آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ16؍رمضان المبارک 1440ھ22؍ مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد (مہتاب حیدر) دی نیوز کو معلوم ہوا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت منی بجٹ کے ذریعے سگریٹ کی صنعت پر 15سے 20ارب روپے تک کا ٹیکس بڑھانے کیلئے مختلف تجاویز پر غور کررہی ہے ۔ منی بجٹ رواں ماہ متوقع ہے۔ حکومت موجودہ مالی سال کے دوسرے حصے میں (جنوری تا جون) 150سے 160ارب تک کے اضافی ٹیکس عائد کرنے کی غرض سے مختلف تجاویز پر غور کر رہی ہے۔ ان تجاویز کا مقصد ایف بی آر کے ٹیکس جمع کرنے کے ہدف میں کمی کو پورا کرنا ہے جو پہلے چھ ماہ میں 160ارب روپےکی سطح پر ہے۔ سرکاری ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ایک فیصد اضافی کسٹم ڈیوٹی لگانے کی تجویز تحریک انصاف نے یہ کہہ کر رد کردی کہ اس سے صنعت کو نقصان ہوگا کیونکہ انکی لاگت بڑھ جائیگی۔ ایک فیصد اضافی کسٹم ڈیوٹی 80سے 85ارب روپے اکھٹے کرسکتی تھی، تاہم جب پوچھا گیا کہ 150سے 160ارب روپے کیسے اکھٹے ہوں گے تو اس پر حکام کا کہنا تھا کہ ٹیکس تجاویز کو اگلے ہفتے حتمی شکل دی جائیگی۔ آنیوالے منی بجٹ کیلئے تجاویز کو ٹھوس شکل دینے کی غرض سے وزارت خزانہ میں اہم اجلاس ہوا جس میں ایف بی آر کے اراکین

نے بھی شرکت کی۔ تاہم چیئرمین ایف بی آر نجی دورے پر بیرون ملک ہونے کے باعث اجلاس میں شریک نہ ہوسکے۔ تمباکو کی صنعت سے متعلق مختلف تجاویز دی گئی ہیں جس میں تین درجوں والے نظام کو ختم کر کے دو درجوں والے نظام کو متعارف کرانا ہے۔ دوسری تجویز ٹیکس کی شرح میں اضافے سے متعلق ہے تاکہ اسے عالمی ادارہ برائے صحت کے ہدایت کے مطابق بنایا جائے کیونکہ تین درجے والے نظام میں رہتے ہوئے بھی ٹیکس کے بوجھ میں اضافے کی گنجائش موجود ہے ۔تمباکو کی صنعت سے وابسطہ ذرائع کا کہنا ہے کہ قانونی اور غیر قانونی سگریٹ کی قیمت میں فرق 30روپے فی پیکٹ ہے اور ٹیکس میں اضافے سے یہ فرق 40روپے فی پیکٹ تک بڑھ جائیگالہذا غیرقانونی سگریٹ زیادہ پرکشش ہو جائیگی۔ ٹیکس میں اضافے سے ٹیکس چوری میں اضافہ ہوگا اور اس پر اسی صورت قابو پایا جاسکتا ہے جب کرپشن سے پاک حکومت میں قانون نافذ کرنے کی صلاحیت ہو۔ جن اداروں نے قوانین کا نفاذ کرنا ہے وہاں وسائل کی قلت ہے اور زمینی حقائق جانے بغیر لیا جانیوالا کوئی بھی حکومتی فیصلہ ناکام ثابت ہوگا۔ اور یہ صورتحال پاکستان میں تمباکو سے متعلق ٹیکس پالیسی کی نظر آتی ہے۔ پاکستان کی تمباکو صنعت میں ٹیکس چوری کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ سگریٹ پاکستان میں تیار کئے جاتے ہیں۔ ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسے روکنے کیلئے کچھ کیا کیوں نہیں جاتا؟ تمباکو پر ٹیکس میں اضافے کے ساتھ ماضی کے رجحانات دیکھتے ہوئے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اس سے غیر قانونی سگریٹ کی تجارت میں اضافہ ہوگاجبکہ سگریٹ کا مجموعی استعمال برقرار رہے گا۔ 2010میں 13ارب غیرقانونی سگریٹ فروخت ہوئی جبکہ 2017میں یہ تعداد بڑھ کر 32ارب تک جا پہنچی، اور اس کی بنیادی وجہ تمباکو کی صنعت پر ٹیکس اور قانون کا نفاذ ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں