے حارث سہیل نے 147 رنزکے لئے 421 گیندیں کھیلیں ،35 کے اسٹرائیک ریٹ سے کھیلنے والے حارث سہیل نے 70اوورز سے زائد بیٹنگ کی ،اسی طرح بابر اعظم نے کیریئر کی پہلی سنچری ڈر ڈر کر مکمل کی انہوں نے 127 رنزکے لئے 263 گیندیں مطلب 44 اوورز کھیلے ،5 ویں وکٹ پر 186 رنزکی شراکت سر آنکھوں پر مگر اسکے لئے 70 اوورز سے زائد وقت گزارنا اور مجموعی طور پر ایسی بیٹنگ کرنا ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنا نہیں ہے،یہ ٹیسٹ کرکٹ ہے،پہلے ہی اس میں عدم دلچسپی کا رونا عروج پر ہے، د بئی ٹیسٹ میںکوچنگ ا سٹاف ،ٹیم منیجمنٹ کا پلان دکھائی کیوں نہیں دیا،ابوظبی میچ میں 4 رنز سے شکست سے پہلے ہی بیٹنگ کی ناکامی، پلاننگ اور کپتانی کا فقدان،اسکے بعد یہ دبئی ٹیسٹ اوراسکی شروعات ،خرابی ایک ہی ہے اور وہ ہے کمبی نیشن کے فقدان کی ،اگر یہی عالم رہا تو 6 ماہ کی دوری پر موجود کرکٹ ورلڈ کپ 2019 کے میچوں کے متوقع نتائج نکالنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آنی چاہئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں