آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ19؍ ذوالحجہ 1440ھ 21؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دیکھا جائے تو اس وقت دنیا کے بڑے مسائل مسلمانوں ہی کو درپیش ہیں اور ان مسائل کو حل کرنے کیلئے آج تک کو ئی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی گئی۔ عالمی مسائل کےحل کے لیے قائم ادارے ’’اقوام متحدہ‘‘ نے تو جیسے مسلمانوں کے مسائل سے منہ موڑ رکھا ہے۔ اس کی وجہ اقوامِ متحدہ پر اسلام دشمن قوتوں کا غلبہ ہے ۔ اسی لیے ترک صدر رجب طیب ایردوان جو اکثر و بیشتر اقوام متحدہ پر پانچ ممالک کی گرفت جسے ویٹو کا نام دیا جاتا ہے، کے بارے میں کہتے چلے آرہے ہیں’’دنیا کی تقدیر پانچ ہاتھوں میں نہیں دی جاسکتی‘‘۔ کشمیر، فلسطین، قبرص ایسے مسائل ہیں جو اقوام متحدہ کے قیام سے لے کر اب تک کئی دہائیاں گزرنے جانے کے باوجود حل طلب ہیں۔

صدر ایردوان نے شامی مظلوم مسلمان پناہ گزینوں کے لیے جس طرح اپنے ملک کے دروازے پوری طرح کھول دئیے اور روہنگیا کے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم پر جس طریقے سے مرہم رکھا وہ دیگر عالمِ اسلام کے رہنماؤں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے۔ ان کا مسئلہ فلسطین سے متعلق موقف کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ اس لئے صدر ایردوان مسلمانوں کے سچے اور ہمدرد رہنما سمجھے جاتے ہیں اور کشمیر کے مسلمان اب صدر ایردوان کو اپنا نجات دہندہ سمجھنے لگے ہیں اور یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر ان کو یقین ہے کہ جلد ہی صدر ایردوان مسئلہ فلسطین کی طرح مسئلہ کشمیر پر بھی اپنی آواز اس طریقے سے بلند کریں گے کہ ہندو ظالم سامراج دہل کر رہ جائیں گے۔ گزشتہ سات دہائیوں میں اسی ہزار کشمیری شہید ہوئے، دس ہزار لاپتہ ہیں اور ہزاروں پر جنسی تشدد کیا گیا۔ لاقانونیت کا دور دورہ ہے۔ حالیہ کچھ عرصے کے دوران خاص طور پر نوجوان کشمیری کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں آزادی کی تحریک میں ایک نیا جوش و جذبہ پیدا ہوا ہے۔ اس سے قبل کشمیر میں 1980کے اواخر اور 1990کے آغاز،2008اور 2010 احتجاج کی لہریں اُٹھیں لیکن برہان وانی کی شہادت کے خلاف ہونے والے احتجاج میں نہ صرف لوگوں کی تعداد بہت زیادہ تھی بلکہ اس کی قیادت، نوجوان اور نچلے طبقے کے کشمیریوں کے ہاتھ میں تھی، جن میں بڑی تعداد میں خواتین بھی شامل تھیں۔ بھارتی افواج کی جانب سے استعمال ہونے والا خطرناک ترین ہتھیار ’’پیلٹ گن‘‘ سے ایک رپورٹ کے مطابق جولائی 2016سے فروری 2017کے دوران 6221افراد زخمی ہوئے۔ اقوام متحدہ نے 17اپریل 1948، 13اگست1948، 5جنوری 1949 اور 23دسمبر1952کو کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دینے کی قراردادیں پاس کی تھیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کی قسمت کا فیصلہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں استصواب رائے سے کیا جائیگا مگر بھارت نے عالمی اور مقامی طور پر ہونے والے معاہدوں سے انحراف کیا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ اقوام متحدہ نے ابتدائی 9 سالوں میں تنازع کشمیر کے حل کیلئے کوششیں کیں مگر پھر تنازع کشمیر بھی عالمی سیاست کی نذر ہوگیا۔

دنیا بھر بالخصوص پاکستان کے مسلمان 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر مناتے ہیں اور کشمیر کی آزادی کے لئے اپنی اخلاقی مدد کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔ ترکی میں بھی یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر مختلف سیمینارز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ترکی نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی مکمل حمایت کی اور مسئلے کے حل تک اپنی حمایت کا یقین دلا رکھا ہے۔ ترکی کے صدر ایردوان کئی بار اس بات کا برملا اظہار کرچکے ہیں کہ ’’ہمیں یقین ہے کہ مسئلہ جموں و کشمیر کو بہترین طریقے سے حل کرنے کا راستہ کشمیری عوام کی خواہشات کا احترام کرنے ہی سے گزرتا ہے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اتنا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود کیوں کر مسئلہ کشمیر حل نہیں کیا جاسکا۔ میرے خیال میں علاقے کے عوام کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کیے بغیر اس مسئلے کو حل کرنا ممکن نہیں ہے‘‘۔ یہ صرف صدر ایردوان ہی کے خیالات نہیں ہیں بلکہ تمام ترک ہی مسئلہ کشمیر کے بارے میں پاکستان کے موقف کی کھل کر حمایت کرتے ہیں۔ ترک صدر نے چند سال قبل اپنے دورہ بھارت کے موقع پر نئی دہلی میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات سے قبل بھارتی نیوز چینل کو انٹرویو میں کہا کہ دنیا بھرمیں مسائل کے حل کے لئے مذاکرات سے بہتر کوئی آپشن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکی مسئلہ کشمیر کے حل کے لئےبھارت اور پاکستان کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مزید انسانی جانوں کے ضیاع کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے بھارت سرکار کو دو ٹوک انداز میں مشورہ دیا کہ مسئلہ کشمیر میں دو طرفہ مذاکرات کے بجائے کثیر الجہتی مذاکرات ہونا چاہئیں اور ضرورت پڑنے پر ترکی بھی اس بات چیت میں شامل ہوسکتا ہے۔ کشمیری مائیں اس بات سے باخبر ہیں کہ ان کے دکھ درد کا مداوا اقوام متحدہ، امریکہ اور اسرائیل کو چیلنج کرنے والے عالمِ اسلام کے واحد لیڈر صدر ایردوان ہی کرسکتے ہیں۔ اس لیے ان تمام مائوں کی نظریں ایردوان پر لگی ہوئی ہیں۔