ڈاکٹر شوکت سعدی، کراچی
جس طرح ہڈیاں ہمارے جسم کے ڈھانچے اور جسمانی ساخت کی برقراری کے لیے جزوِ لازم ہیں، اِسی طرح ہڈیوں کے سِروں پر واقع جوڑ بھی ہمیں متحرک رکھنے کے لیے ازحد ضروری ہیں۔ ساخت کے اعتبار سے جوڑوں کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔چہرے اور کاسۂ سَر کی ہڈیاں سپاٹ پرت کی شکل میں ہوتی ہیں اور ان کے سِرے پیدایش کے بعد، ایک دوسرے سے چپک کر ناقابلِ حرکت جوڑ بنا لیتے ہیں، جب کہ اس عضو کے علاوہ جسم کی باقی تمام ہڈیاں متحرک جوڑ بناتی ہیں۔ جیسے ہاتھ، پیر اور گردن کے مہرے وغیرہ۔ حرکت کے اعتبار سے بھی جوڑوں کی تین بڑی اقسام ہیں۔ اوّل قسم میں وہ جوڑ شامل ہیں، جن کا دائرۂ حرکت بہت وسیع ہے، مثلاً کندھے اور کولھے کے جوڑ۔ واضح رہے کہ چلنا پھرنا، دوڑنا، کھیلنا اور محنت مزدوری کے لیے حرکت کرنا انہی جوڑوں کے مرہونِ منت ہے۔ دوسری قسم ایسے جوڑوں کی ہے، جو دائرے کی بجائے ایک ہی سمت میں حرکت کے پابند ہوتے ہیں۔ جس طرح دروازے اور چوکھٹ میں لگے قبضے کی مدد سے دروازے کا ایک سمت میں حرکت کرنا۔ یہ جوڑ عام طور پر چھوٹے ہوتے ہیں، مثلاً انگلیوں، کہنی اور ریڑھ کی ہڈی کے جوڑ وغیرہ۔ نیز، کچھ جوڑ بہت محدود حرکت کرتے ہیں، لیکن ایک لچک دار متحرک جسم کے لیے ان کا موجود ہونا بھی بےحد ضروری ہے، جیسے کلائی اور ٹخنے کے جوڑ۔ساخت کے اعتبار سے بڑے اور چھوٹے جوڑوں کی درجہ بندی کے علاوہ ان کے افعال کے لحاظ سے بھی انھیں پکارا جاتا ہے۔ مثلاً کولھے، گھٹنے اور ٹخنوں کے جوڑ، چوں کہ جسم کا وزن سہارتے ہیں، اس لیے انہیں طبّی اصطلاح میں"Weight Bearing"یعنی وزن جھیلنے والےجوڑ کہا جاتا ہے۔
اصل میں جوڑ دو یا زائد ہڈیوں کے ملنے سے بنتے ہیں اور ان ہڈیوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے والے مقام پر ایک ملائم اور کرکری ہڈی کارٹیلیج"Cartilage"کی ایک تہہ لازماً پائی جاتی ہے، جو ایک کشن کی مانند ہڈیوں کے سِروں کو رگڑنے اور گِھسنے سے بچاتی ہے۔جوڑ کے دونوں سِرے انتہائی مضبوط، لیکن لچک دار، ریشے دار ڈوریوں یا رباط(Ligament)کی مدد سے بندھے ہوتے ہیں اور آخر میں تمام جوڑ ایک مضبوط جھلّی سے بنی تھیلیوں میں محفوظ ہوتے ہیں، جن کے اندر چِکنا، لیس دار مادّہ ہڈیوں کے سِروں کو رگڑ سے بچانے کے علاوہ حرکات میں آسانی بھی پیدا کرتا ہے۔ طبّی اصطلاح میں اس تھیلی کو"Joint Capsule"اور چکنے مادّے کو"Synovial fluid"کہا جاتا ہے۔اگر یہ جوڑ کسی بھی وجہ سے متاثر ہوجائیں، توآرتھرائٹس، جسےعرفِ عام میںجوڑوں یا گٹھیا کا مرض کہا جاتا ہے، لاحق ہوجاتا ہے۔ آرتھرائٹس یا جوڑوں کا درد، دراصل ایک انتہائی تکلیف دہ مرض ہے،جو بعض اوقات نہ صرف معذوری کا سبب بن جاتا ہے،بلکہ چال میں ٹیڑھا پن بھی پیدا کر دیتا ہے۔ اس مرض میں ہڈیوں کےجوڑوں پر سوزش یا ورم آجاتا ہے، جس کے باعث جوڑوں کو حرکت دینے میں شدید قسم کادرد ہوتا ہے۔ اگر علامات کی بات کی جائے، تو مرض کی اقسام کے اعتبار سے علامات بھی مختلف ہیں۔تاہم، سب سے عام علامت جوڑوں پر سُوجن اور درد ہے۔ جب کہ دیگر علامات میں جوڑوں کی کم زوری، حرکت کا محدود ہو جانا اور جوڑوں کے اطراف کے عضلات کی موٹائی میں کمی، زیادہ چلنے کے بعد اور رات سوتے ہوئے شدید درد(کیوں کہ دورانِ نیند کروٹ لی جاتی ہے، تو جوڑ کے ہلنے سے درد کی ٹیسیں اُٹھتی ہیں)، پیروں کا ٹیڑھا پن اور ٹانگیں سیدھی کرنے میں دشواری محسوس ہونا وغیرہ شامل ہیں۔ مرض شدت اختیار کر جائے،تو پھر کم حرکت میں بھی نا قابلِ برداشت درد ہوتا ہے،جو آرام کرنے سے بھی ختم نہیں ہوتا۔
جوڑوں کے امراض کی تقریباً پچاس سے زائداقسام ہیں،جن میں چاراقسام کے عوارض زیادہ عام اور عُمر کے کسی بھی حصّے میں لاحق ہوسکتے ہیں۔ ان میں آسٹیو آرتھرائٹس(Osteo Arthritis)یعنی جوڑوں کے جھڑنے کی بیماری ،خصوصاًہمارے مُلک میں عام ہے۔ یہ عارضہ عموماً30سے40برس یا اس سے زائد عُمر کے بعد بالخصوص فربہ افراد کو اپنا شکار بناتا ہے۔تاہم،اس عارضے کی شرح خواتین میں زیادہ بُلند ہے۔آسٹیو آرتھرائٹس رفتہ رفتہ بڑھتا ہے اور وزن جھیلنے والے جوڑ یعنی کولھے، گھٹنے اور ٹخنے کے جوڑوں کو متاثر کردیتا ہے۔ہڈیوں کے سِروں پر موجود ملائم ہڈی کارٹیلیج گِھس جاتی ہے اور ہڈیاں رگڑ کھانے لگتی ہیں۔نتیجتاً اُٹھتے بیٹھتے اور چلتے ہوئے درد کی شدید لہر اُٹھتی ہے۔بعض اوقات جوڑ چُھونے اور دبانے سے بھی دُکھن محسوس ہوتی ہے۔ خاص طور پر صُبح بیدار ہونے پر جوڑ سخت اور جکڑے ہوئے محسوس ہوتے ہیں اور پہلے کی طرح لچک دار نہیں رہتے۔ جوڑوں کا دائرۂ حرکت کم ہو جاتا ہے اور وہ اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق کُھل، بند نہیں ہوسکتے۔ عموماً جوڑوں میں حرکت کے دوران کڑکڑانے کی آوازیں آتی ہیں، جیسےخشک کاغذ کو مروڑا جا رہا ہو۔ اسے"Crackling Sounds"کہا جاتا ہے۔مرض لاحق ہونے کی بنیادی وجہ موٹاپا ہے،جب کہ دیگر وجوہ میں حادثے یا کھیلنے کے دوران چوٹ لگنا(اکثر کھلاڑی اور پہلوان اپنی جوانی میں لگی کسی ضرب کے درد کو بڑھاپے میں محسوس کرتے ہیں)، ہڈیوں میں پیدایشی نقص یا خوراک کی کمی سے ہڈیوں کی نشوونما نہ ہونا شامل ہیں۔ماہرِ امراض ہڈی، جوڑ عموماً تشخیص کے لیے عام ایکس رے تجویز کرتا ہے، جس کے ذریعے ہڈیوں کے سِروں کو باآسانی گِھسا ہوا دیکھا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں، معالج ایک آلے کی مدد سے بڑے جوڑ جیسے گھٹنے کا اندرونی معائنہ کرتا ہے، جسے آرتھرواسکوپی(Arthroscopy)کہتے ہیں۔تاہم، خون کا نمونہ لےکرکوئی ٹیسٹ نہیں کیا جاتا۔ علاج کے لیے عمومی طور پر درد کی شدّت کم کرنے کے لیے ادویہ تجویز کی جاتی ہیں۔ تاہم، ان سے مرض یک سر ختم نہیں ہوتا۔ بعض کیسز میں معالج، جوڑ کے اندر لگائے جانے والے مخصوص انجیکشنز بھی تجویز کرتے ہیں۔ اس سے جوڑ کا لعاب، بہتر ہو جاتا ہے۔علاج کے لیے ڈاکٹر کا ماہر اور تجربہ کار ہونا از حد ضروری ہے۔ بصورتِ دیگر جوڑ میں انفیکشن ہو کر پیپ بھی پڑ سکتی ہے۔ اگر ہڈیوں کے سِرے اس حد تک گِھس چُکے ہوں کہ ادویہ اور انجیکشن دونوں ہی مؤثر ثابت نہ ہوں،تو پھرپورے جوڑ کو آپریشن کے ذریعے تبدیل کردیا جاتا ہے۔ یہ طریقۂ علاج کولھے اور گھٹنے کے جوڑوں کے لیے بہت کام یاب ہے۔ اس میں سرجری کے ذریعےمتاثرہ جوڑ نکال کر مصنوعی دھات سے بنا ہوا جوڑ فٹ کردیا جاتا ہے۔یہ علاج مہنگا ہے اور چند ہی اسپتالوں میں اس کی سہولت دستیاب ہے۔موجودہ دَور میں ایسے امراض، جن کا تسلی بخش روایتی علاج ممکن نہ ہو، ان سے نجات کے لیے"Alternative Medicine" کے استعمال کا رجحان تیزی بڑھ رہا ہے۔ ترقّی یافتہ مُمالک میں بھی مریض جڑی بوٹیوں سے علاج کروانا پسند کرتے ہیں۔ تاہم، اس بات کا خیال رہے کہ زیادہ تر اتائی علاج کے نام پر مضرِ صحت ادویہ بھی تجویز کرتے ہیں، جو ابتدا میں تو پر علامات کنٹرول کرلیتی ہیں، لیکن طویل استعمال کے بعد جسم کے ہر عضو کو ناکارہ کرکے موت تک کا سبب بن جاتی ہیں۔علاوہ ازیں،مریض کو ادویہ کے ساتھ مخصوص ورزش یافزیوتھراپی کا بھی مشورہ دیا جاتا ہے، جو مرض کی شدّت کم کرنے میں اکسیر ثابت ہوتی ہیں۔ اس ضمن میں کسی ماہر فزیو تھراپسٹ ہی سے رابطہ کیا جائے، تو بہتر ہے۔بعض اوقات از خود ورزش سے بہتری کی بجائے جوڑ مزید خراب ہوجاتے ہیں۔علاوہ ازیں، درد اور ورم کی شدّت کم کرنےکے لیے مخصوص پٹّی، کُشن اور موزے وغیرہ بھی استعمال کروائے جاتے ہیں۔
رہیوماٹائڈ آرتھرائٹس (Rheumatoid Arthritis): یہ مرض جسم کے چھوٹے جوڑ ،خاص طور پر ہاتھوں کی انگلیوں کے جوڑوں کو متاثر کرتا ہے اور جوڑ ورم زدہ ہو کر سُرخ ہوجاتے ہیں،جس سے مریض شدید تکلیف محسوس کرتا ہے۔ خواہ کتنا ہی آرام کیا جائے، درد کی شدّت میں کمی نہیں آتی۔ علاج کے باوجود انگلیاں ٹیڑھی میڑھی اور بدوضع ہوجاتی ہیں اور جوڑوں کے سخت اور منجمد ہونے کے باعث مریض روزمرّہ امور بھی انجام نہیں دے سکتا۔بعدازاں عُمر بَھر کے لیے معذوربھی ہوجاتا ہے۔ایسے مریضوں کے لیے ترقّی یافتہ مُمالک میں مخصوص نرسنگ ہوم ہیں،جہاں تربیت یافتہ عملہ یا رضا کار انہیں بنیادی ضروریات مثلاً کھانا کھلانے، کپڑے پہننے جیسے امور انجام دینے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ طبّی اعتبار سے یہ مرض جسم کے مدافعتی نظام کے خراب ہونے سے لاحق ہوتا ہے۔ جس میں جسم کے سفید خلیےاور ان سے خارج شدہ کیمیکل جوڑوں کے تمام حصّے یعنی ملائم ہڈی کارٹیلیج، جوڑ کے رباط اور جھلّی پر اثر انداز ہو کر انہیں آپس میں چِپکا کر حرکت سے محروم کردیتے ہیں،جو عام طور پر عُمر بَھر کی معذوری کا سبب بن جاتا ہے۔ اگر درد اور سوجن ٹھیک بھی ہوجائے، تب بھی جوڑ کی حرکت بحال نہیں ہوتی۔ تشخیص کے لیے ایکس رے، الٹراسائونڈ اور ایم آر آئی کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں، خون کے ٹیسٹ"Rheumatoid factor"سے بھی مرض کی تشخیص میں خاصی مدد ملتی ہے۔ علاج کے ضمن میںدرد رفع کرنے کی ادویہ تجویز کی جاتی ہیں اور اگرمرض شدّت اختیار کرلے، تو ماہر ڈاکٹر اپنی نگرانی میں ایسی مخصوص ادویہ تجویز کرتے ہیں، جن سے وَرم اور درد ٹھیک ہوجاتا ہے اور جوڑ مستقل معذوری سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔ اگر جوڑ ٹیڑھے اور منجمد ہوجائیں، تو پھر سرجری کی جاتی ہے۔ یہ مرض پاکستان میں عام نہیں۔ یورپی مُمالک میں اس مرض کے علاج کے لیے مخصوص اسپتال اور تربیت یافتہ عملہ میسّر ہے۔
گاؤٹ آرتھرائٹس(Gout Arthritis) :یہ قسم عام طور پر مَردوں کو زیادہ متاثر کرتی ہے۔یہ مرض خون میں ایک فاسد مادّے، یورک ایسڈ کے زیادہ جمع ہوجانے سے لاحق ہوتا ہے۔ عام حالات میں یہ مادّہ اگر مناسب مقدار میں بن رہا ہو اور گُردوں کا فعل بھی درست ہو، تو یہ پیشاب کے ذریعے خارج ہو جاتا ہے، لیکن اگر خوراک میں گوشت یا پروٹین کی زیادتی سے یورک ایسڈ زیادہ مقدار میں بنے یا گُردوں کا فعل کم ہوجائے، تو پھر خون میں اس کی مقدار بڑھنے لگتی ہے۔یوں یورک ایسڈ نمک کی شکل میں جوڑوں کی جھلّی پر اثرانداز ہو کر انہیں متوّرم کر دیتا ہے۔بروقت تشخیص اور درست علاج کی صورت میں، جوڑوں میں کوئی مستقل معذوری یا پیچیدگی نہیں ہوتی۔اس کی مخصوص اور واضح علامت پاؤں، خاص طور پر بڑے انگوٹھے کا جوڑ سُرخ اور متوّرم ہونا ہے۔گاؤٹ آرتھرائٹس کی تشخیص خون کے معائنے کے ذریعے کی جاتی ہے،جب کہ علاج بھی بہت آسان اور سستا ہے۔اس مرض میں شیکسپیئر، آئن اسٹائن اور نیوٹن بھی مبتلا تھے،اسی لیے ایک عام خیال ہے کہ یہ عارضہ ذہین افراد کو اپنا شکار بنالیتا ہے، تاہم، طبّی اعتبار سے یہ کوئی اہم تشخیصی نکتہ نہیں۔اس مرض میں ادویہ تجویز کی جاتی ہیں، جب کہ گائےکے گوشت اور چند سبزیوں سے پرہیز کی سخت تاکید کی جاتی ہے، تاکہ خون میں یورک ایسڈ زائد مقدار میں جمع نہ ہو سکے۔
رہیومیٹک فیور (Rheumatic Fever): اس مرض کو عرفِ عام میں ’’گٹھیا کا بخار‘‘ کہا جاتا ہے،جوزیادہ تربچّوں اور نو عُمر افراد کو متاثر کرتاہے۔اس مرض کی ابتدا گلے کے انفیکشن سے ہوتی ہے۔ اصل میں مرض کا سبب بننے والا جرثوما حلق میں انفیکشن پیدا کرنے کے ساتھ جسم کے مدافعتی نظام کو بھی متحرک کر دیتا ہے۔یعنی مدافتی نظام اپنے ہی جسم سے لڑنے لگتا ہے،جس کے نتیجے میں جوڑ متاثر ہوجاتے ہیں، اسے آٹوامیون ڈس آرڈر بھی کہتے ہیں۔یا یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس ردِّعمل کے بعد تیار ہونے والی اینٹی باڈیز بسا اوقات غلطی سے اپنے ہی جسم کے خلیوں کو تباہ کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ واضح رہے کہ اس مرض کی لپیٹ میں صرف جوڑ ہی نہیں آتے، بلکہ اس سے جِلد اور دِل کے خلیات بھی متاثر ہوجاتے ہیں۔ اگرچہ جوڑ اور جِلد پر ظاہر ہونے والے اثرات وقتی ہوتے ہیں،جو علاج کے بعد ٹھیک ہو جاتے ہیں، لیکن دِل پر مرتّب شدہ اثرات تاعُمر برقرار رہتے ہیں اور بعدازاں دِل کے والوز کے کم زور یا پھر ناکارہ ہونے کی وجہ بن جاتے ہیں۔ اگر بروقت تشخیص اور علاج ہوجائے، تو نہ صرف جوڑوں کے درد کی تکلیف سے نجات مل جاتی ہے، بلکہ دِل کی پیچیدگی سے بھی محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ (مضمون نگار ماہرِ امراض جِلدہونے کے ساتھ جنرل فزیشن بھی ہیں)