روس نے ایرانی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے چیف علی لاریجانی کی شہادت پر پیغام دیا ہے۔
ماسکو میں روسی صدارتی محل کریملن سے جاری پیغام میں روس نے کہا ہے کہ خود مختار ایرانی قیادت کے قتل کی مذمت کرتے ہیں۔
پیغام میں مزید کہا گیا کہ ایک خود مختار ممالک کو نقصان پہنچانے والے اقدامات قابل مذمت ہیں۔
گذشتہ روز ایران نے قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق کی تھی۔
اسرائیل نے علی لاریجانی کو مشرقی تہران میں اس وقت نشانہ بنایا جب وہ اپنی بیٹی سے ملنے گئے ہوئے تھے۔
علی لاریجانی کے ایکس اکاؤنٹ سے بھی ان کی شہادت کا اعلان کیا گیا، بیان میں لکھا گیا ہے کہ خدا کا ایک بندہ، خدا سے جا ملا۔
قبل ازیں علی لاریجانی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ہاتھ سے لکھا پیغام جاری کیا گیا تھا جس میں شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا تھا۔
67 برس کے علی لاریجانی انقلابِ ایران کے بعد ابھرنے والی اہم سیاسی شخصیات میں شامل تھے۔ وہ ایران کے طاقتور مذہبی و سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے، متعدد بار صدارتی انتخابات میں بھی اہم امیدوار رہے۔
انہوں نے بطور اسپیکر پارلیمنٹ 12 سال تک مجلسِ شوریٰ کی قیادت کی، وہ ایران کے چیف مذاکرات کار برائے جوہری پروگرام بھی رہ چکے تھے۔
شہید علی لاریجانی کو ایران کی قدامت پسند مگر نسبتاً معتدل سوچ رکھنے والی سیاسی شخصیت سمجھا جاتا تھا۔