آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ16؍ ذیقعد 1440 ھ 20؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’احتساب شفاف ہونا چاہیے۔‘‘ یہ الفاظ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے ہیں جو انہوں نے علیم خان کی گرفتاری کے بعد کہے ۔ قارئین! ان کے اس بیان پر تبصرے و تجزیے سے قبل آپ تاریخِ اسلام کا ایک نایاب واقعہ ملاحظہ کیجیے،یہ بات چھٹی صدی ہجری کی ہے اور علاقہ ہے شام کا۔ بادشاہ کا نام ’’امرائے سلطنت‘‘ ہے اور عدالت کے چیف جسٹس ہیں ’’شیخ عزالدین بن عبدالسلام‘‘ شام کے بادشاہ نسلاً ترک تھے اور مصر کے بادشاہوں کے ساتھ اچھے مراسم تھے۔ قاضی عزالدین نے فیصلہ دیا کہ چونکہ ’’امرائے سلطنت‘‘ کو رائج الوقت طریقے سے آزاد نہیں کیا گیا۔ لہٰذا یہ شام کے بیت المال کی ملکیت ہے۔ ان کو سرِعام بازار میں نیلام کیا جائے، یہ خریدا جائے، اس کو آزاد کیا جائے اور پھر یہ قانون کے مطابق بادشاہ کہلانے کا مستحق ہو گا ۔ متکبر بادشاہ، عدالت کے فیصلے کو کیسے برداشت کر سکتا تھا؟ لہٰذا وہ عدالت کے حکم پر بپھر گیا، غصے سے لال پیلا ہوگیا۔ قاضی عز الدین کو ترغیب و ترہیب ہر ممکن طریقے سے راضی کرنے کی بھر پور کوشش کی، لیکن وہ نہ مانے ان کی ’’ناں‘‘ کو ’’ہاں‘‘ میں تبدیل کرنے کا کوئی حربہ کامیاب نہ ہوسکا۔ ملک کے عوام اور سول سوسائٹی کے لوگ عدالت کے ساتھ تھے۔ احتجاج ہوئے، جلوس نکلے، لاٹھی چارج ہوا، گرفتاریاں ہوئیں لیکن مطالبہ وہی

ایک تھا، بالآخر شام کے بادشاہ ’’امرائے سلطنت‘‘ کو عدالت اور عوام کے سامنے سرنگوں ہونا پڑا، چنانچہ ان کو نیلام کرنے کے لیے بولی لگائی گئی۔ فروخت ہوا۔ بھاری بھر کم رقم وصول کرکے ملکی خزانے میں جمع کروادی گئی۔ پھر ملک کے حالات معمول پر آگئے بلکہ پہلے سے بھی زیادہ اچھے ہوگئے۔ عدل و انصاف کے اس واقعے کے چرچے دور دور تک ہونے لگے۔ قارئین! ذرا تاریخِ اسلام کے اس نادر واقعہ کو دیکھیے اور پھر دل پر ہاتھ رکھ کر ہمارے حکمرانوں کا جائزہ لیجیے۔ انصاف کے بارے میں حضرت علیؓ نے کہاتھا’’کوئی معاشرہ کفر کے ساتھ تو باقی رہ سکتا ہے لیکن انصاف کے بغیر نہیں۔‘‘ یہی وجہ تھی قرون اولیٰ میں امیرو غریب، خواندہ وجاہل، عوام وخواص، رعایا اور بادشاہ انصاف کے معاملے میں برابر ہوتے تھے، حتیٰ کہ آپﷺ بھی اپنے آپ کو اس قانون سے بالاتر نہیں سمجھتے تھے۔ ایک دفعہ آپﷺ نے مجمع عام سے مخاطب ہوکر فرمایا’’اگر میں نے کسی کے ساتھ زیادتی کی ہو تو وہ مجھ سے بدلہ لے لے۔‘‘ حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے دورِ خلافت میں تمام منتظمین کوجمع کرکے فرمایا’’ان میں سے اگر کسی نے انصاف میں کمی وکوتاہی کی ہو تو مدعی اسی وقت بدلہ لے سکتا ہے۔‘‘ تاریخ ایسے واقعات اور مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ حکمرانوں نے احتساب کے لیے اپنے آپ کو عدالت میں پیش کیا۔ کوئی بھی سر براہ مملکت عدالت میں حاضری سے مستثنیٰ اور مبرا نہیں رہا۔ بڑے بڑے حکمران اور بادشاہ عدالت میں گئے۔ اپنے خلاف قائم ہونے والے مقدمات کا طوعاًو کرہاً سامنا کیا تو جان بخشی ہوئی۔ جب معاشرے میں بگاڑ آتا ہے تو اس کی بنیادی وجہ انصاف کا فقدان ہوتا ہے۔ ایسے معاشرے اجڑ جاتے ہیں جہاں انصاف کے پیمانے بدل جائیں۔ مشہور واقعہ ہے ایک طوطا طوطی کہیں جارہے تھے راستے میں ایک ویران جگہ دیکھی۔ طوطی نے پوچھا’’یہ شہر اور علاقہ کیوں تباہ ہوا؟‘‘ طوطے نے کہا’’اُلوئوں کی وجہ سے، کیونکہ یہ منحوس جانور ہے۔ جہاں بیٹھتا ہے اسے ویران کردیتا ہے۔‘‘ اُلو کہیں قریب ہی بیٹھا سن رہا تھا۔ اس نے جواب دیا ’’نہیں! ایسا ہرگز نہیں! نحوست ہم اُلوئوں میں نہیں بلکہ بے انصافی میں ہوتی ہے۔‘‘ ہاں! یہ سچ ہے جہاں انصاف کا پیمانہ کمزوروں کے لیے الگ ہو اور طاقتوروں کے لیے دوسرا ہو، وہ معاشرہ کبھی پُرامن نہیں ہوسکتا ہے۔ وہاں ایسی دہشت گردی جنم لیتی ہے جو سب کا امن وسکون غارت کرکے رکھ دیتی ہے۔ صدیوں پہلے نبی آخر الزمانﷺ نے انصاف سب کے لیے اور ایک جیسا ہونے کی تعلیم دی تھی۔ آپ نے ایک موقع پر یہاں تک فرمایا تھا’’تم سے پہلے جو اُمتیں گزری ہیں، وہ اسی لیے تو تباہ ہوئیں کہ کمتر درجے کے مجرموں کو قانون کے مطابق سزا دیتی اور اونچے درجے والوں کو چھوڑ دیتی تھیں۔ جس معاشرے میں بھی انصاف قائم ہوا، وہ مثالی بن گیا۔ وہ ترقی کرگیا۔ وہاں رزق کی کشادگی ہوگئی۔ وہاں جرائم ختم ہوگئے۔ جب کبھی انصاف کے پیمانے بدل گئے۔ کمزور ملکوں اور قوموں کے لیے الگ اور طاقت وروں کیلئے الگ ،وہاں افراتفری شروع ہوگئی۔ ہمارے موجودہ حکمران خصوصاً وزیراعظم جناب عمران خان صاحب ریاستِ مدینہ کو اپنا رول ماڈل سمجھتے ہیں، اور اسے فالو کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر ریاستِ مدینہ میں ایک عامی شخص وقت کے حکمران امیرالمومنین عمر فاروقؓ کو روک کر ان سے ان کی قمیص کے بارے میں سوال کرنے کی جسارت کرسکتا ہے اور امیرالمومنین خوشی خوشی اس کی وضاحت بھی کردیتے ہیں، تو ہمارے موجودہ حکمران نیب کیسوں کا سامنا کرنے کو کیوں اپنی بے عزتی سے تعبیر کرتے ہیں اور لیت و لعل سے کام لیتے ہیں۔ اگر ہمارے حکمران اپنے اس دعوے میں سچے ہیں کہ وہ اپنا رول ماڈل ریاستِ مدینہ کو تصور کرتے ہیں اور وہیں کے قوانین کو نافذ کرنے میں ملک و قوم کی فلاح و نجات سمجھتے ہیں تو پھر انہیں خوش دلی سے نیب کیسوں کا سامنا کرکے تمام لوگوں کے لیے ایک روشن مثال قائم کرنا چاہیے۔                    

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں