آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ11؍ شوال المکرم 1440 ھ 15؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زندگی کی مصروفیات اور مختلف مسائل انسان کو نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی طور پر بھی تھکا دیتے ہیں۔ ایسے میں کچھ لوگ حالات کا مقابلہ کرلیتے ہیں مگر کچھ ذہنی تناؤ اور ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ماہرین متفق ہیں کہ ذہنی تناؤ اور ڈپریشن کا شکار افراد کے ساتھ محبت اور شفقت کا برتاؤ کیا جائے۔ ان کے ساتھ سخت رویہ رکھنا، ان کی حالت کو نظر انداز کرنا یا معمولی سمجھنا، ان کے مرض کو بڑھانے کے مترادف ہوتا ہے۔ ذہنی تناؤ کا شکار افراد کی جانب سے برے رویے یا خراب الفاظ کی بھی امید رکھنی چاہیے، ان کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے نظر انداز کرنا چاہیے۔ لیکن خیال رہے کہ یہ رویہ متشدد صورت اختیار نہ کرے۔ مریض کے خیالات اور جذبات کو سنتے ہوئے آہستہ آہستہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کی طرف اس کا دھیان مبذول کروایا جائے، جیسے کہ کسی لذیذ کھانے، کسی دلچسپ ٹی وی پروگرام(خاص طور پر مزاحیہ)، خاندان میں آنے والی کسی تقریب کی تیاری، شاپنگ، کسی اہم شخصیت سے ملاقات یا کہیں گھومنے کے پروگرام کے بارے میں گفتگو۔ اسی طرح ڈپریشن کے شکار افراد کو جسمانی طور پر قریب رکھا جائے اور انہیں گلے لگایا جائے۔ طبی ماہرین نے باقاعدہ ریسرچ سے ثابت کیا ہےکہ قریبی رشتوں جیسے والدین، بہن بھائی، شریک حیات یا دوستوں کے گلے لگنا ڈپریشن اور دماغی تناؤ میں کمی لاتا ہے۔ تھکن، پریشانی، ڈپریشن اور ذہنی تناؤ کے شکار خواتین و حضرات ماہرین نفسیات سے مشورہ کرنے کے علاوہ مختلف طریقوں سےخود کو پُرسکون رکھ سکتے ہیں۔

مراقبہ

روزانہ چند منٹ مراقبہ، جسمانی اور ذہنی تناؤ کو ختم کرنے میں مددگار اور کسی چیز پر دماغ یکسو ہونے کی صلاحیت میں بھی اضافہ کرتا ہے۔

بھاگیں دوڑیں

بھاگنا ، دوڑنا دماغ کے ان کیمیکلز کی مقدار میں اضافہ کرتا ہے، جواسے خوشی کاپیغام( سگنل) دیتے ہیں۔تازہ ریسرچ کے مطابق جو لوگ باقاعدگی سے دوڑتے ہیں، وہ ان افراد سے زیادہ مطمئن پائے گئے ہیں جو دوڑتے یا اچھل کود نہیں کرتے۔

تیراکی

تیراکی سے آپ کا جسم حرکت کی حالت میں رہتا ہے، یوں سر سے پاؤں تک خون کی گردش میں اضافہ ہوتا ہے۔ تیراکی ذہنی دباؤ کم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

لذیذ کھانا

ذہنی تناؤ اور تھکن کم کرنے کا ایک طریقہ لذیذ کھانا ہے۔ آپ کے پسند کا بہترین کھانا آپ کے موڈ پر خوشگوار اثر چھوڑتا ہے۔ ایسے موقع پر آپ کے پسندیدہ فلیور کی آئس کریم بھی بہترین نتائج دے گی۔

سیڑھیاں چڑھیں

سیڑھیاں چڑھنے سے آپ کی سانسوں کی آمد و رفت تیز ہوگی اور آپ زیادہ آکسیجن کو جذب کریں گے۔ زیادہ آکسیجن جذب کرنے سے آپ کے جسمانی اعضا فعال ہوں گے، نتیجتاً جسم کے لیے مضر اثرات رکھنے والے ہارمون کم پیدا ہوں گے۔

صفائی کریں

بعض دفعہ ہمارے آس پاس پھیلی اور بکھری ہوئی چیزیں بھی دماغ کو دباؤ کا شکار کرتی ہیں۔ چیزوں کو ان کے ٹھکانے پر واپس رکھا جائے اور آس پاس کی جگہ کو سمٹا ہوا اور صاف ستھرا کرلیا جائے تو ذہنی تناؤ میں کافی حد تک کمی آسکتی ہے۔

کنگھا کریں

سر کی مالش یا کنگھا کرنا سر کے دوران خون کو تیز کرنے کا سبب بنتا ہے۔ دوران خون تیز ہوگا تو دماغ خود بخود تازہ دم ہوگا اور اس پر چھایا تناؤ کم ہوسکے گا۔ ایک مصروف اور تناؤ بھرا دن گزارنے کے بعد10سے15منٹ اپنے بالوں میں کنگھا کریں۔ یہ عمل یقیناً آپ کے دماغ کو سکون فراہم کرے گا۔

ہنسیں

جب آپ پریشانی، تھکن یا ڈپریشن کا شکار ہوں تو کوئی مزاحیہ فلم دیکھیں یا پھر مزاحیہ کتاب پڑھیں۔ ایسے دوستوں سے ملیں جن کی حس مزاح اچھی ہو۔ ہنسنے سے دماغ کے مضر کیمیکلز میں کمی واقع ہوتی ہے اور آپ فوری طور پر بہتر محسوس کرتے ہیں۔

ہنسنے سے نہ صرف ٹینشن بلکہ دکھ اور تکلیف میں بھی کمی آتی ہے۔

مساج کریں

چہرے، بھوؤں، اور آنکھوں کا ہلکا سا مساج کرنا بھی ذہنی دباؤ کم کرنے کا سبب بنے گا۔

پینٹنگ

ماہرین کا کہنا ہے کہ رنگوں اور مصوری کے ذریعے آپ ذہنی تناؤ سے نکل آتے ہیں۔ اگر آپ ذہنی تناؤ کا شکار ہیں تو مصوری کریں، یہ یقیناً آپ کے موڈ پر خوشگوار اثرات مرتب کرے گا۔

غسل کریں

موسم کی مناسبت سے سرد یا گرم پانی سے غسل کرنا بھی ذہنی تناؤ کو کم کرنے کا باعث بنے گا اور دماغی اعصاب کو پرسکون بنائے گا۔

خوشبویات سونگھیں

پھولوںاور مٹی کی خوشبو یا بہترین پر فیومز کی خوشبو سونگھنے سے آپ کے دماغ پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اچھی یادیں

ذہنی دباؤ کے وقت اس گزرے ہوئے وقت کو یاد کریں، جس میں آپ ہنسے اور زندگی سے لطف اندوز ہوئے۔ ہنسنے والی باتوں کو دوبارہ سوچیں، یقیناً آپ ہنس پڑیں گے۔ یہ عمل آپ کے ڈپریشن کو کم کرسکتا ہے۔

مثبت خیالات

زندگی کی محرومیوں پر غور کرنے سے ذہنی دباؤ اور ڈپریشن میں اضافہ ہوتا ہے۔ اپنے سے کم حیثیت لوگوں کو دیکھیں اور جو آپ کے پاس ہے اس پر شکر ادا کریں۔ شکر گزاری کی عادت دماغ کو مطمئن اور خوش کرتی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں
سلیم انور عباسی سے مزید