• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

نئی نسل کے گلوکاروں نے فلم انڈسٹری کو نئی زندگی دی

قدرت جسے چاہتی ہے، فن کارانہ صلاحیتوں سے مالا مال کردیتی ہے اور اسے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیتی ہے،کئی فن کار ایسے بھی ہیں،جنہوں نے فنون کی مختلف اصناف میں کام یابی حاصل کی۔ شوبز کی دُنیا میں اداکاروں اور گلوکاروں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ کئی فن کاروں نے بہ حیثیت گلوکار اپنا کیریئر شروع کیا، لیکن انہیں قابلِ ذکر کام یابی حاصل نہ ہوئی اور پھر وہ اداکاری کی جانب آ گئے۔ پاکستان کے ممتاز اداکار ندیم موسیقی کی دُنیا میں قسمت آزمانے آئے تھے اور چند گانوں کے بعد انہوں نے اداکاری کو ہی فوکس کیا،کسے معلوم تھا کہ سپر اسٹار وحید مراد کی شادی میں آواز کا جادو جگانے والا ابھرتا ہوا گلوکار صفِ اول کا اداکار بن جائےگا، بعد ازاں انہوں نےپاکستان فلم انڈسٹری کو کئی یادگار سپرہٹ فلموں سے نوازا۔ ملکہ ترنم نور جہاں نے بھی گائیکی کے ساتھ ساتھ اداکاری کے میدان میں خود کو منوایا۔ اب بات کرتے ہیںنئی نسل کے اُن گلوکاروں کی، جنہوں نے فلموں میں کام کیا۔ ان کی کچھ فلمیں کام یاب بھی ہوئیں، مگر وہ فنِ اداکاری میں زیادہ عرصے تک جادو نہیں جگا سکے۔ شوبز میں عجیب بھیڑ چال ہے، کوئی گائیک اگر خوش شکل ہوتا ہے، تو پروڈیوسرز اور ڈائریکٹرز اُسے اداکاری کی جانب لانے کے لیے کوششیں شروع کر دیتے ہیں۔ گلوکاری سے اداکاری کی جانب آنے والے فن کاروں میں سب سے زیادہ خوش نصیب اور کام یاب علی ظفر رہے، انہوں نے گلوکاری کے شعبے میں خوب نام کمانے کے بعد فلموں میں غیر معمولی کام یابی حاصل کی۔2018 میں تو انہوں نے کمال کردیا۔ بہ طور پروڈیوسر اور ہیرو فلم ’’طیفا ان ٹربل‘‘ میں ثابت کیا کہ وہ گلوکاری اور اداکاری کے ساتھ، فلم سازی کے شعبے میں بھی شان دار کام یابی حاصل کرسکتے ہیں۔ان کی پروڈیوس کی ہوئی فلم ’’طیفا ان ٹربل‘‘ نے باکس آفس پر غیر معمولی بزنس کیا۔ قبل ازیں ان کے گانوں کے وڈیوز بہت شان دار بنائے گئے، جس میں علی ظفر بہت خوب صورت دکھائی دیے۔ اسی وجہ سے انہیں بھارت میں ایک فلم ’’اسامہ بن لادن‘‘ میں کاسٹ کیا گیا۔ فلم کے نام پر اعتراض ہوا تو بعد میں اسے ’’ تیرے بن لادن‘‘ کے نام سے ریلیز کیا گیا۔ یہ ایک مزاحیہ فلم تھی، جسے بھارت میں بہت پسند کیا گیا۔ البتہ مذکورہ فلم پاکستان میں ریلیز نہ ہو سکی۔ اس فلم کے بعد علی ظفر کو بھارت کے بہت بڑے فلمی ادارے ’’یش راج فلمز‘‘ نے کترینا کیف اور عمران خان کے مد مقابل فلم ’’میرے برادر کی دُلہن‘‘ میں کاسٹ کیا۔ فلم باکس آفس پر کام یاب ثابت ہوئی اور اس فلم کے کئی گانے بھی مقبول ہوئے۔ بعد ازاں علی ظفر نے چشمِ بد دور، لندن پیرس نیو یارک، ٹوٹل سیاپا اور کِل دل میں لیڈنگ رول کیے۔اِن دنوں وہ فلم ’’طیفا ان ٹربل‘‘ کا سیکوئل بنانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ اب دیکھیے آگے آگے ہوتا ہے کیا۔ نئی نسل کے پسندیدہ گلوکار عاطف اسلم کے گانے ’’عادت‘‘ نے نہ صرف پاکستان بلکہ دُنیا کے مختلف ممالک میں خوب دُھوم مچائی۔ اس گانے کی بدولت وہ راتوں رات شہرت کی بلندیوں کو چُھونے لگے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ کئی سپر ہٹ گانوں پر مبنی کئی البم ریلیز کیے۔ ان کے گائے ہوئے درجنوں گانے بالی وڈ موویز میں بھی شامل کیے گئے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ عاطف اسلم کی غیر معمولی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ہدایت کار شعیب منصور نے جیو کی فلم ’’بول‘‘ کے لیے کاسٹ کیا۔ فلم ’’بول‘‘ نے تو باکس آفس پر دھماکا کر دیا تھا۔اس فلم میں وہ ماہرہ خان کے ساتھ بہت پسند کیے گئے، بعد ازاں وہ کسی اور فلم میں نظر نہیں آئے۔2018 میں معروف گلوکارہ رابی پیرزادہ نے بھی فلم شور شرابہ میں بہ طور ہیروئن کام کیا، البتہ وہ فلم تاخیر سے ریلیز کرنے کی وجہ سے کام یاب ثابت نہیں ہوئی۔ اب انہوں نے ٹی وی ڈراموں میں اداکاری شروع کردی ہے اور ساتھ میں کنسرٹ بھی کررہی ہیں۔ ’’پُرانی جینز اور گٹار‘‘ سےشہرت حاصل کرنے والے پاپ سنگر علی حیدر نے بھی ایک فلم میں بہ طور ہیرو کام کیا، اس فلم کا نام’’ چلو عشق لڑائیں‘‘ تھا، اس فلم میں ان کے ساتھ بہ طور ہیروئن میرا نے کام کیا تھا۔علی حیدر نے ایک دو ٹی وی ڈراموں میں بھی اداکاری کی، تاہم اب ان کی پوری توجہ موسیقی پر ہے۔ وہ اِن دنوں اپنی فیملی کے ساتھ امریکا میں مقیم ہیں۔

لوک موسیقی میں منفرد شہرت رکھنے والے معروف گائیک عارف لوہار کو اداکاری کی پیش کش کر کے انہیں کئی فلموں میں بہ حیثیت ہیرو کاسٹ کیا۔ وہ فلمیں ریلیز بھی ہوئیں، مگر باکس آفس پر سپر ہٹ ثابت نہ ہو سکیں۔ اسی طرح عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے اپنی مدھر آواز کے ذریعے دنیا بھر میں شہرت و مقبولیت حاصل کی، مگر انہیں بھی دو تین فلموں میں کاسٹ کر کے مداحوں کو مایوس کیا گیا۔ عارف لوہار اور عطا اللہ عیسیٰ خیلوی ، فوراً اداکاری کو خیر باد کہہ کر واپس موسیقی کی طرف آگئے۔ عارف لوہار کی گائی ہوئی ’’جگنی‘‘ کو بھارتی فلم میں بھی شامل کیا گیا۔ عارف لوہار کی آواز کا جادو آج بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ معروف فن کار عدنان سمیع کی شادی زیبا بختیار سے ہوئی تو ہر طرف اس فن کار جوڑی کے چرچے ہونے لگے۔ فلم انڈسٹری والوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عدنان سمیع کو زیبا بختیار کے مدِ مقابل فلم ’’سرگم‘‘ میں کاسٹ کیا۔

اس فلم کے گانے بہت مقبول ہوئے اور فلم نے بھی باکس آفس پر کام یابی حاصل کی، لیکن اس کے بعد زیبا بختیار تو فلموں میں کام کرتی نظر آئیں، مگر عدنان سمیع نے کسی فلم میں کام نہیں کیا، البتہ وہ اپنے گانے کی ویڈیوز میں بھارتی حسیناؤں کے ساتھ پُرفارم کرتے نظر آئے۔ اب تو وہ مکمل طور پر بھارت میں جا کر بس گئے ہیں۔ اب ذکر کرتے ہیں گلوکار سجاد علی کا۔ ان کی آواز میں کئی گانوں نے زبردست پزیرائی حاصل کی۔ ان کے گائے ہوئے گیت ’’ہر ظلم تیرا یاد ہے بُھولا تو نہیں ہوں‘‘ نے شان دار مقبولیت حاصل کی۔ سجاد علی نے کم عمری میں ہی گانا شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے اپنے البم کے ایک گانے ’’سوہنی لگدی اے‘‘ کا وڈیو بھارت سے بنا کر دنیا بھر میں ریلیز کیا، جسے بے حد پسند کیا گیا۔ اس گانے نے سجاد علی کی شہرت کو چار چاند لگا دیے تھے۔ ان کے مقبول گانوں میں ’’بے بیا‘‘ ’’چیف صاحب‘‘ ’’پانیوں میں‘‘ ’’تیری یاد ستائے‘‘ و دیگر بھی شامل ہیں۔ انہوں نے تجرباتی طور پر پاکستان فلم انڈسٹری کو سہارا دینے کے لیے ایک فلم ’’ایک اور لو اسٹوری‘‘ بنائی۔ فلم میں سلیم شیخ، زارا شیخ اور نرما نے سجاد علی کے ساتھ عمدہ اداکاری کی۔ سجاد علی کو بہ طور ہیرو خاصا پسند بھی کیا گیا، لیکن اس کے بعد انہوں نے کسی فلم میں کام کرنے سے توبہ کر لی۔ ان دنوں وہ دبئی میں بھارت اور پاکستان کے نوجوانوں کو موسیقی کی تربیت دینے میں مصروف ہیں اور فیملی کے ساتھ وہیں رہائش پزیر ہیں۔ پاکستان میں جب بھی پاپ میوزک کی تاریخ لکھی جائے گی، اس میں عالمگیر اور محمد علی شہکی کا نام سرفہرست ہو گا۔ محمد علی شہکی نے کئی مقبول گیت اور ملی نغمے گائے اور دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ وہ خوش گلو ہونے کے ساتھ ساتھ خوش شکل بھی ہیں، اس لیے انہیں بھی چار پانچ فلموں میں کاسٹ کیا گیا۔ انہیں فلم ’’شور‘‘ میں بابرہ شریف کے ساتھ بھی کاسٹ کیا گیا۔ ان کی قابلِ ذکر فلموں میں ’’سن آف اَن داتا‘‘ اور ’’چوروں کا بادشاہ‘‘ شامل ہیں۔ بہرحال وہ اداکاری کے میدان میں  کام یابی حاصل نہیں کر سکے، جو انہوں نے فنِ موسیقی میں حاصل کی تھی۔ آج کل وہ ایف ایم ریڈیو پر ایک پروگرام کی میزبانی کر رہے ہیں اور محافلِ موسیقی میں بھی پُرفارم کرتے ہیں، تاہم اب انہوں نے اداکاری سے توبہ کر لی ہے۔

نئی نسل کے گلوکاروں نے فلم انڈسٹری کو نئی زندگی دی
محمدعلی شہکی فلم کے ایک منظر میں ساتھی فن کاروں کے ساتھ

وادی سندھ سے تعلق رکھنے والے گلوکار ارشد محمود نے بھی ایک فلم ’’آج کا دور‘‘ میں بہ طور ہیرو کام کیا۔ فلم باکس آفس پر ایوریج رہی۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی پُوری توجہ گلوکاری پر مرکوز کرلی۔ ارشد محمود پاکستان کی مختلف زبانوں میں گانے گاتے ہیں۔ اب تک درجنوں البم ریلیز کر چکے ہیں۔ ’’ہوا ہوا‘‘ گانے سے عالمی شہرت حاصل کرنے والے گلوکار حسن جہانگیر نے مقبولیت کے کئی ریکارڈ قائم کیے۔ بھارت میں انہیں بے انتہا پسند کیا گیا تو ایک فلم پروڈیوسر نے بہ طور ہیرو فلم ’’سولہ سترہ‘‘ میں کاسٹ کیا۔ اس فلم نے قابلِ ذکر کام یابی حاصل نہیں کی۔ اس کے بعد حسن جہانگیر نے کسی فلم میں کام نہیں کیا۔ گلوکار سلیم جاوید نے بھی فرقان حیدر کی فلم ’’مسٹر کے ٹو‘‘ میں کام کیا۔ فلم کام یابی حاصل نہیں کر سکی۔ اس فلم میں معین اختر بہ طور ہیرو سامنے آئے تھے۔ سلیم جاوید کا کہنا ہے کہ فلم میں کام کرنا، میرے لیے تلخ تجربہ ثابت ہوا۔ میری پہچان موسیقی ہے۔ اس کی وجہ سے مجھے دنیا بھر میں مدعو کیا جاتا ہے۔ میں ان دنوں اپنے نئے البم کی ریلیز کی تیاریوں میں مصروف ہوں۔ بھارت میں کئی فلموں میں اپنی آواز کا جادو جگانے والے سنگر ہمیش ریشمیا کو کون نہیں جانتا۔ انہیں بھی پاکستانی اداکارہ سارہ لورین کے مدِ مقابل ہیرو کاسٹ کر کے فلم ’’کجرا رے‘‘ بنائی گئی جو ناکام ثابت ہوئی۔ اس کے بعد بھی ایک دو فلموں میں کام کیا۔ وہ بھی کام یاب ثابت نہ ہو سکیں۔ اداکاری کے شعبے میں ناکامی سے ہمیش کی مقبولیت میں بے پناہ کمی واقع ہوئی، اب وہ پھر سے اپنی گائیکی کی جانب توجہ دے رہے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ فن کار کو فنونِ لطیفہ کے جس شعبے پر دسترس حاصل ہو، اُسی پر بھرپور توجہ دے تو دیرپا کام یابی حاصل ہوسکتی ہے، جس طرح علی ظفر نے گائیکی کے ساتھ اداکاری کے شعبے میں نام پیدا کیا، دوسرے فن کاروںکے لیے وہ مثال بن کر سامنے آئے ہیں، فلم انڈسٹری کو نئی نسل کے فن کاروں نے نئی زندگی عطا کی ہےاور یہ بہت خوش آئند بات ہے۔

تازہ ترین
تازہ ترین