آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 13؍رمضان المبارک 1440ھ19؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم عمران خان نے دو روز قبل پشاور میں کام نہ کرنے والے وزراء اور بیورو کریٹس سے کہا ہے کہ جو بھی کام نہیں کرے گا، وہ اپنے آپ کو فارغ سمجھے یا اسے نکال دیا جائے گا۔ ایسے لگتا ہے وزیراعظم نے قائداعظمؒ کے افکار اور ارشادات کا مطالعہ شروع کر دیا ہے۔ جس میں بابائے قوم نے فرمایا ہے کہ کام، کام اور صرف کام! اب دیکھنا یہ ہے کہ قائداعظمؒ کے افکار اور پیغام کا پس منظر کیا ہے اورہمارے وزیراعظم کے اس خطاب کا پس منظر کیا ہے۔ اس بحث کو سیاسی رنگ دیئے بغیر سوچنے کی ضرورت ہے کہ قومی سطح پر یہ سوچ اجاگر کرنا ضروری نہیں ہے۔ لیکن اس کیلئے کام اور صرف کام کا آغاز اوپر سے کیا جائے گا تو خود بخود نیچے کے لوگوں خواہ وہ سرکاری آفیسرز ہوں یا ممبران پارلیمنٹ، وزراء یا بلدیاتی نمائندے یا نجی کمپنیوں کے ملازمین اور آفیسرز اس سے قومی سطح پر احساس ذمہ داری اور ڈسپلن کے تصور کو اجاگر کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔ اگر ایسا ہو جائے تو ہمارے معاشرے اور معیشت پر اس کے کافی سارے مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ وقت پر دفاتر کھلنے اور وقت پر بند ہونے سے روزانہ، ماہانہ اور سالانہ بنیادوں پر کروڑوں روپے کی بچت ہو سکتی ہے۔ جس میں قابل ذکر بجلی، گیس کے زائد استعمال کی حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے اور دوسری طرف عوام کو جو ایک ایک دفتر کے بار

بار چکر لگانا پڑتے ہیں۔ دوم اگر وزراء اور بیوروکریٹس دفتری اوقات میں اپنے دفاتر میں موجود رہیں گے تو انہیں اس تکلیف سے نجات مل جائے گی اور ان کے رکشہ، ٹیکسی اور دیگر ذرائع سے استعمال کی جانے والے ٹرانسپورٹ اخراجات میں کافی کمی ہو جائے گی۔ وزیر اعظم کے اس اعلان پر عملدرآمد کا آغاز ایوان صدر اور وزیراعظم ہائوس پر بھی ہونا چاہئے۔ جہاں بظاہر ابھی ایسا ماحول نظر نہیں آ رہا ہے۔ مگر زیادہ سے زیادہ سرکاری تقریبات کی بجائے اگر زیادہ وقت سرکاری فائلوں کو نمٹانے پر صرف ہو جائے تو اس سے اداروں کی کارکردگی اور عوام کو بھی کیش فری ریلیف مل سکتا ہے۔ اس طرح اس اعلان اور قائداعظمؒ کے افکار کا اطلاق ہماری پارلیمنٹ، سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں پر بھی ہونا چاہئے۔ جہاں پر اجلاس کے دوران کورم پورا نہ ہونے سے بھی قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ دوسرا اسمبلیوں میں ایک قانونی سازی ہو جانی چاہئے کہ پارلیمنٹ اور اس کے ماتحت اداروں کے ریڈر اسکرین پر وقت کی بچت سے لیکر قومی ایشوز پر زیادہ بات ہونی چاہئے۔ وقت کی قدر و وقعت کا احساس اگر ہمارے ممبران پارلیمنٹ کو ہو جائے اور وہ پارلیمنٹ کے بزنس میں اگر بلاوجہ کی سیاسی الزام تراشی اور ایک دوسری کو نیچا دکھانے کی بجائے اگر یہی وقت اقتصادی اور سماجی ایشوز پر صرف کریں تو اس سے عوام میں جمہوری حکومتوں کی کارکردگی پر نہ تو سوالات اٹھیں گے اور نہ ہی ہر تیسرے چوتھے روز جمہوریت کے رخصت کی افواہیں خبروں کا حصہ بنیں گی اور عوام کا بھی قیمتی وقت ضائع نہیں ہوگا۔ جو وہ چسکا لینے کیلئے ہر وقت ٹی وی کے آگے بیٹھے رہتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کو چاہئے کہ وہ اس بیان پر کوئی یوٹرن نہ لیں۔بلکہ اس پر عملدرآمد کیلئے سختی سے کاربند رہیں۔ اس سے احساس ذمہ داری کے ساتھ ساتھ NAB کے بغیر احتساب کا عمل بھی آگے بڑھ سکتا ہے۔ اس کیلئے قومی سطح پر ہر شخص کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہئے اورکام کرنے کی سوچ کو آگے بڑھانا ہو گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں