آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر11؍ ربیع الثانی 1441ھ 9؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

حکومت اس وقت جس طرح صوبوں میں سیاسی معاملات کو چلا رہی ہے، اس سے نہ صرف سیاسی قوتوں بشمول پاکستان تحریک انصاف کو نقصان ہوگا بلکہ اس سے سسٹم کے لئے بھی خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں سیاسی بے چینی پیدا ہوگئی ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بھی مصنوعی سیاسی استحکام ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے حالیہ دو روزہ دورہ کراچی نے سندھ میں بلا ضرورت سیاسی ہلچل پیدا کی۔ انہوں نے یہاں اپنے بیانات میں یہ تاثر دیا کہ ان کی سیاسی جماعت جب چاہے، سندھ حکومت کو گرا سکتی ہے۔ فواد چوہدری کے اس دورے سے قبل مبینہ جعلی اکائونٹس کیس میں سپریم کورٹ کی قائم کردہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کو جواز بنا کر تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے پیپلز پارٹی کے قائدین آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری اور فریال تالپور سمیت وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا نام بھی ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈال دیا۔ پاکستان کی تاریخ کا شاید یہ پہلا واقعہ ہے کہ کسی صوبہ کے وزیراعلیٰ کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا ہو۔ اگرچہ سپریم کورٹ کے حکم پر وفاقی حکومت نے بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ سمیت متعدد افراد کے نام ای سی ایل سے نکال دیئے لیکن وفاقی حکومت کے پہلے والے اقدام سے سیاسی طور پر انتہائی حساس سندھ کے لوگوں کو سوچ کا ایک

نیا زاویہ ملا ہے۔ یہ بات شاید تحریک انصاف کی قیادت کو سمجھ نہیں آئے گی کہ انہوں نے بلاوجہ مہم جوئی کرکے کھڑے پانی میں پتھر کیوں پھینکا ہے۔ پوری دنیا یہ سوال کررہی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کیسے ختم کرے گی؟ پیپلز پارٹی کے ارکان سندھ اسمبلی آئین اور قانون کے تحت فارورڈ بلاک بنائیں گے یا سیاسی وفاداری تبدیل کریں گے تو وہ ازخود نااہل ہوجائیں گے۔ تحریک انصاف سندھ میں اپوزیشن کی بڑی سیاسی جماعت ہونے کے باوجود دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت نہیں بنا سکتی۔ اگر بناسکتی ہوتی تو پہلے بنالیتی۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتا ہے کہ وفاقی حکومت وزیراعلیٰ سندھ سید مراد کو مقدمات میں پھنسادے اور انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کردے۔ لیکن ان کے بعد بھی سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنے گی۔ سندھ میں گورنر راج بھی زیادہ سے زیادہ 6 ماہ تک چلایا جاسکتا ہے۔ مگر گورنر راج کے لیے ایسا ٹھوس جواز ہونا چاہئے، جسے عدالتیں بھی تسلیم کریں۔ سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار واضح کرچکے ہیں کہ عدالتیں گورنر راج کے اقدام کو کالعدم قرار دے دیں گی۔ وفاقی حکومت گھوٹکی کے سردار علی گوہر خان مہر کو سندھ کے نئے وزیراعلیٰ کے طور پر آگے بڑھانے کی کوشش کررہی ہے اور یہ دعویٰ کررہی ہے کہ پیپلز پارٹی کے بعض ارکان اسمبلی ان کے رابطے میں ہیں اور وہ علی گوہر مہر کی حمایت کریں گے۔ ابھی تک ایسے ارکان کو سامنے نہیں لایا گیا۔ اگر سامنے آگئے تو وہ آئین اور قانون کے مطابق ازخود نااہل ہوجائیں گے۔ لہٰذا ان کی حمایت یا مخالفت کا کوئی فائدہ نہیں۔ دوسری طرف پیر پگارا نے بھی واضح کردیا ہے کہ وہ مراد علی شاہ کو ہٹانے کی حمایت نہیں کریں گے۔ مراد علی شاہ کو خود تحریک انصاف ہٹائے، اس کے بعد وہ سردار علی گوہر خان مہر یا کسی دوسرے امیدوار کی حمایت کریں گے۔ سندھ میں تحریک انصاف کی بلا جواز سیاسی مہم جوئی نے نہ صرف اس صوبے میں سیاسی بے چینی پیدا کی بلکہ احتساب کے عمل پر بھی سیاست کی چھاپ لگادی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کو یہ وضاحت کرنا پڑی کہ کسی وزیر یا مشیر کے کہنے پر کسی کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔ نیب کی اس وضاحت سے احتساب کے عمل کے بارے میں شکوک وشبہات دور ہوئے یا نہیں، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن سندھ میں یہ احساس شدت اختیار کرگیا ہے کہ تحریک انصاف اس مائنڈ سیٹ پر کام کررہی ہے، جو پاکستان کے قیام سے قبل پاکستان کی وفاقی اکائیوں اور اس کے عوام کی تاریخی اور قومیتی شناخت کے خلاف کام کررہا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کے پاس سندھ میں اپنی حکومت بنانے کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ سندھ اسمبلی کسی طرح تحلیل کرادے اور سندھ میں نئے انتخابات کرائے جائیں مگر یہ سب کچھ کرنے سے موجودہ سسٹم کو برقرار رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔ دیگر صوبوں یعنی وفاقی اکائیوں میں بھی تحریک انصاف کی حکومت جو کچھ کررہی ہے، اس پر مختصراً کچھ عرض کرنا ضروری ہے۔ بلوچستان میں بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کی حکومت جس طرح بنائی گئی، وہ دنیا کے سامنے ہے۔ یہ حکومت تحریک انصاف کی کوششوں یا ’’سیاسی دانش‘‘ سے نہیں بنی بلکہ اس کے پیچھے کچھ اور لوگ ہیں ۔ پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کو قومی اسمبلی کی طرح اکثریت حاصل نہیں ہے۔ جنوبی پنجاب میں لوگوں کی جبر کی بنیاد پر سیاسی وفاداریاں تبدیل کرائی گئیں اور انہیں جنوبی پنجاب کے عوام میں عزت قائم رکھنے کے لیے یہ نعرہ دیا گیا کہ جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے لیے تحریک انصاف کی حکومت آئین میں ترمیم کرائے گی۔ یہ وعدہ 90 دن میں پورا نہیں ہوا۔ سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اب اپنے علاقوں میں منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا کی بات ہی الگ ہے۔ یہ ایک ایسا صوبہ ہے، جہاں پاکستان کی نہیں، بین الاقوامی طاقتوں کی سیاست زیادہ مؤثر ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت کو یہ اندازہ ہی نہیں ہے کہ صوبوں یا وفاقی اکائیوں کی سیاست کا مقابلہ کرنے کے لیےماضی میں غیر سیاسی قوتیں کیا منصوبہ بندی کرتی رہی ہیں۔ اس وقت چاروں صوبوں میں جو سیٹ اپ بنے ہیں، وہ غیر سیاسی قوتوں کی منصوبہ بندی کے کسی حد تک بہت قریب ہیں۔ صرف سندھ ان کی سوچ کے مطابق نہیں ہے۔ پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ قابل انتظام صوبے بن گئے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے۔ تحریک انصاف پر یہ بھی الزام عائد کیا جارہا ہے کہ وہ 18 ویں آئینی ترمیم اور پاکستان کی وفاقی حیثیت ختم کرنا چاہتی ہے۔ اس الزام سے بچنے کے لئے تحریک انصاف کی قیادت کو چاہئے کہ وہ صوبوں میں اپنی سیاسی اپروچ تبدیل کرے۔ اس کی اپنی حکومت چند ووٹوں پر قائم ہےلیکن یہ وفاقی اکائیوں میں ردعمل کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔