آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار16؍رجب المرجب 1440ھ 24؍مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اگر آپ کے زیادہ بچے ہیں تو انکم ٹیکس ادا نہیں کریں گی ’وزیراعظم کا ہنگری کی ماؤں سے وعدہ‘

بدھا پسٹ : ویلری ہوپکنز

ہنگری کے قوم پرست وزیر اعظم وکٹر اوربن نے کم ہوتی آبادی اور تارکین وطن کو قبول کیے بغیر لیبر کی قلت سے نمٹنے کیلئے اتوار کو اعلان کیا کہ ہنگری کی ایسی خواتین جن کے چار یا اسے زائد بچے ہیں وہ انکم ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گی۔

وکٹر اوربن نے اپنے قوم سے سالانہ خطاب کے دوران کہا کہ یورپ میں بچوں کی پیدائش روز بہ روز کم ہوتی جارہی ہے۔مغرب کیلئے اس مسئلہ کا حل تارکین وطن ہیں، آبادی کی تعداد کو مناسب رکھنے کیلئے ہر پیدا نہ ہونے والے بچے کا متبادل ان کیلئے ایک ان کے ملک آنے والا بچہ ہے ،لیکن ہمارے لئے محض تعداد کافی نہیں،ہمیں ہنگری کے مقامی بچوں ہی کی ضرورت ہے۔

سات سو ارب فورنٹ( 1.92 ارب یورو) مالیت کی ہیلتھ کیئر سرمایہ کاری،نئے شادی شدہ جوڑوں کے لئے ایک کروڑ مالیت کا قرض جو جزوی طور پر یا مکمل طور پر تحریر شدہ ہو اگر جوڑا دو یا تین بچے پیدا کرے،خاندان کیلئے کار کی خریداری کے لئے رقم اور بچے کی دیکھ بھال کی سہلوتوں میں اضافے سمیت ٹیکس اسکیم وزیراعظم کے اعلان کردہ انسداد امیگریشن اقدامات میں سے ایک ہے۔ حکومت نے زچگی سے منسلک ضمانت پر قرض اور دادا دادی کیلئے پدریت یا ایک طرح کی زچگی کیلئے چھٹیوں کا بھی وعدہ کیا ہے۔

وکٹر اوربن جن کے اپنے پانچ بچے ہیں،انہوں نے اس کی وضاحت نہیں کی کہ حکومت اعلان شدہ اقدامات کی لاگت اور یورپی یونین کے اوسط کے مقابلے میں 2 فیصد بلند شرح ترقی کو برقرار رکھنے کے وعدہ کا کیسے احاطہ کرے گی۔

وزیراعظم نے یورپی پارلیمنٹ کے آنے والے انتخابات کی بھی نشاندہی کی،جرمنی میں پناہ گزیوں کے حامیوں کو سرزنش کی، نئی بین الاقوامیت کی حمایت میں یورپ کو پناہ گزینوں کے ساتھ بھرنےپر ہنگری نژاد ارب پتی انسان دوست جارج سوروس کی جانب سے تقرر کردہ فرانز ٹمرمنز کو سوشلسٹ پکارا۔

انہوں نے کہا کہ مہاجرت کی اجازت دینے کے نتیجے میں مخلوط آبادی والے ممالک میں عیسائی آبادی بتدریج اقلیت بن جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس ترین پر سوار ہیں وہ آخری اسٹیشن تک جائیں گے اور اس کی واپسی کا کوئی ٹکٹ نہیں ہے۔

ہنگری اپنے مرکزی اور مشرقی یورپی پڑوسی ممالک، سلووینیا، کروشیا،سلواکیا اور سربیا کی طرح ہنگری کی شرح پیدائش دنیا میں کم ترین ہے، جبکہ اعلیٰ تنخواہیں پانے والے تعلیم یافتہ ملازمین کا تعلق مغرب سے ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق تیزی سے آبادی سکڑنے والے تقریبا تمام ممالک مشرقی یورپ میں ہیں۔ 2050 تک ہنگری کی آبادی میں 15 فیصد کمی کی پیشنگوئی ہے۔ 2017 میں 97 لاکھ سے 83 لاکھ ہوجائے گی۔

جیسا کہ وکٹر اوربن نے بات کی، ہنگری کی آبادی کی کمی کے حوالے سے کم از کم بلاواسطہ طور پر مظاہروں کے حالیہ سلسلوں میں ہزاروں افراد نے احتجاج کیا، یہ مظاہرے دسمبر میں پارلیمنٹ کی جانب سے نام نہاد غلامی کے قانون ،کی منظوری کے بعد پھوٹ پڑے تھے،یہ قانون آجروں کو چار سو گھنٹے کے اوور ٹائم کی کوشش کی اجازت دیتا ہے،جو فی ہفتہ ایک اضافی کام کے دن کے مساوی ہے۔

خطے میں دیگر ممالک نے بھی شرح پیدائش کے اضافے کے لئے فوائد کی پیشکش کی ہے۔پولینڈ میں کنزرویٹو لاء اور جسٹس پارٹی 2015 میں برسراقتدار آئیں اس عودہ کے ساتھ کہ ہر دوسرے اور اس کے بعد ہونے والے بچے کیلئے کم از کم خالص اجرأت کا تقریبا ایک تہائی 5 سو زلوٹس یا سو یورو دیں گے۔ اس اقدام کی لاگت پولینڈ کے جی ڈی پی کے ایک فیصد سے زائد ہے۔

گزشتہ موسم بہار میں سربیا نے، جو سالانہ تیس ہزار افراد سے محروم ہورہا ہے، تین بچوں کے حامل خاندانوں کیلئے 12ہزار دینار اور چار بچوں والے خاندان کیلئے اٹھارہ ہزار دینار ادائیگی فراہم کرنے کے لئے پانچ سو ملین دینا جو تیس لاکھ یورو کے مساوی ہے، فنڈ متعارف کرایا۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں