آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 15؍ ذیقعد 1440ھ19؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قدرت کے عطا کردہ چار موسم خزاں و بہار، گرما و سرما کے مطابق جہاں انسانی مزاج تبدیل ہوتے ہیں، ویسے ہی پھلوں کے مزاج بھی تبدیل ہوتے ہیں۔ سیب، کیلے ، انار، ناشپاتی ، مالٹوں ، کینووں کا شمارسردی کےمن پسند پھلوں میں ہوتا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان میں کثیر تعداد میں استعمال کئے جانے والے سردی کے اہم پھلوں کی طبی افادیت ذیل میں پیش کی جاتی ہے۔

مالٹا / کینو / فروٹر

ہمارے ہاں نارنجی کی مختلف اقسام کینو، فروٹر اور مالٹا کے روپ میں دستیاب ہوتی ہیں، جن کا جوس پی کر آپ دن بھر تروتازہ اور متحرک رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں عام طور سے یہ پھل ’کینو ‘ کہلاتاہے، جو صوبہ پنجاب میں سب سے زیادہ حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان کا شمار مالٹےاور کینو پیدا کرنے والے چھٹے بڑے ملک کے طور پر ہوتا ہے۔ مالٹے اور کینو نظام ہضم کو بہتر بناتے، وزن میں کمی کرتے، وٹامن سی کی زائد مقدار کے باعث جینیاتی بوسیدگی اور عمر رسیدگی کے اثرات سے بچاتے اور آیورویدک علاج میں بلغم و کھانسی کو کم کرتے ہیں۔

انار

انار، موسم سرما کا خاص پھل ہے جو تقریباً ہر ایک کا ہی پسندیدہ ہوتا ہے۔ یہ فائبر ، پوٹاشیم ، وٹامن سی اورB6سے بھرپور ہے۔اس کابلاناغہ استعمال پھیپھڑوں، چھاتی کے سرطان ، امراض قلب، الزائمر، ذیابطیس، موٹاپے، جوڑوں کی سوزش کے لیے مفید ہے۔ اسے صحت کا ضامن سپر فوڈ اور جنتی پھل مانا جاتا ہے۔انار میں کیلشیم، پوٹاشیم، فاسفورس، آئرن، ہائیڈروکلورک ایسڈ،فائٹو کیمیکلز،اینٹی آکسیڈنٹس، پولی فینول، کم کیلوریز اور وٹامن اے، بی اورسی موجود ہوتے ہیں۔

امرود

پاکستان میں معیاری امرود پائے جاتے ہیں۔ فائبر اور وٹامن A، B6اور Cسے بھرپور اس پھل کو تازہ بھی کھایا جاسکتا ہے جبکہ فروٹ چاٹ، سلاد اور جوس کے طور پر بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ طبی ماہرین کی تحقیق کے مطابق امرود کھانے سے پیچش و قبض، ٹھنڈ اور کھانسی میں افاقے، وزن میں کمی لانے، کینسر کے اثرات کی روک تھام اور ہارمونز کی افزائش جیسے ان گنت فائدے ہیں۔ مائوں کے لئے دوران حمل اور دودھ پلانے کے دوران امرود کھانا لازمی قرار دیا جاتا ہے لیکن مقدار کا تعین اپنے معالج یا معالجہ کی ہدایت کے مطابق کریں۔

کیلا

کیلےمیں فائبر اور تین اقسام کی شکر (سکروز، فرکٹوز اور گلوکوز) ہوتی ہےاوریہ دونوں فوری توانائی کا اہم ذریعہ مانے جاتے ہیں۔ تازہ تحقیق کے مطابق دو کیلے کھانے سے 90منٹ کے لیے توانائی ملتی ہے، اس لیے یہ دنیا بھر کے ایتھلیٹس کی خوراک کا اہم حصہ ہے۔ ایک تازہ تحقیق اسے ’ذہنی تناؤ‘ جیسے مرض میں اکسیر جانتی ہے۔ اس میں موجود ٹرائپٹوفین ایسا پروٹین ہے، جو انسان کو سکون پہنچاتا اور موڈ کو بہتر بناتا ہے۔ اسے کھانے سے نیند نہ آنے کی شکایت دور ہوتی ہے۔کیلے میںشامل ’آئرن‘ یا فولاد کی وجہ سے جسم میں ہیمو گلوبن زیادہ بنتا ہے،جو نیند لانے میں کارگر ہے۔ کیلے میں شامل پوٹا شیم بلڈ پریشر کو کنٹرول، فالج سے بچاؤ اور ذہن کی قوت مدافعت کو بڑھاتا ہے۔

سیب

سیب ہمارے ملک کے شمالی علاقوں کا تحفہ ہے۔ اس میں موجود کاپر، پوٹاشیم اور وٹامن سی کی زائد مقدار جِلد کو قدرتی چمک، نکھار اور جسم پر نکلنے والے دھبوں کے نشان ختم کرنے میں جادوئی تاثیر رکھتی ہے۔ سرخ سیب کے علاوہ سبز سیب میں فائبر، منرلز اور وٹامنز کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے۔ جِلد کے کینسر سے بچائو کے لیے ہرے سیب کا استعمال کینسر کے خطرے کو کم کرتا ہے۔ اس کے استعمال سے جِلد صحت مند رہتی ہے۔

ناشپاتی

ناشپاتی (Pears) کا شمار سیب کے خاندان سے ہے۔ سیب کے بعد یہ سب سے معروف پھل ہے، جسے سیب کی طرح استعمال کیا اور کھایا جاتا ہے۔ یہ امریکا و پاکستان کا اہم پھل ہے جو سبز، زرد اور سرخ رنگوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کے غذائی اجزا اور نشاستوں میں پروٹین 0.38گرام اور کولیسٹرول کی صفر مقدار ہے جبکہ یہ وٹامن اے، سی، ای اور کے سے بھرپور ہے۔ معدنیا ت میں کیلشیم، کاپر، آئرن، میگنیشیم، میگنیز، فاسفورس اور زنک شامل ہیں۔ ناشپاتی جِلد کے لئے ہمیشہ سودمند اور نشاستوں سے بھرپور ہوتی ہے۔ اس میں وٹامن کے کی کثیر مقدار خون کو جمنے سے روکتی ہے ، ساتھ ہی بلند اور کم فشار خون کی شکایت کو دور رکھتی ہے۔

زرد سرخ انگور

ہمارے ہاں انگور شوخ، زرد اور سرخ رنگو ں میں دستیاب ہیں۔ ایروما تھراپی کے لئے انگور کا تیل صدیوں سے جادوئی تاثیر کا حامل ہے۔ یہ وٹامن اے کا بھرپور خزانہ رکھتے ہیں جبکہ دیگر وٹامنز میں B6، B12، C، D، D3،E اورKپائے جاتے ہیں۔ ماہرین طب کی متفقہ رائے ہےکہ انگور کھانے والے قبض ،امراض قلب ، ذیابطیس، کینسر ، درد اور الرجی کے امراض سے دور رہتے ہیں۔ انگور کے اندر موجود شیریں پانی قرنیے کے لئے ضروری خوراک کا کام کرتا ہے، تاہم اس کی مقدار متوازن ہونی چاہئے ورنہ یہ زہر خورانی کا موجب بنے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں