• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ دلہن کے بناؤ سنگھار میں جب تک جیولری شامل نہ ہو، وہ دلہن نہیں لگتی۔ خوبصورت اور بھاری جیولری ایشیائی دلہنوں کا خاص سنگھار ہے (جی ہاں! زیورات کے بغیر سولہ سنگھار ہی کیا)۔ شادی ہو یا منگنی، حتٰی کہ مایوں کی تقریب میں دلہن کے پہننے کےلیے سونے، چاندی، ایمیٹیشن یا پھر پھولوں کے زیورات کی تیاری کے لیے کئی کئی دن پہلے آڈر دے دیا جاتا ہے۔ روایت و جدت سے ہم آہنگ خوبصورت زیورات نہ صرف دلہن بلکہ شادی میں شریک تمام خواتین کی تیاری کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔ جیولری ٹرینڈ کی بات کی جائےتوان دنوں جدید جیولری کے انداز خاصے مقبول ہورہے ہیں اور ان مقبول ہونے والے ڈیزائن میں آپ کے لیے کیا خاص ہے آئیے جانتے ہیں۔

ماتھا پٹی

سر پر سجی ماتھا پٹی کسی بھی دلہن کو شہزادیوں جیساحسن عطا کرتی ہے اور اگر ٹرینڈ کی بات کی جائے تو ماتھا پٹی، مانگ ٹیکے سے زیادہ مقبول ٹرینڈ ہے۔ کچھ عرصہ قبل دلہنیں بارات کے دن کے لیے بھی مانگ ٹیکے کا انتخاب کرتی تھیں، جن میں کندن پر بنا چاند نما مانگ ڈیزائن خاصا مقبول تھا۔ تاہم اب مانگ ٹیکا دلہن کی جیولری سے نکل کر بہنوں اور کزنز کی جیولری کا بھی لازمی انتخاب نظر آتا ہے جبکہ دلہنیں بارات کے لیے زیادہ تر مانگ ٹیکا کے ساتھ ماتھا پٹی کا استعمال کرتی ہیں۔ بالی ووڈ ڈمپل گرل د یپیکا پڈوکون نے بھی کوکنی رسم کے تحت اپنی شادی میںاورنج اورگولڈن سلک کی ساڑھی کے ساتھ ماتھا پٹی کا ہی انتخاب کیا تھا جبکہ حالیہ برس انوشکا شرما اور سونم کپور نے بھی اپنی زندگی کے اہم دن کے لیے ماتھا پٹی پہننا ہی پسند کیا۔ ٹرینڈز کی بات کی جائے تو ڈیزائنزماتھا پٹی کے لیے کندن اور موتیوں کے علاوہ ڈائمنڈ کا بھی اضافہ کررہے ہیں۔

اس کے علاوہ ان دنوں اکثر دلہنیں ریسیپشن کی تقریب پر ون سائیڈڈ مانگ ٹیکا سجائے جلوے بکھیرتی ہیں، مانگ ٹیکے کا یہ انداز زیورات میں ایک نیا اضافہ ہے۔ یہ خوبصورت زیور تین لڑیوں سے جڑا ہوتا ہے، جو مانگ ٹیکے کے ساتھ بالوںکے رُخ جاتی ہوئی کشادہ پیشانی پر چودہویں کے چاند کی طرح دمکتی نظر آتی ہیں۔ فیشن ماہرین کے مطابق عام طور پر ون سائیڈڈ مانگ ٹیکا لمبا اور بیضوی چہرہ رکھنے والی خواتین پر بے حد سوٹ کرتا ہے جبکہ گو ل چہرے اور کشادہ پیشانی رکھنے والی خواتین مغلیہ طرز پر بنی مانگ ٹیکا سے جُڑی ماتھا پٹی کا انتخاب کرسکتی ہیں، جو ان کے خاص دن کی رعنائی میں اضافہ کرسکتی ہے۔

گلے کے زیور

گلے میں پہننے والی جیولری کا ڈیزائن ہر بدلتے سال اور موسم میں تبدیلی چاہتا ہے۔ اب دلہنیں ایک سے زائد گلے کے زیورات پہننے کے بجائے کسی ایک خوبصورت جیولری سیٹ کا انتخاب کرتی ہیں۔ یہ زیورات سونے کے بھی پہننے جاتے ہیں تاہم عام طور پرکندن، موتیوں یا پھر سات لڑیوں والےہارعروسی زیور ات کے طور پر تیار کیے جاتے ہیں۔ آپ اگر ٹرینڈ کو فالو کرنا چاہتی ہیں تو اپنی شادی کے لیے اسٹیٹمنٹ اسٹائل کی جیولری تیار کروائیںلیکن اس بات کا خیال رکھیں کہ عروسی زیورات کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ بھاری زیورات ہوں، انھیں ایسا ہونا چاہیے کہ وہ آپ پر سوٹ کریں۔

ہاتھوں اور پیروں کے زیورات

ہاتھوں اور پیروں کے زیورات کی بات آتے ہی چوڑیاں، بریسلیٹ، انگوٹھیاں ، اینکلیٹ اور پائل کا تصور ذہن میں آتا ہے۔ ان زیورات کے لیے عموماً کندن کا انتخاب کیا جاتا ہے، جو دلہن کی سج دھج میں نمایاں دلکشی کا سبب بنتا ہے۔ کلائیوں میں سجی چوڑیوں کی بات کی جائے تو بالی ووڈ کی نئی دلہنیں بھاری بھر کم سیٹ کے بجائے اپنی شادی کے اہم موقع پر بھی سادہ چوڑیوں اور چند خوبصورت کڑوں کے ہمراہ بینگلز کا انتخاب کیے نظر آئیں۔

نتھ

نتھ، ناک میں پہنا جانےوالاایک ایسا زیور ہےجس کو پہننے کے بعد دلہن کے چہرےپر ایک خاص دلکشی پیدا ہوجاتی ہے۔ دلہنوں کی اکثریت آج بھی نتھ کا استعمال شوق سے کرتی ہے۔ ٹیلی ویژن انڈسٹری کی نئی دلہن ایمن خان نے اپنی رخصتی کے دن کے لیے چھوٹی سائز کی موتیوں والی نتھ کا انتخاب کیا تھا جبکہ دیپیکا اور انوشکا نے تھوڑے بڑے سائز کی کندن نتھ کا انتخاب کیا۔

تازہ ترین